1. اردو محفل سالگرہ دواز دہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی بارہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

زبانِ عذب البیانِ فارسی سے متعلق متفرقات

حسان خان نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 22, 2014

  1. احمد وصال

    احمد وصال محفلین

    مراسلے:
    73
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت عمدہ لڑی ہے۔۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. احمد وصال

    احمد وصال محفلین

    مراسلے:
    73
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت عمدہ لڑی ہے۔۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا
     
    • متفق متفق × 1
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,810
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فارسی میں 'آفرین!' کے معنی میں 'اَحسَنْت' کا استعمال معمول ہے، اور گفتاری و نَوِشتاری زبان میں اِس کا استعمال بکثرت ہوتا ہے۔ اردو میں بھی یہ لفظ استعمال ہو چکا ہے:
    "اَحسَنْت دبیر! اب تو سخن ہے ترا اعجاز"
    (مرزا دبیر)
     
    آخری تدوین: ‏جون 11, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,810
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ابھی معلوم ہوا ہے کہ ماہ کے دھبّوں کو فارسی میں 'کَلَف' کہتے ہیں، جو عربی سے مأخوذ لفظ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,810
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جس طرح اردو میں فارسی کا 'چشم زدن' استعمال ہوتا ہے، مثلاً: "عمر ایک چشم زدن میں گذر جاتی ہے۔"، اُسی طرح فارسی میں عربی سے مأخوذ ترکیب 'طَرفةُالعَین' استعمال ہوتی ہے۔

    کلاسیکی فارسی سے ایک مثال:
    توانایی که در یک طَرفة‌العین
    ز کاف و نون پدید آورد کونین
    (محمود شبستری)

    [خدا] وہ قادر و توانا [ہے] کہ ایک چشم زدن میں کاف و نون سے کونین وجود میں‌ لے آیا۔

    معاصر فارسی سے ایک مثال:
    "ما امروز زبانی را از دست داده‌ایم که لهیبِ ندایش جان‌ها را بی‌تاب می‌کرد و به طرفة‌العین آمادۀ شهادتشان می‌ساخت."
    ترجمہ: ہمارے پاس اِمروز وہ زبان نہیں رہی ہے کہ جس کی ندا کا شعلہ جانوں کو بے تاب کرتا تھا اور ایک چشم زدن میں اُنہیں شہادت پر آمادہ کر دیتا تھا۔

    اردو میں اِس کے استعمال کی مثال:

    دل کو جب مائلِ چشمانِ بُتاں کیجئے گا
    طَرفۃ العین میں سیرِ دو جہاں کیجئے گا

    (شاہ نصیر)

    'طَرفہ' عربی میں پلک کی ایک بار جھپک کو کہتے ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 27, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,810
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شلخته، شلختگی

    ایرانی فارسی میں لااُبالی، کاہل، بے نظم و ترتیب، نامرتّب، درہم و برہم، نامنظّم، بے تربیت، بے سلیقہ وغیرہ اشخاص کو، خصوصاً عورتوں کو، 'شِلَخْته' یا شَلَخْته' کہا جاتا ہے۔ اوّل الذکر تلفظ حالا زیادہ رائج ہے۔
    یہ صفت عموماً و معمولاً عورتوں کے لیے بروئے کار لائی جاتی رہی ہے، لیکن اب اِس کا استعمال مردوں، بچّوں یا بے جان چیزوں کے لیے بھی نظر آتا ہے۔ یہ لفظ بنیادی طور پر تو ایرانی فارسی کا عامیانہ گفتاری لفظ ہے، لیکن الحال تحریروں میں بھی یہ رائج ہے۔
    تاجکستان میں یہ لفظ قطعاً رائج نہیں ہے، اور کلاسیکی فارسی میں بھی یہ لفظ کہیں مجھے نظر نہیں آیا۔ افغانستان کی چند ویب گاہوں پر یہ لفظ نظر آیا ہے، لیکن یہ مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ آیا یہ لفظ وہاں بھی شروع سے رائج رہا ہے یا پھر یہ ایرانی فارسی کے اثر سے استعمال ہونا شروع ہوا ہے، یا یہ کہ آیا وہاں بھی اِس لفظ کا بِعینِہ وہی معنی ہے جو ایران میں رائج ہے یا وہاں اِس کے مفہوم میں کوئی باریک فرق ہے۔ واللہ اعلم!
    لفظِ ہٰذا سے مُشتَق حاصلِ مصدر 'شلختگی' بھی معاصر ایرانی گفتاری و نَوِشتاری فارسی میں رائج ہے۔

    دونوں لفظوں کے استعمال کی مثالیں دیکھیے جو ایرانی مطبوعات سے مقتبس کی گئی ہیں:
    "یک زنِ شلخته و تنبلِ ولزی به دلیلِ امتناع از فرستادنِ فرزندش به مدرسه به ۹ هفته زندان محکوم شد."
    "زندگی کردن در خانه‌ای شلخته و به‌هم ریخته بسیار سرسام‌آور است."
    "یکی از مشکلاتِ والدین بی‌نظمی و شلختگیِ نوجوان است."
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,810
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    نہ تو ایران واحد فارسی گو ملک ہے، نہ ایران میں ہر کوئی فارسی زبان بولتا ہے، اور نہ ایران میں ہر جگہ فارسی گفتاری لحاظ سے غالب زبان ہے۔ مجھے ویکی پیڈیا پر ایک نقشہ نظر آیا ہے جس میں ایرانی صوبوں میں فارسی گویوں کی فیصدی تعداد دِکھائی گئی ہے۔ بالخصوص، دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی خطّوں آذربائجان، کُردستان، لُرستان، گیلان اور مازندران میں فارسی گویوں کی تعداد خیلے کم ہے اور وہاں بالترتیب تُرکی، کُردی، لُری، گِیلَکی اور مازندَرانی زبانیں مقامی باشندوں کی مادری زبانیں ہیں اور گفتاری سطح پر غالب ہیں۔
    [​IMG]
    مأخذ
    لیکن چونکہ تدریس کی زبان فارسی ہے، اِس لیے ایران کا ہر تعلیم یافتہ شخص فارسی بخوبی بول سکتا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 2, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  8. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,810
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    سیّد سلیمان ندوی کی کتاب 'یادِ رفتگاں' کی ورق گردانی کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اردو میں رائج اصطلاح 'نمائندہ' گذشتہ صدی کے فارسی اخباروں سے اخذ کی گئی تھی۔ کتابِ ہٰذا میں سلیمان ندوی نے 'مولوی وحیدالدین سلیم' کے ذیل میں لکھا ہے:
    "۔۔۔نئے الفاظ کے تراشنے اور وضع کرنے میں ان کو پوری مہارت تھی، علی گڑھ گزٹ اور مسلم گزٹ کی اڈیٹری کے زمانہ میں بہت سے اردو الفاظ وضع کر کے انہوں نے پھیلائے ہیں، منجملہ اُن کے ایک لفظ 'نمائندہ' جو آج اس قدر کثیر الاستعمال ہے، انہیں نے اس لفظ کو جدید فارسی اخبارات سے لے کر اردو میں علی گڑھ گزٹ کے ذریعہ سے رائج کیا۔"

    یعنی: اردو کے اُدَبائے مُتقدّمین نے فارسی کو کبھی اجنبی یا بیگانہ زبان نہیں سمجھا، اور فارسی سے اصطلاحیں اخذ کرنا کوئی خارق العادت یا تازہ چیز نہیں ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 3, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  9. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,810
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میں تاجکستان میں شائع ہونے والا ایک لسانیاتی-ادبیاتی مقالہ 'کاربُردِ پیشوندهایِ فعل‌ساز در اشعارِ عبدالرحمٰن جامی' خوان رہا تھا۔ اُس میں مجھے دو بند دلچسپ نظر آئے، جن میں ماوراءالنہری فارسی میں رائج ایک منفرد خاصیت کا ذکر تھا۔ میں وہ دو بند ترجمے کے ساتھ ذیل میں درج کر رہا ہوں:

    "تنها در فعل‌هایِ درآمدن و درآوردن پیشایندِ در- از اساسِ فعلی جدانشونده است. در فعل‌هایِ نام‌بُرده پیشوندِ می- و حصّه‌چهٔ انکاریِ نه- پیش از پیشوندِ در- می‌آیند: ندرآمد، نمی‌درآید، می‌درآورْد.
    در فعل‌هایِ باقی‌مانده پیشوندِ می- و حصّه‌چهٔ انکاریِ نه- در بینِ اساسیِ (کذا) فعلی و پیشوندِ فعل‌ساز می‌آیند: درمی‌گرفت، درنمی‌مانَد، درمی‌افتاد، درنگیرند و مانندِ اینها."


    ترجمہ:
    "صرف 'درآمدن' اور 'درآوردن' افعال میں سابقۂ 'در-' فعلی اساس سے ناقابلِ جدائی ہے۔ مذکورہ افعال میں 'می-' کا سابقہ اور انکاری حَرف 'نه-'، سابقۂ 'در-' سے قبل آتے ہیں؛ می‌آیند: ندرآمد، نمی‌درآید، می‌درآورْد.
    بقیہ افعال میں سابقۂ 'می-' اور انکاری حَرف 'نه-' فعل کی اساس اور فعل ساز سابقے کے درمیان میں آتے ہیں: درمی‌گرفت، درنمی‌مانَد، درمی‌افتاد، درنگیرند وغیرہ۔"


    حاصلِ کلام یہ ہے کہ ماوراءالنہری فارسی میں 'درآمدن' اور 'درآوردن' کی جب تصریف ہوتی ہے تو اُس میں عموماً 'می-' اور 'نه-' فعل سے متّصل ہونے والے سابقۂ 'در-' سے قبل آتے ہیں۔ لیکن 'در-' کے ساتھ آنے والے دیگر مصادر میں ایسا نہیں ہوتا۔ اور یہ قاعدہ صرف ماوراءالنہر میں بروئے کار لایا جاتا ہے، ایرانی فارسی میں 'آمدن' اور 'آوردن' مصدروں کی تصریف اور نفی دیگر مصادر ہی کی مانند ہوتی ہے۔ یقیناً، اب تاجکستانی مطبوعات میں 'می‌درآید' اور '‏می‌درآورْد' کی بجائے 'درمی‌آید' اور 'درمی‌آورْد' بھی نظر آتے ہیں، جو میرے خیال سے ایرانی فارسی ہی کا اثر ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 5, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,810
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    قرنِ ہجدہمِ عیسوی کے عثمانی شاعر سُنبُل‌زاده وہبی کے نزد سُخن کی بلند پروازی کے لیے فارسی و عربی کے دو شہبال لازم تھے۔ وہ ایک قصیدے میں کہتے ہیں:
    فارسی و عربی‌دن ایکی شه‌بال ایستر

    تا که پروازِ بلند ائیله‌یه عنقایِ سُخن
    (سُنبُل‌زاده وهبی)
    عنقائے سخن کی بلند پروازی کے لیے عربی و فارسی سے دو شہبال ضروری ہیں۔
    (یا عنقائے سُخن، پروازِ بلند کرنے کے لیے فارسی و عربی سے دو شہبال چاہتا ہے۔)

    تحت اللفظی ترجمہ:
    فارسی و عربی سے دو شہبال چاہییں/چاہتا ہے
    تا کہ پروازِ بلند کرے عنقائے سُخن

    Fârisî vü ‘Arabî'den iki şehbâl ister
    Tâ ki pervâz-ı bülend eyleye ‘Ankâ-yı sühan
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 11, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  11. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    9,810
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فارسی میں 'گنجے' کو 'کَل' بھی کہتے ہیں۔ مثلاً:
    "بر سرش زد، گشت طوطی کَل ز ضرب"
    (مثنویِ رومی)
    ترجمہ: اُس نے [طوطے] کے سر پر مارا، [اور] طوطا ضرب سے گنجا ہو گیا۔

    فارسی میں 'گنجے' کے لیے 'بی‌مو، بدونِ مو، طاس، کَچَل اور کَل' الفاظ موجود ہیں۔ گفتاری ایرانی فارسی میں سب سے زیادہ 'کَچَل' جبکہ کتابی و رسمی ایرانی فارسی میں سب سے بیشتر 'طاس' استعمال ہوتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر