سید عمران

محفلین
آصف پرائمری پاس کرکے سیکنڈری میں آگیا۔ ممانی نے شام کی ٹیوشن لگوادی۔ ہم تماشا دیکھنے پہنچ گئے۔آصف کے ماسٹر صاحب اتنے موٹے تھے کہ انہیں دیکھ کر بے تحاشہ ہاتھی یاد آجاتا۔ بعد میں جب ہاتھی دیکھتے تو بے تحاشہ ماسٹر صاحب یاد آجاتے۔

اس شام سب لان میں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ ماسٹر صاحب آگئے۔ ان کی آمد پر سب منہ بنا کر اندر چلے گئے۔ آصف منہ بنا کر لان میں آگیا۔ ہمیں امید تھی یہ سلسلہ زیادہ نہ چل سکے گا۔ آصف کو پڑھائی سے زیادہ کسی اور چیز سے دلچسپی تھی۔ وہ چیز آصف آج تک دریافت نہ کر پایا۔

اگلی شام ماسٹر صاحب پھر آگئے۔ ہم نے لان میں ترتیب سے کرسیاں لگائیں۔ ماسٹر صاحب کے سامنے آصف کی کرسی، اس کے پیچھے مزید چار کرسیاں۔آصف پڑھ رہا تھا ہم پیچھے بیٹھے تماشا دیکھ رہے تھے۔ ماسٹر صاحب موٹے شیشوں کی عینک کے اوپر سے جھانکنے لگے۔ آصف کو پڑھانے پر توجہ کم تھی، ہم پر زیادہ۔ بعد میں پتا چلا کہ ہماری شکل میں انہیں مستقبل کا گاہک اور گاہک کی شکل میں مستقل آمدنی نظر آگئی۔

ماسٹر صاحب نے گویا گھر ہی دیکھ لیا تھا۔ اگلی شام پھر آگئے۔ فلسفی، آصف کے پیچھے بیٹھا سُڑپ سُڑپ چائے کے گھونٹ بھرتا اور آصف صبر کے۔

ماسٹر صاحب اچھا پڑھا رہے تھے۔ آصف امتحانوں میں متواتر پاس ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ماسٹر صاحب نے ہمارا گھر بھی دیکھ لیا۔آصف کی نمایاں کارکردگی کا سبب ماسٹر صاحب کو ٹھہرایا گیا۔ نانا نے ممانی سے بات کی، اگلے دن ماسٹر صاحب ہمارے گھر میں بیٹھے ہم سے بات کررہے تھے۔

ماسٹر صاحب اپنے خیال کے مطابق ہمیں پڑھا رہے تھے اور ہم اپنے خیال کے مطابق نہیں پڑھ رہے تھے۔ ہمارا سارا خیال کھڑکی پر تھا جہاں سے فلسفی، چیتا اور گڑیا جھانک رہے تھے۔
’’یہ کیا تُک ہے۔ شام کا وقت کھیلنے کا ہے یا پڑھنے کا؟‘‘ چیتا غرایا۔
’’صبح اسکول، دوپہر سونا ، شام کو ٹیوشن ،مغرب کو کھانا اور عشاء کے بعد پھر سو جانا۔ عصر کے وقت کھیلتے تھے وہ بھی کسی کو گوارا نہ ہوا۔‘‘ گڑیا نے دانت پیسے۔
’’تمہارے پاس ماسٹر صاحب سے نجات کا کوئی فارمولا نہیں؟‘‘ ہم نے فلسفی کو گھورا۔ وہ سوچ میں پڑگیا۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ آنکھوں میں انجانی چمک در آئی۔
’’ماسٹر صاحب بولتے ہیں تو سانس پھولتی ہے، ہر تھوڑی دیر بعد اُکھڑی ہوئی سانس والی کھانسی بھی ہوتی ہے۔‘‘ فلسفی بتانے لگا۔
’’ تو ؟‘‘ گڑیا نہ سمجھتے ہوئے حیران ہوئی۔
’’یعنی ماسٹر صاحب کو الرجی ہے۔ جیسے دانش کو کولڈ ڈرنک پینے سے ہوتی ہے۔‘‘
’’پھر؟‘‘ گڑیا کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
’’پھر یہ کہ معلوم کر و ماسٹر صاحب کو کس چیز سے الرجی ہے۔‘‘
’’ہمیں معلوم ہے۔‘‘
’’کیا بھلا؟‘‘
’’مونگ پھلی۔‘‘
’’اوہ۔‘‘
’’معلوم ہوگیا۔ اب کیا کرو گے؟‘‘ چیتے نے بے صبری سے پہلو بدلا۔
’’ابھی بتاتا ہوں۔ لاؤ کان اِدھر۔‘‘ فلسفی نے کہا۔ سب کان اِدھر لے آئے۔

شام کو ماسٹر صاحب آگئے۔ تھوڑی دیر بعد اماں نے آواز دی۔ ہم چائے کی ٹرے لائے تو ساتھ ہی پلیٹ میں اسنیکس بھی تھے۔ ماسٹر صاحب کی بانچھیں کھل گئیں۔ چائے کے ساتھ اسنیکس بھی صاف ہوگئے۔ اگلے دن ماسٹر صاحب نہیں آئے۔ سب نے ساری شام خوب کھیلا۔ لیکن معلوم تھا یہ چار دن تو کیا ایک دن کی چاندنی ہے۔ کل پھر ماسٹر صاحب نے آنا ہے۔ یہ سوچ کر سب اداس ہوگئے۔

’’بیٹا چند دن صبر سے جھیل لے۔ اس کے بعد مزے ہی مزے ہیں۔‘‘ فلسفی نے سنیاسی بابا کی طرح تسلی دی۔

اگلے دن ماسٹر صاحب کے آنے کی قوی امید تھی۔ فلسفی پلان کے مطابق بہت ساری سوئیاں لے آیا۔ انہیں کھڑی کرکے صوفے میں گاڑ دیں۔

’’ماسٹر صاحب سے پہلے صوفہ پر کوئی نہیں بیٹھے گا۔‘‘ فلسفی ہدایت دے کر چلا گیا۔ ہم نے چوکیداری کے فرائض خوب انجام دئیے۔ حسبِ توقع ماسٹر صاحب آگئے۔ صوفہ پر بیٹھے تو بے چینی سے پہلو بدلنے لگے۔ یہ ماسٹر صاحب تھے جو صرف بے چین ہورہے تھے، کوئی اور ہوتا تو چیخ مارتے ہوئے اچھل کر کھڑا ہوجاتا۔ اماں نے آواز دی۔ ہم چائے اسنیکس لے آئے۔

’’آپ کل کیوں نہیں آئے تھے؟‘‘ جس معصومیت بھرے لہجہ میں پوچھا گیا گڑیا ہوتی تو اس ایکٹنگ پر بے ہوش ہوجاتی۔
’’طبیعت گڑبڑ تھی۔‘‘ ماسٹر صاحب کی سانسوں سے لگ رہا تھا کہ معاملہ توقعات کے عین مطابق گڑبڑ ہے۔ چائے اسنیکس کی طرح اگلے دن ماسٹر صاحب بھی صاف ہوگئے۔

شام کو فلسفی، چیتا اور گڑیا آگئے۔
’’ہمیں پتا تھا آج ماسٹر صاحب نہیں آئیں گے۔‘‘ گڑیا چہکی۔
’’اب تمہیں پروگرام کا اگلا حصہ بتاتا ہوں۔ اس کے بعد ماسٹر صاحب کا پتا صاف۔‘‘ فلسفی نے کہا۔ سب غور سے سننے لگے۔ اس شام خوب جی بھر کے کھیلا گیا۔ اب مستقبل کی کوئی فکر نہیں تھی۔ امید تھی کہ کل ماسٹر صاحب کا آخری دن ہوگا۔

اگلی شام ماسٹر صاحب آئے تو سانس پھول رہی تھی۔ صوفے میں چبھی سوئیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تھا۔ ماسٹر صاحب کی بے چینی میں تیزی آرہی تھی۔ چائے اسنیکس آتے ہی صاف ہوگئے۔

’’ہمارے گھر میں کچھ ایسے کیڑے پیدا ہوگئے ہیں جن سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔‘‘ ہم نے سادہ انداز میں بتایا۔
’’اچھا۔‘‘ لہجہ میں تشویش در آئی۔ موٹی عینک کے شیشوں کے اوپر سے موٹی آنکھیں جھانکنے لگیں۔
’’کون سی بیماریاں؟‘‘ تفصیلات کا پوچھنا ہمارے منصوبہ کی کامیابی کی دلیل تھا۔
’’پھیپھڑوں کی۔ چند دن پہلے ہمارے اسکول کے ایک ٹیچر آئے تھے۔‘‘ ہم نے رُکتے رُکتے بتایا۔
’’پھر، کیا ہوا؟‘‘ پہلو بدلنے کی رفتار میں اضافہ ہوگیا۔
’’انتقال ہوگیا۔‘‘
’’اوہ۔اوہ۔ اوہو۔‘‘ پہلو مزید تیزی سے بدلے جانے لگے۔
’’ماسٹر صاحب آپ کو جسم میں سوئی چبھنے کا احساس تو نہیں ہورہا نا؟ ہمارے سر کو تو ہورہا تھا۔‘‘ لہجہ کی معصومیت عروج کو پہنچ گئی۔
’’ہاں ہاں۔ نہیں تو۔ کیوں کیوں؟‘‘ لہجہ میں بوکھلاہٹ نمایاں ہونے لگی۔
’’سوئیاں چبھنے کا احساس اصل میں کیڑوں کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔‘‘ ہم نے لہجہ میں سرسری پن رکھا۔
’’اوہ۔ میری کمر۔‘‘ ہم نے کسی بھاری آدمی کو اس تیزی سے اٹھتے نہیں دیکھا۔
’’ماسٹر صاحب، ابھی تو بیٹھیں نا۔ جب کیڑے کاٹیں تب جائیے گا۔‘‘ ہم غیر محسوس طور پر جانے کی راہ دِکھانےلگے۔
’’ہاں ہاں۔ وہ تو ہے۔ اصل میں مجھے ایمرجنسی کام یاد آگیا۔ ابھی جانا ضروری ہے۔ نانا کو جلدی بلاؤ۔ ان سے بات کرکے نکلتا ہوں۔‘‘

ہم جلدی سے نانا کو لے آئے۔ نہ جانے ماسٹر صاحب نے نانا سے کیا کہا اور نانا نے اماں کو کیا بتایا اگلے دن سب کو لائن حاضر کرلیا گیا۔ اماں کی مسلسل گھورتی نگاہیں اچھے خاصے ٹارچر سیل کا کام کرتی ہیں۔ آدمی تفتیش سے قبل ادھ موا ہوجاتا ہے۔

’’ماسٹر صاحب ٹیوشن چھوڑ کر کیوں گئے ہیں؟‘‘ کڑوے انداز میں پوچھا۔
’’کیا واقعی۔‘‘ ہم خوشی سے چیخ پڑے۔
’’ہوں۔ یعنی تمہارا ہاتھ پکا ہے۔‘‘ اماں کو سرا مل گیا۔
’’ہمارا ہاتھ کیوں ہوتا بھلا؟‘‘ فلسفی منمنایا۔
’’انہیں اتنے دن سے کیا کھلایا جارہا تھا۔‘‘ اماں کے لہجہ میں سختی آگئی۔ پتا نہیں یہ ہماری ماں ہیں یا شرلا ک ہومز کی نانی۔ ہر بات کا پتا چل جاتا ہے۔
’’ہم کیا کھلاتے، اُلٹا آپ چائے پلاتی تھیں۔‘‘ ہم نے اماں پہ الزام دھر دیا۔
’’ٹرے میں چائے کی پیالی کے ساتھ خالی پلیٹ آتی تھی۔ اس میں کیا چیز کھلا رہے تھے؟‘‘اماں نے پلیٹ سے سب کو لپیٹ لیا۔ ساری جسوسی مسوسی کا حشر ہوگیا۔
’’اسنیکس تھے۔‘‘ ہم نے مری مری آواز میں کہا۔
’’اتنی مہربانی کیوں ہورہی تھی؟‘‘ تفتیش کا دائرہ تنگ ہونے لگا۔
’’اور صوفہ میں سوئیاں کیوں لگائی تھیں؟‘‘
کیا مصیبت ہے۔ اماں کو ہر بات کی خبر ہونا ضروری کیوں ہے۔ سب ایک دوسرے کو بے چارگی سے دیکھنے لگے۔
’’آپ کو کیسے پتا چلا؟‘‘ ہماری بے بسی انتہا کو پہنچ گئی۔
’’امی جان کو کئی روز سے صوفہ میں دھنسی ہوئی سوئیاں مل رہی تھیں۔‘‘ نانی کو بھی ہر کام میں اٹکے روڑے چننے کا شوق ہے۔ سب جھنجھلا رہے تھے۔آخرکار کافی دیر کے ٹارچر کے بعد سب کی زبانیں کھل گئیں۔

’’سارا آئیڈیا اس کا تھا۔‘‘ ہم نے سارا ملبہ فلسفی پر ڈال دیا۔
’’اس نے کہا تھا کہ ماسٹر صاحب کو دمہ کے اتنے جھٹکے دو کہ یہاں آنے کا نام بھی نہ لیں۔‘‘ ہماری زبان کی تیزی کے آگے ٹرین کے چھکے چھوٹ رہے تھے۔
’’پوری پلاننگ بتاؤ، انہیں کیا بتایا تھا اور اسنیکس کے نام پر کیا کھلا رہے تھے۔‘‘ اماں کسی رعایت کے موڈ میں نہیں تھیں۔
’’ماسٹر صاحب کو مونگ پھلی سے الرجی تھی۔ انہیں بیسن کوٹڈ مونگ پھلیاں کھلا رہے تھے۔ اور صوفہ میں سوئیاں اس لیے لگائی تھیں تاکہ بیماری کا شک کیڑوں کی طرف جائے۔‘‘

ہولناک پلاننگ پر اماں سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ نانا دوسرے کمرے میں لے گئے۔ کچھ دن بعد سزا کے طور پر ایسے ماسٹر کا تقرر کیا جو بید ساتھ لاتے تھے۔
نئے ماسٹر صاحب کو چائےنوکرانی کے ذریعہ بھجوائی جانے لگی۔

چائے کے ساتھ کچھ نہ کھانے کی تاکید الگ سے کردی گئی تھی!!!
 
آخری تدوین:
آصف پرائمری پاس کرکے سیکنڈری میں آگیا۔ ممانی نے شام کی ٹیوشن لگوادی۔ ہم تماشا دیکھنے پہنچ گئے۔ آصف کے ماسٹر صاحب اتنے موٹے تھے کہ انہیں دیکھ کر بے تحاشہ ہاتھی یاد آجاتا۔ بعد میں جب ہاتھی دیکھتے تو بے تحاشہ ماسٹر صاحب یاد آجاتے۔

اگلی شام سب لان میں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ ماسٹر صاحب آگئے۔ ان کی آنے پر سب نے منہ بنایا اور اندر چلے گئے۔ آصف نے منہ بنایا اور لان میں آگیا۔ ہمیں امید تھی یہ سلسلہ زیادہ نہ چل سکے گا۔ آصف کو پڑھائی سے زیاہ کسی اور چیز سے دلچسپی تھی۔ وہ چیز آصف آج تک دریافت نہ کرپایا ۔

اگلی شام ماسٹر صاحب پھر آگئے۔ ہم نے لان میں ترتیب سے کرسیاں لگائیں۔ ماسٹر صاحب کے سامنے آصف کی کرسی، اس کے پیچھے مزید چار کرسیاں۔آصف پڑھ رہا تھا ہم پیچھے بیٹھے تماشا دیکھ رہے تھے۔ ماسٹر صاحب موٹے شیشوں کی عینک کے اوپر سے جھانکنے لگے۔ آصف کی پڑھائی پر توجہ کم تھی، ہم پر زیادہ۔ بعد میں پتا چلا کہ ہماری شکل میں انہیں مستقبل کا گاہک اور گاہک کی شکل میں مستقل آمدنی نظر آگئی۔

ماسٹر صاحب نے گویا گھر ہی دیکھ لیا ۔ اگلی شام پھر آگئے۔ فلسفی، آصف کے پیچھے بیٹھا سُڑپ سُڑپ چائے کے گھونٹ بھرتا اور آصف صبر کے۔

ماسٹر صاحب اچھا پڑھا رہے تھے، آصف امتحانوں میں متواتر پاس ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ماسٹر صاحب نے ہمارا گھر بھی دیکھ لیا۔ آصف کی نمایاں کارکردگی کا سبب ماسٹر صاحب کو ٹھہرایا گیا۔ نانا نے ممانی سے بات کی، اگلے دن ماسٹر صاحب ہمارے گھر میں بیٹھے ہم سے بات کررہے تھے۔

ماسٹر صاحب اپنے خیال کے مطابق ہمیں پڑھا رہے تھے اور ہم اپنے خیال کے مطابق نہیں پڑھ رہے تھے۔ ہمارا سارا خیال کھڑکی پر تھا جہاں سے فلسفی، چیتا اور گڑیا جھانک رہے تھے۔
’’یہ کیا تُک ہے۔ شام کا وقت پڑھنے کا ہے یا کھیلنے کا؟‘‘ چیتا غرایا۔
’’صبح اسکول، دوپہر سونا ، شام کو ٹیوشن ،مغرب کو کھانا اور عشاء کے بعد پھر سو جانا۔ عصر کے وقت کھیلتے تھے وہ بھی کسی سے گوارا نہ ہوا۔‘‘ گڑیا نے دانت پیسے۔
’’تمہارے پاس ماسٹر صاحب سے نجات کا کوئی فارمولہ نہیں؟‘‘ ہم نے فلسفی کو گھورا۔ وہ سوچ میں پڑگیا۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ آنکھیں میں انجانی چمک در آئی۔
’’ماسٹر صاحب بولتے ہیں تو سانس پھولتی ہے، ہر تھوڑی دیر بعد اُکھڑی ہوئی سانس والی کھانسی بھی آتی ہے۔‘‘ فلسفی بتانے لگا۔
’’ تو ؟‘‘ گڑیا نہ سمجھتے ہوئے حیران ہوئی۔
’’یعنی ماسٹر صاحب کو الرجی ہے۔ جیسے دانش کو کولڈ ڈنک پینے سے ہوتی ہے۔‘‘
’’پھر؟‘‘ گڑیا کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
’’پھر یہ کہ معلوم کر و ماسٹر صاحب کو کس چیز سے الرجی ہے۔‘‘
’’ہمیں معلوم ہے۔‘‘
’’کیا بھلا؟‘‘
’’مونگ پھلی۔‘‘
’’اوہ۔‘‘
’’معلوم ہوگیا۔ اب کیا کرو گے؟‘‘ چیتے نے بے صبری سے پہلو بدلا۔
’’ابھی بتاتا ہوں۔ لاؤ کان اِدھر۔‘‘ فلسفی نے کہا۔ سب کان اِدھر لے آئے۔

اگلے دن ماسٹر صاحب آگئے۔ تھوڑی دیر بعد اماں نے آواز دی۔ ہم چائے کی ٹرے لائے تو ساتھ ہی پلیٹ میں اسنیکس بھی تھے۔ ماسٹر صاحب کی بانچھیں کھل گئیں۔ چائے کے ساتھ اسنیکس بھی صاف ہوگئے۔ اگلے دن ماسٹر صاحب نہیں آئے۔ سب نے ساری شام خوب کھیلا۔ لیکن معلوم تھا یہ چار دن تو کیا ایک دن کی چاندنی ہے۔ کل پھر ماسٹر صاحب نے آنا ہے۔ یہ سوچ کر سب اداس ہوگئے۔

’’بیٹا چند دن صبر سے جھیل لے۔ اس کے بعد مزے ہی مزے ہیں۔‘‘ فلسفی نے سنیاسی بابا کی طرح تسلی دی۔

اگلے دن ماسٹر صاحب کے آنے کی قوی امید تھی۔ فلسفی پلان کے مطابق بہت ساری سوئیاں لے آیا۔ انہیں کھڑی کرکے صوفے میں گاڑ دیں۔

’’ ماسٹر صاحب سے پہلے صوفہ پر کوئی نہیں بیٹھے گا۔‘‘ فلسفی ہدایت دے کر چلا گیا۔ ہم نے چوکیداری کے فرائض خوب انجام دئیے۔ حسبِ توقع ماسٹر صاحب آگئے۔ صوفہ پر بیٹھے تو بے چینی سے پہلو بدلنے لگے۔ یہ ماسٹر صاحب تھے جو صرف بے چین ہورہے تھے، کوئی اور ہوتا تو چیخ مارتے ہوئے اچھل کر کھڑا ہوجاتا۔ اماں نے آواز دی، ہم چائے اسنیکس لے آئے۔

’’ آپ کل کیوں نہیں آئے تھے۔‘‘ جس معصومیت بھرے لہجہ میں پوچھا گیا گڑیا ہوتی تو اس ایکٹنگ پر بے ہوش ہوجاتی۔
’’طبیعت گڑبڑ تھی۔‘‘ ماسٹر صاحب کی سانسوں سے لگ رہا تھا کہ معاملہ توقعات کے عین مطابق گڑبڑ ہے۔ چائے اسنیکس کی طرح اگلے دن ماسٹر صاحب پھر صاف ہوگئے۔

شام کو فلسفی، چیتا اور گڑیا آگئے۔
’’ہمیں پتا تھا آج ماسٹر صاحب نہیں آئیں گے۔‘‘ گڑیا چہکی۔
’’اب تمہیں پروگرام کا اگلا حصہ بتاتا ہوں۔ اس کے بعد ماسٹر صاحب کا پتا صاف۔‘‘ فلسفی نے کہا۔ سب غور سے سننے لگے۔ اس شام خوب جی بھر کے کھیلا۔ اب مستقبل کی کوئی فکر نہیں تھی۔ امید تھی کہ کل ماسٹر صاحب کا آخری دن ہوگا۔

اگلی شام ماسٹر صاحب آگئے۔ سانس پھول رہی تھی۔ صوفے میں چبھی سوئیوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ ماسٹر صاحب کی بے چینی میں تیزی آرہی تھی۔ چائے اسنیکس آتے ہی صاف ہوگئے۔

’’ہمارے گھر میں کچھ ایسے کیڑے پیدا ہوگئے ہیں جن سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔‘‘ ہم نے سادہ انداز میں بتایا۔
’’اچھا۔‘‘ لہجہ میں تشویش در آئی۔ موٹی عینک کے شیشوں کے اوپر سے موٹی آنکھیں جھانکنے لگیں۔
’’کون سی بیماریاں؟‘‘ تفصیلات کا پوچھنا ہمارے منصوبہ کی کامیابی کی دلیل تھا۔
’’پھیپھڑوں کی۔ چند دن پہلے اسکول کے کیمسٹری ٹیچر گھر آئے تھے۔‘‘ ہم نے رکتے رکتے بتایا۔
’’پھر ؟‘‘ پہلو بدلنے کی رفتار میں اضافہ ہوگیا۔
’’انتقال ہوگیا۔‘‘
’’اوہ۔اوہ۔ اوہو۔‘‘ پہلو مزید تیزی سے بدلے جانے لگے۔
’’ماسٹر صاحب آپ کو جسم میں سوئی چبھنے کا احساس تو نہیں ہورہا نا؟ ہمارے سر کو تو ہورہا تھا۔‘‘ لہجہ کی معصومیت عروج کو پہنچ گئی۔
’’ہاں ہاں۔ نہیں تو ۔ کیوں کیوں؟‘‘ لہجہ میں بوکھلاہٹ نمایاں ہونے لگی۔
’’سوئیاں چبھنے کا احساس اصل میں کیڑوں کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔‘‘ ہم نے لہجہ میں سرسری پن رکھا۔
’’اوہ۔ میری کمر۔‘‘ ہم نے بھاری آدمی کو اس تیزی سے اٹھتے کبھی نہیں دیکھا۔
’’ماسٹر صاحب، ابھی تو بیٹھیں نا۔ جب کیڑے کاٹیں تب جائیے گا۔‘‘ ہم غیر محسوس طور پر جانے کی راہ دِکھانےلگے۔
’’ہاں ہاں۔ وہ تو ہے۔ اصل میں مجھے ایمرجنسی کام یاد آگیا۔ ابھی جانا ضروری ہے۔ نانا کو جلدی بلاؤ۔ ان سے بات کرکے نکلتا ہوں۔‘‘

ہم جلدی سے نانا کو لے آئے۔ نہ جانے ماسٹر صاحب نے نانا سے کیا کہا اور نانا نے اماں کو کیا بتایا اگلے دن سب کو لائن حاضر کرلیا گیا۔ اماں کی مسلسل گھورتی نگاہیں اچھے خاصے ٹارچر سیل کا کام کرتی ہیں۔ آدمی تفتیش سے قبل ادھ موا ہوجاتا ہے۔

’’ماسٹر صاحب ٹیوشن چھوڑ کر کیوں گئے ہیں؟‘‘ کڑوے انداز میں پوچھا۔
’’کیا واقعی۔‘‘ ہم خوشی سے چیخ پڑے۔
’’ہوں۔ یعنی تمہارا ہاتھ پکا ہے۔‘‘ اماں کو سرا مل گیا۔
’’ہمارا ہاتھ کیوں ہوتا بھلا؟‘‘ فلسفی منمنایا۔
’’انہیں اتنے دن سے کیا کھلایا جارہا تھا۔‘‘ اماں کے لہجہ میں سختی آگئی۔ پتا نہیں یہ ہماری ماں ہیں یا شرلا ک ہومز کی نانی۔ ہر بات کا پتا چل جاتا ہے۔
’’ہم کیا کھلاتےتھے۔ اُلٹا آپ چائے پلاتی تھیں۔‘‘ ہم نے اماں پہ الزام دھر دیا۔
’’ٹرے میں چائے کے ساتھ خالی پلیٹ آتی تھی۔ اس میں کیا چیز کھلا رہے تھے؟‘‘اماں نے پلیٹ سے سب کو لپیٹ لیا۔ ساری جسوسی مسوسی کا حشر ہوگیا۔
’’اسنیکس تھے۔‘‘ ہم نے مری مری آواز میں کہا۔
’’اتنی مہربانی کیوں کی ہورہی تھی؟‘‘ تفتیش کا دائرہ تنگ ہونے لگا۔
’’اور صوفہ میں سوئیاں کیوں لگائی تھیں؟‘‘
کیا مصیبت ہے۔ اماں کو ہر بات کی خبر ہونا ضروری کیوں ہے۔ سب ایک دوسرے کو بے چارگی سے دیکھنے لگے۔
’’آپ کو کیسے پتا چلا؟‘‘ ہماری بے بسی انتہا کو پہنچ گئی۔
’’امی جان کو کئی روز سے صوفہ میں دھنسی سوئیاں مل رہی تھیں۔‘‘ نانی کو بھی ہر کام میں اٹکے روڑے چننے کا شوق ہے۔ سب جھنجھلا رہے تھے۔بالآخر کافی دیر کے ٹارچر کے بعد سب کی زبانیں کھل گئیں۔

’’سارا آئیڈیا اس کا تھا۔‘‘ ہم نے سارا ملبہ فلسفی پر ڈال دیا۔
’’اس نے کہا تھا کہ ماسٹر صاحب کو دمہ کے اتنے جھٹکے دو کہ یہاں آنے کا نام بھی نہ لیں۔‘‘ ہماری زبان کی تیزی کے آگے ٹرین کے چھکے چھوٹ رہے تھے۔
’’پوری پلاننگ بتاؤ، انہیں کیا بتایا تھا اور اسنیکس کے نام پر کیا کھلا رہے تھے۔‘‘ اماں کسی رعایت کے موڈ میں نہیں تھیں۔
’’ماسٹر صاحب کو مونگ پھلی سے الرجی تھی۔ انہیں بیسن کوٹڈ مونگ پھلیاں کھلا رہے تھے۔ اور صوفہ میں سوئیاں اس لیے لگائی تھیں تاکہ بیماری کا شک کیڑوں کی طرف جائے۔‘‘

ہولناک پلاننگ پر اماں سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ نانا دوسرے کمرے میں لے گئے۔ کچھ دن بعد سزا کے طور پر ایسے ماسٹر کا تقرر کیا جو بید ساتھ لاتے تھے۔

نئے ماسٹر صاحب کو چائےنوکرانی کے ذریعہ بھجوائی جانے لگی۔چائے کے ساتھ کچھ نہ کھانے کی تاکید الگ سے کردی گئی تھی!!!
یا اللہ میری توبہ ،
یہ بچپن کی حماقتیں کم آفتیں زیادہ ہیں۔
اللہ ہمیں اپنے امان میں رکھیں۔آمین
 
آصف پرائمری پاس کرکے سیکنڈری میں آگیا۔ ممانی نے شام کی ٹیوشن لگوادی۔ ہم تماشا دیکھنے پہنچ گئے۔آصف کے ماسٹر صاحب اتنے موٹے تھے کہ انہیں دیکھ کر بے تحاشہ ہاتھی یاد آجاتا۔ بعد میں جب ہاتھی دیکھتے تو بے تحاشہ ماسٹر صاحب یاد آجاتے۔

اس شام سب لان میں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ ماسٹر صاحب آگئے۔ ان کی آمد پر سب منہ بنا کر اندر چلے گئے۔ آصف منہ بنا کر لان میں آگیا۔ ہمیں امید تھی یہ سلسلہ زیادہ نہ چل سکے گا۔ آصف کو پڑھائی سے زیادہ کسی اور چیز سے دلچسپی تھی۔ وہ چیز آصف آج تک دریافت نہ کر پایا۔

اگلی شام ماسٹر صاحب پھر آگئے۔ ہم نے لان میں ترتیب سے کرسیاں لگائیں۔ ماسٹر صاحب کے سامنے آصف کی کرسی، اس کے پیچھے مزید چار کرسیاں۔آصف پڑھ رہا تھا ہم پیچھے بیٹھے تماشا دیکھ رہے تھے۔ ماسٹر صاحب موٹے شیشوں کی عینک کے اوپر سے جھانکنے لگے۔ آصف کو پڑھانے پر توجہ کم تھی، ہم پر زیادہ۔ بعد میں پتا چلا کہ ہماری شکل میں انہیں مستقبل کا گاہک اور گاہک کی شکل میں مستقل آمدنی نظر آگئی۔

ماسٹر صاحب نے گویا گھر ہی دیکھ لیا تھا۔ اگلی شام پھر آگئے۔ فلسفی، آصف کے پیچھے بیٹھا سُڑپ سُڑپ چائے کے گھونٹ بھرتا اور آصف صبر کے۔

ماسٹر صاحب اچھا پڑھا رہے تھے۔ آصف امتحانوں میں متواتر پاس ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ماسٹر صاحب نے ہمارا گھر بھی دیکھ لیا۔آصف کی نمایاں کارکردگی کا سبب ماسٹر صاحب کو ٹھہرایا گیا۔ نانا نے ممانی سے بات کی، اگلے دن ماسٹر صاحب ہمارے گھر میں بیٹھے ہم سے بات کررہے تھے۔

ماسٹر صاحب اپنے خیال کے مطابق ہمیں پڑھا رہے تھے اور ہم اپنے خیال کے مطابق نہیں پڑھ رہے تھے۔ ہمارا سارا خیال کھڑکی پر تھا جہاں سے فلسفی، چیتا اور گڑیا جھانک رہے تھے۔
’’یہ کیا تُک ہے۔ شام کا وقت کھیلنے کا ہے یا پڑھنے کا؟‘‘ چیتا غرایا۔
’’صبح اسکول، دوپہر سونا ، شام کو ٹیوشن ،مغرب کو کھانا اور عشاء کے بعد پھر سو جانا۔ عصر کے وقت کھیلتے تھے وہ بھی کسی کو گوارا نہ ہوا۔‘‘ گڑیا نے دانت پیسے۔
’’تمہارے پاس ماسٹر صاحب سے نجات کا کوئی فارمولا نہیں؟‘‘ ہم نے فلسفی کو گھورا۔ وہ سوچ میں پڑگیا۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ آنکھوں میں انجانی چمک در آئی۔
’’ماسٹر صاحب بولتے ہیں تو سانس پھولتی ہے، ہر تھوڑی دیر بعد اُکھڑی ہوئی سانس والی کھانسی بھی ہوتی ہے۔‘‘ فلسفی بتانے لگا۔
’’ تو ؟‘‘ گڑیا نہ سمجھتے ہوئے حیران ہوئی۔
’’یعنی ماسٹر صاحب کو الرجی ہے۔ جیسے دانش کو کولڈ ڈرنک پینے سے ہوتی ہے۔‘‘
’’پھر؟‘‘ گڑیا کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
’’پھر یہ کہ معلوم کر و ماسٹر صاحب کو کس چیز سے الرجی ہے۔‘‘
’’ہمیں معلوم ہے۔‘‘
’’کیا بھلا؟‘‘
’’مونگ پھلی۔‘‘
’’اوہ۔‘‘
’’معلوم ہوگیا۔ اب کیا کرو گے؟‘‘ چیتے نے بے صبری سے پہلو بدلا۔
’’ابھی بتاتا ہوں۔ لاؤ کان اِدھر۔‘‘ فلسفی نے کہا۔ سب کان اِدھر لے آئے۔

شام کو ماسٹر صاحب آگئے۔ تھوڑی دیر بعد اماں نے آواز دی۔ ہم چائے کی ٹرے لائے تو ساتھ ہی پلیٹ میں اسنیکس بھی تھے۔ ماسٹر صاحب کی بانچھیں کھل گئیں۔ چائے کے ساتھ اسنیکس بھی صاف ہوگئے۔ اگلے دن ماسٹر صاحب نہیں آئے۔ سب نے ساری شام خوب کھیلا۔ لیکن معلوم تھا یہ چار دن تو کیا ایک دن کی چاندنی ہے۔ کل پھر ماسٹر صاحب نے آنا ہے۔ یہ سوچ کر سب اداس ہوگئے۔

’’بیٹا چند دن صبر سے جھیل لے۔ اس کے بعد مزے ہی مزے ہیں۔‘‘ فلسفی نے سنیاسی بابا کی طرح تسلی دی۔

اگلے دن ماسٹر صاحب کے آنے کی قوی امید تھی۔ فلسفی پلان کے مطابق بہت ساری سوئیاں لے آیا۔ انہیں کھڑی کرکے صوفے میں گاڑ دیں۔

’’ماسٹر صاحب سے پہلے صوفہ پر کوئی نہیں بیٹھے گا۔‘‘ فلسفی ہدایت دے کر چلا گیا۔ ہم نے چوکیداری کے فرائض خوب انجام دئیے۔ حسبِ توقع ماسٹر صاحب آگئے۔ صوفہ پر بیٹھے تو بے چینی سے پہلو بدلنے لگے۔ یہ ماسٹر صاحب تھے جو صرف بے چین ہورہے تھے، کوئی اور ہوتا تو چیخ مارتے ہوئے اچھل کر کھڑا ہوجاتا۔ اماں نے آواز دی۔ ہم چائے اسنیکس لے آئے۔

’’آپ کل کیوں نہیں آئے تھے؟‘‘ جس معصومیت بھرے لہجہ میں پوچھا گیا گڑیا ہوتی تو اس ایکٹنگ پر بے ہوش ہوجاتی۔
’’طبیعت گڑبڑ تھی۔‘‘ ماسٹر صاحب کی سانسوں سے لگ رہا تھا کہ معاملہ توقعات کے عین مطابق گڑبڑ ہے۔ چائے اسنیکس کی طرح اگلے دن ماسٹر صاحب بھی صاف ہوگئے۔

شام کو فلسفی، چیتا اور گڑیا آگئے۔
’’ہمیں پتا تھا آج ماسٹر صاحب نہیں آئیں گے۔‘‘ گڑیا چہکی۔
’’اب تمہیں پروگرام کا اگلا حصہ بتاتا ہوں۔ اس کے بعد ماسٹر صاحب کا پتا صاف۔‘‘ فلسفی نے کہا۔ سب غور سے سننے لگے۔ اس شام خوب جی بھر کے کھیلا گیا۔ اب مستقبل کی کوئی فکر نہیں تھی۔ امید تھی کہ کل ماسٹر صاحب کا آخری دن ہوگا۔

اگلی شام ماسٹر صاحب آئے تو سانس پھول رہی تھی۔ صوفے میں چبھی سوئیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تھا۔ ماسٹر صاحب کی بے چینی میں تیزی آرہی تھی۔ چائے اسنیکس آتے ہی صاف ہوگئے۔

’’ہمارے گھر میں کچھ ایسے کیڑے پیدا ہوگئے ہیں جن سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔‘‘ ہم نے سادہ انداز میں بتایا۔
’’اچھا۔‘‘ لہجہ میں تشویش در آئی۔ موٹی عینک کے شیشوں کے اوپر سے موٹی آنکھیں جھانکنے لگیں۔
’’کون سی بیماریاں؟‘‘ تفصیلات کا پوچھنا ہمارے منصوبہ کی کامیابی کی دلیل تھا۔
’’پھیپھڑوں کی۔ چند دن پہلے ہمارے اسکول کے ایک ٹیچر آئے تھے۔‘‘ ہم نے رُکتے رُکتے بتایا۔
’’پھر، کیا ہوا؟‘‘ پہلو بدلنے کی رفتار میں اضافہ ہوگیا۔
’’انتقال ہوگیا۔‘‘
’’اوہ۔اوہ۔ اوہو۔‘‘ پہلو مزید تیزی سے بدلے جانے لگے۔
’’ماسٹر صاحب آپ کو جسم میں سوئی چبھنے کا احساس تو نہیں ہورہا نا؟ ہمارے سر کو تو ہورہا تھا۔‘‘ لہجہ کی معصومیت عروج کو پہنچ گئی۔
’’ہاں ہاں۔ نہیں تو۔ کیوں کیوں؟‘‘ لہجہ میں بوکھلاہٹ نمایاں ہونے لگی۔
’’سوئیاں چبھنے کا احساس اصل میں کیڑوں کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔‘‘ ہم نے لہجہ میں سرسری پن رکھا۔
’’اوہ۔ میری کمر۔‘‘ ہم نے کسی بھاری آدمی کو اس تیزی سے اٹھتے نہیں دیکھا۔
’’ماسٹر صاحب، ابھی تو بیٹھیں نا۔ جب کیڑے کاٹیں تب جائیے گا۔‘‘ ہم غیر محسوس طور پر جانے کی راہ دِکھانےلگے۔
’’ہاں ہاں۔ وہ تو ہے۔ اصل میں مجھے ایمرجنسی کام یاد آگیا۔ ابھی جانا ضروری ہے۔ نانا کو جلدی بلاؤ۔ ان سے بات کرکے نکلتا ہوں۔‘‘

ہم جلدی سے نانا کو لے آئے۔ نہ جانے ماسٹر صاحب نے نانا سے کیا کہا اور نانا نے اماں کو کیا بتایا اگلے دن سب کو لائن حاضر کرلیا گیا۔ اماں کی مسلسل گھورتی نگاہیں اچھے خاصے ٹارچر سیل کا کام کرتی ہیں۔ آدمی تفتیش سے قبل ادھ موا ہوجاتا ہے۔

’’ماسٹر صاحب ٹیوشن چھوڑ کر کیوں گئے ہیں؟‘‘ کڑوے انداز میں پوچھا۔
’’کیا واقعی۔‘‘ ہم خوشی سے چیخ پڑے۔
’’ہوں۔ یعنی تمہارا ہاتھ پکا ہے۔‘‘ اماں کو سرا مل گیا۔
’’ہمارا ہاتھ کیوں ہوتا بھلا؟‘‘ فلسفی منمنایا۔
’’انہیں اتنے دن سے کیا کھلایا جارہا تھا۔‘‘ اماں کے لہجہ میں سختی آگئی۔ پتا نہیں یہ ہماری ماں ہیں یا شرلا ک ہومز کی نانی۔ ہر بات کا پتا چل جاتا ہے۔
’’ہم کیا کھلاتے، اُلٹا آپ چائے پلاتی تھیں۔‘‘ ہم نے اماں پہ الزام دھر دیا۔
’’ٹرے میں چائے کی پیالی کے ساتھ خالی پلیٹ آتی تھی۔ اس میں کیا چیز کھلا رہے تھے؟‘‘اماں نے پلیٹ سے سب کو لپیٹ لیا۔ ساری جسوسی مسوسی کا حشر ہوگیا۔
’’اسنیکس تھے۔‘‘ ہم نے مری مری آواز میں کہا۔
’’اتنی مہربانی کیوں ہورہی تھی؟‘‘ تفتیش کا دائرہ تنگ ہونے لگا۔
’’اور صوفہ میں سوئیاں کیوں لگائی تھیں؟‘‘
کیا مصیبت ہے۔ اماں کو ہر بات کی خبر ہونا ضروری کیوں ہے۔ سب ایک دوسرے کو بے چارگی سے دیکھنے لگے۔
’’آپ کو کیسے پتا چلا؟‘‘ ہماری بے بسی انتہا کو پہنچ گئی۔
’’امی جان کو کئی روز سے صوفہ میں دھنسی ہوئی سوئیاں مل رہی تھیں۔‘‘ نانی کو بھی ہر کام میں اٹکے روڑے چننے کا شوق ہے۔ سب جھنجھلا رہے تھے۔آخرکار کافی دیر کے ٹارچر کے بعد سب کی زبانیں کھل گئیں۔

’’سارا آئیڈیا اس کا تھا۔‘‘ ہم نے سارا ملبہ فلسفی پر ڈال دیا۔
’’اس نے کہا تھا کہ ماسٹر صاحب کو دمہ کے اتنے جھٹکے دو کہ یہاں آنے کا نام بھی نہ لیں۔‘‘ ہماری زبان کی تیزی کے آگے ٹرین کے چھکے چھوٹ رہے تھے۔
’’پوری پلاننگ بتاؤ، انہیں کیا بتایا تھا اور اسنیکس کے نام پر کیا کھلا رہے تھے۔‘‘ اماں کسی رعایت کے موڈ میں نہیں تھیں۔
’’ماسٹر صاحب کو مونگ پھلی سے الرجی تھی۔ انہیں بیسن کوٹڈ مونگ پھلیاں کھلا رہے تھے۔ اور صوفہ میں سوئیاں اس لیے لگائی تھیں تاکہ بیماری کا شک کیڑوں کی طرف جائے۔‘‘

ہولناک پلاننگ پر اماں سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ نانا دوسرے کمرے میں لے گئے۔ کچھ دن بعد سزا کے طور پر ایسے ماسٹر کا تقرر کیا جو بید ساتھ لاتے تھے۔
نئے ماسٹر صاحب کو چائےنوکرانی کے ذریعہ بھجوائی جانے لگی۔

چائے کے ساتھ کچھ نہ کھانے کی تاکید الگ سے کردی گئی تھی!!!
مزیدار
 

سید عمران

محفلین
نعمت خالہ چین چلی گئیں!!!

خالو پی آئی اے میں انجینئر تھے۔ تین سال بیرون ملک ٹرانسفر ملازمت کا حصہ تھا، سو رشتہ داروں سے دور چین کی بنسری بجانے چین چلے گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی ہم چلتے ہو تو چین کو چلیے اٹھا لائے۔ محض یہ معلوم کرنے کے لیے کہ چین کے کیا حالات ہیں۔ وہاں جا کر نعمت خالہ کے بگڑنے کے چانسز تو نہیں!!!

روانگی سے قبل نعمت خالہ بلک بلک کے روئیں اور سب کو رُلا دیا۔ نانی کا حال سب سے برا تھا:
’’ہائے میری بچی پرائے دیس جارہی ہے، جانے دوبارہ کب ملاقات ہو۔‘‘ نعمت خالہ مزید بلکنے لگیں۔

اماں مضبوط اعصاب کی مالک تھیں، آنسو تو کیا، مجال ہے چہرہ پر کوئی تاثر بھی آیا ہو۔
سب نعمت خالہ کو چھوڑنے گاڑیوں میں لدے ائیر پورٹ پہنچے۔ لاؤنج میں جانے سے قبل نعمت خالہ نے بلک بلک کر رونے کا سین دوبارہ آن کرنا چاہا مگر اماں نے جھڑک دیا:
’’بس کردو۔ گھر میں تو ٹھیک تھا، یہاں سب کے سامنے ہمیں تماشا نہ بناؤ۔‘‘
’’بڑی ظالم ہو تم باجی۔‘‘ نعمت خالہ آنسو پونچھ پونچھ کر نڈھال ہوگئیں مگر اماں کو کوئی فرق نہ پڑا۔

ہمارا دل بجھ رہا تھا۔ اچانک سب کزنز ساتھ چھوڑ جائیں گئے۔ سب مزے، ساری شرارتیں، لوگوں کو ستانا پھر ان کی شکلیں دیکھ کر ہنستے ہنستے دہرے ہوجانا ماضی کا حصہ بننے جارہا تھا۔ ہماری آنکھیں نم ہوگئیں۔

نعمت خالہ نے ائیر پورٹ لاؤنج میں داخل ہونے سے قبل آخری بار سب کو مڑ کر دیکھا اور پھر بلک بلک کر رونے لگیں۔
’’توبہ۔ اتنا تو اپنی شادی پر بھی نہیں روئی تھی۔‘‘ اماں سے زیادہ ڈرامہ بازیاں برداشت نہیں ہوتی تھیں۔

سب بجھے دل کے ساتھ گھر واپس آگئے۔ ایسا لگا جیسے خالی ہاتھ رہ گئے ہوں۔ زندگی خوشیوں سے خالی ہو۔
’’ دوبارہ کب ملیں گے۔ پورے تین سال بعد؟‘‘ ہم نے نانی سے پوچھا۔
’’معلوم نہیں۔ لیکن یہ معلوم ہے اس عرصہ شہر میں سکون رہے گا۔‘‘جانے نانی کن باتوں پر جلی بیٹھی تھیں۔ ہم جل کر رہ گئے۔

چند دن اداسی میں گزرے۔ ابھی دل کی اداسی دور نہ ہوئی تھی کہ ایک دن ایک چمتکار ہوگیا!!!

اس روز چھٹی تھی۔ صبح کے آٹھ بجے ہوں گے، ہم سو رہے تھے، اچانک شور شرابے سے آنکھ کھل گئی۔ لاؤنج میں برتن کھڑکھڑانے کی آوازوں کے ساتھ بہت سارے لوگوں کے زور زور سے بولنے کی آوازیں گڈ مڈ ہورہی تھیں۔ ہم آنکھ ملتے تجسس کے عالم میں لاؤنج میں آئے۔ ڈائننگ ٹیبل ناشتے کے لوازمات سے سجی ہوئی تھی۔ سامنے نعمت خالہ بیٹھی زور زور سے ہنس رہی تھیں۔ ہمیں یقین نہ آیا۔ کیا خواب ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہم سوچ میں پڑ گئے۔تبھی فلسفی، چیتا اور گڑیا پاس آگئے۔ سب ہنس رہے تھے۔ فلسفی نے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا:
’’ابھی تک نیند میں ہو؟‘‘ ہم چکرا کر گرنے کی ایکٹنگ کرنے ہی والے تھے کہ نعمت خالہ بول پڑیں:
’’ایک دھپ دوں گی۔ اتنی دیر ہوگئی، نہ سلام نہ دعا۔‘‘ ان کی آواز سن کر ہم حواسوں میں آگئے لیکن حیرت کے سمندر سے باہر نہ آسکے۔
’’کل تمہارے خالو نے اطلاع دی کہ اگلے روز کراچی جانے والے جہاز میں سیٹیں خالی ہیں، کراچی کا چکر لگا آتے ہیں۔ سب فوراً تیار ہوگئے۔‘‘

معلوم ہوا خالو کو سہولت حاصل تھی کہ جہاز میں سیٹیں خالی ہوں تو فیملی کا سفر مفت۔ نعمت خالہ نے چائنا قیام کے دوران اس سہولت کے تمام تر فوائد حاصل کیے۔ چین سے ہر دوسرے تیسرے مہینہ یوں منہ اٹھائے چلی آتیں کہ لوگ دوسرے محلہ سے نہیں آتے۔کسی روز گھنٹی بجتی اور دروازہ پر نعمت خالہ مع لاؤ لشکر کھڑی ہوتیں۔ اماں تو پہلے ہی بے زار تھیں، اب تو نانی بھی چڑنے لگیں:
’’اب ٹک کر بیٹھ جاؤ بی بی۔ کچھ گھر گرہستی پر بھی دھیان دو۔ بار بار چھٹیوں سے بچوں کی پڑھائی پر بھی اثر پڑتا ہے۔‘‘ مگر نعمت خالہ پر کسی چیز کا اثر نہیں پڑتا۔

نعمت خالہ کا کمال تھا کہ ہر دفعہ جاتے ہوئے پہلے روز کی طرح بلک بلک کر روتیں۔ مگر اب کوئی ان کے رونے پر نہیں روتا۔ سب کو معلوم تھا جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہ گزریں گے کہ دوبارہ آجائیں گی۔ سب کی سرد مہری کے باوجود ان کا رونا دھونا اسی زور و شور سے جاری رہا۔

اس روز نعمت خالہ تین دن کے لیے آئی تھیں۔ تین دن شاپنگ اور شرارتوں میں ایسے گزرے کہ پتا ہی نہ چلا۔ چوتھے روز روانگی تھی۔ اب کوئی انہیں ائیر پورٹ چھوڑنے نہیں جاتا تھا۔ گھر کے دروازے سے ٹہلا دیتےتھے۔ چین سے آنے کو مذاق بنانے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ اماں کا فلسفہ تھا۔

فلائیٹ کا ٹائم نکل رہا تھا۔ باہر ڈرائیور ہارن پہ ہارن دینے لگا۔ اندر نعمت خالہ کے رونے کا سین آن تھا۔ اماں اور نانی بڑی مشکلوں سے کھینچ کر گاڑی تک لائیں۔ گاڑی جانے کے بعد سب سکون کا سانس لیتے ہوئے اندر آگئے۔ ڈرائیور کو گئے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی۔ نانی پریشان ہوگئیں۔ خدا خیر کرے۔ نانی بے چینی کے عالم میں ٹہل رہی تھیں تبھی گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔ نانی کے اوسان بحال ہوئے:
’’خدایا تیرا شکر۔‘‘ ابھی نانی کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ دروازہ کی گھنٹی بجی۔ نانی کی پیشانی پر پھر فکر مندی کی لکیریں ابھر آئیں:
’’ ڈرائیور نے گاڑی سے اتر کر بیل کیوں بجائی؟‘‘ نانی بڑبڑاتی ہوئی دروازہ تک گئیں۔ دروازہ کھلتے ہی نعمت خالہ کے زور دار قہقہہ کی آواز آئی:
’’ہاہاہاہا۔ ہم چانس کی سیٹوں پر گئے تھے۔ جہاز میں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔اب کل جائیں گے۔ ڈرائیور کو اسی لیے روک رکھا تھا۔ ‘‘ نعمت خالہ ہنس ہنس کر بتا نے لگیں۔ اماں غصہ سے کھول رہی تھیں۔ نانی سر پکڑ کر بیٹھ گئیں!!!

اگلے روز سامان دوبارہ پیک ہوا۔ ڈرائیور باہر دوبارہ انتظار کرنے لگا۔ سب نعمت خالہ کو دوبارہ رخصت کرنے دروازہ پر جمع ہوگئے۔ نعمت خالہ نانی سے لپٹ کر بلک بلک کے رونے لگیں۔ ہماری آنکھیں باہر کو آگئیں:
’’کل والے سین کو چوبیس گھنٹے تو گزرنے دیں۔‘‘ نعمت خالہ کے رونے کو بریک لگ گئے۔ رونا دھونا بھول کر ہمیں گھورنے لگیں:
’’بچو تم کیا جانو اپنوں سے جدائی کا غم۔‘‘ جذباتی ڈائیلاگ مارنے کی کوشش کی گئی۔
’’لیکن وہ والی جدائی آپ ہونے کب دیتی ہیں؟‘‘ ہماری حیرت کا طلسم ٹوٹ نہیں رہا تھا۔تبھی نعمت خالہ کے بھاری بھرکم ہاتھ کی زور دار دھپ کمر پر پڑی۔ طلسم ہوشربا کے سب ہوش اڑ گئے۔ ایک ہی دھپ ہماری زباں بندی کرگئی، ہمیں چاروں شانے چت کرگئی۔
جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے، یہ تو سنا تھا۔۔۔

پر آج معلوم ہوا کبھی کبھار طاقت کی بھی ہوتی ہے!!!
 
آخری تدوین:

عدنان عمر

محفلین
نعمت خالہ چین چلی گئیں!!!

خالو پی آئی اے میں انجینئر تھے۔ تین سال بیرون ملک ٹرانسفر ملازمت کا حصہ تھا، سو رشتہ داروں سے دور چین کی بنسری بجانے چین چلے گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی ہم چلتے ہو تو چین کو چلیے اٹھا لائے۔ محض یہ معلوم کرنے کے لیے کہ چین کے کیا حالات ہیں۔ وہاں جا کر نعمت خالہ کے بگڑنے کے چانسز تو نہیں!!!

روانگی سے قبل نعمت خالہ بلک بلک کے روئیں اور سب کو رُلا دیا۔ نانی کا حال سب سے برا تھا:
’’ہائے میری بچی پرائے دیس جارہی ہے، جانے دوبارہ کب ملاقات ہو۔‘‘ نعمت خالہ مزید بلکنے لگیں۔

اماں مضبوط اعصاب کی مالک تھیں، آنسو تو کیا، مجال ہے چہرہ پر کوئی تاثر بھی آیا ہو۔
سب نعمت خالہ کو چھوڑنے گاڑیوں میں لدے ائیر پورٹ پہنچے۔ لاؤنج میں جانے سے قبل نعمت خالہ نے بلک بلک کر رونے کا سین دوبارہ آن کرنا چاہا مگر اماں نے جھڑک دیا:
’’بس کردو۔ گھر میں تو ٹھیک تھا، یہاں سب کے سامنے ہمیں تماشا نہ بناؤ۔‘‘
’’بڑی ظالم ہو تم باجی۔‘‘ نعمت خالہ آنسو پونچھ پونچھ کر نڈھال ہوگئیں مگر اماں کو کوئی فرق نہ پڑا۔

ہمارا دل بجھ رہا تھا۔ اچانک سب کزنز ساتھ چھوڑ جائیں گئے۔ سب مزے، ساری شرارتیں، لوگوں کو ستانا پھر ان کی شکلیں دیکھ کر ہنستے ہنستے دہرے ہوجانا ماضی کا حصہ بننے جارہا تھا۔ ہماری آنکھیں نم ہوگئیں۔

نعمت خالہ نے ائیر پورٹ لاؤنج میں داخل ہونے سے قبل آخری بار سب کو مڑ کر دیکھا اور پھر بلک بلک کر رونے لگیں۔
’’توبہ۔ اتنا تو اپنی شادی پر بھی نہیں روئی تھی۔‘‘ اماں سے زیادہ ڈرامہ بازیاں برداشت نہیں ہوتی تھیں۔

سب بجھے دل کے ساتھ گھر واپس آگئے۔ ایسے لگا جیسے خالی ہاتھ رہ گئے ہوں۔ زندگی خوشیوں سے خالی ہو۔
’’ دوبارہ کب ملیں گے۔ پورے تین سال بعد؟‘‘ ہم نے نانی سے پوچھا۔
’’معلوم نہیں۔ لیکن یہ معلوم ہے اس عرصہ شہر میں سکون رہے گا۔‘‘جانے نانی کن باتوں پر جلی بیٹھی تھیں۔ ہم جل کر رہ گئے۔

چند دن اداسی میں گزرے۔ ابھی دل کی اداسی دور نہ ہوئی تھی کہ ایک دن ایک چمتکار ہوگیا!!!

اس روز چھٹی تھی۔ صبح کے آٹھ بجے ہوں گے، ہم سو رہے تھے، اچانک شور شرابے سے آنکھ کھل گئی۔ لاؤنج میں برتن کھڑکھڑانے کی آوازوں کے ساتھ بہت سارے لوگوں کے زور زور سے بولنے کی آوازیں گڈ مڈ ہورہی تھیں۔ ہم آنکھ ملتے تجسس کے عالم میں لاؤنج میں آئے۔ ڈائننگ ٹیبل ناشتے کے لوازمات سے سجی ہوئی تھی۔ سامنے نعمت خالہ بیٹھی زور زور سے ہنس رہی تھیں۔ ہمیں یقین نہ آیا۔ کیا خواب ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہم سوچ میں پڑ گئے۔تبھی فلسفی، چیتا اور گڑیا پاس آگئے۔ سب ہنس رہے تھے۔ فلسفی نے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا:
’’ابھی تک نیند میں ہو؟‘‘ ہم چکرا کر گرنے کی ایکٹنگ کرنے والے تھے کہ نعمت خالہ بول اٹھیں:
’’ایک دھپ دوں گی۔ اتنی دیر ہوگئی، نہ سلام نہ دعا۔‘‘ ان کی آواز سن کر ہم حواسوں میں آگئے لیکن حیرت کے سمندر سے باہر نہ آسکے۔
’’کل تمہارے خالو نے اطلاع دی کہ اگلے روز کراچی جانے والے جہاز میں سیٹیں خالی ہیں، کراچی کا چکر لگا آتے ہیں۔ سب فوراً تیار ہوگئے۔‘‘

معلوم ہوا خالو کو سہولت حاصل تھی کہ جہاز میں سیٹیں خالی ہوں تو فیملی کا سفر مفت۔ نعمت خالہ نے چائنا قیام کے دوران اس سہولت کے تمام تر فوائد حاصل کیے۔ چین سے ہر دوسرے تیسرے مہینہ یوں منہ اٹھائے چلی آتیں کہ لوگ دوسرے محلہ سے نہیں آتے۔کسی روز گھنٹی بجتی اور دروازہ پر نعمت خالہ مع لاؤ لشکر کھڑی ہوتیں۔ اماں تو پہلے ہی بے زار تھیں، اب تو نانی بھی چڑنے لگیں:
’’اب ٹک کر بیٹھ جاؤ بی بی۔ کچھ گھر گرہستی پر بھی دھیان دو۔ بار بار چھٹیوں سے بچوں کی پڑھائی پر بھی اثر پڑتا ہے۔‘‘ مگر نعمت خالہ پر کسی چیز کا اثر نہیں پڑتا تھا۔

نعمت خالہ کا کمال تھا کہ ہر دفعہ جاتے ہوئے پہلے روز کی طرح بلک بلک کر روتیں۔ مگر اب کوئی ان کے رونے پر نہیں روتا۔ سب کو معلوم تھا جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہ گزریں گے کہ دوبارہ آجائیں گی۔ سب کی سرد مہری کے باوجود ان کا رونا دھونا اسی زور و شور سے جاری رہا۔

اس روز نعمت خالہ تین دن کے لیے آئی تھیں۔ تین دن شاپنگ اور شرارتوں میں ایسے گزرے کہ پتا ہی نہ چلا۔ چوتھے روز روانگی تھی۔ اب کوئی انہیں ائیر پورٹ چھوڑنے نہیں جاتا تھا۔ گھر کے دروازے سے ٹہلا دیتےتھے۔ چین سے آنے کو مذاق بنانے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ اماں کا فلسفہ تھا۔

فلائیٹ کا ٹائم نکل رہا تھا۔ باہر ڈرائیور ہارن پہ ہارن دینے لگا۔ اندر نعمت خالہ کے رونے کا سین آن تھا۔ اماں اور نانی بڑی مشکلوں سے کھینچ کر گاڑی تک لائیں۔ گاڑی جانے کے بعد سب سکون کا سانس لیتے ہوئے اندر آگئے۔ ڈرائیور کو گئے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی۔ نانی پریشان ہوگئیں۔ خدا خیر کرے۔ نانی بے چینی کے عالم میں ٹہل رہی تھیں تبھی گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔ نانی کے اوسان بحال ہوئے:
’’خدایا تیرا شکر۔‘‘ ابھی نانی کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ دروازہ کی گھنٹی بجی۔ نانی کی پیشانی پر پھر فکر مندی کی لکیریں ابھر آئیں:
’’ ڈرائیور نے گاڑی سے اتر کر بیل کیوں بجائی؟‘‘ نانی بڑبڑاتی ہوئی دروازہ تک گئیں۔ دروازہ کھلتے ہی نعمت خالہ کے زور دار قہقہہ کی آواز آئی:
’’ہاہاہاہا۔ ہم چانس کی سیٹوں پر گئے تھے۔ جہاز میں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔اب کل جائیں گے۔ ڈرائیور کو اسی لیے روک رکھا تھا۔ ‘‘ نعمت خالہ ہنس ہنس کر بتا نے لگیں۔ اماں غصہ سے کھول رہی تھیں۔ نانی سر پکڑ کر بیٹھ گئیں!!!

اگلے روز سامان دوبارہ پیک ہوا۔ ڈرائیور باہر دوبارہ انتظار کرنے لگا۔ سب نعمت خالہ کو دوبارہ رخصت کرنے دروازہ پر جمع ہوگئے۔ نعمت خالہ نانی سے لپٹ کر بلک بلک کے رونے لگیں۔ ہماری آنکھیں باہر کو آگئیں:
’’کل والے سین کو چوبیس گھنٹے تو گزرنے دیں۔‘‘ نعمت خالہ کے رونے کو بریک لگ گئے۔ رونا دھونا بھول کر ہمیں گھورنے لگیں:
’’بچو تم کیا جانو اپنوں سے جدائی کا غم۔‘‘ جذباتی ڈائیلاگ مارنے کی کوشش کی گئی۔
’’لیکن وہ والی جدائی آپ آنے کب دیتی ہیں؟‘‘ ہماری حیرت کا طلسم ٹوٹنے نہیں پا رہا تھا۔تبھی نعمت خالہ کے بھاری بھرکم ہاتھ کی زور دار دھپ کمر پر پڑی۔ طلسم ہوشربا کے سب ہوش اڑ گئے۔ ایک ہی دھپ ہماری زباں بندی کرگئی، ہمیں چاروں شانے چت کرگئی۔
فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے، یہ تو سنا تھا۔۔۔

پر آج معلوم ہوا کبھی کبھار طاقت کی بھی ہوتی ہے!!!
بہت خوب! بہت ہی خوب۔ تحریر ہی نہیں، اسلوبِ بیان بھی لاجواب اور قابلِ رشک۔
 

سید عمران

محفلین
ابا جدہ سے آتے تو سارے رشتہ داروں سے ملنے جاتے۔بڑی پھوپھو کراچی نہ آتیں تو سب کو لے کر بہاولپور پہنچ جاتے۔ ہمارا بہاولپور کا سفر، شہر سے باہر زندگی کا پہلا سفرتھا۔ ہم ریل گاڑی پر مضمون پڑھ کر اس کے سحر میں گرفتار تھے۔ مجبوراً ٹرین کی سیٹیں بُک ہوگئیں۔ بوگی کا ایک پورشن ہمارا تھا۔ راستہ بھر نت نئے لوگوں کی بھانت بھانت کی بولیاں سنتے آئے۔ سرائیکی، پنجابی، پشتو۔ سب دھیمے لہجے میں اپنی بولیاں بول رہے تھے۔ رات کے سناٹے میں بولیاں لطف دینے لگیں۔ ہم لطف لینے لگے۔

آتے جاتے خوانچہ فروشوں کی آوازیں سونے پہ سہاگا تھیں۔ اخبار والےےےےے۔ چائے گرم اےےےے۔گرم آنڈےےےےے۔ٹھنڈی بوتل اےےےےےے۔ یہ آوازیں سن کر ہم دبی دبی ہنسی ہنستے تو وہ ہمیں پلٹ کر دیکھتے، پھر جوابی ہنسی ہنستے۔ ہر گزرنے والے سے کچھ نہ کچھ خریدنا لازمی تھا۔اسنیکس ٹھنڈی بوتل سے کھائے اور ابلے ہوئے انڈے گرم چائے سے۔ رسائل کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ اتنی مصروفیات کے دوران رات گہری ہوئی تو آنکھ لگ گئی۔

اچانک ابا کی آواز آئی :
’’بہاولپور آنے والا ہے!!!‘‘
ہم آنکھیں ملتے اٹھ بیٹھے۔ ٹرین اسٹیشن پر کھڑی تھی۔
’’یہ بہاولپور ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔
’’نہیں، سمّہ سٹّہ ہے۔‘‘
’’ٹرین کب چلے گی؟‘‘
’’ بیس منٹ بعد۔‘‘

ہم ٹرین سے اتر آئے۔ صبح کا سہانا سماں، ہوا میں خنکی۔ اسٹیشن مسافروں سے تقریباً خالی ہوچکا تھا۔ پلیٹ فارم پر اکا دکا مسافر، چند قلی اور اسٹیشن کے ملازم چلتے پھرتے نظر آئے۔ بڑے شہروں کی طرح گاڑیوں کا شور، انسانوں کی آوازیں اور فیکٹریوں کا دھواں یکسر غائب تھا۔ فضاؤں میں سکون کا راج تھا۔ ہوا چلتی تو پتوں کی سرسراہٹ مزہ دے جاتی۔ سامنے نارنجی سورج انگڑائیاں لیتے طلوع ہورہا تھا۔ ہمیں سمہ سٹہ پسند آیا۔ آج بھی ٹرین سمہ سٹہ پر رکتی ہے تو ہم ضرور اترتے ہیں۔ زمانے کے اتار چڑھاؤ کا اس پر کوئی اثر محسوس نہیں ہوتا۔ فضاؤں میں آج بھی سکون ہے، پتوں کی سرسراہٹ ہے اور ہواؤں میں تازگی ہے۔

ایک گھنٹہ بعد سب بہاولپور اسٹیشن پر اتر رہے تھے۔ میزبان استقبال کے لیے موجود تھے۔ بہاولپور اسٹیشن خاموش اور پرسکون ہے، مزے دار ہے۔ ہم مزے اٹھاتے باہر آگئے۔ گاڑی میں سامان لدنے لگا۔ جب ہمارے لدنے کی باری آئی تو ہم نے انکار کردیا:
’’ہم اُس میں بیٹھیں گے۔‘‘ سامنے کھڑی گھوڑا گاڑی دیکھ کر ہم پسر گئے، اماں تلملا گئیں،ابا ہنسنے لگے۔
’’آپ لوگ گاڑی میں جائیں ہم تانگہ پر آتے ہیں۔‘‘
ابا نے سب کو روانہ کردیا ۔ ہم تانگہ پر بیٹھ گئے۔ ٹک ٹک ٹکا ٹک۔ تانگہ سڑک پر دوڑتا تو گھوڑے کے نعل تال سے تال ملاتے۔ شہر کے پُرسکون سناٹے میں یہ آواز ارتعاش پھیلانے لگی۔ ابا نے تانگہ گھر کی پچھلی جانب رکوایا۔ ہم تانگے سے اترے تو لال اینٹوں کی سڑک قدموں تلے بچھی تھی۔ پہلی بار لال اینٹیں دیکھیں۔ گلی پتلی تھی، دونوں اطراف گھر کی دیواروں کے ساتھ نالیاں بنی ہوئی تھیں۔ گندی نالیوں اور پتلی گلی نے ذہن پر اچھا تاثر نہ چھوڑا:
’’پھوپھو بہت غریب ہیں کیا؟‘‘ ہم گلی کی حالت سے پھوپھو کی حالت کا اندازہ لگانے لگے ۔ابا ہنسنے لگے۔
گھر کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوئے آنکھیں کھل گئیں۔ اتنا بڑا صحن۔ دور ایک کونے میں بڑا سارا پنجرہ، اس میں مرغیاں اور چوزے۔ اس کے برابر جامن کا درخت۔ دوسری طرف دیوار کے ساتھ مزید کئی درخت۔ دل سے پھوپھو کی غربت کا غم دُھلنے لگا!!!

سردیوں کی آمد آمد کے باعث موسم میں خنکی تھی۔ سب بڑے سارے باورچی خانہ میں آگئے۔ یہاں گرما گرم پراٹھے بن رہے تھے۔ دوسرے چولہے پر انڈے تلے جارہے تھے۔ ہم ایک بڑے سے تخت پر بیٹھ گئے۔ گرم پراٹھے، نرم انڈے، میٹھی دہی اور مزے دار چائے۔ بھوک چمک رہی تھی، خوب سیر ہوکے ناشتہ کیا۔

اب پھوپھو کے گھر کی سیر کو نکلے۔ بڑا سارا صحن جس کے اِس پار بھی کمرے، اس پار بھی کمرے۔ کمروں کے آگے برآمدے، سائیڈ میں لال اینٹوں سے بنے بڑے بڑے روم کولر۔ ایک کونے میں بڑا سا اسٹور جہاں آٹا چاول کا ذخیرہ تھا۔ ہم نئی نئی چیزیں حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ دھوپ میں تھوڑی تیزی آٗئی تو سب صحن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ چارپائی ہمارے لیے ایک عجوبہ تھی۔ سوراخ دار، ہوا دار!!!

سامنے ایک دروازہ نظر آیا۔ ہم کھول کر اندر گئے، مگر یہ کیا؟ ہم تو باہر آگئےتھے۔ سامنے صاف ستھری سڑک۔ سڑک کے دونوں طرف وسیع قطعہ۔ سڑک بڑی اور ٹریفک کم۔ خاموشی توڑنے کے لیے کبھی کوئی گھوڑا گاڑی ٹکا ٹک کرتی گزر جاتی یا اکا دکا موٹر سائیکل والا آجاتا اور پھر سناٹا چھا جاتا۔ اچانک چھن چھنا چھن کی آواز آئی۔ ہم نے آواز کا تعاقب کیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ عجیب و غریب سواری پر عجیب و غریب انسان بیٹھا ہے۔ ہم سمجھنے کی کوشش کرنے لگے، یہ کیا مخلوق ہے۔ کچھ نہ سمجھ پائے تو اندر کی طرف دوڑ لگادی، ابا کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دروازے تک لائے۔ اماں پیچھے پیچھے آگئیں۔
’’یہ عجیب و غریب سی چیز کیا بھاگی جارہی ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔
ابا زور زور سے ہنسنے لگے:
’’بیٹا، اس عجیب و غریب چیز کو سائیکل رکشہ کہتے ہیں۔‘‘
ہم پہلی بار سائیکل رکشہ سے متعارف ہوئے۔

بہاولپور میں سکون ہے، خاموشی ہے، سحر ہے۔ ہم اس کے سحر میں مبتلا ہونےلگے۔ ڈنر کے بعد چہل قدمی کے لیے نکلے۔ فضا میں اندھیرا، سناٹا اور سکون تیر رہا تھا، کبھی سائیکل رکشہ کی چھن چھن کا شور ہوتا اور پھر سناٹا چھا جاتا۔ گھر سے تھوڑا آگے ماڈل ٹاؤن اے کا علاقہ تھا۔ وہاں ایک پارک میں بیٹھ جاتے، چاٹ کھاتے اور کون چاٹتے۔دن کو اماں بازار نکل جاتیں۔ ہمیں ضرور ساتھ رکھتیں۔ ایک دن اماں سے ہماری کزن کہنے لگیں:
’’ممانی جان آج مچھلی بازار چلتے ہیں۔‘‘
مچھلی کا نام کان میں پڑا تو منہ میں پانی آگیا۔ چشم تصور میں گرم تیل کی کڑاہی سے تلی ہوئی مچھلی کی خوشبوئیں آنے لگیں۔ کزن سے ہمارے چٹخارے برداشت نہ ہوئے، آناً فاناً تصوارتی محل چکنا چور کر دیا:
’’مچھلی بازار میں مچھلی کے سوا سب ملتا ہے۔ کبھی مچھلی ملتی ہوگی، اب اس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں ہے۔‘‘
ہم مچھلی ہاتھ سے نکلتی دیکھ کر ہاتھ ملتے رہ گئے!!!

(جاری ہے)
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
بہت خوب سید عمران بھائی۔ عام سے واقعات کو آپ نے اپنے دلکش اور پراثر انداز بیاں کے ذریعے جس طرح افسانوی رنگ میں ڈھالا ہے۔ اس پر آپ یقینا قابل دادوتحسین ہیں۔ دعا ہے کہ رب العزت آپ کو مزید زور قلم عطا فرمائیں اور آپ یونہی اپنے بچپن کے واقعات و تجربات کو احاطہ تحریر میں لا کر ہمیں محظوظ کرتے رہیں۔ آمین۔
 

سید عمران

محفلین
بہت خوب سید عمران بھائی۔ عام سے واقعات کو آپ نے اپنے دلکش اور پراثر انداز بیاں کے ذریعے جس طرح افسانوی رنگ میں ڈھالا ہے۔ اس پر آپ یقینا قابل دادوتحسین ہیں۔ دعا ہے کہ رب العزت آپ کو مزید زور قلم عطا فرمائیں اور آپ یونہی اپنے بچپن کے واقعات و تجربات کو احاطہ تحریر میں لا کر ہمیں محظوظ کرتے رہیں۔ آمین۔
پسندیدگی پر بہت شکریہ جناب ساگر صاحب!!!
 

سید عمران

محفلین
بہاولپور سے گھنٹہ ڈیڑھ کی مسافت پر احمد پور شرقیہ نامی چھوٹا سا قصبہ ہے۔ یہاں قدیم زمانہ کی ایک نہایت بوڑھی خاتون رہتی تھیں۔ یہ ابا کی نانی ہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ دونوں ابا کے ماموں ہیں۔خاندان بھر میں دونوں بڑے ماموں، چھوٹے ماموں کے نام سے مشہور ہیں۔

عصر کا وقت ہوگا، سب بچے گھر کی چھت پر کھیل رہے تھے۔ نیچے صحن میں بڑے ماموں نہا کر سفید براق لباس پہنے چارپائی پر لیٹے ابا سے باتیں کرنے میں مشغول تھے۔باتوں کے دوران سر پر پہنی جناح کیپ اتار کر سائیڈ پر رکھی تو چمکدار ٹنڈ لشکارے مارنے لگی۔ تبھی کرکٹ بال ہمارے ہاتھ سے چھوٹ کر چھت پر پڑے پانی سے ٹکرائی، پھر کسی کی پرواہ اور لحاظ کیے بغیر نیچے صحن کی جانب رواں دواں ہوگئی۔اس کا براہِ راست نشانہ بڑے ماموں کی ٹنڈ تھا۔ بال ٹنڈ سے ٹکرائی اور نہایت آہستگی سے لباس داغدار کرتی ہوئی ان کے پہلو میں جا براجمان ہوئی۔

شروع کے چند لمحات تو بڑے ماموں کو کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ ان کے ساتھ کیا ہاتھ ہوگیا۔ جب سمجھ میں آیا تو چھت کی جانب منہ اٹھا کر بآوازِ بلند ہمیں جو سمجھانا شروع کیا تو ہمیں لینے کے دینے پڑگئے۔ اماں کی سنجیدگی دنیا بھر میں مشہور تھی۔ انہیں کم ہی کسی بات پر ہنسی آتی تھی لیکن بڑے ماموں کے سر سے ٹپکتا پانی باریک لکیر کی صورت میں منہ پر آنے لگا تو اماں سے برداشت نہ ہوسکا۔ وہیں چارپائی پر بیٹھے بیٹھے منہ پھیر کر دوہری ہوگئیں۔

بڑے ماموں کچھ دیر کوس پیٹ کر دوبارہ نہانے چلے گئے۔ فی الحال ان کا منہ کسی کو منہ دکھانے قابل نہ رہا تھا۔ اماں بھی برآمدے کے پار بنے کمرے میں چلی گئیں جہاں ان کو جی بھر کے ہنسنا تھا۔

آج ٍکسی رشتہ دار کے یہاں دعوت تھی۔ سب تیار ہوگئے۔ چھوٹے ماموں نہیں گئے۔ نانی کے پاس رک گئے۔ چھوٹی ممانی آخر وقت تک سمجھاتی رہیں کہ نانی چائے مانگیں تو چائے کا سامان کہاں ڈھونڈنا ہے۔ چھوٹے ماموں سر ہلاتے رہے۔ لیکن صاف محسوس ہورہا تھا کہ سمجھ کچھ نہیں رہے ہیں صرف ممانی کو ٹال رہے ہیں۔

رات کو واپسی ہوئی تو نانی سور ہی تھیں۔ دونوں ممانیاں پریشان ہوگئیں:
’’ یہ سونے کا کون سا وقت ہے؟‘‘
’’معلوم نہیں۔ اماں نے شام کو چائے مانگی تھی۔ چائے پی کر جو سوئیں تو میں نے بھی نہیں اٹھایا۔‘‘ چھوٹے ماموں نے اطمینان سے کہا۔
چھوٹی ممانی ڈرتے ہوئے قریب گئیں۔ نانی کا سانس چیک کیا۔ سانس آرہا تھا۔ انہوں نے شکر ادا کیا۔ سب لباس تبدیل کرنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔رات کے گیارہ بجے ہوں گے۔ چھوٹے شہروں میں اس وقت سناٹا چھا جاتا ہے۔ تبھی چھوٹی ممانی نے شور مچا دیا:
’’ اماں ابھی تک نہیں اٹھیں۔ ڈاکٹر کو بلائیں۔‘‘
بڑے ماموں سونے کے لیے لیٹ چکے تھے۔ آنکھیں ملتے ہوئے اٹھے۔ لباس تبدیل کیا اور قصبہ کے کمپوڈر نما ڈاکٹر کولے آئے۔ اس نے نہایت غیر ماہرانہ انداز میں نانی کا معائنہ کیا پھر نہایت ماہرانہ انداز میں پوچھا:
‘‘اماں کوئی دوا تو نہیں لیتیں؟ لگتا ہے کسی دوا کی زیادہ ڈوز لے لی ہے۔اس کی غنودگی کا اثر ہے۔‘‘
سب چھوٹے ماموں کو دیکھنے لگے۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔
’’میری طرف دیکھیں۔‘‘ چھوٹی ممانی بولیں۔ ’’آپ نے اماں کو کیا کھلایا تھا؟‘‘
’’اماں نے شام کو چائے مانگی، وہ میں نے بناکردے دی۔ بسکٹ ان کے پاس رکھے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کچھ نہیں کھایا۔ فوراً ہی سونے لیٹ گئی تھیں۔‘‘
چھوٹی ممانی کو کچھ شک ہوا وہ ماموں کا ہاتھ پکڑ کر باورچی خانہ میں لے گئیں۔ نہ جانے وہاں کیا تفتیش کی واپس آکر کمپوڈر نما ڈاکٹر کو بتانے لگیں:
’’میں اچھی طرح سمجھا کر گئی تھی کہ چائے کی پتی کہاں رکھی ہے۔اس کے باوجود انہوں نے چائے کی پتی کے بجائے تمباکو کی پتی ڈال دی جو اماں پان میں ڈالتی ہیں۔‘‘

ممانی کی بات سن کر سب تیز نظروں سے چھوٹے ماموں کو گھورنے لگے۔ کمپوڈر نما ڈاکٹر سر جھکا کر کچھ لکھنے لگا۔ اماں تیزی سے اٹھ کر ساتھ والے کمرے کی جانب لپکیں۔ کوئی نہ جان سکا اماں کہاں گئیں۔ لیکن ہم نے دیکھ لیا تھا اماں حلق سے امڈتے قہقہے ضبط کرنے میں ناکام ہورہی ہیں۔ اب کمرے میں چھپ کر زور زور سے ہنسیں گی۔

انہیں ہرگز گوارا نہ تھا کہ دنیا میں مشہور ان کی سنجیدہ مزاجی اور وقار کا بھرم سرعام سرنگوں ہوجائے!!!
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
بہاولپور سے گھنٹہ ڈیڑھ کی مسافت پر احمد پور شرقیہ نامی چھوٹا سا قصبہ ہے۔ یہاں قدیم زمانہ کی ایک نہایت بوڑھی خاتون رہتی تھیں۔ یہ ابا کی نانی ہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ دونوں ابا کے ماموں ہیں۔خاندان بھر میں دونوں بڑے ماموں، چھوٹے ماموں کے نام سے مشہور ہیں۔

عصر کا وقت ہوگا، سب بچے گھر کی چھت پر کھیل رہے تھے۔ نیچے صحن میں بڑے ماموں نہا کر سفید براق لباس پہنے چارپائی پر لیٹے ابا سے باتیں کرنے میں مشغول تھے۔باتوں کے دوران سر پر پہنی جناح کیپ اتار کر سائیڈ پر رکھی تو چمکدار ٹنڈ لشکارے مارنے لگی۔ تبھی کرکٹ بال ہمارے ہاتھ سے چھوٹ کر چھت پر پڑے پانی سے ٹکرائی، پھر کسی کی پرواہ اور لحاظ کیے بغیر نیچے صحن کی جانب رواں دواں ہوگئی۔اس کا براہِ راست نشانہ بڑے ماموں کی ٹنڈ تھا۔ بال ٹنڈ سے ٹکرائی اور نہایت آہستگی سے لباس داغدار کرتی ہوئی ان کے پہلو میں جا براجمان ہوئی۔

شروع کے چند لمحات تو بڑے ماموں کو کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ ان کے ساتھ کیا ہاتھ ہوگیا۔ جب سمجھ میں آیا تو چھت کی جانب منہ اٹھا کر بآوازِ بلند ہمیں جو سمجھانا شروع کیا تو ہمیں لینے کے دینے پڑگئے۔ اماں کی سنجیدگی دنیا بھر میں مشہور تھی۔ انہیں کم ہی کسی بات پر ہنسی آتی تھی لیکن بڑے ماموں کے سر سے ٹپکتا پانی باریک لکیر کی صورت میں منہ پر آنے لگا تو اماں سے برداشت نہ ہوسکا۔ وہیں چارپائی پر بیٹھے بیٹھے منہ پھیر کر دوہری ہوگئیں۔

بڑے ماموں کچھ دیر کوس پیٹ کر دوبارہ نہانے چلے گئے۔ فی الحال ان کا منہ کسی کو منہ دکھانے قابل نہ رہا تھا۔ اماں بھی برآمدے کے پار بنے کمرے میں چلی گئیں جہاں ان کو جی بھر کے ہنسنا تھا۔

آج ٍکسی رشتہ دار کے یہاں دعوت تھی۔ سب تیار ہوگئے۔ چھوٹے ماموں نہیں گئے۔ نانی کے پاس رک گئے۔ چھوٹی ممانی آخر وقت تک سمجھاتی رہیں کہ نانی چائے مانگیں تو چائے کا سامان کہاں ڈھونڈنا ہے۔ چھوٹے ماموں سر ہلاتے رہے۔ لیکن صاف محسوس ہورہا تھا کہ سمجھ کچھ نہیں رہے ہیں صرف ممانی کو ٹال رہے ہیں۔

رات کو واپسی ہوئی تو نانی سور ہی تھیں۔ دونوں ممانیاں پریشان ہوگئیں:
’’ یہ سونے کا کون سا وقت ہے؟‘‘
’’معلوم نہیں۔ اماں نے شام کو چائے مانگی تھی۔ چائے پی کر جو سوئیں تو میں نے بھی نہیں اٹھایا۔‘‘ چھوٹے ماموں نے اطمینان سے کہا۔
چھوٹی ممانی ڈرتے ہوئے قریب گئیں۔ نانی کا سانس چیک کیا۔ سانس آرہا تھا۔ انہوں نے شکر ادا کیا۔ سب لباس تبدیل کرنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔رات کے گیارہ بجے ہوں گے۔ چھوٹے شہروں میں اس وقت سناٹا چھا جاتا ہے۔ تبھی چھوٹی ممانی نے شور مچا دیا:
’’ اماں ابھی تک نہیں اٹھیں۔ ڈاکٹر کو بلائیں۔‘‘
بڑے ماموں سونے کے لیے لیٹ چکے تھے۔ آنکھیں ملتے ہوئے اٹھے۔ لباس تبدیل کیا اور قصبہ کے کمپوڈر نما ڈاکٹر کولے آئے۔ اس نے نہایت غیر ماہرانہ انداز میں نانی کا معائنہ کیا پھر نہایت ماہرانہ انداز میں پوچھا:
‘‘اماں کوئی دوا تو نہیں لیتیں؟ لگتا ہے کسی دوا کی زیادہ ڈوز لے لی ہے۔اس کی غنودگی کا اثر ہے۔‘‘
سب چھوٹے ماموں کو دیکھنے لگے۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔
’’میری طرف دیکھیں۔‘‘ چھوٹی ممانی بولیں۔ ’’آپ نے اماں کو کیا کھلایا تھا؟‘‘
’’اماں نے شام کو چائے مانگی، وہ میں نے بناکردے دی۔ بسکٹ ان کے پاس رکھے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کچھ نہیں کھایا۔ فوراً ہی سونے لیٹ گئی تھیں۔‘‘
چھوٹی ممانی کو کچھ شک ہوا وہ ماموں کا ہاتھ پکڑ کر باورچی خانہ میں لے گئیں۔ نہ جانے وہاں کیا تفتیش کی واپس آکر کمپوڈر نما ڈاکٹر کو بتانے لگیں:
’’میں اچھی طرح سمجھا کر گئی تھی کہ چائے کی پتی کہاں رکھی ہے۔اس کے باوجود انہوں نے چائے کی پتی کے بجائے تمباکو کی پتی ڈال دی جو اماں پان میں ڈالتی ہیں۔‘‘

ممانی کی بات سن کر سب تیز نظروں سے چھوٹے ماموں کو گھورنے لگے۔ کمپوڈر نما ڈاکٹر سر جھکا کر کچھ لکھنے لگا۔ اماں تیزی سے اٹھ کر ساتھ والے کمرے کی جانب لپکیں۔ کوئی نہ جان سکا اماں کہاں گئیں۔ لیکن ہم نے دیکھ لیا تھا اماں حلق سے امڈتے قہقہے ضبط کرنے میں ناکام ہورہی ہیں۔ اب کمرے میں چھپ کر زور زور سے ہنسیں گی۔

انہیں ہرگز گوارا نہ تھا کہ دنیا میں مشہور ان کی سنجیدہ مزاجی اور وقار کا بھرم سرعام سرنگوں ہوجائے!!!
سید عمران صاحب!!!!
بہت شاندار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top