شعر و شاعر (اشعار اور خالق)

طارق شاہ

محفلین

آنکھ تمھاری مست بھی ہے ، مستی کا پیمانہ بھی
ایک چھلکتے ساغر میں، مے بھی ہے میخانہ بھی

ساغؔر نظامی
 

طارق شاہ

محفلین

اُس شہر میں اِک آہُوئے خوش چشم سے ہم کو
کم کم ہی سہی، اِک نِسبَتِ رِندانہ رہی ہے

مخدؔوم مُحی الدین
 

طارق شاہ

محفلین

آئی تھی چند گام اُسی بےوفا کے ساتھ
پِھر عُمر بھر کو ، بُھول گئی زندگی ہَمَیں

جاویؔد کمال
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

کِس کو معلوُم تھی پہلے سے خِرد کی قیمت
عالَمِ ہوش پہ احسان ہے دِیوانے کا

چشمِ ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے
راستہ بُھول نہ جاؤں کہیں میخانے کا

اب تو ہر شام گُزرتی ہے اُسی کوُچے میں
یہ نتیجہ ہُوا ناصح تِرے سمجھانے کا

منزِلِ غم سے گُزرنا تو ہے آساں، اقبالؔ
عِشق ہے نام خود اپنے سے گُزر جانے کا

اقبال صفی پوری
 

طارق شاہ

محفلین

مارے خوشی کے مر گئے صُبحِ شبِ فِراق !
کتنے سُبک ہُوئے ہیں گِراں جانیوں میں ہم

حکیم مومن خاں مومنؔ
 
Top