زبانِ عذب البیانِ فارسی سے متعلق متفرقات

حسان خان نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 22, 2014

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,188
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    پشتو شاعری پر فارسی زبان و ادبیات کے اثر کی ایک مثال یہ دیکھیے کہ بابائے پشتو خوشحال خان خٹک اپنے ایک قصیدے میں کہتے ہیں:
    په تازه تازه مضمون د پښتو شعر
    په معنا مې د شيراز او د خجند کړ

    یعنی: تازہ تازہ مضامین سے میں نے پشتو شاعری کو معنائی لحاظ سے شیراز اور خُجند کے برابر کر دیا ہے۔

    اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشحال خان خٹک بھی اپنی شاعری کے لیے فارسی شاعری ہی کو نمونے کے طور پر سامنے رکھتے تھے، اور اُن کی کوشش یہی تھی کہ پشتو شاعری میں بھی ویسے مضامین شامل ہو جائیں جو شیراز اور خُجند، یعنی ایران اور ماوراءالنہر کی فارسی شاعری میں موجود ہیں، اور جن کی وجہ سے فارسی شاعری کو شہرت حاصل ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,188
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    "پشتو کے بہت سے الفاظ دری کے ساتھ مشترک ہیں، نہ صرف اِس لیے کہ دونوں زبانیں قُربت رکھتی ہیں، بلکہ اِس لیے بھی کہ پشتون اور دری گو صدیوں سے ہمسایہ ہیں، اور حالیہ زمانے میں‌ ایک ہی مُلک کے شہری ہیں۔"

    "افغان پشتو میں شامل بیشتر غیر پشتو الفاظ فارسی سے ماخوذ ہیں، جو یہ حقیقت ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں زبانوں کے بولنے والے صدیوں سے ہمسایہ یا ہم وطن ہیں۔"

    کتاب: پشتو کا حوالہ جاتی دستورِ زبان (انگریزی)
    نویسندگان: حبيب الله تږی، باربرا رابسن
    سالِ اشاعت: ۱۹۹۶ء
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 17, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,188
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    کافِ لُزومیہ اور کافِ فُجائیہ

    "کافِ لزومیہ:
    ساتواں کہ لزومیہ جو دو جملوں کے درمیان داخل ہوتا ہے جن میں باہم علاقہ علت و معلول کا ہو یعنی ماقبل مابعد کے لیے علت ہو اور مابعد اُس کا معلول جس سے مدخول کاف اپنے ماقبل کے لیے لازم ہو جیسے عرفی کا شعر ہے شعر ہر سوختہ جانے کہ بکشمیر درآید * گر مرغِ کباب است که با بال و پر آید۔
    کافِ فجائیۂ اتفاقیہ:
    آٹھواں کافِ فجائیہ جس کو اتفاقیہ بھی کہہ سکتے ہیں وہ ایسے دو جملوں کے درمیان داخل ہوتا ہے کہ جن میں ایسا علاقہ نہیں ہوتا کہ جس سے مدخول کاف کو اپنے ماقبل سے استلزام ثابت ہوتا ہو جیسے عرفی کا شعر ہے شعر شبِ گذشتہ بزانو نہادہ بودم سر * کہ اوفتاد خرد را دران خرابہ گذر * اے ناگاہ اُفتاد الخ فرق ان دونوں میں یہ ہے کہ لزومیہ میں جملۂ ماقبل کے لیے مدخول کاف لازم ہوتا ہے اور ماقبلِ کاف مابعد کی علت یعنی یہاں کشمیر میں آنے کو با بال و پر ہو جانا لازم اور با بال و پر ہونے کی دخولِ کشمیر علت اور گر مرغِ کباب است جملۂ معترضہ بخلافِ فجائیہ کہ اُس میں باہم اتفاقی نسبت ہوتی ہے علاقۂ لازمہ اُس میں نہیں ہوتا یعنی یہاں سر بزانو نہادن اور گذر کردنِ خرد میں کوئی ایسا علاقہ نہیں کہ جس سے حکم استلزام کا لگایا جائے بایں معنی اس کا اتفاقیہ نام رکھنا نامناسب نہ ہو گا واللہُ تعالیٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ اور کبھی تبیین و تعیینِ معنیِ فجائی کے لیے کاف کے ساتھ لفظ ناگاہ بھی بڑھا دیا جاتا ہے امیر خسرو رح: دلِ گم گشتہ را در ہر خمِ زلفش ہمی جستم * کہ ناگہ چشمِ بدخو سوے رویش رفت و جان گم شد * اور معنیِ اتفاقی مفاجات کے کوئی منافی نہیں واللہ تعالیٰ اعلم۔"


    کتاب: دستورنامۂ فارسی، ص ۲۰۵
    نویسندہ: مولوی محمد حُسین شریف
    سالِ طباعت: ۱۳۱۸ھ/۱۹۰۰ء
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,188
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فُجائی یعنی ناگہانی۔
    فاضل مصنّف نے اپنی اِس قابلِ قدر علمی تصنیف میں عربی دستورِ زبان کی اصطلاحات استعمال کی ہیں، جو فارسی کے جدید دستوروں میں نظر نہیں آتیں۔ مثلاً 'کافِ فُجائیہ' کی اصطلاح فی زماننا فارسی کتابوں میں رائج نہیں ہے۔

    کتاب میں یہ عربی لفظ 'اَی/اَے' یعنی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
    لغت نامۂ دہخدا کے مطابق 'آمدن' کا ایک معنی 'شدن، گشتن، گردیدن' یعنی 'ہو جانا' بھی ہے، اور فارسی شاعری میں یہ مصدر بارہا اِس مفہوم میں استعمال ہوا ہے، لہٰذا میں نے مندرجۂ بالا بیت میں 'آید' کا ترجمہ 'ہو جاتا ہے' کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,188
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    هجر
    اس لفظ کا عربی زبان میں تلفظ 'هَجْر' تھا، لیکن فارسی اور اردو میں معمولاً اِس کا تلفظ 'هِجْر' ہوتا ہے۔ لغت نامۂ دہخدا میں بھی اِس لفظ کے ذیل میں لکھا ہے کہ روزمرّہ فارسی میں اِسے کسرِ اول کے ساتھ تلفظ کیا جاتا ہے۔ امّا دلچسپ بات یہ ہے کہ تاجکستانی فارسی میں اِس لفظ کا اصلی تلفظ محفوظ رہا ہے، اور وہاں اِس کو 'ہ' پر زبر کے ساتھ لکھا اور خوانا جاتا ہے۔ روسی رسم الخط میں اِس کا معیاری املاء ҳаҷр ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر