ایگناسٹک

نور وجدان

لائبریرین
دوسرے لفظوں میں اسے الہامی کیفیت کہ لیں ...وہ نکتہ جہاں دل اور دماغ متفق ہو جائیں۔

جہاں آپ کو خود اپنے سوالوں کے جواب ملنا شروع ہو جائیں

یعنی حقیقت کی تلاش الہامی نفس بنا دیتی ہے ؟ اگر نفس الہامی بن جائے تو کیا چاہیے ۔کیا آپ اس کیفیت سے گزرے ؟
 

اکمل زیدی

محفلین
یعنی حقیقت کی تلاش الہامی نفس بنا دیتی ہے ؟ اگر نفس الہامی بن جائے تو کیا چاہیے ۔کیا آپ اس کیفیت سے گزرے ؟
بس کوشش ہے ... اس کوشش میں ثبات و تسلسل کے ساتھ مستقل مزاجی کو بڑا دخل ہے پھر آپ اس قابل ہوتے ہیں کے اس راہ میں قدم رکھ سکیں .. مجھ میں بڑی خامی یہی ہے ...
 

نایاب

لائبریرین
محترم بھائی اس دھاگے پر شریک گفتگو تمام محترم ہستیاں بلاشبہ صاحب علم کا درجہ رکھتی ہیں ۔
اور میری جس بات کو آپ درست کہہ رہے ہیں ۔ وہ بلاشبہ ان سب ہی ہستیوں سے گفتگو کرتے جانی ہے ۔
یہ کوئی " مجادلے " پر مبنی گفتگو نہیں ہے ۔ یہ صرف علم کی تقسیم کے لیئے روشن کی گئی شمع ہے ۔
بہت دعائیں
 

سارہ خان

محفلین
اعمال کی حقیقت پر توجہ بھی تو جب ہے ہوگی ...جب کسی کے سامنے جوابدہی کا یقین ہوگا بات گھوم کر پھر وہیں آجائے گی ...
جوابدہی کا یقین ہونے سے اعمال اچھے ہوتے تو پھر ہم سب بہت نیک ہوتے ۔۔۔ لیکن ایسا نہیں ہے ۔۔ معاشرے میں اس قدر برائیاں پھیلی ہوئی ہیں ۔۔ یہ کیسا جوابدہی کا یقین ہے ؟
 

arifkarim

معطل
واہ کیا بات کی کاش آپ اپنی اس بات کی گہرائی کو سمجھیں ...اور تھوڑا سا تبدیلی کے ساتھ کے جب خلقت ..اپنے خالق سے دور ہورہی ہو تو ...... :)
یہ ایک ایمانی بحث ہے اور یہ دھاگہ اسکا موضوع نہیں۔

آپ کا کیا تعلق ان کی اس حالیہ سوچ سے آپ کتنے صدیوں سے وابستہ ہیں ان سے جو ان کے نظریات کی وکالت کر رہے ہیں .... ( اگر مضحکہ خیز ریٹنگ دی نہ پھر میں بغیر پڑھے آپ کی ہر تحریر کو اسی زمرے میں لے آؤنگا )
دھمکی برطرف، میں مغربی نظریات کا ترجمان ہرگز نہیں۔ آپکو صرف دیسی اور مغربی معاشرے میں فرق بتا رہا تھا۔

یہ کوئی دلیل نہیں ...یا انسانی کمال نہیں یہ انسانی ضرورت کے تحت سسٹم بنایا گیا ہے ....سائنسدان نے انٹرنیٹ تشکیل دیا مگر ضابطے سائنسدان نہیں دے سکتے
ہر ایجاد کسی نہ کسی ضرورت کے تحت ہی وجود میں آتی ہے۔ اور اس ضرورت کو پورا کرنے کا کام سائنسدانوں نے کیا۔

جوابدہی کا یقین ہونے سے اعمال اچھے ہوتے تو پھر ہم سب بہت نیک ہوتے ۔۔۔ لیکن ایسا نہیں ہے ۔۔ معاشرے میں اس قدر برائیاں پھیلی ہوئی ہیں ۔۔ یہ کیسا جوابدہی کا یقین ہے ؟
متفق! کاش لوگ یہ بنیادی نقطہ سمجھ جائیں۔

اس سروے کے مطابق پاکستان، انڈونیشیا اور گھانا کے تو اخلاقی بیڑے ہی غرق ہیں :)
 

نمرہ

محفلین
وجہ علم کی لامحدودیت اور دلیل کی اضافیت ہے۔ دلیل کی اضافیت سے مراد یہ ہے کہ مطلق اور حتمی سچائیوں کے لیے کوئی دلیل حتمی نہیں ہے۔ ہر دلیل اضافی یا ریلیٹیو ہی ہوتی ہے جسے پیور ریزن یا عقلِ محض پر ہمیشگی یا دوام نہیں رہتا۔ سچ بدلتے رہتے ہیں۔ تبدیلی ہی کو دوام ہے۔
ایسے میں ہم اپنے اپنے نظریات کبھی بناتے ہیں، کبھی دریافت کرتے ہیں، کبھی مستعار لیتے ہیں۔ اور آخر میں قبول صرف اسے ہی کرتے ہیں جس کے ساتھ جذباتی وابستگی اور اطمینان پیدا ہو جائے۔ گویا ہم سب کائنات کی مطلق حقیقتوں کی تلاش کے فریب میں در حقیقت صرف اپنی تسکین کی تلاش ہی کر رہے ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی آزمائش ہے جو حضرتَ انسان کے "اخلاقی وجود" کے حصے میں آئی ہے۔ :unsure:
یہ تو cynics کا خیال ہے کہ سچ ریلیٹو ہوا کرتا ہے۔ دو اور دو جمع چار ہی ہوتے ہیں ہمیشہ.
 

سید عاطف علی

لائبریرین
موضوع پر رائے دو اور تبصرہ کرو بھائیو۔بے شک اپنا ذاتی نقطہء نظر دو ۔
بہتر تو یہ ہے اپنی کوئی دلیل دو یا کسی دلیل کو رد کرو مگر بحث کی سمت کو تعمیری رکھنے کا خیال تو رہے۔
اس طرح تو یہ فورم ہی بے وقعت ہو جائے گا۔
 

اکمل زیدی

محفلین
یہ عجیب دھمکی ہے اور جاہلانہ بات۔ ریٹنگ پوسٹ کو دی جاتی ہی انسان کو نہیں۔
پہلی بات یہ دھمکی نہیں صرف ایک پائنٹ آوٹ تھا کے اپنے کومنٹ دیں ۔بجائے اس طرح کی ریٹنگ سے کسی کی سوچ کا مذاق اڑانے کا آپ کے پاس کوئی اختیار نہیں ورنہ ہمارے پاس بھی ماؤس ہے :) اور پوسٹ یہاں انسان ہے کر رہے ہیں کوئی روبوٹ نہیں ...اور جہاں تک جاہلانہ کا تعلق ہے ...تو اس لفظ پر صرف آپ کی سینیریٹی کا خیال کر کے کوئی کومنٹ نہیں کر رہا ...ورنہ جانے نہ جانے گل ہے نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے ...کہ یہ جملہ کس سوچ پر فٹ آسکتا ہے
 
Top