ملالہ کا ملال اور قوم کی دھمال

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

سید زبیر

محفلین
فاروق سرور خان ! پیارے بھائی ۔ ۔ آپ نے کہا "
اگر ٹی ٹی پی ، امریکہ کی ایجنٹ ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس کو مار کر نا بھگایا جائے؟؟" تو بھائی یہی دعا تو میری بھی ہے کہ اللہ ہمیں قوت عطا کرسکیں تا کہ ہم طالبان کے اور امریکہ کے ڈرون حملے روک سکیں اور اپنے دشمنوں سے خود نبرد آزما ہو سکیں جیسے افغان تن تنہا پچاس سے زائد نیٹو ممالک کی جارحیت سے نبرد آزما ہیں پھر آپ نے کہا "​
ملالہ کہتی ہے۔۔۔ طالبان کی بندوق کے جواب میں اور طالبان کی اسکولوں کو بند کردینے کے جواب میں "​
" تعلیم حاصل کرنا میرا حق ہے۔ دوستوں کے ساتھ کھیلنا میرا حق ہے، اپنا نام رکھنا میرا حق ہے" ۔۔۔ "طالبان کو کوئی حق نہیں کہ وہ میرا اسکول بند کریں"۔ میرے بھائی تمام مہذب دنیا میں تعلیم کا حصول عورت کا حق ہے اور یہ حق جدوجہدسے حاصل کیا مگر دین اسلام میں حصول تعلیم عورتوں پر فرض ہے۔​
پھر آپ نے کہا "
ملالہ بھی امریکہ کی ہمدرد ہے؟​
" اس امر کے شواہد ہیں کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے اغیار کو ہمدرد سمجھ رہی تھی حالانکہ پاکستان میں اس سے تعاون کرنے والے کثیر تعداد میں موجود ہیں بہر حال آپ کی اپنی رائے ہے مجھے آپ کی رائے کا احترام ہے آئیں اللہ سے دعا کریں کہ رب ذوالجلال ملالہ کو صحت کاملہ عطا فرمائے(آمین)​
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

باوجود اس کے کہ ايک بدنام زمانہ دہشت گرد تنظيم نے نہ صرف يہ کہ ملالہ پر حملے کی ذمہ قبول کر لی ہے بلکہ وہ عوامی سطح پر اپنے اقدام کو درست قرار ديتے ہوئے مستقبل ميں بھی اپنی اس مہم جوئ کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہيں، اب بھی ايسے رائے دہنگان موجود ہيں جو اپنی محدود سوچ کے دفاع ميں طرح طرح کی کہانياں گھڑ رہے ہيں اور اس عمل سے حقيقی معنوں ميں ايک سکول کی کمسن بچی پر حملے کی توجيح پيش کرنے کی کوشش کر رہے ہيں۔

ايک طرف تو ملالہ کو ايک ايسے امريکی مہرے کے طور پر پيش کیا جاتا ہے جسے بے شمار وسائل خرچ کر کے خطے ميں امريکی مفادات کی ترويج کے ليے باقاعدہ تيار کيا گيا ليکن پھر اسی پيرائے ميں يہ الزام بھی برملا داغ ديا جاتا ہے کہ اپنے اس "قيمتی اثاثے" پر حملے کا ذمہ دار بھی امريکہ ہی ہے تا کہ طالبان کو بدنام کيا جا سکے۔ اسی طرح بعض تبصرہ نگار بڑے پرجوش انداز ميں ٹی ٹی پی کو امريکی سی آئ اے کی ہی ايک شاخ قرار ديتے ہيں ليکن جب ملالہ پر حملے کا ذکر آتا ہے تو پينترہ بدل کر يہ کہا جاتا ہے کہ امريکہ اس حملے کی آڑ ميں وزيرستان ميں حملے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ سوال يہ ہے کہ اگر ٹی ٹی پی واقعی امريکہ کی سرپرستی ميں کام کرتی ہے تو اس بات کی کيا منطق ہے کہ امريکہ اپنے ايک مہرے (ملالہ) کی قربانی دے کر خطے ميں اپنے دوسرے قيمتی اثاثے (ٹی ٹی پی) کو نيست ونابود کرنے کے ليے باقاعدہ لابنگ کر رہا ہے؟

کيا کسی بھی ذی شعور شخص کو ان دلائل ميں دانش کا کوئ بھی پہلو دکھائ دے سکتا ہے؟

جو رائے دہندگان سابق سفير رچرڈ ہالبروک اور ملالہ کی تصوير کا تذکرہ کر کے اسے ايسے اجاگر کر رہے ہيں جيسے يہ ملالہ کے امريکی ايجنٹ اور غداری کا ناقابل ترديد ثبوت ہے وہ يہ بھول رہے ہيں کہ ايک سفير کی حيثيت سے رچرڈ ہالبروک نے پاکستانی معاشرے کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے درجنوں نامور افراد سے ملاقاتيں کی تھيں۔ اگر رچرڈ ہالبروک سے ملاقات ہی وہ معيار يا ثبوت ہے جس کی بنياد پر کسی کو بھی غير ملکی ايجنٹ قرار ديا جا سکتا ہے تو پھر اس بارے ميں کيا کہيں گے کہ سال 2009 ميں ڈاکٹر عافيہ کی بہن نے بھی رچرڈ ہالبروک سے دو بار ملاقات کی تھی۔

http://www.zimbio.com/Aafia+Siddiqui/articles/82/Dr+Fauzia+Meets+PM+Gilani+Holbrooke

کيا ڈاکٹر عافيہ کی بہن کو بھی اس ملاقات کے تناظر ميں "امريکی اثاثہ" قرار ديا جا سکتا ہے جو ملک ميں امريکی مفادات کے ليے سرگرم ہيں؟

ايسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض رائے دہندگان کے نزديک ايک قابل قبول سوچ يا کہانی کی تخليق کے ضمن ميں بنيادی عقل و دانش کے مروجہ اصول اور يہاں تک ممکنات تک کی کوئ اہميت نہيں ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

کعنان

محفلین
ایک معصوم لڑکی کے سر میں دو گولیاں ماری گئیں اور ساجد صاحب کا موقف ان لوگوں کے خلاف ہے جو "تعلیم میرا حق ہے" کی ستائش کرتے ہیں۔ ان کو شکائت ہے کہ حکومتیں "تعلیم کے حصول کے لئے کوشاں ملالہ " پر حملے کی مذمت کیوں کررہی ہیں۔

ملالہ کے سر میں ربڑ کی گولی ماری گئی تھی ، اس لئے اسے برمنگھم بھیج دیا کیونکہ پاکستان میں اتنا لمبا ڈرامہ نہیں چل سکتا تھا اور یہاں ہوئی اندر جا نہیں سکتا ہسپتال والوں نے اس کے دماغ کی ٹوٹی ہڈی کے باوجود بھی آج اسے سہارا دے کر چلایا اور وہ پن سے لکھنے کے قابل بھی ہو گئی ھے۔:flag: باقی ڈائری وہ اب وہ اب ہسپتال میں لکھے گی۔
 

کعنان

محفلین
ملالہ کی ایک تصویر جس میں اسے سر میں ماتھے پر گولی لگی اور دوسری تصویر میں ماتھا بالکل صاف ھے نہ ٹانکے نہ ڈریسنگ یہاں خبر کا لنک بھی ساتھ ھے خود ہی دیکھ سکتے ہیں خبر تازہ ھے جب آپ دیکھیں گے تو ایک پرانی ہو گی۔

اب معلوم نہیں یہ ملالہ ہی ھے یا کوئی اور۔ ربڑ کی گولی کام کر گئی۔

http://www.dailymail.co.uk/news/art...doctors-say-able-stand.html?ito=feeds-newsxml

آپ کا کیا خیال ھے؟

34ratrs.jpg
 

عثمان

محفلین
ملالہ کی ایک تصویر جس میں اسے سر میں ماتھے پر گولی لگی اور دوسری تصویر میں ماتھا بالکل صاف ھے نہ ٹانکے نہ ڈریسنگ یہاں خبر کا لنک بھی ساتھ ھے خود ہی دیکھ سکتے ہیں خبر تازہ ھے جب آپ دیکھیں گے تو ایک پرانی ہو گی۔

اب معلوم نہیں یہ ملالہ ہی ھے یا کوئی اور۔ ربڑ کی گولی کام کر گئی۔

http://www.dailymail.co.uk/news/art...doctors-say-able-stand.html?ito=feeds-newsxml

آپ کا کیا خیال ھے؟

34ratrs.jpg

طالبانی عینک یا کسی ربڑ کی عینک کی بجائے نظر کی کوئی کارآمد عینک استعمال کر کے نیچے دی گئی تصویر کو بغور دیکھا جائے تو زخم کے نشانات اور سوجن صاف دکھائی دے رہی ہے۔

malala-10.jpg
 

کعنان

محفلین
طالبانی عینک یا کسی ربڑ کی عینک کی بجائے نظر کی کوئی کارآمد عینک استعمال کر کے نیچے دی گئی تصویر کو بغور دیکھا جائے تو زخم کے نشانات اور سوجن صاف دکھائی دے رہی ہے۔

malala-10.jpg

میک اپ پر سوجن نظر آ گئی مگر گولی کی نشاندہی نہیں کر پائے نیچے لنک پر سائز مزید بڑھا دیا گیا ھے اگر آپ دیکھ سکتے ہیں تو پھر آپکوکسی عینک کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انتظار کرتے ہیں شائد اگلی کسی فوٹو میں دوبارہ آنکھ کے میک اپ کے ساتھ گولی کا نشان بھی میک اپ ہو جائے۔
http://i49.tinypic.com/9h03sj.jpg

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کعنان

محفلین
کنعان کے سر میں ربر کی گولی مار کر ناک مین ٹیوب لگا کر تجزیہ کرنے کا کہنا تھا عثمان۔ پھر زیاد بہتر تجزیہ کرسکتے تھے۔

جس کے پاس عقل نہیں ہوتی وہ موضوع چھوڑ پر ذاتیات پر بےعقلی کے نشتر چھوڑتا ھے اسے ہم گاربیج بن میں ڈالتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔​

29xhz7b.jpg
 

عثمان

محفلین
میک اپ پر سوجن نظر آ گئی مگر گولی کی نشاندہی نہیں کر پائے نیچے لنک پر سائز مزید بڑھا دیا گیا ھے اگر آپ دیکھ سکتے ہیں تو پھر آپکوکسی عینک کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انتظار کرتے ہیں شائد اگلی کسی فوٹو میں دوبارہ آنکھ کے میک اپ کے ساتھ گولی کا نشان بھی میک اپ ہو جائے۔
http://i49.tinypic.com/9h03sj.jpg

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔

غیر مرئی "میک اپ" نظر آ رہا ہے ؟ اور کن پٹی پر کالا سیاہ نشان اور اس کے اوپر لکیر نظر نہیں آئی ؟ شاواشے!
میں کوئی بھی تصویر دکھا دوں آپ ڈھٹائی سے اسے بھی "میک اپ" ہی قرار دیتے رہیں گے۔
لگے رہیے۔
 

کعنان

محفلین
غیر مرئی "میک اپ" نظر آ رہا ہے ؟ اور کن پٹی پر کالا سیاہ نشان اور اس کے اوپر لکیر نظر نہیں آئی ؟ شاواشے!
میں کوئی بھی تصویر دکھا دوں آپ ڈھٹائی سے اسے بھی "میک اپ" ہی قرار دیتے رہیں گے۔
لگے رہیے۔

21b58bd.jpg
وہاں کے ڈاکٹر ڈیو راسر بھی گولیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں
گردن اور سر کا حصہ ماتھے پر،
مگر تصویر میں ایسا کچھ نظر نہیں آ رہا ۔

اب اس کے آگے،

148lkzs.jpg

مکمل یہاں سے
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


وہ متشدد سوچ جو ملالہ سميت گزشتہ ايک دہائ کے دوران دہشت گردی کا شکار ہونے والے ہزاروں بے گناہ شہريوں کی اذيت کا سبب بنی، اس کی مذمت کی بجائے دلائل پيش کرنے والے اس حاليہ عوامی ردعمل کی حقيقت کو سمجھنے سے قاصر ہيں جس کا اظہار محض ملالہ پر حملے تک ہی محدود نہيں ہے۔

درحقيقت حاليہ واقعہ اس زمينی حقيقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ميں عام عوام نے مشترکہ طور پر يہ فيصلہ کر ليا ہے کہ روايات اور مذہب کی آڑ لے کر جو عناصر کم سن بچوں پر بھی حملوں کو جائز سمجھتے ہيں، ان کی سوچ اور نظريات کو برملا مسترد کيا جانا چاہيے۔

ايک بچی کو انتہائ بے دردی سے سر ميں صرف اس ليے گولی مار دينا کيونکہ وہ سکول جانے پر بضد تھی، دراصل پاکستان کے بچوں کی ايک پوری نسل کو درپيش خطرے کو اجاگر کر رہا ہے جو خدانخواستہ حقيقت کا روپ دھار سکتا ہے اگر معاشرے نے بحيثيت مجموعی اس معاملے کو پس پشت ڈال ديا۔

کئ لحاظ سے ملالہ پر حملہ ايک فيصلہ کن مرحلہ ہے جہاں حقائق کا تعميری اور ايماندرانہ تجزيہ وقت کی اہم ترين ضرورت ہے تا کہ قوم کے مستقبل کا تعين اور بہتر راہ کا فيصلہ کيا جا سکے۔ ان نتائج پر غور بھی ضروری ہے جو عدم برداشت پر مبنی اس پرتشدد سوچ کو روکنے پر ناکامی کی صورت ميں سامنے آئيں گے جو سماجی اور مذہبی روايت تو درکنار بنيادی انسانی اور اخلاقی قدروں کو بھی رد کر کے ايک سکول کی بچی پر حملے کو درست قراد ديتی ہے۔

يہ کوئ تعجب کی بات نہيں ہے کہ ايک تند وتيز مہم کے ذريعے ملالہ کے کردار اور اس کے نظريات سميت اس ڈائری کی حقيقت پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہيں جس کی بدولت اس بچی نے اپنے اور اپنے جيسے دوسرے بچوں پر ہونے والے ظلم کی بپتا عوام تک پہنچائ۔ جو عناصر پاکستانی فوجيوں کے سر کاٹ کر ويڈيوز ريليز کرتے ہيں اور پھر اپنی بے مثال "کاميابی" کا راگ الاپتے ہيں، وہ بھی اسی طريقہ کار کے تحت اپنے "شکار" کی کردار کشی کر کے اپنی جرم کی توجيہہ پيش کرتے ہيں۔

ويسے يہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ اگر ڈائری ميں لکھا جانا والا مواد ملالہ کا نہيں تھا اور اسے صرف استعمال کيا گيا تھا تو پھر اس کی تحريروں اور نظريات کو بنياد بنا کر اس پر حملہ کرنے کی توجيہہ کيوں پيش کی جا رہی ہے؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu


 
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


وہ متشدد سوچ جو ملالہ سميت گزشتہ ايک دہائ کے دوران دہشت گردی کا شکار ہونے والے ہزاروں بے گناہ شہريوں کی اذيت کا سبب بنی، اس کی مذمت کی بجائے دلائل پيش کرنے والے اس حاليہ عوامی ردعمل کی حقيقت کو سمجھنے سے قاصر ہيں جس کا اظہار محض ملالہ پر حملے تک ہی محدود نہيں ہے۔

درحقيقت حاليہ واقعہ اس زمينی حقيقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ميں عام عوام نے مشترکہ طور پر يہ فيصلہ کر ليا ہے کہ روايات اور مذہب کی آڑ لے کر جو عناصر کم سن بچوں پر بھی حملوں کو جائز سمجھتے ہيں، ان کی سوچ اور نظريات کو برملا مسترد کيا جانا چاہيے۔

ايک بچی کو انتہائ بے دردی سے سر ميں صرف اس ليے گولی مار دينا کيونکہ وہ سکول جانے پر بضد تھی، دراصل پاکستان کے بچوں کی ايک پوری نسل کو درپيش خطرے کو اجاگر کر رہا ہے جو خدانخواستہ حقيقت کا روپ دھار سکتا ہے اگر معاشرے نے بحيثيت مجموعی اس معاملے کو پس پشت ڈال ديا۔

کئ لحاظ سے ملالہ پر حملہ ايک فيصلہ کن مرحلہ ہے جہاں حقائق کا تعميری اور ايماندرانہ تجزيہ وقت کی اہم ترين ضرورت ہے تا کہ قوم کے مستقبل کا تعين اور بہتر راہ کا فيصلہ کيا جا سکے۔ ان نتائج پر غور بھی ضروری ہے جو عدم برداشت پر مبنی اس پرتشدد سوچ کو روکنے پر ناکامی کی صورت ميں سامنے آئيں گے جو سماجی اور مذہبی روايت تو درکنار بنيادی انسانی اور اخلاقی قدروں کو بھی رد کر کے ايک سکول کی بچی پر حملے کو درست قراد ديتی ہے۔

يہ کوئ تعجب کی بات نہيں ہے کہ ايک تند وتيز مہم کے ذريعے ملالہ کے کردار اور اس کے نظريات سميت اس ڈائری کی حقيقت پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہيں جس کی بدولت اس بچی نے اپنے اور اپنے جيسے دوسرے بچوں پر ہونے والے ظلم کی بپتا عوام تک پہنچائ۔ جو عناصر پاکستانی فوجيوں کے سر کاٹ کر ويڈيوز ريليز کرتے ہيں اور پھر اپنی بے مثال "کاميابی" کا راگ الاپتے ہيں، وہ بھی اسی طريقہ کار کے تحت اپنے "شکار" کی کردار کشی کر کے اپنی جرم کی توجيہہ پيش کرتے ہيں۔

ويسے يہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ اگر ڈائری ميں لکھا جانا والا مواد ملالہ کا نہيں تھا اور اسے صرف استعمال کيا گيا تھا تو پھر اس کی تحريروں اور نظريات کو بنياد بنا کر اس پر حملہ کرنے کی توجيہہ کيوں پيش کی جا رہی ہے؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
آپ سب چھوڑیں یہ بتائیے امریکی طوطے کی کیا قیمت ہے آج کل مارکیٹ میں؟؟
 
طالبان کا خیال تھا کہ ایک معمولی سی لڑکی ہے ، مر جائے گی ، ایک اور چھوٹی سے خبر چھپ جائے گی اور بس۔

یہاں یہ کہ یہ ظلم رنگ لایا اور طالبان پر خوب تھو تھو ہوئی ۔ اب طالبان ظالمان کہتے ہیں کہ وہ تعلیم کے خلاف نہیں ۔ گویا 15 جنوری کی ڈیڈ لائین وہ بھول گئے۔

طالبان ظالمان کا مقصد ہے ۔ عورتوں کا استحصال، پاکستان کی تباہی، پاک فوج کی تباہی۔

طالبان ظالمان کا سیاسی نظام نا افغانستان کے لئے اچھا ہے ، نا ہی بھارت کے لئے اور نا ہی امریکہ کے لئے۔ یہ نظام ہے ایران کا فرد واحد کی حکومت کا نظام، سعودیوں کو اور امارتیوں کو اس سے فائیدہ ہے۔ وہی طالبان کو فائنانس کرتے ہیں اور یہ ان کے ہی پچاری ہے۔

ملالہ نے ان کے خلاف آواز اٹھائی اس میں کوئی شک نہیں ۔ ملالہ کی کنپٹی پر گولی لگی اس میں بھی کوئی شک نہیں ۔
 

ساجد

محفلین
روايات اور مذہب کی آڑ لے کر جو عناصر کم سن بچوں پر بھی حملوں کو جائز سمجھتے ہيں، ان کی سوچ اور نظريات کو برملا مسترد کيا جانا چاہيے۔
؎​
بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے​
عالی جاہ ، مذہب کی آڑ لے کر جو بھی غلط کام کیا جائے وہ غلط ہی ہوتا ہے اور ان کے غلط کام کو آزادی اظہار کی روایات کا نام دے کر اس کا دفاع کرنا اس سے بھی زیادہ قابلِ مذمت ہے۔ اگر آپ ٹیری جونز کے معاملے میں بھی ایسی ہی بات کہتے تو آج آپ کی یہاں کہی بات کو کوئی اہمیت بھی دیتا۔ یہ طالبانی سوچ آپ ہی کے اعمال سے ٹپک ٹپک پڑتی ہے اور اب یہ دنیا بھر میں پھیلتی جا رہی ہے۔ ان متشددانہ نظریات کو ہم نے ہمیشہ مسترد کیا ہے اور آپ نے ہمیشہ ہی ان پر منافقت دکھائی ہے۔​
ايک بچی کو انتہائ بے دردی سے سر ميں صرف اس ليے گولی مار دينا کيونکہ وہ سکول جانے پر بضد تھی، دراصل پاکستان کے بچوں کی ايک پوری نسل کو درپيش خطرے کو اجاگر کر رہا ہے جو خدانخواستہ حقيقت کا روپ دھار سکتا ہے اگر معاشرے نے بحيثيت مجموعی اس معاملے کو پس پشت ڈال ديا۔
اس معاملے ہی کو کیا ان معاملات کو بھی پسِ پشت نہیں ڈالنا چاہئیے جن میں ہزاروں معصوم بچے انتہائی مہلک بموں کا نشانہ بنا کر بھون دئیے گئے۔ ان کے والدین کو ان کی آنکھوں کے سامنے ذلیل کیا گیا۔ گھروں میں گھس کر انہیں قتل کیا گیا۔ کیا خیال ہے مذمت کا آغاز کہاں سے کیا جائے؟۔ ملالہ پر حملے کی مذمت تو ہم کر ہی رہے ہیں تو وار آن ٹیرر کی آڑ میں نیو ورلڈ آرڈر کی بھینٹ چڑھ جانے والے بے گناہوں کے وحشیانہ قتل کی مذمت میں آپ ہما را ساتھ دیں تو زیادہ مناسب نہ ہو گا؟؟؟۔
کئ لحاظ سے ملالہ پر حملہ ايک فيصلہ کن مرحلہ ہے
کم از کم مجھے اس پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی تھی کیونکہ یہ متوقع تھا ۔ آخر کو اس سے قبل بھی تو ان لوگوں کو عدم آباد بھیجا گیا ہے جن کو آپ کے اداروں نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر لیا تھا۔ تبھی تو میں نے اس خبر کے آتے ہی محفل پر لکھا تھا "
یہ ہے امریکی طلسمِ ہوش ربا جو آنِ واحد میں یوں رنگ بدلتا ہے کہ دیکھنے اور سننے والے مبہوت رہ جائیں"۔ اور اب یہ سچ ثبوت کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے۔​
ويسے يہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ اگر ڈائری ميں لکھا جانا والا مواد ملالہ کا نہيں تھا اور اسے صرف استعمال کيا گيا تھا تو پھر اس کی تحريروں اور نظريات کو بنياد بنا کر اس پر حملہ کرنے کی توجيہہ کيوں پيش کی جا رہی ہے؟
اگرچہ ہم نے ملالہ کی ڈائری پر اب تک کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ہے لیکن اگر آپ کے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ وہ ڈائری ملالہ نے نہیں لکھی تھی تو اسے نشانہ کیوں بنایا گیا تو اس کے لئے حضرت غالب کا یہ شعر بہت موزوں ہے۔
؎​
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق​
آدمی کوئی ہمارا َدمِ تحریر بھی تھا؟​
 
طالبان ظالمان اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتے جب تک یہ طالبان ظالمانی سوچ نا ختم ہو جائے۔ ملالہ صرف "اپنی اور دوسری لڑکیوں کی تعلیم کےلئے" ظالمان کے سامنے اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کے جواب میں سر پر گولی کھائی۔ لیکن بھائی لوگوں کو فرصت نہیں کہ کبھی اس کو امریکہ سے ٍڈھانک دیں ، کبھی ڈرون حملوں سے، کبھی کسی بات سے اور کبھی کسی اور بات سے۔

کتنی تکلیف ہوتی ہے یہ کہنے میں کہ ملالہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہاں تم کو تعلیم کا حق ہے۔ ہاں تم کو اپنی ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے کا حق ہے ۔ ہاں ملالہ تم جیت گئیں اور طالبان ظالمان ہار گئے۔

مجھے ایسے لوگوں کی تکلیف کا اندازہ ہے جو عورتوں کی تعلیم، ملازمت، کاروبار کے خلاف ہیں۔ ان کو ایک ان پڑھ ماں چاہیے۔ اوپر سے کچھ بھی کہیں ، اندر سے صنف نازک کے خلاف ہیں۔
 
پاکستانی جنرل ملالہ کے زخم اور شاٹ کے بارے میں بتا رہا ہے۔

http://www.cnn.com/video/?iid=artic...012/10/15/sayah-military-on-malala-attack.cnn

یہ معاملہ ہے ملالہ اور طالبان کا ۔ اس میں افغانستان، فلیپائین، امریکہ ، انڈیا کا کیا لینا دینا؟ طالبان ظالمان، صرف اور صرف پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف ہیں۔ تعلیم کے خلاف ہیں۔ 15 جنوری کی ڈیڈ لائن کس کو یاد نہیں ؟ سوات پر حملہ کس کو یاد نہیں ِ؟
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top