شعر و شاعر (اشعار اور خالق)

طارق شاہ

محفلین

تھا جوش و خروش اِتفاقی ساقی
اب زِندہ دِلی کہاں ہے باقی، ساقی

میخانے نے رنگ و رُوپ بدلا ایسا
میکش میکش رہا ، نہ ،ساقی ساقی

مولانا ابوالکلام آزاد
 

طارق شاہ

محفلین

ہَوا میں نشّہ ہی نشّہ، فِضا میں رنگ ہی رنگ !
یہ کِس نے پیرَہَن اپنا اُچھال رکّھا ہے

احمد فراؔز
 

طارق شاہ

محفلین

جو معرکہ تھا پہنچنا وہاں، تو سر بھی ہُوا
وہاں سے لَوٹ کے آنے میں لوگ مارے گئے

امِیر اِمام

مُراد آباد، انڈیا
 

طارق شاہ

محفلین

وعدہ نہیں ہے حشر کے دِن کِس سے دِید کا
حصّہ ابھی سے، بانٹ رہے ہیں وہ عِید کا

امِیر مینائی
 

طارق شاہ

محفلین

اللہ ری گُمرہی، بُت و بُتخانہ چھوڑ کر !
مومِؔن چلا ہے کعبے کو اِک پارسا کے ساتھ

حکیم مومِن خاں مومِنؔ
 

طارق شاہ

محفلین

آتے ہی تیرے چل دیئے سب، ورنہ یاس کا
کیسا ہجُوم تھا، دِلِ حسرت فِزا کے ساتھ


حکیم مومِن خاں مومِنؔ
 

طارق شاہ

محفلین

نیند کے ماتے ٹھہرجا، آنکھ کھُلنے کی ہے دیر
چشمِ حیراں میں سُبک، خوابِ گِراں ہوجائے گا


یاسؔ، یگانؔہ ،چنگؔیزی
 

طارق شاہ

محفلین

یہ کُچھ دھڑکالگا ہے تجھ کو زاہد ! جِس قیامت کا
وہ اِک چربہ ہےاُس آفت کے پرکالے کی قامت کا

بہت کُچھ شور ہے جِس فتنۂ شورِ قیامت کا
وہ ہے پامالِ اندازِ خِرام اُس سرو قامت کا

سُنا ذِکرِ قیامت جب کبھی واعظ سے مسجد میں!
مِری آنکھوں میں، نقشہ پِھر گیا اُس بُت کے قامت کا

کِسے کہتے ہیں محشر! تیری ٹھوکر کا کرشمہ ہے
قیامت کیابَلا ہے؟ شعبدہ ہے تیرے قامت کا

بنایا باغِ عالَم میں خُدا نے سب کو شیدائی
صنم تیرے گُلِ عارض کا، تیرے سرو قامت کا

مِری تصوِیر سےتصوِیرِ مجنُوں کو کہاں نِسبت
بگولہ دشت کا، خاکہ ہے مجھ وحشی کے قامت کا

محمد حنِیف علی رعبؔ
 

طارق شاہ

محفلین

جس خاک میں مِل کر خاک ہُوئے، وہ سُرمۂ چشمِ خلق بنی
جس خار پہ ہم نے خُوں چھڑکا ، ہم رنگِ گُلِ طنّاز کِیا


فیض احمد فیضؔ
 

طارق شاہ

محفلین

لووصل کی ساعت آ پہنچی ،پھر حُکمِ حضُوری پر ہم نے
آنکھوں کے درِیچے بند کیے اور سینے کا در باز کِیا

فیض احمد فیضؔ
 

طارق شاہ

محفلین

ڈراتا ہے بہت واعظ کہِیں جلد آئے وہ دِن بھی !
مِلائیں گے تِرے قامت سے ہم ،نقشہ قیامت کا

محمد حنِیف علی رعبؔ
 

طارق شاہ

محفلین

ہجُومِ خلق ہے اِک قاتِلِ عالَم کے کُوچے میں
چل اے زاہد! دِکھائیں تجھ کو ہنگامہ قیامت کا

محمد حنِیف علی رعبؔ
 
Top