اُمید افزا اور ہمت بڑھانے والے اشعار

جاسمن

لائبریرین
سنو اے بستگانِ زلفِ گیتی، ندا کیا آ رہی ہے آسماں سے
کہ آزادی کا اک لمحہ ہے بہتر، غلامی کی حیاتِ جاوداں سے
جوش ملیح آبادی
 

زیرک

محفلین
خواب دیکھنا اور ان کی تکمیل کے لیے کوشان رہنا انسان کو آگے بڑھنا سکھاتا ہے۔
جذبہ، قوت، ہمت اور کچھ جنون دیا ہے
مٹی میں اک خواب کو بو کر خون دیا ہے
 
کٹی اب کٹی منزلِ شامِ غم
بڑھائے چلو پافگارو قدم

ہمیں سے فروزاں ہے شمعِ وفا
ہمیں نے بھرا ہے محبت کا دم

کہیں یاس کے حوصلے بڑھ نہ جائیں
کہیں آس کے رک نہ جائیں قدم

پڑھے گا زمانہ بڑے شوق سے
کیے جاؤں دل کی کہانی رقم

بدل جائے گا دیکھتے دیکھتے
یہ عہدِ خرابی، یہ عہدِ ستم

نکلنے کو ہے آفتابِ سحر
شبِ تار ہے بس کوئی اور دم

مٹا کر اندھیروں کا نام و نشاں
اجالوں کی بستی بسائیں گے ہم
٭٭٭
حبیب جالب|​
 

زیرک

محفلین
کتنے غریب گھر ہیں اجالے سے دور دور
جتنی بھی روشنی ہے ستاروں سے چھین لو
سردی میں کتنے جسم ہیں بیگانۂ لباس
جتنی بھی چادریں ہیں مزاروں سے چھین لو​
 

جاسمن

لائبریرین
ایک اسی امید پہ ہیں سب دشمن دوست قبول
کیا جانے اس سادہ روی میں کون کہاں مل جائے
جمیل الدین عالی
 

زیرک

محفلین
کیوں نہ پلڑا ترے اعمال کا بھاری ہو نصیر
اب تو میزان پہ سرکارؐ بھی آئے ہوئے ہیں
سید نصیر الدین نصیر​
 

سیما علی

لائبریرین
اگر عثمانیوں پہ کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
(اقبال)
جاسمن جی میری جان قربان علامہ رح کے ان اشعار پر
علامہ اقبال روزِ محشر حضور ﷺ کے سامنے اپنے گناہوں کے کھلنے سے بہت ڈرتے ہیں، یہ بھی محبت کی ایک مثال ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر ….. روز محشر عذر ہائے من پذیر
ورحسابم را تو بینی نا گزیر ….. از نگاہ مصطفے پنہاں بگیر


علامہ اقبال بارگاہ الہیٰ میں التجا کر رہے ہیں کہ تو دونوں عالم سے بے نیاز ہے اور میں ایک عاجز سوالی ہوں، براہ ِکرم روزِ قیامت میری ایک عرض قبول کر لینا، اگر میرا نامہ اعمال دیکھنا بڑا ہی ضروری ہے تو برائے مہربانی حضور ﷺ کی نگاہوں سے بچا کر حساب کرنا، مطلب یہ کہ میں گناہ گار اُمتی ہوں میں اپنے نبی کے سامنے شرمند گی سے بچ جاؤں۔
 
Top