قران کوئز 2017

ام اویس

محفلین
ایک ہفتہ میں پورے قراں مجید کی تلاوت کرتے کے لیے سات منزلیں بنائی گئی ہیں

قرآن مجید کی پہلی منزل

سورۂ فاتحہ سے سورۂ نساء تک ۔۔۔۔ کُل چار 4 سورتیں

قرآن مجید کی دوسری منزل

سورۂ مائدہ سے سورۂ توبہ تک ۔۔۔۔ کُل پانچ 5 سورتیں

قرآن مجید کی تیسری منزل

سورۂ یونس سے سورۂ نحل تک ۔۔۔۔ کُل سات 7 سورتیں

قرآن مجید کی چوتھی منزل

سورہ بنی اسرائیل سے سورۂ فرقان تک ۔۔۔ کُل نو 9 سورتیں

قرآن مجید کی پانچویں منزل

سورۃ الشعراء سے سورۂ یٰسٓ تک۔۔۔۔ کُل گیارہ 11 سورتیں

قرآن مجید کی چھٹی منزل

سورۃ الصفت سے سورۃ الحجرا ت تک ۔۔۔ کُل تیرہ 13 سورتیں

قرآن مجید کی ساتویں منزل

سورۂ ق سے سورۃ الناس تک ۔۔۔ کُل پینسٹھ 65 سورتیں

یاد رکھنے کے لیے ہر منزل کی پہلی سورة کا ایک ایک حرف لے کر اس کا مجموعہ “ فمی بشوق” بنایا گیا ہے ۔

یعنی قرآن مجید کی سات منزلیں سات دن میں اس طرح پڑھے کہ ان سورتوں کی ابتدا “ فمی بشوق “ کے حرف سے ہو ۔

“ فمی بشوق سے کیا مراد ہے ؟

ف “ سے مراد ۔۔۔ سورۃ فاتحہ ( پہلی منزل کی ابتداء )

م “ سے مراد ۔۔۔ سورة مائدہ ( دوسری منزل کی ابتداء )

ی “ سے مراد ۔۔۔ سورة یونس ( تیسری منزل کی ابتداء )

ب “ سے مراد ۔۔۔ سورة بنی اسرائیل ( چوتھی منزل کی ابتداء )

ش” سے مراد ۔۔۔ سورة شعراء ( پانچویں منزل کی ابتداء )

و “ سے مراد ۔۔۔ سورة والصافات ( چھٹی منزل کی ابتداء )

ق “ سے مراد سورة قٓ ( ساتویں منزل کی ابتداء )

کہا جاتا ہے کہ یہ ترتیب حضرت علی رضی الله عنہ سے منقول ہے ۔

( مظاہر حق ، کشاف الہدٰی )

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ تقسیم خلافت راشدہ کے بعد حجاج بن یوسف کے زمانے میں ہوئی ۔

لیکن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے خود یہ منزلیں متعین کی تھیں اور بعض صحابہ کو ایک ہفتہ میں مکمل قرآن مجید کی تلاوت کی اجازت دی تھی ۔

(الاتقان ، البرھان )
 

ام اویس

محفلین
وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ

اردو:

اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے اسباب معیشت پیدا کئے مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

سورة الاعراف آیة 10

میں زمین کے خزانوں یعنی معدنیات کو اسباب معیشت کہا گیا ہے
 

فاخر رضا

محفلین
سورہ حدید آیت 25
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّ۔هُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّ۔هَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٢٥
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں اور ہم نے لوہے کو بھی نازل کیا ہے جس میں شدید جنگ کا سامان اور بہت سے دوسرے منافع بھی ہیں اور اس لئے کہ خدا یہ دیکھے کہ کون ہے جو بغیر دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے اور یقینا اللہ بڑا صاحبِ قوت اور صاحبِ عزت ہے
 

فاخر رضا

محفلین
مجھے ایک سوال کھائے جارہا ہے۔ پوری رات نہیں سو سکا
سورہ توبہ کی آیت 105 میں اللہ نے کہا ہے کہ اللہ اور رسول اور مومنین ہمارے اعمال دیکھیں گے۔ کیا مطلب۔ یعنی جب ہم برا کرتےہیں تو خدا کے ساتھ ساتھ نبی پاک اور خدا کے چنے ہوئے مومنین بھی اعمال دیکھتے ہیں۔
بہت مشکل ہوگئی ہے۔ صرف پچکار اور بہلاکر مت بڑھ جایئے گا۔ سچ بتائیں کیا رسول اور چنے ہوئے مومنین ہمارے اچھے اور برے اعمال دیکھتے ہیں۔
وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ
اور پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کواللہ ً رسول اور صاحبانِ ایمان سب دیکھ رہے ہیں
(اے رسول(ص)) ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم عمل کیے جاؤ اللہ، اس کا رسول اور مؤمنین تمہارے عمل کو دیکھیں گے
اور اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہدو کہ تم عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے
اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔
And say (unto them): Act! Allah will behold your actions, and (so will) His messenger and the believers
And say: "Work (righteousness): Soon will Allah observe your work, and His Messenger, and the Believers
میرے پاس ایک تفسیر ہے ، تفسیر نمونہ اسکے حساب سے تو ایسا لگا کہ ہمارے اعمال رسول کے سامنے ہر روز یا ہر ہفتے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو بہت ہی بے عزتی کی بات ہے۔ اس کے بارے میں احادیث کی کتاب اصول کافی میں ایک باب بھی ہے جس میں اس پر کئی احادیث ہیں۔
مجھےآپ احباب بتائیں کی آپ کے پاس جو کتابیں ہیں اس میں کیا لکھا ہے۔
میں نے اوپر جتنے ترجمے ملے سب لکھ دیئے ہیں۔
کہیں حاظر میں ترجمہ ہے کہیں مستقبل میں ۔
شکریہ
 

سروش

محفلین
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] کہہ دیجئے کہ تم عمل کیے جاؤ تمہارے عمل اللہ خود دیکھ لے گا اور اس کا رسول اور ایمان والے [بھی دیکھ لیں گے] اور ضرور تم کو ایسے کے پاس جانا ہے جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کا جاننے واﻻ ہے۔ سو وه تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتلا دے گا۔ (105)

(جالندہری) اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تم کو بتا دے گا۔ (105)

(احمد رضا خان) اور تم فرما ؤ کام کرو اب تمہارے کام دیکھے گا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان، اور جلد اس کی طرف پلٹوگے جو چھپا اور کھلا سب جانتا ہے تو وہ تمہارے کام تمہیں جتاوے گا۔ (105)

(علامہ جوادی) اور پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کواللہ ً رسول اور صاحبانِ ایمان سب دیکھ رہے ہیں اور عنقریب تم اس خدائے عالم الغیب والشہادہ کی طرف پلٹا دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال سے باخبر کرے گا۔ (105)

([9:105] محمد حسین نجفی) (اے رسول(ص)) ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم عمل کیے جاؤ اللہ، اس کا رسول اور مؤمنین تمہارے عمل کو دیکھیں گے (کہ تم کیسے عمل کرتے ہو) اور پھر غائب اور حاضر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤگے بس وہ تمہیں بتلائے گا تم کیا عمل کرتے ہو۔(105)

تفسیر ابن کثیر تحت الآیت:105

مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یہ مخالفین امر اللہ کے لئے اللہ کی طرف سے وعید ہے کہ ان کے اعمال اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین میں بھی ان کے اعمال ظاہر کئے جائیں گے اور قیامت کے روز یہ ہونا ضرور ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ «يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لاَ تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ» (69-الحاقة: 18 ) یعنی بروز قیامت تمھارے اعمال پیش ہوں گے اور کوئی ڈھکی چھپی بات بھی پوشیدہ نہ رہ سکے گی۔ اور فرمایا اللہ پاک نے «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ» (86-الطارق: 9) یعنی دلوں کے چھپے ہوئے بھید ظاہر ہو جائیں گے اور فرمایا «وَحُصِّلَ مَا فِى الصُّدُورِ» (100-العاديات: 10) یعنی دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر ہو جائے گا اور دنیا کے لوگ اس سے واقف ہو جائیں گے جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ حسن بن موسیٰ نے باسناد مرفوعاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی سخت پتھر کے اندر بھی سما جائے جس میں نہ کوئی سوراخ باقی رہے نہ دروازہ اس کے اندر بھی چھپ کر کوئی کوئی عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی لوگوں پر ایسا ظاہر کردے گا گویا یہ ان کے سامنے ہوا ہے۔ (مسند احمد:28/3:ضعیف) اور حدیث مین وارد ہے کہ زندوں کے اعمال ان اموات پر پیش کئے جاتے ہیں جو ان کے عزیز و اقارب ہیں یا ان کے قبائل ہیں اور جو اس وقت عالم برزخ میں ہیں جیسا کہ ابوداؤد الطیالسی نے کہا ہے۔

صلت بن دینار نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھارے اعمال تمھارے مردہ اقرباء اور عشائر پر ان کی قبروں میں پیش کئے جاتے ہیں، اگر اعمال خیر ہوتے ہیں تو وہ خوش ہو جاتے ہیں اور اگر بد ہوں تو دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ!تو اپنی اطاعت کی انہیں توفیق عطا فرما۔ (مسند طیالسی:1794:ضعیف) امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی کہ سفیان نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تمھارے اعمال تمھارے مردہ اقارب و عشائر پر پیش کئے جاتے ہیں اگر وہ اچھے عمل ہوں تو وہ مردے خوش ہو جاتے ہیں اور اچھے نہ ہوں تو کہتے ہیں کہ اے اللہ! تو انہیں موت نہ دے جب تک تو انہیں بھی ایسی ہدایت نہ دے جیسی تو نے ہمیں دی تھی۔ (مسند احمد:165/3:ضعیف)
امام بخاری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب کسی مسلمان کی عمل نیک تمھیں پسند خاطر ہوتو کہو کئے جاؤ اللہ تمھارے عمل کو دیکھ رہا ہے اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین بھی اس سے واقف ہو رہے ہیں۔ (صحیح بخاری، تعلیقاً:کتاب التوحید:3530) اسی قسم کی ایک اور حدیث میں وارد ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا کہ بالاسناد سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے اچھے عمل کو دیکھ کر خوش نہ ہو جاؤ انتظار کرو کہ اس کا خاتمہ بھی اس عمل نیک پر ہوتا ہے یا نہیں۔ اس لئے کہ عامل ایک زمانہ طویل تک نیک عمل کرتا رہتا ہے اور وہ اس نیک عمل پر مر جائے تو جنت میں داخل ہو جائے لیکن ناگہاں اس کے حالات بدل جاتے ہیں اور وہ برے اعمال کرنے لگتا ہے۔ اور ایک بندہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک زمانے تک برے اعمال کرتا رہتا ہے کہ اگر اسی پر مر جائے تو دوزخ میں چلا جائے گا لیکن یکایک اس کی کایا پلٹ جاتی ہے اور وہ نیک عمل کرنے لگتا ہے۔ اللہ جب اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے تو موت سے پہلے اس کو نیکی کی توفیق دے دیتا ہے اور وہ نیکی پر مرتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیسے ہوتا ہے؟ تو فرمایا کہ قبض روح کے وقت وہ عمل صالح کے ساتھ ہوتا ہے۔ (مسند احمد:120/3:صحیح)
 

La Alma

لائبریرین
مجھے ایک سوال کھائے جارہا ہے۔ پوری رات نہیں سو سکا
سورہ توبہ کی آیت 105 میں اللہ نے کہا ہے کہ اللہ اور رسول اور مومنین ہمارے اعمال دیکھیں گے۔ کیا مطلب۔ یعنی جب ہم برا کرتےہیں تو خدا کے ساتھ ساتھ نبی پاک اور خدا کے چنے ہوئے مومنین بھی اعمال دیکھتے ہیں۔
بہت مشکل ہوگئی ہے۔ صرف پچکار اور بہلاکر مت بڑھ جایئے گا۔ سچ بتائیں کیا رسول اور چنے ہوئے مومنین ہمارے اچھے اور برے اعمال دیکھتے ہیں۔
وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ
اور پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کواللہ ً رسول اور صاحبانِ ایمان سب دیکھ رہے ہیں
(اے رسول(ص)) ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم عمل کیے جاؤ اللہ، اس کا رسول اور مؤمنین تمہارے عمل کو دیکھیں گے
اور اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہدو کہ تم عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے
اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔
And say (unto them): Act! Allah will behold your actions, and (so will) His messenger and the believers
And say: "Work (righteousness): Soon will Allah observe your work, and His Messenger, and the Believers
میرے پاس ایک تفسیر ہے ، تفسیر نمونہ اسکے حساب سے تو ایسا لگا کہ ہمارے اعمال رسول کے سامنے ہر روز یا ہر ہفتے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو بہت ہی بے عزتی کی بات ہے۔ اس کے بارے میں احادیث کی کتاب اصول کافی میں ایک باب بھی ہے جس میں اس پر کئی احادیث ہیں۔
مجھےآپ احباب بتائیں کی آپ کے پاس جو کتابیں ہیں اس میں کیا لکھا ہے۔
میں نے اوپر جتنے ترجمے ملے سب لکھ دیئے ہیں۔
کہیں حاظر میں ترجمہ ہے کہیں مستقبل میں ۔
شکریہ
اگر اس آیت کا سیاق و سباق کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو پھر کوئی ابہام باقی نہیں رہتا. اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کو ان کے دورِ حیات میں مختلف مواقع پر بذریعہ وحی لوگوں کی قلبی کیفیات پر مطلع فرمایا تھا. جیسا کے اسی سوره میں ایک جگہ ذکر ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر جب منافقین نے اس جنگ میں عدم شرکت کے لیے مختلف حیلے بہانے اور عذر تراشے تو اللہ نے ان کی منافقت نبی پاکؐ پر ظاہر کر دی.

يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ اِذَا رَجَعْتُ۔مْ اِلَيْ۔هِ۔مْ ۚ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّ۔ٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَ۔رَى اللّ۔ٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُ۔هٝ ثُ۔مَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُ۔مْ تَعْمَلُوْنَ (سوره توبہ 94)
جب تم ان کی طرف واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے، ( اے محمؐد )کہہ دو عذر مت کرو ہم تمہاری بات ہرگز نہیں مانیں گے تمہارے سب حالات اللہ ہمیں بتاچکا ہے، اور ابھی اللہ اور اس کا رسول تمہارے کام کو دیکھے گا پھر تم غائب اور حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے سو وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کر رہے تھے۔

لہٰذا لوگوں کے باطنی اعمال کی خبر دیگر مؤمنین کو جو بقیدِ حیات ہیں صرف اسی صورت ہو سکتی ہے جب رسول اللہ ان کے درمیان موجود ہوں اور اللہ اپنی وحی سے نبی کو غیب کی خبر دے.
جو مؤمنین دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کو علمِ غیب تو عطا نہیں ہوا اور نہ ہی وہ دیگر لوگوں کے اعمال کے نگران ہیں، ہاں اگر اللہ ان پر کچھ ظاہر کرنا چاہے تو وہ الگ بات ہے.
وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاء وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاء وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ
(القران ۳۵:۸۰) اور زندہ اور مردے برابر نہیں ہوسکتے(یہ صرف) اللہ (ہے جو) جس کو چاہتا ہے اپنی بات سنا دیتا ہے اور آپ انہیں نہیں سناسکتے جو قبروں میں مدفون ہیں

آپ نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ پوری آیت یہ ہے.
وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَ۔رَى اللّ۔ٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُ۔هٝ وَالْمُؤْمِنُ۔وْنَ ۖ وَسَتُ۔رَدُّوْنَ اِلٰى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَ۔يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُ۔مْ تَعْمَلُوْنَ (105)
اور کہہ دے کہ کام کیے جاؤ پھر عنقریب دیکھ لیں گے تمہارے کام کو اللہ اور اس کا رسول اور مسلمان، اور عنقریب تم لوٹائے جاؤ گے غائب اور حاضر کے جاننے والے کی طرف، پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔

زمانی اعتبار سے اگر اس آیت کا اطلاق حضورؐ کی وفات ِ کے بعد کے دور پر کیا جائے تو یہ روزِ حساب سے متعلق ہے. اس دن متقی لوگ اپنے نور سے ہی پہچانے جائیں گے .اور سب کو ان کے اعمال کی خبر ہو جائے گی.

یَوۡمَ تَرَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ یَسۡعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ بِاَیۡمَانِہِمۡ بُشۡرٰىکُمُ الۡیَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ۚ۱۲﴾
قیامت کے ) دن تو دیکھے گا کہ مومن مردوں اور عورتوں کا نور انکے آگے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا آج تمہیں ان جنتوں کی خوشخبری ہے جنکے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں ہمیشہ کی رہائش ہے ۔ یہ ہے بڑی کامیابی ۔

اسی طرح جہنمی لوگ بھی اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے .
كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّار
ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہو گی جیسے رات کے سیاہ پردے ان پر پڑے ہوئے ہوں، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

مؤمنین پر اوروں کے اعمال ظاہر ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے.
وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا ( 49 ) کہف - الآية 49
اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو۔ (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا.
و علیٰ ہذا القیاس.
 

ام اویس

محفلین
اسی لیے تو علامہ اقبال رحمہ الله تعالی الله کے حضور فریاد کرتے ہیں ۔۔۔

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
گر تو می بینی حسابم ناگزیر
از نگاہِ مصطفے پنہاں بگیر

(ترجمہ: اے اللہ تو تمام عالمین کا غنی ہے اور میں ایک حقیر پر تقسیر فقیر ہوں، مجھ سے روز قیامت حساب مت لینا اور میری یہ درخواست قبول کر لینا لیکن اگر) میرا حساب ناگزیر ہو اور اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو مجھے رسول اکرم ﷺ کی نگاہوں سے دور لے جا کر حساب لینا۔ مجھے آپؐ کے سامنے حساب دیتے ہوئے بہت شرمندگی ہو گی۔

اللھم اغفر وارحم ۔۔۔
معاملہ بہت سخت ہے ۔ الله کریم رحم و کرم اور آسانی کا معاملہ فرمائے
 

فاخر رضا

محفلین
اسی لیے تو علامہ اقبال رحمہ الله تعالی الله کے حضور فریاد کرتے ہیں ۔۔۔

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
گر تو می بینی حسابم ناگزیر
از نگاہِ مصطفے پنہاں بگیر

(ترجمہ: اے اللہ تو تمام عالمین کا غنی ہے اور میں ایک حقیر پر تقسیر فقیر ہوں، مجھ سے روز قیامت حساب مت لینا اور میری یہ درخواست قبول کر لینا لیکن اگر) میرا حساب ناگزیر ہو اور اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو مجھے رسول اکرم ﷺ کی نگاہوں سے دور لے جا کر حساب لینا۔ مجھے آپؐ کے سامنے حساب دیتے ہوئے بہت شرمندگی ہو گی۔

اللھم اغفر وارحم ۔۔۔
معاملہ بہت سخت ہے ۔ الله کریم رحم و کرم اور آسانی کا معاملہ فرمائے
قیامت میں ہم اپنے کیے ہوئے ہر اچھے برے کام کو دکھیں گے چاہے وہ ذرے کے برابر ہی کیوں نہ ہو
معاملہ اس دنیا میں اعمال کا ہے کہ رسول اللہ کے سامنے ہمارے اعمال روزانہ پیش ہوتے ہیں
نہ صرف رسول اللہ کے سامنے بلکہ کچھ ایسے مومن بھی ہیں جن کے سامنے اعمال پیش ہوتے ہیں
 

ام اویس

محفلین
قیامت میں ہم اپنے کیے ہوئے ہر اچھے برے کام کو دکھیں گے چاہے وہ ذرے کے برابر ہی کیوں نہ ہو
معاملہ اس دنیا میں اعمال کا ہے کہ رسول اللہ کے سامنے ہمارے اعمال روزانہ پیش ہوتے ہیں
نہ صرف رسول اللہ کے سامنے بلکہ کچھ ایسے مومن بھی ہیں جن کے سامنے اعمال پیش ہوتے ہیں

مرنے کے بعد کی زندگی انسانی نظر وخیال سے اوجھل ہے ۔ اس کے بارے میں مختلف آرا ہیں ۔
عالم برزخ میں کیا معاملہ پیش آتا ہے اس کی حقیقت الله جانتا ہے یا جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے ۔
والله اعلم

اصل بات جس پر فکر کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم ایسے اعمال نہ کریں جس پر ہمیں شرمندگی ہو ۔ اور حقیقت میں تو الله سبحانہ و تعالی زیادہ حق دار ہے کہ انسان اپنے اعمال پر اس سے ڈرے اور شرمندہ ہو ۔

اور یہ کہ مسلمان کو توبہ کی نعمت سے نوازا گیا ۔۔۔ برے اعمال لکھنے والا فرشتہ بھی بندے کی توبہ کا انتظار کرتا ہے ۔۔۔ جب گناہگار اپنے گناہ پر ہمیشگی اختیار کرلے اور اس پر اکڑنے لگے تو پھر ہی وہ گناہگاروں میں شمار ہوتا ہے ۔ اس لیے اگر کوئی خطا ، لغزش یا گناہ ہو جائے تو اظہار ندامت اور توبہ کرنی چاہیے ۔ اور الله رحیم و کریم کی بخشش کی امید رکھنی چاہیے

مؤمن بندے کی زندگی رجاء ( الله کریم کی بخشش کی امید ) اور خوف (الله جل جلالہ کی پکڑ کا ڈر ) کے درمیان ہونی چاہیے ۔۔۔
 

ام اویس

محفلین
“لوہے “ کے بارے قرآن مجید میں کیا بتایا گیا ؟ کن آیات میں

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ

اردو:

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی۔ اور کہا تھا اے پہاڑو انکے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو ان کا مسخر کر دیا اور انکے لئے ہم نے لوہے کو نرم کر دیا۔
سورة سبا ایہ 10
 
آخری تدوین:

ام اویس

محفلین
وَلَهُم مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ

اردو:

اور ان کے مارنے کیلئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔

سورة الحج ۔ آیة 21
 
مجھے ایک سوال کھائے جارہا ہے۔ پوری رات نہیں سو سکا
سورہ توبہ کی آیت 105 میں اللہ نے کہا ہے کہ اللہ اور رسول اور مومنین ہمارے اعمال دیکھیں گے۔ کیا مطلب۔ یعنی جب ہم برا کرتےہیں تو خدا کے ساتھ ساتھ نبی پاک اور خدا کے چنے ہوئے مومنین بھی اعمال دیکھتے ہیں۔
بہت مشکل ہوگئی ہے۔ صرف پچکار اور بہلاکر مت بڑھ جایئے گا۔ سچ بتائیں کیا رسول اور چنے ہوئے مومنین ہمارے اچھے اور برے اعمال دیکھتے ہیں۔
وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ
اور پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کواللہ ً رسول اور صاحبانِ ایمان سب دیکھ رہے ہیں،
(اے رسول(ص)) ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم عمل کیے جاؤ اللہ، اس کا رسول اور مؤمنین تمہارے عمل کو دیکھیں گے
اور اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہدو کہ تم عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے
اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔
And say (unto them): Act! Allah will behold your actions, and (so will) His messenger and the believers
And say: "Work (righteousness): Soon will Allah observe your work, and His Messenger, and the Believers
میرے پاس ایک تفسیر ہے ، تفسیر نمونہ اسکے حساب سے تو ایسا لگا کہ ہمارے اعمال رسول کے سامنے ہر روز یا ہر ہفتے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو بہت ہی بے عزتی کی بات ہے۔ اس کے بارے میں احادیث کی کتاب اصول کافی میں ایک باب بھی ہے جس میں اس پر کئی احادیث ہیں۔
مجھےآپ احباب بتائیں کی آپ کے پاس جو کتابیں ہیں اس میں کیا لکھا ہے۔
میں نے اوپر جتنے ترجمے ملے سب لکھ دیئے ہیں۔
کہیں حاظر میں ترجمہ ہے کہیں مستقبل میں ۔
شکریہ
سورۃ توبہ کی آیت 105
9:105 وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور کہہ ددیجئےکہ کام کیے جاؤ پھر عنقریب الله اور اس کا رسول اور مسلمان تمہارے کام کو دیکھ لیں گے اور عنقریب تم غائب اور حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گےپھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے تھے

آپ کے دو سوال ہیں۔
1۔ کیا لفظ فَسَيَرَى حال ہے یا مسقبل ؟
س اور زبر حف استبال یعنی prefixed future particle sa
ہے جو کہ مسقبل کی نشاندہی کرتا ہے ۔ لہذا یہاں فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ
اللہ ٓتمارے اعمال کو دیکھ لے گا یعنی زمانہ مستقبل کا ہے۔ یہ حاظر یا پریزینٹ ٹینس نہیں ہے۔ یہاں ہم یہ معنی لیں گے کہ اللہ تعالی دیکھے گا اور اس کے رسول اور مومنین بطور چشم دید گواہ لائے جائیں گے (مستقبل)


آپ کا دوسرا سوال ہے کہ کیا ایسا ہوگا؟
تو اس کا جوب بھی ہم کو قرآن حکیم میں مل جاتا ہے۔
ٓدیکھئے سورۃ 39 ، آیت 69
وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اور جگمگا اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے اور لا کر رکھ دی جائے گی الکتاب اور حاضر کر دیے جائیں گے تمام انبیاء اورٓ گواہان، اور فیصلہ کیا جائے گا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ ٓ انصاف کے ساتھ اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔

اس آیت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ۔ زمین اللہ تعالی کے نور سے روشن ہوجائے گی اور پھر اس الکتاب کو رکھ دیا جائے گا، تمام نبیوں اور تمام گواہوں کو حاضر کیا جائے گا۔ یہ تمام گواہ وہی مومنین ہیں، جن کا تذکرہ 9:105 میں آیا ہے، جو الکتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ فیصلے کی کسوٹی یہ کتاب ہے ، اس دن سب لوگوں کے ساتھ سچ و انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ جی آپ کا سمجھنا درست ہے کہ نبیوں کے جانے کے بعد الکتاب پر ایمان رکھنے والے لوگوں کے گواہ ہیں۔

اللہ تعالی ہی سب کچھ اور بہتر جانتے ہیں۔

والسلام
 
آخری تدوین:
Top