جنید جمشید کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

ابن رضا

لائبریرین
حضرت عائشہ کی گستاخی کرنے پر تو جنید نے معافی مانگ لی ہے مگر خواتین کی توہین کرنے کی معافی کب مانگے گا؟
عورتوں کی توہین بھی قابلِ مذمت ہے۔ تاہم عورتوں کا مردوں کے بارے میں کوئی رائے رکھنا یا مردوں کا عورتوں کے بارے میں کوئی رائے رکھنا ایک عمومی عمل ہے۔ غلط یا صحیح سے قطع نظر ہر کوئی اپنے نقطہ ء نظر کو اپنی فہم و فراست کے مطابق بیان کرتا ہے لیکن کسی بھی خاص شخصیت کو نشانہ بنانا وہ دوسروں کے عقائد میں بے جا دخل اندازی ہے۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
جنید جمشید سے متعلقہ بات گستاخیِ رسول ص نہیں بلکہ اہلِ بیت کی شان میں نادنستہ گستاخی ہے جس کو "کم علمی" اور غیر ارادی غلطی گردانتے ہوئے معافی بھی مانگی گئی ہے۔ مسلمان مذہب کے ٹھیکیدار نہیں ہیں کہ ایجابِ توبہ کے لیے ان سے فتویٰ درکار ہو۔ قران میں کئی بار اعلان ہے کہ اللہ بہت غفور و رحیم ہے۔

مذہبی رواداری کا تقاضا ہے کہ نام نہاد لبرل بھی دوسروں کی مذہبی دل آزاری سے اجتناب کریں۔ہم ہر اس کام کی مذمت کرتے ہیں جس سے ہمارے نبی ص اور اہلِ بیت کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کا پہلو نکلتا ہو۔

واللہ اعلم۔
ابن رضا بھائی جو حدیث جنید نے پڑھی ہے اسکی روشنی میں آپ بتا سکتے ہیں کہ جنید نے کیا گستاخی کی ہے ؟
 

ابن رضا

لائبریرین
ابن رضا بھائی جو حدیث جنید نے پڑھی ہے اسکی روشنی میں آپ بتا سکتے ہیں کہ جنید نے کیا گستاخی کی ہے ؟
محترمہ و عزیزہ، کسی بھی بات کو بیان کرنے کا انداز بھی معنی خیز ہوتا ہے۔ جیسے اگر ہمارے دروازے پر کوئی دستک دے اور پوچھے کہ آپ کے والدِ گرامی گھر پر ہیں؟ اب اسی بات کو اگر وہ اس انداز سے کرے کہ کہاں ہے تیری ماں کا خاوند۔ اب دوسرا انداز اشتعال انگیز ہے تاہم بات ایک ہی۔

علاوہ ازیں ، میری رائے میں، اوپر جو حدیث آپ نے بیان کی ہے اس میں کہیں نہیں ہے کہ عورت ٹیڑی پسلی کی پیداوار ہے کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی ۔ اس حدیث کو کم علمی کے سبب غلط سیاق و سباق اور پس منظر میں جوڑا گیا ہے۔ اور غلط انداز سے بیان کیا گیا ہے۔جس کا واعظ نے اعتراف کیا اور معذرت چاہی۔ میاں بیوی کی باہمی لطافت اور توجہ چاہنے کے حیلوں بہانوں کو فطری پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔

اسی فطری محبت کے حوالے سے ایک حدیث بھی سن رکھی ہے حوالہ
صحیح بخاری
کتاب النکاح
حدیث نمبر : 5228

کہ
ہم سے عبید بن اسما عیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا
میں خوب پہچانتا ہوں کہ کب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب تم مجھ پر ناراض ہو جاتی ہو۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات کس طرح سمجھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا ہاں اللہ کی قسم یا رسول اللہ! (غصے میں) صرف آپ کا نام زبان سے نہیں لیتی۔

واللہ اعلم
 
آخری تدوین:

زیک

مسافر
عورتوں کی توہین بھی قابلِ مذمت ہے۔ تاہم عورتوں کا مردوں کے بارے میں کوئی رائے رکھنا یا مردوں کا عورتوں کے بارے میں کوئی رائے رکھنا ایک عمومی عمل ہے۔ غلط یا صحیح سے قطع نظر ہر کوئی اپنے نقطہ ء نظر کو اپنی فہم و فراست کے مطابق بیان کرتا ہے لیکن کسی بھی خاص شخصیت کو نشانہ بنانا وہ دوسروں کے عقائد میں بے جا دخل اندازی ہے۔
خاص شخصیت کے اونٹ کی ٹانگیں کاٹنا کیسا ہے؟ :p
 
جنید جمشید نے انتہائی جاہلانہ انداز میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھما جی عظیم ہستی کے بارے میں ان کے مقام کو مد نظر رکھے بغیر بات کی ہے جو شدید بے ادبی کے زمرے میں آتی ہے۔
مجھے جے جے کی اوپر پہلی وڈیو دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی
بہرحال علماء اور عدالت ہی جے جے کی توبہ اور معذرت کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
جو کچھ جنید نے کہا اگر وہ گستاخی تھی تو یہ گستاخی پہلے حدیث لکھنے والے نے کی ہے پہلے اسے سزا ملنی چاہیئے جنید نے تو صرف حدیث بیان کرنے کی گستاخی کی ہے
لئیق احمد جب بات دلیل اور حقائق پر ہو رہی ہو تو آپ مہربانی فرما کر اپنے پسندیدہ غیراخلاقی روئے کا اظہار مت فرمایا کریں اگر کوئی دلیل نہیں ہے تو اس بحث سے دور رہیئے
 

صائمہ شاہ

محفلین
محترمہ و عزیزہ، کسی بھی بات کو بیان کرنے کا انداز بھی معنی خیز ہوتا ہے۔ جیسے اگر ہمارے دروازے پر کوئی دستک دے اور پوچھے کہ آپ کے والدِ گرامی گھر پر ہیں؟ اب اسی بات کو اگر وہ اس انداز سے کرے کہ کہاں ہے تیری ماں کا خاوند۔ اب دوسرا انداز اشتعال انگیز ہے تاہم بات ایک ہی۔

علاوہ ازیں ، میری رائے میں، اوپر جو حدیث آپ نے بیان کی ہے اس میں کہیں نہیں ہے کہ عورت ٹیڑی پسلی کی پیداوار ہے کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی ۔ اس حدیث کو کم علمی کے سبب غلط سیاق و سباق اور پس منظر میں جوڑا گیا ہے۔ اور غلط انداز سے بیان کیا گیا ہے۔جس کا واعظ نے اعتراف کیا اور معذرت چاہی۔ میاں بیوی کی باہمی لطافت اور توجہ چاہنے کے حیلوں بہانوں کو فطری پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔

اسی فطری محبت کے حوالے سے ایک حدیث بھی سن رکھی ہے حوالہ
صحیح بخاری
کتاب النکاح
حدیث نمبر : 5228

کہ
ہم سے عبید بن اسما عیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا
میں خوب پہچانتا ہوں کہ کب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب تم مجھ پر ناراض ہو جاتی ہو۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات کس طرح سمجھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا ہاں اللہ کی قسم یا رسول اللہ! (غصے میں) صرف آپ کا نام زبان سے نہیں لیتی۔

واللہ اعلم
ٹیڑھی پسلی جنید کی اپنی ترجیح ہے میں نے یہ کب کہا کہ یہ حدیث میں ہے مگر جنید نے عورتوں کے حوالے سے ضرور اپنی ذہنیت کی عکاسی کی ہے باقی جو آپ نہیں دیکھنا چاہتے وہ آپ کبھی دیکھ نہیں سکتے گستاخی تو ہوئی ہے مگر وہ آپ دیکھنا نہیں چاہتے
 
حدیث کے انداز بیان اور جنید جمشید کے انداز بیان میں بہت فرق ہے۔ حدیث کا انداز ایک واقعہ بیان کرنے جیسا اور جنید کا انداز خواتین کا مذاق اڑانے والا جس میں اس نے ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کو ایک عام عورت کی طرح مثال کے طور پر بیان کیا۔
جو لوگ ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کو ایک عام عورت سمجھتے ہیں وہ اس فرق کو نہیں سمجھ سکیں گے۔
 

زیک

مسافر
حدیث کے انداز بیان اور جنید جمشید کے انداز بیان میں بہت فرق ہے۔ حدیث کا انداز ایک واقعہ بیان کرنے جیسا اور جنید کا انداز خواتین کا مذاق اڑانے والا جس میں اس نے ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کو ایک عام عورت کی طرح مثال کے طور پر بیان کیا۔
جو لوگ ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کو ایک عام عورت سمجھتے ہیں وہ اس فرق کو نہیں سمجھ سکیں گے۔
جو لوگ عام عورت کو کچھ نہیں سمجھتے وہ اس توہین کو نہیں سمجھ سکیں گے
 

ابن رضا

لائبریرین
ٹیڑھی پسلی جنید کی اپنی ترجیح ہے میں نے یہ کب کہا کہ یہ حدیث میں ہے مگر جنید نے عورتوں کے حوالے سے ضرور اپنی ذہنیت کی عکاسی کی ہے باقی جو آپ نہیں دیکھنا چاہتے وہ آپ کبھی دیکھ نہیں سکتے گستاخی تو ہوئی ہے مگر وہ آپ دیکھنا نہیں چاہتے
اس بابت تو میں اوپر عرض کر چکا ہوں صائمہ شاہ بہن۔
عورتوں کی توہین بھی قابلِ مذمت ہے۔ تاہم عورتوں کا مردوں کے بارے میں کوئی رائے رکھنا یا مردوں کا عورتوں کے بارے میں کوئی رائے رکھنا ایک عمومی عمل ہے۔ غلط یا صحیح سے قطع نظر ہر کوئی اپنے نقطہ ء نظر کو اپنی فہم و فراست کے مطابق بیان کرتا ہے لیکن کسی بھی خاص شخصیت کو نشانہ بنانا وہ دوسروں کے عقائد میں بے جا دخل اندازی ہے۔
 
دوسری وڈیو میں جنید نے بہت عاجزی اور انکساری کے ساتھ توبہ اور معذرت کی ہے ۔ میری دعا ہے کہ رب کریم جنید کی توبہ اور معافی قبول فرمائے۔
عدالتی معاملے پر عدالت اور علماء ہی فیصلہ کر سکتے ہیں۔
یہاں مجھے ایک جید عالم کا قول یاد آگیا کہ "غیر عالم" کو وعظ کہنا حرام ہے۔ جو دینی معاملات کو مناسب طریقے سے نہیں سمجھتا اس سے ایسی احمقانہ حرکت ہوجانا کوئی بعید نہیں۔
 

زیک

مسافر
جنگِ جمل اسلامی تاریخ کا ایک بہت افسوسناک واقعہ ہے۔ جس کی وجہ منافقوں اور مفاد پرستوں کی مبالغہ آرائی تھی۔
جب اسلامی تاریخ میں خاص شخصیات کے آپس میں لڑائیاں رہی تو ان کی گستاخی کے خلاف قانون کچھ لایعنی لگتا ہے
 

زیک

مسافر
مذہبی رواداری کا تقاضا ہے کہ نام نہاد لبرل بھی دوسروں کی مذہبی دل آزاری سے اجتناب کریں۔ہم ہر اس کام کی مذمت کرتے ہیں جس سے ہمارے نبی ص اور اہلِ بیت کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کا پہلو نکلتا ہو۔
حیرت کی بات ہے کہ یہاں ساری کہانی مذہبیوں کی ہے۔ توہین کرنے والا بھی مذہبی اور اس کے خلاف مقدمہ کرنے والے بھی مذہبی۔ مگر ان کی تان پھر آ کر لبرل پر ٹوٹی!
 

ابن رضا

لائبریرین
جب اسلامی تاریخ میں خاص شخصیات کے آپس میں لڑائیاں رہی تو ان کی گستاخی کے خلاف قانون کچھ لایعنی لگتا ہے
بلا شبہ اسلام محبت اور سلامتی کا دین ہے رواداری اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک ہے۔مذہبی معاملات میں نہ کسی کو چھیڑو اور نہ کوئی آپ کو چھیڑے۔ مزید یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اسلام اور مسلمان دو الگ الگ حقیقتیں ہیں۔ مجھ سمیت کسی بھی بے عمل مسلمان کو اسلام کا نمائندہ نہیں کہا جا سکتا۔
 
جب اسلامی تاریخ میں خاص شخصیات کے آپس میں لڑائیاں رہی تو ان کی گستاخی کے خلاف قانون کچھ لایعنی لگتا ہے
حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ اور ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کے درمیان ہونے والی جنگ کے باوجود ان سب محترم ہستیوں کا احترام ہم پر لازم ہے۔
 

ابن رضا

لائبریرین
حیرت کی بات ہے کہ یہاں ساری کہانی مذہبیوں کی ہے۔ توہین کرنے والا بھی مذہبی اور اس کے خلاف مقدمہ کرنے والے بھی مذہبی۔ مگر ان کی تان پھر آ کر لبرل پر ٹوٹی!
حیرت تو اس بات پر بھی ہونی چاہیے کہ مذکور جواب کا لڑی کے موضوع سے کوئی تعلق نہیں ہے ملاحظہ فرمائیے۔
ڈنمارک کے کارٹون والے اصول کے تحت اب اردو محفل بھی توہین کی مرتکب ہے

مذہبی رواداری کا تقاضا ہے کہ نام نہاد لبرل بھی دوسروں کی مذہبی دل آزاری سے اجتناب کریں۔ہم ہر اس کام کی مذمت کرتے ہیں جس سے ہمارے نبی ص اور اہلِ بیت کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کا پہلو نکلتا ہو۔
 

زیک

مسافر
حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ اور ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کے درمیان ہونے والی جنگ کے باوجود ان سب محترم ہستیوں کا احترام ہم پر لازم ہے۔
احترام سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہم ان کی لڑائیوں کے بارے میں پڑھ نہیں سکتے، بات نہیں کر سکتے، رائے نہیں قائم کر سکتے کہ کون غلط تھا؟
 

زیک

مسافر
حیرت تو اس بات پر بھی ہونی چاہیے کہ مذکور جواب کا لڑی کے موضوع سے کوئی تعلق نہیں ہے ملاحظہ فرمائیے۔
شاید آپ سمجھے نہیں کہ میں نے ڈنمارک کارٹون کا ذکر کس پیرائے میں کیا تھا۔ وہ کارٹون بعد میں جس نے بھی چھاپے اسے توہین کا مرتکب قرار دیا گیا۔ اس اصول کو اگر جنید کے قصے پر اپلائی کیا جائے تو محفل پر جنید کا توہین والا بیان پوسٹ کرنے سے محفل اور محفلین بھی توہین کے مرتکب قرار دیئے جا سکتے ہیں۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top