حسان خان

لائبریرین
کیا احمد حزینی نے حافظ کی غزل کا جواب لکھا ہے؟


الا یا ایھا الساقی ادر کاسا و ناولہا
کہ عشق آسان نمود اول ولے افتاد مشکلہا
جی، شاعر نے اُن شعروں میں حافظ ہی کے جواب میں اُن کے مصرعوں اور مصرعوں کے حصوں کو اقتباس کیا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
از درِ سعدی طلب بابِ سعادت را کلید
گر سعادت بایدت روی از درِ سعدی متاب
(احمد حزینی)

سعدی کے در سے بابِ سعادت کی کلید طلب کرو؛ اگر تمہیں سعادت درکار ہے تو درِ سعدی سے رُخ مت موڑو۔
 

حسان خان

لائبریرین
چه سان در مُلکتِ عشق و محبت زندگی باشد
که شاهِ حُسنِ من رسمِ ستم را داد پندارد
(لبیب دیاربکری)
سلطنتِ عشق و محبت میں کس طرح زندگی ہو؟ کہ میرا شاہِ حُسن رسمِ ستم کو انصاف تصوّر کرتا ہے۔

× شاعر کا تعلق دیارِ آلِ عثمان سے تھا۔
مأخذ
 

لاریب مرزا

محفلین
(رباعی)
بُویت شُنَوم ز باد، بی‌هوش شوم
نامت شُنَوم ز خَلق، مدهوش شوم
اوّل سخنم تویی، چو در حَرف آیم
واندیشهٔ من تویی، چو خاموش شوم
(رشیدالدین وطواط)
مجھے جب باد کے ذریعے تمہاری بُو محسوس ہوتی ہے، میں بے ہوش ہو جاتا ہے؛ میں جب خَلق سے تمہارا نام سنتا ہوں، مدہوش ہو جاتا ہوں؛ میں جب تکلّم کرنا شروع کرتا ہوں تو میرا اوّلین سخن تم ہوتے ہو؛ اور جب میں خاموش ہوتا ہوں تو میری فکر تم ہوتے ہو۔
خوب!!
 

حسان خان

لائبریرین
آذربائجان میں واقع مقام 'چالدران' میں سلطان سلیمِ اول عثمانی کی شاہ اسماعیل صفوی پر فتحِ قاطع کے بعد ایرانی سنّی عالم فتح اللہ بن روزبِہان خُنجی نے، جو صفوی قیام کے بعد ایران سے فرار کر کے ماوراءالنہر و ترکستان چلے گئے تھے، اُس فیروزی کی مناسبت سے سلطان سلیمِ اول کے نام ایک نظم لکھی تھی، جس میں سے چند ابیات ملاحظہ کیجیے:

اساسِ دین تو در دنیا نهادی

تو شرعِ مصطفیٰ بر جا نهادی
مجدَّد گشت دین از همّتِ تو
جهان در زیرِ بارِ منّتِ تو
اگر مُلکِ شریعت مستقیم است
همه از دولتِ سلطان سلیم است
ز بیمت در تزلزل فارس و تُرک
چو افکندی ز سر تاجِ قِزِل بُرک
فکندی تاجش از سر ای مظفَّر
فکن اکنون به مردی از تنش سر
قِزِل بُرک است همچون مارِ افعی
سرش را تا نکوبی نیست نفعی
تویی امروز از اوصافِ شریفه
خدا را و محمد را خلیفه
روا داری که گبر و ملحد و دد
دهد دُشنامِ اصحابِ محمد
بیا از نصرِ دین کسرِ صنم کن
به تختِ روم، مُلکِ فارس ضم کن
که شرق و غرب را از دولت و کام
بگیرد باز ذوالقرنینِ اسلام
(فضل‌الله بن روزبِهان خُنجی)


تم نے دنیا میں دین کی اساس رکھی؛ تم نے شریعتِ مصطفیٰ کو برقرار کیا؛ دین تمہاری ہمّت سے مُجدَّد ہو گیا؛ دنیا تمہاری مدیون ہے؛ اگر ملکِ شریعت مستقیم ہے تو وہ تماماً سلطان سلیم کے اقبال سے ہے؛ جب تم نے تاجِ قِزِلباش کو سر سے گرایا تو [تب سے] فارس و تُرک میں تمہارے خوف سے تزلزُل ہے؛ اے فتح مند! تم نے سر سے اُس کا تاج گرایا؛ اب [اپنی] مردانگی سے اُس کے تن سے سر جدا کر دو؛ قِزِلباش موذی و زہردار سانپ کی مانند ہے؛ جب تک تم اُس کا سر نہ کُچلو، کوئی نفع نہیں ہے؛ تم اوصافِ شریفہ کے سبب امروز خدا و محمد کے خلیفہ ہو؛ کیا تم روا رکھو گے کہ مجوسی و ملحد و درندۂ وحشی اصحابِ محمد کو دُشنام دیتا رہے؟ آؤ، دین کی نُصرت سے بُت کو پاش کر دو؛ [اور] مُلکِ فارس کو تختِ رُوم کے ساتھ ضم کر لو؛ تاکہ نیک بختی و کامگاری سے ذوالقرنینِ اسلام دوبارہ شرق و غرب کو تصرُّف میں لے لے۔

× 'بُرک' تُرکی زبان میں 'کُلاہ' کو کہتے تھے۔ 'قِزِل بُرک' یعنی سُرخ کُلاہ والا قِزِلباش۔

ماخذِ ابیات: صفویه در عرصهٔ دین، فرهنگ و سیاست: جلدِ اول - رسول جعفریان
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
رُباعی از شیخ ابوعلی رودباری

اے ساقی بادۂ محبت جامے
وے قاصد غمزۂ بتاں پیغامے
تا کے ہدفِ تیرِ تغافل باشیم
قہرے، لطفے، تبسمے، دشنامے


اے ساقی شرابِ محبت کا کوئی جام (پِلا)، اور اے قاصد غمزۂ بتاں کا کوئی پیغام (لا)، ہم کب تک تیرِ تغافل کا ہدف بنے رہیں، کوئی قہر، کوئی لطف، کوئی تبسم، کوئی گالی (ہی محبوب کی طرف سے آئے)۔
 

حسان خان

لائبریرین
ماوراءالنہری شاعر حبیب‌الله مخدوم اوحدی بخارایی نے اپنے اَلکَن (لُکنت دار) محبوب کے لیے مندرجۂ ذیل رباعی کہی تھی:
(رباعی)

آن مه، که شَکَر از سخنش می‌بارد
لُکنت به زبانِ او کجا جا دارد
شیرین بُوَدَش سخن، ز بس چون حلوا
خاییده و مکّیده برون می‌آرد
(حبیب‌الله مخدوم اوحدی بخارایی)
وہ ماہ، کہ جس کے سُخن سے شَکَر برستی ہے؛ لُکنت اُس کی زبان میں کہاں جگہ رکھتی ہے؟ [بلکہ] اُس کا سُخن حلوے کی طرح اِتنا زیادہ شیریں ہے کہ وہ اُسے چبا چبا کر اور چوس چوس کر بیرون لاتا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
لشکر از تختِ ستانبول سویِ ایران تاختم
سرخ سر را غرقهٔ خونِ ملامت ساختم
(خلیفهٔ عثمانی سلطان سلیمِ اول)
میں نے تختِ استانبول سے ایران کی جانب لشکر دوڑایا اور 'سُرخ سر' (قِزلِباش) کو خونِ ملامت میں غرق کر دیا۔

استانبول سے ۱۳۰۶ھ میں شائع ہونے والے دیوانِ سلطان سلیم میں یہ بیت یوں ہی درج ہے، لیکن کئی جگہوں پر بیت کی مندرجۂ ذیل شکل بھی نظر آئی ہے:
تا ز استانبول لشکر سویِ ایران تاختم

تاجِ صوفی غرقهٔ خونِ ملامت ساختم
جیسے ہی میں نے استانبول سے ایران کی جانب لشکر دوڑایا، میں نے صوفی (صفوی) کے تاج کو خونِ ملامت میں غرق کر دیا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
خواهی که گنجِ عشق کنی لوحِ سینه را
از دل بشوی آینه سان گَردِ کینه را
(خلیفهٔ عثمانی سلطان سلیمِ اول)
[اگر] تم لوحِ سینہ کو گنجینۂ عشق کرنا چاہو تو دل سے آئینے کی طرح گَردِ کینہ کو دھو ڈالو۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
خسروِ خوبان کرم کردی که خونم ریختی
ساختی از گَرد خالی آستانِ خویش را
(خلیفهٔ عثمانی سلطان سلیمِ اول)
اے پادشاہِ خُوباں! تم نے کرم کیا کہ میرا خون بہا ڈالا۔۔۔ تم نے آپنے آستان کو گرد و غُبار سے پاک کر دیا۔
 

حسان خان

لائبریرین
ماوراءالنہری شاعر حبیب‌الله مخدوم اوحدی بخارایی نے اپنے کوتاہ قد محبوب کے لیے مندرجۂ ذیل رباعی کہی تھی:
(رباعی)

هنگامی که قدت خرامان باشد
کوتاهیِ قامتت چه نقصان باشد؟
این بهرِ دلِ ماست، که تا بر عشاق
بوسیدنِ پیشانی‌ات آسان باشد
(حبیب‌الله مخدوم اوحدی بخارایی)
جس وقت کہ تمہارا قد خراماں ہو، [تب] تمہاری قامت کی کوتاہی سے کیا نَقص و کمی ہو؟ یہ تو ہمارے دل کے لیے ہے، تاکہ تمہاری پیشانی کو بوسہ دینا عاشقوں پر آسان رہے۔
 
نچناں گرفتہ ای جا بمیانِ جانِ شیریں
کہ تواں ترا و جاں را زہم امتیاز کردن


تو نے جانِ شیریں میں یوں جگہ حاصل نہیں کی ہے کہ تجھ میں اور جاں میں امتیاز کیا جا سکے۔

نظیری نیشاپوری
 

حسان خان

لائبریرین
غمت در نهان‌خانهٔ دل نشیند
به نازی که لیلی به محمل نشیند
(طبیب اصفهانی)

تمہارا غم دل کے نہاں خانے میں ایسے ناز کے ساتھ بیٹھتا ہے جیسے لیلیٰ محمل میں بیٹھتی ہو۔
 

حسان خان

لائبریرین
مرنجان دلم را که اینِ مرغِ وحشی
ز بامی که برخاست مشکل نشیند
(طبیب اصفهانی)

میرے دل کو رنجیدہ مت کرو کہ یہ پرندۂ وحشی جس بام سے پرواز کر جائے وہاں [دوبارہ] مشکل ہی سے بیٹھتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
بنازم به بزمِ محبت که آنجا
گدایی به شاهی مقابل نشیند
(طبیب اصفهانی)

مجھے بزمِ محبت پر ناز ہے کہ وہاں گدا شاہ کے مقابل بیٹھتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
خرّمی چون باشد اندر کویِ دین کز بهرِ حق
خون روان گشته‌ست از حلقِ حُسین در کربلا
(سنایی غزنوی)

دین کے کوچے میں نشاط و راحت کیسے ہو سکتی ہے؟ کہ حق کی خاطر کربلا میں حلقِ حُسین سے خوں رواں ہوا ہے۔
(یعنی دین کی راہ آسان نہیں ہے۔)
 

حسان خان

لائبریرین
میں نے گذشتہ چند روز کے دوران کئی ایسے تاریخی اشعار ارسال کیے تھے جو شیعوں کی مخالفت میں لکھے گئے تھے۔ اب ایک بیت ایسی ملاحظہ کیجیے جو شیعوں کے حق میں ہے۔ شاہ طہماسب صفوی کے دور میں ۹۶۰ھ میں حاکمِ گیلان 'خان احمد گیلانی' نے زیدی شیعیت کو کنار رکھ کر صفویوں کی اثناعشری شیعیت کو قبول کر لیا تھا۔ وہ اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں:
تا شد سعادتِ ابدی راهبر مرا

شد رهنمون به مذهبِ اِثناعَشَر مرا
(خان احمد گیلانی)
جب ابدی سعادت میری رہبر بنی تو اُس نے اثناعشری مذہب کی جانب میری رہنمائی کر دی۔
× اِثناعَشَری = دوازدہ امامی


ماخذِ: صفویه در عرصهٔ دین، فرهنگ و سیاست: جلدِ اول - رسول جعفریان
 

حسان خان

لائبریرین
محمد فضولی بغدادی کے ایک قصیدے سے اقتباس:
هر که مِهرِ چارده معصوم دارد، کامل است

هست ماهِ چارده را هم از آن مِهر، این کمال
نیست دورِ چرخ جز بر منهجِ اِثنا عَشَر
ظاهر است این معنی از وفقِ حسابِ ماه و سال
هر شهنشاهی که دارد صِدق با آلِ علی
در نظامِ مُلکِ او راهی ندارد اِختِلال
هر سرافرازی که باشد بندهٔ این خاندان
آفتابِ دولتِ او را نمی‌باشد زوال
(محمد فضولی بغدادی)
جو بھی چاردہ معصوموں کی محبت رکھتا ہے، کامل ہے؛ ماہِ چاردہم کو بھی اُسی محبت کے باعث یہ کمال حاصل ہے؛ چرخِ فلک کی گردش اثناعشری طریق ہی پر ہے؛ یہ معنی حسابِ ماہ و سال کے ساتھ موافقت سے ظاہر ہے؛ جو شہنشاہ بھی آلِ علی کے ساتھ صِدقِ قلب رکھتا ہو، اُس کی مملکت کے نظام میں خلل کو در آنے کی کوئی راہ نہیں ملے گی؛ [اور] جو سرافراز بھی اِس خاندان کا غلام ہو، اُس کے خورشیدِ دولت و اقبال مندی کو زوال نہیں ہو گا۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
ہمچو سوزن دایم از پوشش گریزانیم ما
جامہ بہرِ خلق می دوزیم و عریانیم ما


غنی کاشمیری

سُوئی کی طرح ہم ہمیشہ ہی پوشش سے گریزاں ہیں کہ لوگوں (کو ڈھانپنے اور ان کے عیوب چھپانے) کے لیے تو اُن کے کپڑے سیتے ہیں لیکن خود عریاں ہیں۔
 
Top