غزل: خوب سمجھا ہوں میں دنیا کی حقیقت لوگو

عاطف ملک

محفلین
ایک پرانی غزل محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔

خوب سمجھا ہوں میں دنیا کی حقیقت لوگو!
تب تلک چاہ ہے، جب تک ہے ضرورت، لوگو!

خود پرستی کے فسوں ساز سمندر میں کہیں
مر گیا ڈوب کے احساسِ مروت لوگو!

نہ رہا دور کہ انمول تھے اخلاص و وفا
اب تو لگتی ہے ہر اک چیز کی قیمت، لوگو!

"جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے"
چھین کر گل سے صبا لے گئی نکہت لوگو‌!

سیلِ جذبات نے سب توڑ دیے ضبط کے بند
عشق کو حُسن کی راس آئی نہ صحبت لوگو!

اس کے در، اس کے سگِ در کی بھی عزت کی جائے
عشق یہ ہے، اسے کہتے ہیں محبت، لوگو!


عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۱۷​
 

جاسمن

لائبریرین
اس کے در، اس کے سگِ در کی بھی عزت کی جائے
عشق یہ ہے، اسے کہتے ہیں محبت، لوگو!
واہ واہ! بہت خوب!
 
Top