شکیل سے ایک قصہ سنیے
صرف ایک واقعہ جو ابھی کچھ دیر پہلے پیش آیا، سنا نے کی اجازت چاہوں گا اور سنا کر کوچ کرجاؤں گا،
ضابطہ تو بالاختصار حرف نمٹاناہے
طائرِ خیال تو نجانے کہاں کہاں کی لاتا ہے ، دل مرا ڈوب ڈوب جاتا ہے مگر حقائق کا جہاز بھی عجب ہے جب لاتا ہے نئی لاتا ہے جسے سن کر سر چکراجاتا ہے۔

یہ سارے حروف جب میں ط پر تھا ، لوگ جملے بنا بنا کر ارسال کرتے رہے اور میں جملے بدلتا رہا اور اب یہ مشین ش پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ‌ ر‌ ڑ ز ژ س ش ص ض ط‌ ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ھ ء ی ے
 
Top