جنید جمشید کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

ابن رضا

لائبریرین
شاید آپ سمجھے نہیں کہ میں نے ڈنمارک کارٹون کا ذکر کس پیرائے میں کیا تھا۔ وہ کارٹون بعد میں جس نے بھی چھاپے اسے توہین کا مرتکب قرار دیا گیا۔ اس اصول کو اگر جنید کے قصے پر اپلائی کیا جائے تو محفل پر جنید کا توہین والا بیان پوسٹ کرنے سے محفل اور محفلین بھی توہین کے مرتکب قرار دیئے جا سکتے ہیں۔
قبلہ آپ نے درست فرمایا۔ آپ کی تحریر کا پس منظر اپنی جگہ۔ خاکسار نے صرف کارٹون بنا کر آزادیِ اظہار کا دعوی کرنے والوں کو نام نہاد لبرل کہا تھا کہ دوسروں کے مذہبی جذبات مجروح کرنا "نام نہاد" لبرلزم ہی ہے۔
 

x boy

محفلین
جے جے اور دیگر پاکستانی پبلک۔
ٹی وی پروگرام بہت کرتے ہیں جنید صاحب اس کے علاوہ ابایا بوتیک بھی ہے
ہوسکتا ہے کسی وقت دھیان بٹک گیا ہو۔
اللہ ہم سب کو معاف کرے، آمین
 
جنید جمشید نے انتہائی جاہلانہ انداز میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھما جی عظیم ہستی کے بارے میں ان کے مقام کو مد نظر رکھے بغیر بات کی ہے جو شدید بے ادبی کے زمرے میں آتی ہے۔
مجھے جے جے کی اوپر پہلی وڈیو دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی
بہرحال علماء اور عدالت ہی جے جے کی توبہ اور معذرت کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔

جہاں تک میں سمجھا ہوں جنید جمشید عورتوں کے متعلق باتیں کر رہے تھے اور اس دوران انہوں نے اپنے تئیں عورت کی نا بدلنے والی سرشت اور اس کے حیلے بہانوں کو موضوع بناتے ہوئے شاید جس طرح حدیث تھی ویسے ہی بیان کی حدیث بیان کرنے میں اور حضرت عائشہ کی بات کرتے ہوئے گستاخی نہیں کی گئی لیکن اس کے بعد جب وہ اپنے اصل موضوع یعنی عورت کی طرف آئے تو وہاں وہ کم عقلی اور ایک عام اور رائج رویے کا مظاہرہ کر گئے۔ ان کا انداز عورت کے معاملے میں بھونڈا اور تحقیر آمیز تھا اور ایسا عموماََ " مردوں " کی بیٹھک میں ہوا کرتا ہے۔ لیکن چونکہ جنید جمشید سے لوگوں نے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور ان کے میوزک چھوڑنے اور نعتیں پڑھنے سے انہیں شاید عالم سمجھنا شروع ہو گئے ہیں تو ان کے لیے یہ سب گستاخی کے زمرے میں آ تا ہے۔
یہ مسئلہ درپیش ہی نا ہوتا اگر عورت کو ٹیڑھی پسلی کی پیداوار، کم عقل اور کم تر سمجھنے کی ریت ہی نا ہوتی۔ ہر مذہب کا پیروکار پتہ نہیں کیوں اپنے مذہب کے نظریات سے چیزیں چن چن کر سیاق و سباق سے ہٹا ہٹا کر اور بالکل الگ ہو کر عورت کے بارے میں خود سے کافی کچھ طے کر بیٹھا ہے۔
 
آخری تدوین:
احترام سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہم ان کی لڑائیوں کے بارے میں پڑھ نہیں سکتے، بات نہیں کر سکتے، رائے نہیں قائم کر سکتے کہ کون غلط تھا؟
ان کے آپس میں اختلافات اجتہاد پر مبنی تھے۔ وہ سبھی اپنی اپنی جگہ پر مخلص تھے اور حق پر تھے۔
ان لڑائیوں کے بارے میں پڑھنا، اور ان کے اجتہادی اختلاف کو سمجھنے کی کوشش کرنا گستاخی نہیں۔ البتہ ان میں سے کسی بھی بزرگ ہستی کو معمولی انسان سمجھ کر مذاق اڑانے والے انداز میں بات کرنا یا کسی کو برا بھلا کہنا منع ہے۔
 

زیک

مسافر
ان کے آپس میں اختلافات اجتہاد پر مبنی تھے۔ وہ سبھی اپنی اپنی جگہ پر مخلص تھے اور حق پر تھے۔
علمی اختلافات کے بارے میں یہ بات درست ہو سکتی ہے مگر جنگ میں نہیں۔ جنگ میں سب فریقین غلط ہو سکتے ہیں مگر سب حق پر نہیں۔
 
بیحد افسوس کا مقام ہے کہ ہم لوگوں نے اپنی اپنی کمینگیوں، باطنی خباثتوں اور کم ظرفیوں کےاظہار کیلئےقابلِ احترام اور برگزیدہ ہستیوں کے نام کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے ۔۔۔۔۔اور ہمارے نفسوں نےخود کو یہ فریب دیا ہوا ہے کہ یہ کام مذموم نہیں بلکہ قابلِ تعریف ہے۔۔۔دینداری کے پردے میں نفس پرستی کرکے ہر عیار و مکار اپنے آپ کو سچا اور پکا مسلمان اور عاشقِ رسول ہونے کا یقین دلانے کیلئے دوسروں کے ہر قول و فعل کو گستاخی اور توہین ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔۔۔۔۔فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا۔۔۔مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔۔۔
 

نایاب

لائبریرین
محبوبہ کہنے کی بات کر رہے ہیں نایاب بھائی؟
اس سے پہلے بھی اک لفظ ہے ۔۔۔۔ ذرا غور سے سنیں جناب امام رازی کا مکمل جملہ ۔۔۔۔۔۔
تقریر کے شروع میں روایت کے بارے جناب مولانا کا ذکر اور استدلال بھی توجہ کا محتاج ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
 
جہاں تک میں سمجھا ہوں جنید جمشید عورتوں کے متعلق باتیں کر رہے تھے اور اس دوران انہوں نے اپنے تئیں عورت کی نا بدلنے والی سرشت اور اس کے حیلے بہانوں کو موضوع بناتے ہوئے شاید جس طرح حدیث تھی ویسے ہی بیان کی حدیث بیان کرنے میں اور حضرت عائشہ کی بات کرتے ہوئے گستاخی نہیں کی گئی لیکن اس کے بعد جب وہ اپنے اصل موضوع یعنی عورت کی طرف آئے تو وہاں وہ کم عقلی اور ایک عام اور رائج رویے کا مظاہرہ کر گئے۔ ان کا انداز عورت کے معاملے میں بھونڈا اور تحقیر آمیز تھا اور ایسا عموماََ " مردوں " کی بیٹھک میں ہوا کرتا ہے۔ لیکن چونکہ جنید جمشید سے لوگوں نے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور ان کے میوزک چھوڑنے اور نعتیں پڑھنے سے انہیں شاید عالم سمجھنا شروع ہو گئے ہیں تو ان کے لیے یہ سب گستاخی کے زمرے میں آ تا ہے۔
یہ مسئلہ درپیش ہی نا ہوتا اگر عورت کو ٹیڑھی پسلی کی پیداوار، کم عقل اور کم تر سمجھنے کی ریت ہی نا ہوتی۔ ہر مذہب کا پیروکار پتہ نہیں کیوں اپنے مذہب کے نظریات سے چیزیں چن چن کر سیاق و سباق سے ہٹا ہٹا کر اور بالکل الگ ہو کر عورت کے بارے میں خود سے کافی کچھ طے کر بیٹھا ہے۔
اگر جنید جمشید کی دوسری معذرت اور توبہ والی وڈیو کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ میرے جیسے گنہگار مسلمانوں کے جذبات کو سمجھ گئے۔ اسی لئے میں نے ان کے حق میں دعا بھی کی۔
خواتین کی محفل میں مردوں کا جو بینڈ بجایا جاتا ہے وہ بھی سننے کے قابل ہوتا ہے۔
بہرحال یہ مردوں کو خواتین کے ساتھ تحقیر آمیز وریے کا جواز فراہم نہیں کرتا
 

سید عاطف علی

لائبریرین
میرے خیال میں اصل بات ا ور اس کے مضمرات تو الگ ،البتہ میں اس معاملے کو طول دینے والے لوگ معاملے کو اپنی اپنی کرنسی میں "کیش " کرانے والے ہیں۔
 

فاتح

لائبریرین
اسی واقعہ کے حوالے سے حضرت مولانا علامہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین مد ظلہ کا جنید جمشید پاپی کی والدہ کے متعلق انکشاف یا دعویٰ:
جو مبلغ ہو کر بھی عائشہ کا نہ ہوا
مرا من کہتا ہے وہ صرف فاحشہ سے ہوا
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top