آج کی دلچسپ خبر!

مقبول ترین بھارتی شو ’سی آئی ڈی‘ 21 سال بعد بند کرنے کا فیصلہ
23/Oct/2018, 22:27abbtakk
cFKajTF.jpg


انٹرٹینمنٹ ڈیسک: (23 اکتوبر 2018) بھارتی ٹی وی کے مقبول ترین شو سی آئی ڈی کے مداحوں کے لیے بری خبر ہے کہ شو کو 21 سال بعد بند کرنے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے۔
سی آئی ڈی کا شمار بھارتی ٹی وی کے مقبول ترین شوز میں ہوتا ہے جو مسلسل 21 سالوں سے شائقین کے دل ودماغ پر قبضہ جمائے ہوئے ہے تاہم اب اسے بند کرنے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے۔
میڈیا پورٹس کے مطابق سی آئی ڈی کو بھارت کا سب سے زیادہ نشر ہونے والے شوکا اعزاز بھی حاصل ہے جبکہ سی آئی ڈی کے مرکزی کرداروں اے سی پی پردیومن، ابھیجیت اور دیا بھی لوگوں میں بے حد مقبول ہیں۔
An end to one of the most loved Television Show… The longest running Indian cult show #CID will go off air… The last episode of this extremely special show which has been entertaining audience for the past 21 years will air this Sunday, 27th October!! Statement from @SonyTV! pic.twitter.com/um9tv9Y9hz
— Rahul Raut (@Rahulrautwrites) October 23, 2018
چینل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سی آئی ڈی کی ٹیم اور فائر ورکس پروڈکشن کے ساتھ کام کرکے بہت اچھا لگا شو کی آخری قسط 27 اکتوبر کو نشر کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی سی آئی ڈی کی پروڈکشن ٹیم نے نئے سیزن کے ساتھ دوبارہ واپس آنے کا عندیہ بھی دیا ہے جس میں پہلے سے زیادہ ایکشن اور ایڈونچر سے بھرپور اقساط پیش کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ سی آئی ڈی کی پہلی قسط 1997 میں نشر کی گئی تھی اور اب تک اس کی 1500 اقساط نشر کی جاچکی ہیں، دیا کا کردار ادا کرنے والے اداکار دیانند شیٹی نے شو بند ہونے کی وجہ چینل کے ساتھ مسائل کوبتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی شو کے بند ہونے کا اچانک پتہ چلا۔
 
بیلجیئم: کیا یہ دنیا کے سب سے نالائق ڈاکو تھے؟

لٹیروں کا ایک گروہ ایک دکان میں داخل ہو۔ مالک انھیں کہے کہ بعد میں آنا، میرے پاس ابھی پیسے نہیں، وہ چلے جائیں اور شام کو دوبارہ آئیں تو پولیس ان کی منتظر ہو۔
یہ کسی مزاحیہ فلم کا منظر لگتا ہے لیکن بیلجیئم میں ای سگریٹ کی دکان کے مالک کے ساتھ حقیقت میں یہ واقعہ پیش آیا۔
چھ ڈاکو چارلیروئے کے نواح میں ڈیڈیئر نامی شہری کی دکان کو دن دیہاڑے لوٹنے کے ارادے سے داخل ہوئے۔
سیلز مین نے انھیں کہا کہ بہتر ہو گا کہ وہ دن کے اختتام پر آئیں تب وہ انھیں زیادہ رقم دے سکے گا۔ ڈاکو اس وقت یہ بات مان کر چلے گئے مگر شام کو جب لوٹے تو پولیس ان کی منتظر تھی۔
ڈیڈیئر نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کسی کامیڈی کی طرح تھا۔ انھیں بیلجیئم کے سب سے نالائق ڈاکو کہا جا رہا ہے۔
دکان کے مالک کا مزید کہنا تھا ’14 منٹ کے دوران میں نے چوروں کے ساتھ دوستی کرنے کی کوشش کی۔‘
ان کے مطابق ’میں نے انھیں کچھ نہیں دیا لیکن ان سے کہا کہ اگر وہ بعد میں آئیں تو میرے پاس دو سے تین ہزار یوروز ہوں گے۔‘
دکاندار کے مطابق ڈاکو اس چکمے میں آ گئے اور چلے گئے۔ انھوں نے بتایا ’جب میں نے پولیس کو بلایا تو انھوں نے یقین نہیں کیا کہ وہ واپس آئیں گے۔‘
لیکن وہ شام ساڑھے پانچ بجے دکان بند ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے واپس آئے۔ ڈیڈیئر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے ایک ڈاکو کو دکان کے دروازے پر دیکھ لیا اور انھیں بتایا کہ ابھی کاروبار ختم نہیں ہوا ہے۔
جب وہ شام ساڑھے چھ بجے تیسری بار واپس آئے تو پولیس انھیں پکڑنے کے لیے دکان کے پیچھے تیار کھڑی تھی جس نے ایک بچے سمیت چھ مردوں کو گرفتار کر لیا۔

ربط
 

محمد وارث

لائبریرین
بیلجیئم: کیا یہ دنیا کے سب سے نالائق ڈاکو تھے؟

لٹیروں کا ایک گروہ ایک دکان میں داخل ہو۔ مالک انھیں کہے کہ بعد میں آنا، میرے پاس ابھی پیسے نہیں، وہ چلے جائیں اور شام کو دوبارہ آئیں تو پولیس ان کی منتظر ہو۔
یہ کسی مزاحیہ فلم کا منظر لگتا ہے لیکن بیلجیئم میں ای سگریٹ کی دکان کے مالک کے ساتھ حقیقت میں یہ واقعہ پیش آیا۔
چھ ڈاکو چارلیروئے کے نواح میں ڈیڈیئر نامی شہری کی دکان کو دن دیہاڑے لوٹنے کے ارادے سے داخل ہوئے۔
سیلز مین نے انھیں کہا کہ بہتر ہو گا کہ وہ دن کے اختتام پر آئیں تب وہ انھیں زیادہ رقم دے سکے گا۔ ڈاکو اس وقت یہ بات مان کر چلے گئے مگر شام کو جب لوٹے تو پولیس ان کی منتظر تھی۔
ڈیڈیئر نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کسی کامیڈی کی طرح تھا۔ انھیں بیلجیئم کے سب سے نالائق ڈاکو کہا جا رہا ہے۔
دکان کے مالک کا مزید کہنا تھا ’14 منٹ کے دوران میں نے چوروں کے ساتھ دوستی کرنے کی کوشش کی۔‘
ان کے مطابق ’میں نے انھیں کچھ نہیں دیا لیکن ان سے کہا کہ اگر وہ بعد میں آئیں تو میرے پاس دو سے تین ہزار یوروز ہوں گے۔‘
دکاندار کے مطابق ڈاکو اس چکمے میں آ گئے اور چلے گئے۔ انھوں نے بتایا ’جب میں نے پولیس کو بلایا تو انھوں نے یقین نہیں کیا کہ وہ واپس آئیں گے۔‘
لیکن وہ شام ساڑھے پانچ بجے دکان بند ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے واپس آئے۔ ڈیڈیئر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے ایک ڈاکو کو دکان کے دروازے پر دیکھ لیا اور انھیں بتایا کہ ابھی کاروبار ختم نہیں ہوا ہے۔
جب وہ شام ساڑھے چھ بجے تیسری بار واپس آئے تو پولیس انھیں پکڑنے کے لیے دکان کے پیچھے تیار کھڑی تھی جس نے ایک بچے سمیت چھ مردوں کو گرفتار کر لیا۔

ربط
بس ثابت ہوا کہ ڈاکو اپنے قرار کے پکے نکلے اور دکاندار اپنے وعدے سے پھر گیا! :)
 
فن لینڈ ، جہاں بات کرنا تہذیب کے خلاف ہے

567862_7738413_finland_updates.JPG

براعظم یورپ کے شمال میں واقع ملک فن لینڈ میں ایک دوسرے سے بات چیت کرنا تہذیب کے خلاف سمجھا جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے سے حال پوچھنا بھی پسند نہیں کرتے ۔دنیا بھر میں فن لینڈ کی نہ بات کرنے والی عادت مشہور ہے۔یہاں کے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر بات بہت ضروری نہ ہو تو خاموش رہنا بہتر ہے، وہاں لوگ اس مقولے پر دل و جان سے عمل کرتے ہیں کہ اگر گفتگو چاندی ہے تو خاموشی سونا ہے۔

567862_9198821_finland1_updates.JPG

یہاں کے لوگ چاہے عوامی جگہ پر بیٹھے ہوں،ٹہل رہے ہوں یا میٹرو میں سفرکر رہے ہوں کوئی بات کرتا نظر نہیں آئے گا،ہر صرف سناٹا پھیلا ہوتا ہے۔لوگ اپنے آس پاس کے نامعلوم لوگوں سے بےفکر رہتے ہیں اور اکثر غیر ملکی شہریوں، سیاحوں یا دوستوں سے بھی اچانک ملنے اور باتیں کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ایسا نہیں کہ یہ لوگ گپ شپ نہیں کرتےدراصل وہ لوگوں کی پرائیویسی کا احترام کرتے ہیں اور دوسروں کو پریشان نہیں کرنا چاہتے ۔

567862_3108433_finland2_updates.JPG

یہاں کے لوگوں کی خاموشی کی بعض وجوہات بھی ہیں جن میں سب سے پہلی یہ کہ ان کی زبان بہت پیچیدہ ہے۔ان کا کسی سے براہ راست رابطہ مشکل ہوتاہے، اس کے بعد شہروں کے درمیان بہت فاصلے بھی ہیں۔ اس لیے لوگ چھوٹی چیزوں پر وقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتے۔
فن لینڈ کی ایک یونیورسٹی کی پروفیسر کا کہنا ہے کہ فن لینڈ کو 'خاموش ملک کا نام پڑوسی ممالک نے دیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے ملکوں کی ثقافت کا موازنہ ہمیشہ اپنے ملک سے کیا جاتا ہے،جیسے جیسے سویڈن اور جرمنی سے لوگ فن لینڈ آ کر آباد ہوئے، انہوںنے دیکھا کہ یہاں کے لوگ کم بولتے ہیں تو انہوں نے اسے 'خاموش ملک کا نام دے دیا۔
 
فن لینڈ ، جہاں بات کرنا تہذیب کے خلاف ہے

567862_7738413_finland_updates.JPG

براعظم یورپ کے شمال میں واقع ملک فن لینڈ میں ایک دوسرے سے بات چیت کرنا تہذیب کے خلاف سمجھا جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے سے حال پوچھنا بھی پسند نہیں کرتے ۔دنیا بھر میں فن لینڈ کی نہ بات کرنے والی عادت مشہور ہے۔یہاں کے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر بات بہت ضروری نہ ہو تو خاموش رہنا بہتر ہے، وہاں لوگ اس مقولے پر دل و جان سے عمل کرتے ہیں کہ اگر گفتگو چاندی ہے تو خاموشی سونا ہے۔

567862_9198821_finland1_updates.JPG

یہاں کے لوگ چاہے عوامی جگہ پر بیٹھے ہوں،ٹہل رہے ہوں یا میٹرو میں سفرکر رہے ہوں کوئی بات کرتا نظر نہیں آئے گا،ہر صرف سناٹا پھیلا ہوتا ہے۔لوگ اپنے آس پاس کے نامعلوم لوگوں سے بےفکر رہتے ہیں اور اکثر غیر ملکی شہریوں، سیاحوں یا دوستوں سے بھی اچانک ملنے اور باتیں کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ایسا نہیں کہ یہ لوگ گپ شپ نہیں کرتےدراصل وہ لوگوں کی پرائیویسی کا احترام کرتے ہیں اور دوسروں کو پریشان نہیں کرنا چاہتے ۔

567862_3108433_finland2_updates.JPG

یہاں کے لوگوں کی خاموشی کی بعض وجوہات بھی ہیں جن میں سب سے پہلی یہ کہ ان کی زبان بہت پیچیدہ ہے۔ان کا کسی سے براہ راست رابطہ مشکل ہوتاہے، اس کے بعد شہروں کے درمیان بہت فاصلے بھی ہیں۔ اس لیے لوگ چھوٹی چیزوں پر وقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتے۔
فن لینڈ کی ایک یونیورسٹی کی پروفیسر کا کہنا ہے کہ فن لینڈ کو 'خاموش ملک کا نام پڑوسی ممالک نے دیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے ملکوں کی ثقافت کا موازنہ ہمیشہ اپنے ملک سے کیا جاتا ہے،جیسے جیسے سویڈن اور جرمنی سے لوگ فن لینڈ آ کر آباد ہوئے، انہوںنے دیکھا کہ یہاں کے لوگ کم بولتے ہیں تو انہوں نے اسے 'خاموش ملک کا نام دے دیا۔
یعنی کہ ملک خاموشاں ۔
 
لاڈلے بیل کی آخری رسومات بینڈ باجے کے ساتھ

568756_9587160_BULL_updates.JPG

بھارت میں ایک بیل کے مرنے کے بعد اب اس کی آخری رسومات بھی ادا کی جائیں گی وہ بھی بینڈ باجے کے ساتھ ، حتیٰ کہ اس کا مزار بھی تعمیر کرایا جائے گا۔
ہندو مذہب و تہذیب میں گائے پوجا کو جتنی اہمیت حاصل ہے شاید ہی کسی اور مذہب و تہذیب میں ایسی بات پائی جاتی ہو، بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک بیل کو مرنے کے بعد بھی پروٹوکول دینے کی خوب تیاری جاری ہے۔
اتر پردیش کے ایک گاؤں میں دو سو آنکھیں تھیں جو اس بیل کے مرنے کے غم میں نم ہوئیں۔وہ لوگ جو اس سے شدید لگاؤ رکھتے تھے انہوں نے اسے عظیم و شان طریقے سے الوداع کرنے کی ٹھانی ہے۔

568756_9902079_BULL2_updates.JPG

فیصلہ کیا گیا ہے کہ کھڑک سنگھ نامی بیل کی آخری رسومات میں ایک ہزار لوگ شرکت کریں گے اور بینڈ باجے والوں کو بھی بلایا جائے گا، اس کے مزار کی تعمیر کے لئے پندرہ ہزار روپے جمع کئے گئے ہیں۔
کھڑک سنگھ کے مالک کی گزشتہ ہفتے موت ہوئی تھی جس کے بعد سے وہ بہت اداس ہو گیا تھا، اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ یہ بیل اس گاؤں میں دس سال سے رہ رہا تھا، جب یہ یہاں آیا ، اس کی عمر پانچ سال تھی۔بیل کے پرسکون مزاج کی وجہ سے یہ گاؤں والا کا بھی لاڈلا بن گیا تھا۔
 
صرف دو گلاس پانی دینے پر 13 لاکھ روپے کی ٹِپ
PV5Dewa.jpg


نارتھ کیرولائنا:
امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں واقع ہاٹ ڈاگ ڈائنر کا اسٹاف اس وقت ششدر رہ گیا جب ایک یوٹیوب اسٹار نے صرف دو گلاس پانی منگوانے کے بعد خاتون ملازمہ کو 10 ہزار ڈالر ٹپ دے دی۔
انٹرنیٹ پر یوٹیوبر مسٹر بیسٹ کے نام سے مشہور ہے اور 90 لاکھ افراد اس کے فالوورز ہیں۔ چند روز قبل مسٹر بیسٹ نارتھ کیرولائنا کے شہر گرین ویلی میں آیا اور اس نے دو گلاس یا دو بوتل پانی منگوایا۔ پانی پینے کے بعد اس نے نقد کی صورت میں ڈالروں کی ایک بڑی گڈی خاتون ملازمہ کو بطور ٹپ دے دی جسے بعد میں گنا گیا تو اس میں 10 ڈالر کے چھوٹے بڑے نوٹ شامل تھے۔
مسٹر بیسٹ نے پانی کے چند گھونٹ بھرے اور رقم میز پر رکھ کر ریستوران سے باہر چلا گیا۔ اس واقعے کے بعد ریستوران کے مالک بریٹ اولیور نے ایک مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ رقم کا بڑا حصہ ویٹرس اپنے پاس رکھیں گی جبکہ کچھ رقم بقیہ اسٹاف میں بانٹی جائے گی۔ اس سے قبل گاہک بڑی ٹپ دیتے رہے ہیں لیکن 10 ہزار ڈالر کی رقم ہم نے پہلی بار دیکھی ہے۔ ریستوران کے مالک نے کہا کہ زندگی میں ایک بار ہی ایسا ہوتا اور اتنی بڑی ٹپ کی پورے شہر میں خبر پھیل گئی ہے
 

محمداحمد

لائبریرین
بیلجیئم: کیا یہ دنیا کے سب سے نالائق ڈاکو تھے؟

لٹیروں کا ایک گروہ ایک دکان میں داخل ہو۔ مالک انھیں کہے کہ بعد میں آنا، میرے پاس ابھی پیسے نہیں، وہ چلے جائیں اور شام کو دوبارہ آئیں تو پولیس ان کی منتظر ہو۔
یہ کسی مزاحیہ فلم کا منظر لگتا ہے لیکن بیلجیئم میں ای سگریٹ کی دکان کے مالک کے ساتھ حقیقت میں یہ واقعہ پیش آیا۔
چھ ڈاکو چارلیروئے کے نواح میں ڈیڈیئر نامی شہری کی دکان کو دن دیہاڑے لوٹنے کے ارادے سے داخل ہوئے۔
سیلز مین نے انھیں کہا کہ بہتر ہو گا کہ وہ دن کے اختتام پر آئیں تب وہ انھیں زیادہ رقم دے سکے گا۔ ڈاکو اس وقت یہ بات مان کر چلے گئے مگر شام کو جب لوٹے تو پولیس ان کی منتظر تھی۔
ڈیڈیئر نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کسی کامیڈی کی طرح تھا۔ انھیں بیلجیئم کے سب سے نالائق ڈاکو کہا جا رہا ہے۔
دکان کے مالک کا مزید کہنا تھا ’14 منٹ کے دوران میں نے چوروں کے ساتھ دوستی کرنے کی کوشش کی۔‘
ان کے مطابق ’میں نے انھیں کچھ نہیں دیا لیکن ان سے کہا کہ اگر وہ بعد میں آئیں تو میرے پاس دو سے تین ہزار یوروز ہوں گے۔‘
دکاندار کے مطابق ڈاکو اس چکمے میں آ گئے اور چلے گئے۔ انھوں نے بتایا ’جب میں نے پولیس کو بلایا تو انھوں نے یقین نہیں کیا کہ وہ واپس آئیں گے۔‘
لیکن وہ شام ساڑھے پانچ بجے دکان بند ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے واپس آئے۔ ڈیڈیئر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے ایک ڈاکو کو دکان کے دروازے پر دیکھ لیا اور انھیں بتایا کہ ابھی کاروبار ختم نہیں ہوا ہے۔
جب وہ شام ساڑھے چھ بجے تیسری بار واپس آئے تو پولیس انھیں پکڑنے کے لیے دکان کے پیچھے تیار کھڑی تھی جس نے ایک بچے سمیت چھ مردوں کو گرفتار کر لیا۔

ربط

اس سادہ لوحی پر وہ لطیفہ یاد آگیا

ایک شخص کسی دوکان پر ڈاکہ ڈالنے گیا تو بندوق لے جانا بھول گیا۔ دوکاندار سے اُس نے جب نقدی وغیرہ کا مطالبہ کیا تو یہ بھی کہا کہ وہ گن لانا بھول گیا ہے اور شام کو آ کر گن دکھا جائے گا۔

اور مذکورہ دوکاندار نے اُس کےوعدے پر نقدی وغیرہ اُس کے حوالے بھی کر دی۔

اب یہ مجھےیاد نہیں کہ وہ شخص شام کو گن دکھانے آیا یا پھر وعدہ خلافی کا مرتکب ہوا۔
 
باتھ روم میں موبائل چارج کرنے والا ہلاک

انگلستان میں ایک شخص دوران غسل آئی فون چارج کرنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رچرڈ بل نامی شخص نے ٹب میں نہاتے ہوئے اپنا اسمارٹ فون چارج کرنے کی کوشش کی تاہم پانی میں کرنٹ پھیل جانے کے باعث وہ ہلاک ہوگئے۔
رچرڈ کی اہلیہ نے سب سے پہلے ان کی لاش باتھ روم کے ٹپ میں دیکھی۔ بجلی کے شدید جھٹکوں کے باعث رچرڈ کے جسم پر جلنے کے نشانات پڑ چکے تھے۔ پہلے رچرڈ کی اہلیہ سمجھیں کہ ان کے شوہر پر کسی نے حملہ کیا ہے تاہم بعد میں علم ہوا کہ انہیں نہاتے ہوئے فون چارج کرنے کی کوشش میں بجلی نے پکڑ لیا۔
مقامی پولیس کے سربراہ کریگ پٹیسن بتاتے ہیں کہ پہلے انہیں رچرڈ کی ہلاکت خود سوزی معلوم ہوئی تاہم واقعے کی تحقیقات کرنے پر یہ بات واضح ہوئی کہ یہ ایک حادثاتی موت ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ فون چارجر اور کیبل کے پانی سے منسلک ہوجانے پر پیش آیا۔ چونکہ رچرڈ نے چارجر اپنی قریب رکھا ہوا تھا اس لیے وہ فوراً اس کی لپیٹ میں آگئے۔
اس واقعے کے بعد تحقیقی ادارے کے افسر ڈاکٹر سین کمنگز نے ایپل کو ایک خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں موبائل بنانے والے ادارے کو انتباہی نوٹ شائع کرنے کی درخواست کی جائے گی۔
صرف موبائل فون ہی نہیں بلکہ باتھ روم میں کسی بھی قسم کی برقی آلات ساتھ لے جانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ لیکن بعض افراد اس ضمن میں احتیاط سے کام نہیں لیتے اور موبائل فون، شیونگ مشین وغیرہ کو غسل کے وقت بھی استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں جان لیوا حادثات کا پیش آجانا خلاف توقع نہیں ہوتا۔
 
برطانیہ میں دو بھائیوں نے 11 سو کلو گرام وزنی کدو کاشت کرلیا
pJLiheg.jpg

برطانیہ میں کاشت کیا گیا دنیا کا دوسرا بڑا کدو جسے روزانہ 100 گیلن پانی دیا گیا (فوٹو: ڈیلی میل)
لندن: برطانیہ میں دنیا کا سب سے بڑا کدو (پمپکن) کاشت کیا گیا ہے جس کا وزن گیارہ سو کلو گرام یعنی ایک ٹن سے زائد ہے۔
محتاط اندازے کے مطابق اس کدو کی جسامت عام نارنجی کدو سے 189 گنا زائد ہے اور اسے دو بھائیوں اسٹوارٹ اور ایان پیٹن نے بہت احتیاط کے ساتھ کاشت کیا ہے۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ کاشت کے دوران ایک روز میں پھل کو 100 گیلن پانی دیا جاتا رہا اور بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ صرف 24 گھنٹے میں اس کا وزن 60 پاؤنڈ تک بڑھتا ہوا دیکھا گیا جو ایک حیرت انگیز امر ہے۔

حال ہی میں اسے رائل وکٹوریا کنٹری پارک میں موسمِ خزاں کے کدو میلے میں پیش کیا گیا جہاں لوگوں کی بڑی تعداد نے اسے دیکھا۔ اس کا گھیر 20 فٹ ہے اور ڈنٹھل کی موٹائی ایک باکسر کے بازو جتنی ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں بھائی گزشتہ 40 برس میں پانچ ایسے کدو کاشت کرچکے ہیں جو 2000 پاؤنڈ وزنی تھے۔
K0KrnNY.jpg

اس بار عجیب و غریب کدو نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ دنیا کا دوسرا بڑا کدو ہے۔ دونوں بھائی اگلے سال ایک نیا ریکارڈ بنانے کے لیے پرامید ہیں۔
 
Top