امید افزا اشعار

  1. فہد بن خالد

    غزل - کچھ غم کی نہیں بات، یہ صدمات کا ہونا

    غزل کچھ غم کی نہیں بات، یہ صدمات کا ہونا ہے دن کی پیامی بھی یہی رات کا ہونا دو چار قدم رکھ تو سہی جانبِ منزل اُس ذات کے پھر دیکھ کمالات کا ہونا پھر چشم فلک دیکھ کے حیران ہوئی ہے سر خاک پہ رکھتے ہی کرامات کا ہونا سو بار نظر ڈال تُو ہر ایک عمل پر اک روز یقینی ہے مکافات کا ہونا اس اشک فشانی سے...
  2. محمداحمد

    اُمید افزا اور ہمت بڑھانے والے اشعار

    زندگی نام ہی نشیب و فراز کا ہے۔ ہماری زندگی میں اچھے برے دن آتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی ہمارے ارد گرد تاریکیاں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ شاید اب کبھی سحر کا منہ دیکھنا ہی نصیب نہ ہو۔ لیکن ایسے میں ایک جگنو بھی نظر آ جائے تو پھر سے اُمید بندھ جاتی ہے، یہ اُمید ہمیں جینے کا اور کوشش کرنے کا...
Top