حسان خان

لائبریرین
بهرِ دل بُردنِ ما، حاجتِ بیداد نبود
می‌سپردیم، اگر می‌طلبیدی از ما
(شیخ زین‌الدین وفایی خوافی اکبرآبادی)

ہمارا دل لینے کے لیے ظلم و ستم کی حاجت نہ تھی؛ ہم سپرد کر دیتے، اگر تم ہم سے طلب کرتے۔
 

حسان خان

لائبریرین
برنمی‌دارید تابوتم چرا از کویِ او؟
آن که خونم ریخت کَی بهرِ نماز آید برون؟
(زبردست خان وفایی دهلوی)

اُس کے کوچے سے میرے تابوت کو بلند کیوں نہیں کر لیتے؟ جس نے میرا خون بہایا ہے، وہ کب نمازِ [جنازہ] کے لیے بیرون آئے گا؟
 

حسان خان

لائبریرین
آزرده‌دلم، طاقتِ ایّام ندارم
ای پیکِ اجل! زود به کاشانهٔ من آی
(املاء بخارایی)
میں آزُردہ دل ہوں، طاقتِ ایّام نہیں رکھتا۔۔۔ اے قاصدِ اجل! جلد میرے کاشانے کی جانب آؤ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
دلے آگاہ می باید، وگرنہ
گدا یک لحظہ بے نامِ خدا نیست


ابوطالب کلیم کاشانی

(خدا کو یاد کرتے وقت) ایک باخبر اور حضوری والا آگاہ دل ہونا چاہیے وگرنہ (اگر صرف زبان ہی کا معاملہ ہو تو) بھیک مانگنے والوں کی زبان پر ہر لمحے خدا کا نام ہوتا ہے (لیکن ان کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے).
 

حسان خان

لائبریرین
بر من نظری فکند ناگه دلدار
زان یک نظرش گشود چندین اسرار
(خواجه عبدالله انصاری)

مجھ پر دلدار نے ناگاہ ایک نظر ڈالی۔۔۔ اُس کی اُس نظر سے کئی اَسرار کھل گئے۔
 

حسان خان

لائبریرین
گر بویِ زلفِ او را از باد می‌شنیدی
شب تا سحر ز شادی یک جا نمی‌نشستی
(فروغی بسطامی)
اگر تم بذریعۂ ہوا اُس کی زلف کی بُو محسوس کر لیتے تو شب سے سَحَر تک خوشی سے ایک جگہ پر نہیں ٹِکتے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
سوخته شد ز هجرِ تو گلشن و کشت‌زارِ من
زنده کُنَش به فضلِ خود ای دمِ تو بهارِ جان
(مولانا جلال‌الدین رومی)

تمہارے ہجر سے میرا گلشن و کِشت زار جل گیا ہے؛ اے کہ تمہارا دم بہارِ جاں ہے، اُسے اپنے فضل سے زندہ کر دو۔
× کِشْتْ زار = کھیت
× دَم = نَفَس، سانس؛ پھونک
 

حسان خان

لائبریرین
الٰهی! سبز کن از آبِ رحمت، دانهٔ ما را
به لطفِ عامِ خود آباد کن، ویرانهٔ ما را
(میرزا هادی سمرقندی)

الٰہی! آبِ رحمت سے ہمارے دانے کو سبز کر دے؛ [اور] اپنے لطفِ عام سے ہمارے ویرانے کو آباد کر دے۔
 

حسان خان

لائبریرین
دو عالَم را به چشمِ دل تماشا تا کنم، یا رب!
ز نابِ بی‌خودی سرشار کن، پیمانهٔ ما را
(میرزا هادی سمرقندی)

یا رب! ہمارے پیمانے کو بے خودی کی شرابِ ناب سے سرشار کر دے تاکہ میں چشمِ دل سے دو عالَم کو تماشا کروں۔
 

حسان خان

لائبریرین
به غربت‌خانهٔ تاریکِ هجران تا به کَی بودن؟
منوّر کن ز نورِ چهره‌ات، کاشانهٔ ما را
(میرزا هادی سمرقندی)

ہجر کے غُربت خانۂ تاریک میں کب تک رہا جائے؟۔۔۔ اپنے چہرے کے نور سے ہمارے کاشانے کو منوّر کر دو۔
 

محمد وارث

لائبریرین
مردِ بے برگ و نوا را سبک از جائے بگیر
کوزہ بے دستہ چو بینی بہ دو دستش بردار


طالب آملی

بے برگ و نوا، بیکس و محروم لوگوں کی مدد کو جلد پہنچ اور اُن کو اِس بیکسی کی حالت سے نکال، جب تُو ایسا کوزہ دیکھے کہ جس کا دستہ ٹوٹ چکا ہو تو اُس کو دونوں ہاتھوں سے اُٹھا۔ (جس طرح ٹُوٹے ہوئے دستے والے کوزے کو احتیاط سے اور دونوں ہاتھوں سے اُٹھانا پڑتا ہے اسی طرح غریبوں کی مدد بھی زیادہ وسائل سے کی جانے چاہیے)۔
 

حسان خان

لائبریرین
آمده‌ام به عُذرِ تو ای طرب و قرارِ جان
عفو نما و درگذر از گنه و عِثارِ جان
(مولانا جلال‌الدین رومی)
اے [میری] جان کے طرب و قرار! میں تمہاری مُعافی کے لیے آیا ہوں۔۔۔ [میری] جان کے گناہوں اور لغزشوں کو مُعاف و درگذر کر دو۔
 

حسان خان

لائبریرین
نیست به جز رِضایِ تو قُفل‌گشایِ عقل و دل
نیست به جز هوایِ تو قبله و افتخارِ جان
(مولانا جلال‌الدین رومی)

تمہاری رِضا کے بجز کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو عقل و دل کا قُفل کھولتی ہو؛ تمہاری آرزو و محبت کے بجز کوئی چیز قبلہ و افتخارِ جاں نہیں ہے۔
 
همی تا کند پیشه،عادت همی کن
جهاں مر جفا را تو مر صابری را


جیسے ہی جہان جفا کو اپنا پیشہ بنا لے تو صابری کی عادت ڈال لے۔

ناصر خسرو
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
همی تا کند پیشه،عادت همی کن
جهان مر جفا را تو مر صابری را


جیسے ہی جہان جفا کو اپنا پیشہ بنا لے تو صابری کی عادت ڈال لے۔

ناصر خسرو
اِس بیت میں 'تا'، 'جیسے ہی' نہیں بلکہ 'جب تک' کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور 'همی' فعل میں اِستِمرار و تداوُم کے معنی کا اضافہ کر رہا ہے، یعنی جب تک کرتا رہے۔
همی تا کند پیشه، عادت همی کن
جهان مر جفا را، تو مر صابری را

(ناصر خسرو)
جب تک کُرّۂ زمین نے جفاکاری و ستم کاری کو پیشہ بنایا ہوا ہے تم صبر و شکیبائی کو عادت بنائے رکھو۔
 

حسان خان

لائبریرین
بی لبِ مَی‌فروشِ تو کَی شِکَنَد خُمارِ دل
بی خمِ ابرویِ کژت راست نگشت کارِ جان

(مولانا جلال‌الدین رومی)
تمہارے لبِ مَے فروش کے بغیر خُمارِ دل کب ٹوٹتا ہے؟ تمہارے ابروئے کج کے خَم کے بغیر کارِ جاں راست نہ ہوا۔
× راسْت = سیدھا، مستقیم، بے پیچ و خم
 

حسان خان

لائبریرین
دارویِ مُشتاق چیست؟ زهر ز دستِ نگار
مرهمِ عُشّاق چیست؟ زخم ز بازویِ دوست
(سعدی شیرازی)

آرزومند کی دوا کیا ہے؟ محبوب کے دست سے زہر۔۔۔ عاشقوں کا مرہم کیا ہے؟ دوست کے بازو سے زخم۔
 

حسان خان

لائبریرین
با لبِ او چه خوش بُوَد گفت و شنید و ماجَرا
خاصّه که در گشاید و گوید خواجه اندر آ
(مولانا جلال‌الدین رومی)

اُس کے لب کے ساتھ گفت و شنید و اظہارِ حال [کرنا] کتنا خوب ہوتا ہے! خصوصاً کہ جب وہ در کھولے اور کہے کہ "خواجہ، اندر آ جاؤ"۔
 

حسان خان

لائبریرین
ولوله در شهر نیست جز شکنِ زلفِ یار
فتنه در آفاق نیست جز خمِ ابرویِ دوست
(سعدی شیرازی)

شہر میں زلفِ یار کی شِکَن کے بجز کوئی آشوب نہیں ہے؛ آفاق میں ابروئے دوست کے خَم کے بجز کوئی فتنہ نہیں ہے۔
 
Top