یہ شادی نہیں ہو سکتی؟۔

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
آپ کا مسلم معاشرے میں انسیسٹ کی طرف توجہ دلانے کا بہت ہی شکریہ۔ جہاں یہودی اور عیسائی معاشرہ میں پہلے کزن بھائی اور بہن ، بھائی بہنوں کی طرح سمجھے جاتے ہیں
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا :ROFLMAO::grin::ROFLMAO::grin::ROFLMAO::grin::ROFLMAO::grin::ROFLMAO::grin::ROFLMAO::grin:

بھائی وہ ماں کو تو ماں سمجھتے نہیں ،
یہ تو آپ بہت دور کی کوڑی لے آئے :lol:
 

عسکری

معطل
میں تو کہتا ہوں شادی ہونی ہی نہیں چاہیے نا ہو گا بانس نا بجے گی بانسری باقی سارے مسئلے پر مٹی پا دی ایک ہی لائن میں :D
 

نایاب

لائبریرین
برادر محترم۔
درج ذیل یہ تمام آیات یہ ثابت کرتی ہیں کہ جو کچھ رسول اکرم نے سمجھایا وہ درست ہے تو برادر محترم، ہمیں کسی روایت، آیت، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دے کر یہ سمجھائیے کرسول اکرم نے فرست کزن بہن بھائی کی شادی کی اجازت دی یا کروائیِ۔ بات وہیں ختم ہو جائے گی۔ ہمارا آپ کا کوئی جھگڑا ہی نہیں اس بات پر کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات نا مانیں۔ لیکن کم از کم ایسی بات تو سامنے لائیے۔ ہو یہ گیا ہے کہ سنی سنائی سنتے سنتے ۔ اس پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔ شادی میں بھی ایسا ہی ہے اور زکواۃ میں بھی۔ چونکہ فرست کزن بہن بھائی کی شادی ہوتی ہی رہتی ہے لہذا اس کو جائز سمجھ لیا جائے؟ آپ قرآن حکیم کی دیگر آیات کو صرف حوالہ ہی دے دیجئے۔ میں ضرور غور کروں گا۔

والسلام
میرے محترم بھائی
آپ مسلسل اس بات پر زور دیئے جا رہے ہیں کہ کوئی ایسی روایت حدیث یا سنت رسول علیہ السلام سے ثبوت دیا جائے کہ جس میں " آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " فرسٹ کزن سسٹر " سے شادی کی اجازت دی ہو ۔ جبکہ آپ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں ایسی شادیاں ہوتی رہی ہیں ۔ تو میرے محترم بھائی اگر آپ ذرا غور فرمائیں گے تو قران پاک میں واضح " محرمات " بارے روشن بیان موجود ہے ۔ اور اس بیان کے بعد کسی روایت کسی حدیث کی ضرورت نہیں رہتی ۔
میرے محترم بھائی کیا آپ کوئی ایسی روایت حدیث یا کوئی ایسا کلمہ جو کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہوتے اس امر کا اثبات کرتا ہو کہ " فرسٹ کزن سسٹر " سے شادی کسی مومن کے لیئے درست نہیں ۔ ؟ بلا شک آپ ایسی کوئی روایت یا حدیث کسی بھی درجہ کی حامل نہیں پیش کرتے ۔ یعنی آپ کو اس معاملے پر آپ جناب نبی پاک صلی علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے " سکوت " ملے گا ۔ اگر " فرسٹ کزن سسٹر " سے شادی ممنوع ہوتی تو لازم کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی درجے کی روایت یا حدیث سامنے آ جاتی ۔ اور نبی پاک علیہ السلام کا اس بارے سکوت بھی قران کے اس روشن پیغام کی روشنی میں ہے ۔


وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّہ، کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَسَآءَ سَبِیْلًا. حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَبَنٰتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَخٰلٰتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّھٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ، فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ، وَحَلَآئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا، وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ، کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ. (النساء 4 : 22- 24)

''اور اُن عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمھارے باپ نکاح کر چکے ہوں ، مگر جو ہو چکا سو ہو چکا۔ بے شک ، یہ کھلی بے حیائی، نفرت انگیز فعل اور نہایت برا طریقہ ہے ۔ تم پر تمھاری مائیں ، تمھاری بیٹیاں ، تمھاری بہنیں ، تمھاری پھوپھیاں، تمھاری خالائیں ، تمھاری بھتیجیاں اور تمھاری بھانجیاں حرام کی گئی ہیں اور تمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اِس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی۔ (اِسی طرح ) تمھاری بیویوں کی مائیں اور اُن کی لڑکیاں جو تمھاری گودوں میں پلی ہیں ، اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تم نے خلوت کی ہو ، لیکن اگر خلوت نہ کی ہو تو کچھ گناہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو ایک ہی نکاح میں جمع کرو ، مگر جو ہو چکا سو ہو چکا ۔ اللہ یقینا بخشنے والا ہے ، اُس کی شفقت ابدی ہے ۔ اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی کے نکاح میں ہوں ، الّایہ کہ وہ تمھارے قبضے میں آجائیں۔ یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے ۔''
میرے ناقص علم کے مطابق تو براہ راست " نانی و دادی " سے شادی کے" ممنوع و مشروع "ہونے کے بارے بھی کوئی روایت حدیث کا ملنا اک محال امر ہے ۔ اگر آپ کچھ میرے علم میں اضافہ کر سکیں ۔ تو جزاک اللہ خیراء
اور میرے محترم بھائی جہاں تک " سنی سنائی " کو " ایمان " کا درجہ دینے کی بات ہے ۔ تو یاد رہے کہ نبی رسول پیغمبر کے علاوہ ہر انسان نبی رسول پیغمبر کی سنائی بات سن کر " رد و قبول " کے مرحلے سے گذر ہی " مومن و کافر " کا درجہ پاتا ہے ۔ میں نے اپنے مرحوم باپ سے سنا کہ " آج سے صدیوں پہلے اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم توحید کا یہ پیغام لائے ۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ۔ میں نے سنا اور ایمان لایا ۔ پھر وقت کے ساتھ اس سچے توحید کے کلام کو اپنی سمجھ سے پڑھ کر سمجھا ۔ اور یہ جانا کہ " محمد عبدہ والرسول " ہیں ۔ آپ مجھے بتائیں کہ نہ تو میں نے اللہ اور اللہ کے رسول کو دیکھا نہ ہی ان کی آواز سنی ۔ اگر میں اپنے باپ کی بات کو سنی سنائی کہہ کر ٹھکرا دیتا تو آپ مجھے کس درجے میں قرار دیتے ۔ ؟
میرے محترم بھائی اگر آپ اس آیت کے اس حصے پر پرجس آیت کو آپ نے اپنی دلیل بناتے اپنی بحث کی بنیاد قرار دیا ہے پر غور فرماتے " نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان و عظمت و کردار پر غور کرتے اپنی عقل کو کچھ دیر پرے رکھتے " رب زدنی علماء " کا سہارا لیتے تو آپ کو اپنے اس اشکال کا شافی جواب مل جاتا ۔ کہ آخر کوئی مومنہ عورت کیسے خود کو کسی مرد کے لیئے " ہبہ " کرنے کی نیت ہی نہیں کرتی بلکہ عمل پر اتر آتی ہے ۔ اور اس عمل کو بھی اللہ نے صرف عورت کی مرضی پر نہیں چھوڑا بلکہ " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " کی رضامندی سے مشروط کر دیا ۔ اور سورہ النساء میں واضح " محرمات " کا بیان فرما دیا ۔
"کوئی مؤمنہ عورت بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح) کے لئے دے دے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اسے اپنے نکاح میں لینے کا ارادہ فرمائیں (تو یہ سب آپ کے لئے حلال ہیں)، (یہ حکم) صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں،"
میرے بھائی قران پاک میں ارشاد ہے کہ " اللہ ہی سچا رازق ہے "
اسی میں بیان فرما دیا گیا کہ " انسان کے لیئے وہی کچھ ہے جس کے لیئے کوشش کی ۔
اب ان دونوں بیانات کو الگ الگ بحث کا موضوع بنا لیں ۔ اور نتیجے پر غور کر لیں ۔
میرے محترم بھائی میرا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں ۔۔۔
 

عاطف بٹ

محفلین
بھائی جن نصوص قرآنی کا آپ کو انتہائی غرور کے ساتھ دعوی ہے وہ کیا ہیں؟؟؟ سامنے لائیے۔ میں تو آپ کے سامنے ایک صاف اور واضح آیت رکھ چکا ہوں۔

اللہ تعالی کا فرمان قرآن حکیم کے آیت آپ کے سامنے ہے۔ کیا یہ درست ہے کہ قرآن حکیم سے دور بھاگا جائے اور آیات کو چھوڑ دیا جائے۔ آپ نے ایک بھی تبصرہ اس آیت پر نہیں کیا ، اس لئے کہ یہ صلاحیت ہی نہیں کہ درست بات پڑھ سکیں۔ بس فرسٹ کزن بھائی بہنوں کی شادی کے حامی ہیں یا پھر اگر کوئی آپ کو اللہ تعالی کا فرمان دکھائے تو اس کی مخالفت۔ بھائی مجھے لوگوں کی حرکتیں نہیں دیکھنی ہیں کہ ان کی خواہشوں کی پیروی کروں اور اللہ تعالی کا فرمان چھوڑ دوں۔

آپ کے پاس قرآن حکیم سے اللہ تعالی کا یا رسول اکرم کا کوئی فرمان ہے جو "فرسٹ کزن بھائی بہنوں" کی شادی کا حکم دیتا ہو؟؟؟؟ پھر آپ کے اتنے استکبر ، اکڑ اور غرور کی کیا وجہ ہے؟؟؟ اور کیا وجہ ہے کہ آپ اللہ تعالی کی آیت کو جھٹلاتے ہیں۔ کچھ تو پیش کیجئے لیکن لوگوں کے اعمال نہیں۔

آپ کا حال "فرسٹ کزن بھائی بہنوں" کی شادی کے معاملے میں صرف سنی سنائی پر ہے ۔ کہ سنی سنائی کے مطابق چونکہ سب کرتے ہیں اس لئےایسا کرنا جائز ہے ۔ نا کوئی حدیث، نا کوئی آیت اور نا ہی کوئی روایت۔

مسلمان کا دین کتنا خراب ہے اس سوال سے آپ کو اندازہ ہوگا۔

آج آپ زندہ ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ آپ کی کوئی آمدنی بھی ہوتی ہوگی؟ کیا ایسا ہے ؟؟؟ کیا آپ نے اپنی آمدنی پر قرآن حکیم کے حساب سے اللہ تعالی کا حق دیا ہے ؟؟؟ یا پھر سنی سنائی کے حساب سے؟؟؟ سنی سنائی تو ہے کہ سال کے بعد صاحب نصاب ڈھائی فی صد ادا کردے۔ سر جی یہ کس سنت رسول، روایت یا آیت سے ثابت ہے؟ ہماری معلومات میں اضافہ فرمائیے ؟؟؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ قرآن حکیم کے حساب سے آپ کی آمدنی یا منافع پر کتنا اللہ تعالی کا حق بنتا ہے ؟؟؟

بات یہ ہے کہ آپ سنی سنائی پر ایمان رکھ کر اس کو اسلام کا نام دیتے ہیں ۔ مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا ۔ تاکہ آپ کو اندازاہ ہوسکے کہ قرآن حکیم میں اللہ تعالی کیا فرماتے ہیں اور آپ کس پر ایمان رکھتے ہیں؟؟؟
خان صاحب، بہت سیدھی سی بات ہے کہ اسلامی تاریخ میں یہ مسئلہ کبھی زیر بحث رہا ہی نہیں جس کو آپ اٹھا کر سامنے لے آئے ہیں اور اگر رہا ہے تو ثبوت فراہم کردیجئے۔ اگر یہ مسئلہ واقعی ایسا ہوتا کہ اس سے امت مسلمہ کو ایک حرام، مکروہ یا ممنوع فعل سے بچانا مقصود ہوتا تو محدثین، آئمہء فقہ، مفسرین اور علماء اس پر بہت کچھ لکھ اور بیان کر چکے ہوتے اور آج وہ سب کچھ آپ کے پاس اپنے دعوے کی دلیل فراہم کرنے کے لئے موجود ہوتا۔
میں قرآن مجید کی آیت سے دور نہیں بھاگ رہا۔ میرے نزدیک تو اس آیت کا مفہوم بہت واضح ہے اور قرآن مجید میں یہ پہلا یا آخری مقام نہیں ہے جہاں کسی بات کا مؤمنین کو حکم دینے یا سمجھانے کے لئے نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے بعض باتوں کے لئے امہات المؤمنین کو مخاطب کیا گیا مگر وہ پیغام صرف ان کے لئے ہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی تمام مؤمنات کے لئے ہوتا ہے۔
اجازت کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں کوئی ممانعت موجود ہو بصورتِ دیگر اجازت ضروری نہیں ہوتی اور غیر عرب خطوں میں رہنے والے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے کئی معاملات سے یہ بات ثابت ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایسی بےشمار مثالیں بھی موجود ہیں۔
ابھی تو آپ پہلے موضوع کے دلائل ماننے سے ہی منکر ہیں تو نیا موضوع چھیڑ کر کیا حاصل ہوگا؟ ہاں، یہ واضح کردیتا ہوں کہ انفاق کے ذیل میں میں اپنی ذات کے لئے قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ میں بیان کئے گئے اس حکم کو پسند کرتا ہوں: وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ۔
 
خان صاحب، بہت سیدھی سی بات ہے کہ اسلامی تاریخ میں یہ مسئلہ کبھی زیر بحث رہا ہی نہیں جس کو آپ اٹھا کر سامنے لے آئے ہیں اور اگر رہا ہے تو ثبوت فراہم کردیجئے۔ اگر یہ مسئلہ واقعی ایسا ہوتا کہ اس سے امت مسلمہ کو ایک حرام، مکروہ یا ممنوع فعل سے بچانا مقصود ہوتا تو محدثین، آئمہء فقہ، مفسرین اور علماء اس پر بہت کچھ لکھ اور بیان کر چکے ہوتے اور آج وہ سب کچھ آپ کے پاس اپنے دعوے کی دلیل فراہم کرنے کے لئے موجود ہوتا۔
میں قرآن مجید کی آیت سے دور نہیں بھاگ رہا۔ میرے نزدیک تو اس آیت کا مفہوم بہت واضح ہے اور قرآن مجید میں یہ پہلا یا آخری مقام نہیں ہے جہاں کسی بات کا مؤمنین کو حکم دینے یا سمجھانے کے لئے نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے بعض باتوں کے لئے امہات المؤمنین کو مخاطب کیا گیا مگر وہ پیغام صرف ان کے لئے ہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی تمام مؤمنات کے لئے ہوتا ہے۔
اجازت کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں کوئی ممانعت موجود ہو بصورتِ دیگر اجازت ضروری نہیں ہوتی اور غیر عرب خطوں میں رہنے والے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے کئی معاملات سے یہ بات ثابت ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایسی بےشمار مثالیں بھی موجود ہیں۔
ابھی تو آپ پہلے موضوع کے دلائل ماننے سے ہی منکر ہیں تو نیا موضوع چھیڑ کر کیا حاصل ہوگا؟ ہاں، یہ واضح کردیتا ہوں کہ انفاق کے ذیل میں میں اپنی ذات کے لئے قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ میں بیان کئے گئے اس حکم کو پسند کرتا ہوں: وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ۔
عاطف بھائی فاروق صاحب شاید خود کو ہی محقق سمجھتے ہیں اس لیے انہیں دوسروں کی کیا پرواہ
دوسرا لگتا ہے وہ احادیث سے بھی کنی کتراتے ہیں
مجھے تو یہاں لارنس آف عربیہ والا معاملہ لگ رہا ہے
 

باسم

محفلین
سوال ایک بار پھر ایک نئے پیرائےمیں آپ کے لیے حاضر ہے!

وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۔

مندرجہ بالا آیت میں "خَالِصَةً" کا تعلق کس سے ہے؟ "امْرَأَةً مُّؤْمِنَةً" سے ہے یا آیت میں واردہ تمام گزشتہ خواتین سے؟
اور ویسے میں نے نہ تو اپنے کسی فہم کی بات کی اور نہ ہی کوئی تجزیہ کیا بلکہ آپ ہی کی اپنی نصیحت کردہ ویب سائیٹ سے نحوی تشریح وضاحت پیش کی تو آپ ہمیشہ اس سے گریزاں رہے!
اور اللہ ہم سب کو ہدایت عطاء فرمائے۔ (اللهم اهدنا فيمن هديت) ۔ آمین
میں آپ کی بات کو یوں سمجھا ہوں کہ
مذکورہ آیت میں "خَالِصَةً" واحد مؤنث کا صیغہ ہے جو آیت میں مذکور کسی ایک عورت کے بیانِ حال کیلیے آیا ہے
اور فاروق سرور خان صاحب کی دی گئی ویب سائٹ پر مذکور تحلیل نحوی کے مطابق یہ فقط قریب الذکر عورت کابیانِ حال ہوسکتا ہے کیونکہ اسی کو واحد کی صورت میں بیان کیا گیا ہے
اگر اس سے فرسٹ کزن سسٹرز بھی مراد ہوتیں تو کیونکہ وہ جمع کے صیغے میں ذکر کی گئی ہیں لہذا ان سب کا بیانِ حال بھی مجموعے کو سامنے رکھ کر جمع کی صورت میں "خالصات" لایا جاتا
کیونکہ جمع کا حال واحد کے صیغہ سے بیان نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے مطابق جمع کےصیغے سے بیان کیا جاتا ہے۔
 

footprints

محفلین
میں آپ کی بات کو یوں سمجھا ہوں کہ
مذکورہ آیت میں "خَالِصَةً" واحد مؤنث کا صیغہ ہے جو آیت میں مذکور کسی ایک عورت کے بیانِ حال کیلیے آیا ہے
اور فاروق سرور خان صاحب کی دی گئی ویب سائٹ پر مذکور تحلیل نحوی کے مطابق یہ فقط قریب الذکر عورت کابیانِ حال ہوسکتا ہے کیونکہ اسی کو واحد کی صورت میں بیان کیا گیا ہے
اگر اس سے فرسٹ کزن سسٹرز بھی مراد ہوتیں تو کیونکہ وہ جمع کے صیغے میں ذکر کی گئی ہیں لہذا ان سب کا بیانِ حال بھی مجموعے کو سامنے رکھ کر جمع کی صورت میں "خالصات" لایا جاتا
کیونکہ جمع کا حال واحد کے صیغہ سے بیان نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے مطابق جمع کےصیغے سے بیان کیا جاتا ہے۔

جی باسم بھائی ۔
 

footprints

محفلین
آیت مبارکہ میں جملوں کی ترتیب کی وضاحت کےلیے:​
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
033_050.JPG
 
برادر محترم،
یقیناً ہمارا کوئی جھگڑ ا نہیں ہے، آپ نے سورۃ النساء کی آیت 23 دو بار پیش کی، آپ دیکھئے کہ اس میں دی ہوئی لسٹ ایک حد تک ہے، مثال کے طور پر اس میں شادی شدہ عورتوں کا ذکر نہیں ہے۔ یعنیان محرمات میں شادی شدہ عورتوں اور جنگ میں ہاتھ آئی عورت کا بیان نہیں ہے۔
رہ گیا نانیوں اور دادیوں کا مسئلہ تو یہ ماؤں کے زمرے میں آگئیں۔
جس طرح اس آیت میں -- اُمَّھٰتُکُمْ --- ماں تک جاتی ہے نانی دادی تک نہیں لیکن یہاں یہ معروف طریقے کے مطابق نانی اور دادی تک بھی جائے گی یعنی تمام ماؤں تک
اسی طرح اس آیت میں -- بنتُکُمْ -- تمہاری بیٹیاں میں پوتیاں اور نواسیاں موجود نہیں لیکن معروف طریقے کے مطابق، اس کا اطلاق پوتیوں اور نواسیوں پر بھی ہوتا ہے۔
اسی طرح اس آیت میں موجود --- اَخَوٰتُکُمْ - صرف بہنوں تک نہیں ، تو اس کا اطلاق کہاں ہوتا ہے۔ اس کا علم 33:50 سے ہوتا ہے جہاں اخواتکم میں سے رسول اکرم کو خاص طور پر اجازت دی جارہی ہے کہ رسول اکرم صٌی اللی علیہ وسلم ---
اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے --- سے اس آیت کے نزول کے بعد نکاح کرسکیں گے لیکن دوسرے مومنین نہیں ۔

آپ نے دیکھا کہ واضح محرمات کا اطلاق نانی دادی، پوتی، نواسی اور "فرسٹ کزن سسٹر" پر کہاں تک ہوتا ہے اور کس طرح ہوتا ہے ۔ لیکن آپ کے بیان کے مطابق یہ اس طرح روشن نہیں ہے بلکہ اس وقت کے معروفات کے بغیر ۔۔۔ نانی دادی اور پوتی نواسی --- اس لسٹ میں روشن اور واضح نہیں ہیں۔ اسی طرح "فرسٹ کزن سسٹرز" کی وضاحت 33:50 کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ اس طرح اللہ تعالی کی طرف سے اس حکم کی وضاحت ہو گئی۔

آپ یہ سوچئے کہ اگر
اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے --- سے نکاح پہلے ہی سے جائز ہوتا یا 4:23 اور 4:24 سے جائز پا جاتا تو پھر اس آیت سے ایک خاص اجازت دینے کی کیا ضرورت تھی؟

لہذا آپ جس طرح 4:24، 4:23 میں غیر موجود عورتوں کے لئے حکم رکھتی ہے۔ اسی طرح "فرسٹ کزن سسٹرز" کے بارے میں تفصیل 33:50 میں آگئی ہے۔ آپ غور کیجئے کہ --
صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں، --- کا اطلاق کس کس حکم پر ہوگا؟؟؟؟

بات کو آپ یہاں سے آگے بڑھائیے۔

والسلام
میرے محترم بھائی
آپ مسلسل اس بات پر زور دیئے جا رہے ہیں کہ کوئی ایسی روایت حدیث یا سنت رسول علیہ السلام سے ثبوت دیا جائے کہ جس میں " آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " فرسٹ کزن سسٹر " سے شادی کی اجازت دی ہو ۔ جبکہ آپ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں ایسی شادیاں ہوتی رہی ہیں ۔ تو میرے محترم بھائی اگر آپ ذرا غور فرمائیں گے تو قران پاک میں واضح " محرمات " بارے روشن بیان موجود ہے ۔ اور اس بیان کے بعد کسی روایت کسی حدیث کی ضرورت نہیں رہتی ۔
میرے محترم بھائی کیا آپ کوئی ایسی روایت حدیث یا کوئی ایسا کلمہ جو کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہوتے اس امر کا اثبات کرتا ہو کہ " فرسٹ کزن سسٹر " سے شادی کسی مومن کے لیئے درست نہیں ۔ ؟ بلا شک آپ ایسی کوئی روایت یا حدیث کسی بھی درجہ کی حامل نہیں پیش کرتے ۔ یعنی آپ کو اس معاملے پر آپ جناب نبی پاک صلی علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے " سکوت " ملے گا ۔ اگر " فرسٹ کزن سسٹر " سے شادی ممنوع ہوتی تو لازم کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی درجے کی روایت یا حدیث سامنے آ جاتی ۔ اور نبی پاک علیہ السلام کا اس بارے سکوت بھی قران کے اس روشن پیغام کی روشنی میں ہے ۔


وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّہ، کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَسَآءَ سَبِیْلًا. حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَبَنٰتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَخٰلٰتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّھٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ، فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ، وَحَلَآئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا، وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ، کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ. (النساء 4 : 22- 24)

''اور اُن عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمھارے باپ نکاح کر چکے ہوں ، مگر جو ہو چکا سو ہو چکا۔ بے شک ، یہ کھلی بے حیائی، نفرت انگیز فعل اور نہایت برا طریقہ ہے ۔ تم پر تمھاری مائیں ، تمھاری بیٹیاں ، تمھاری بہنیں ، تمھاری پھوپھیاں، تمھاری خالائیں ، تمھاری بھتیجیاں اور تمھاری بھانجیاں حرام کی گئی ہیں اور تمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اِس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی۔ (اِسی طرح ) تمھاری بیویوں کی مائیں اور اُن کی لڑکیاں جو تمھاری گودوں میں پلی ہیں ، اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تم نے خلوت کی ہو ، لیکن اگر خلوت نہ کی ہو تو کچھ گناہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو ایک ہی نکاح میں جمع کرو ، مگر جو ہو چکا سو ہو چکا ۔ اللہ یقینا بخشنے والا ہے ، اُس کی شفقت ابدی ہے ۔ اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی کے نکاح میں ہوں ، الّایہ کہ وہ تمھارے قبضے میں آجائیں۔ یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے ۔''
میرے ناقص علم کے مطابق تو براہ راست " نانی و دادی " سے شادی کے" ممنوع و مشروع "ہونے کے بارے بھی کوئی روایت حدیث کا ملنا اک محال امر ہے ۔ اگر آپ کچھ میرے علم میں اضافہ کر سکیں ۔ تو جزاک اللہ خیراء
اور میرے محترم بھائی جہاں تک " سنی سنائی " کو " ایمان " کا درجہ دینے کی بات ہے ۔ تو یاد رہے کہ نبی رسول پیغمبر کے علاوہ ہر انسان نبی رسول پیغمبر کی سنائی بات سن کر " رد و قبول " کے مرحلے سے گذر ہی " مومن و کافر " کا درجہ پاتا ہے ۔ میں نے اپنے مرحوم باپ سے سنا کہ " آج سے صدیوں پہلے اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم توحید کا یہ پیغام لائے ۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ۔ میں نے سنا اور ایمان لایا ۔ پھر وقت کے ساتھ اس سچے توحید کے کلام کو اپنی سمجھ سے پڑھ کر سمجھا ۔ اور یہ جانا کہ " محمد عبدہ والرسول " ہیں ۔ آپ مجھے بتائیں کہ نہ تو میں نے اللہ اور اللہ کے رسول کو دیکھا نہ ہی ان کی آواز سنی ۔ اگر میں اپنے باپ کی بات کو سنی سنائی کہہ کر ٹھکرا دیتا تو آپ مجھے کس درجے میں قرار دیتے ۔ ؟
میرے محترم بھائی اگر آپ اس آیت کے اس حصے پر پرجس آیت کو آپ نے اپنی دلیل بناتے اپنی بحث کی بنیاد قرار دیا ہے پر غور فرماتے " نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان و عظمت و کردار پر غور کرتے اپنی عقل کو کچھ دیر پرے رکھتے " رب زدنی علماء " کا سہارا لیتے تو آپ کو اپنے اس اشکال کا شافی جواب مل جاتا ۔ کہ آخر کوئی مومنہ عورت کیسے خود کو کسی مرد کے لیئے " ہبہ " کرنے کی نیت ہی نہیں کرتی بلکہ عمل پر اتر آتی ہے ۔ اور اس عمل کو بھی اللہ نے صرف عورت کی مرضی پر نہیں چھوڑا بلکہ " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " کی رضامندی سے مشروط کر دیا ۔ اور سورہ النساء میں واضح " محرمات " کا بیان فرما دیا ۔
"کوئی مؤمنہ عورت بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح) کے لئے دے دے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اسے اپنے نکاح میں لینے کا ارادہ فرمائیں (تو یہ سب آپ کے لئے حلال ہیں)،(یہ حکم) صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں،"
میرے بھائی قران پاک میں ارشاد ہے کہ " اللہ ہی سچا رازق ہے "
اسی میں بیان فرما دیا گیا کہ " انسان کے لیئے وہی کچھ ہے جس کے لیئے کوشش کی ۔
اب ان دونوں بیانات کو الگ الگ بحث کا موضوع بنا لیں ۔ اور نتیجے پر غور کر لیں ۔
میرے محترم بھائی میرا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں ۔۔۔
 
سلام آپ پر اور آپ کا بہت شکریہ۔

میں نے آپ کی پریزینٹیشن میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے۔ اس کا مقصد آپ سے سمجھنا ہے نا کہ آپ پر کسی غلط بیانی کو رکھنا۔

آپ مدد فرمائیے اور بتائیے کہ کیا وجہ ہے
خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ
کا اطلاق صرف
وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا
پر ہی کیوں ہے؟

اور کیا وجہ ہے کہ
خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ
کا اطلاق
وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ
وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا
پر کیوں نہیں ہے۔
جب کہ ان دونوں "ممنوع" کا زمانہ پریزینٹ کنٹی نیوس ہے یعنی وقوع پذیر ہونے والا ہے ۔اور دونوں نبی اکرم کو مخاطب کرکے کہے جارہے ہیں۔

جبگہ
إِنَّا أَحْلَلْنَا

لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ
کا زمانہ اللہ تعالی کی طرف سے اس امر کی تصدیق ہے کہ رسول اکرم جو کرچکے ہیں ماضی میں وہ رسول اکرم نے درست کیا ہے ۔


آیت مبارکہ میں جملوں کی ترتیب کی وضاحت کےلیے:​
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ
إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ
أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ
وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ
وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا
خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ
قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمً
 

ساجد

محفلین
فاروق سرور خان صاحب ، آپ کی بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آپ نعو ذ با اللہ ہادی برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی زیادہ اسلام و قرآن اور شرعی احکامات کو سمجھتے ہیں۔ جب ایک شرعی کام ان کی حیات مبارکہ میں ہونے پر آپ خود متفق ہیں تو اب اس میں میں میخیں نکالنا نہ صرف آپ کو زیب نہیں دیتا بلکہ دوسروں کے لئے مسلسل مذہبی دل آزاری کا باعث بھی بن رہا ہے۔ جو شرعی کام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے ہوا اس پر اب مزید اعتراضات کی ہرگز ہرگز گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی اردو محفل اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔
دیگر احباب سے بھی گزارش ہے کہ اب معاملے کو یہیں چھوڑ دیں۔ ہاں ایسی شادیوں کے طبی نقصانات پر بات جاری رکھ سکتے ہیں۔
 
ساجد، تف ہے آپ کے ذاتی حملے پر۔ یہاں لوگ سنجیدگی سے بات کررہے ہیں اور قرآن حکیم کی ایک آیت پر محنت سے ریسرچ۔ آپ اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی میں اس قدر کھوئے ہوئے ہیں کہ اپنے خیالات کے خلاف کچھ بھی دیکھ کر آپ کی دل آزاری ہوتی ہے۔ یہاں اب تک ہادی برحق رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرکے کچھ بھی پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ آپ کے اس تکلیف دہ پیغام کی کوئی وجہ نہیں ۔ بلکہ ذاتی جلن اور حسد سے بھرپور جہالت ہے۔

فاروق سرور خان صاحب ، آپ کی بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آپ نعو ذ با اللہ ہادی برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی زیادہ اسلام و قرآن اور شرعی احکامات کو سمجھتے ہیں۔ جب ایک شرعی کام ان کی حیات مبارکہ میں ہونے پر آپ خود متفق ہیں تو اب اس میں میں میخیں نکالنا نہ صرف آپ کو زیب نہیں دیتا بلکہ دوسروں کے لئے مسلسل مذہبی دل آزاری کا باعث بھی بن رہا ہے۔ جو شرعی کام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے ہوا اس پر اب مزید اعتراضات کی ہرگز ہرگز گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی اردو محفل اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔
دیگر احباب سے بھی گزارش ہے کہ اب معاملے کو یہیں چھوڑ دیں۔ ہاں ایسی شادیوں کے طبی نقصانات پر بات جاری رکھ سکتے ہیں۔
 

ساجد

محفلین
ساجد، تف ہے آپ کے ذاتی حملے پر۔ یہاں لوگ سنجیدگی سے بات کررہے ہیں اور قرآن حکیم کی ایک آیت پر محنت سے ریسرچ۔ آپ اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی میں اس قدر کھوئے ہوئے ہیں کہ اپنے خیالات کے خلاف کچھ بھی دیکھ کر آپ کی دل آزاری ہوتی ہے۔ یہاں اب تک ہادی برحق رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرکے کچھ بھی پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ آپ کے اس تکلیف دہ پیغام کی کوئی وجہ نہیں ۔ بلکہ ذاتی جلن اور حسد سے بھرپور جہالت ہے۔
اور لعنت ہے تمہاری بکواس پر۔ یہ آداب سیکھے ہیں بات کرنے کے؟۔
 
سوال اٹھانے والے صاحب کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے اور ہم سب کو بھی۔
قرآنَ کریم کی اس آیت کے ہوتے ہوئے کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں:

وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّہ، کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَسَآءَ سَبِیْلًا. حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَبَنٰتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَخٰلٰتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّھٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ، فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ، وَحَلَآئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا، وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ، کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ. (النساء 4 : 22- 24)​

ہم پر قرآن کی اطاعت لازمی ہے عیسائیوں اور یہودیوں کی نہیں۔ بلکہ وہ تو فتنہ ہے۔

منقولہ آیت مبارکہ کا ترجمہ بھی پہلے پیش کیا جا چکا ہے اور اس پر گفتگو بھی بہت ہو چکی۔۔ اس پر کوئی اضافہ کرنے کی نہ گئجائش ہے نہ ضرورت۔

جو نہیں مانتا، اس کا معاملہ اللہ کے سپرد۔
 
محترمی جناب ساجد صاحب ۔۔ مدیر اعلیٰ۔
آپ کا ارشاد ہے ۔۔
دیگر احباب سے بھی گزارش ہے کہ اب معاملے کو یہیں چھوڑ دیں۔ ہاں ایسی شادیوں کے طبی نقصانات پر بات جاری رکھ سکتے ہیں۔
کتاب اللہ میں کوئی ایسا حکم ہو ہی نہیں سکتا، جس پر نام نہاد طبی خطرات اور نقصانات کا اندیشہ ہو۔ (انفرادی معاملات اپنی جگہ) من حیث المجموع چچا زاد، خالہ زاد، ماموں زاد وغیرہ سے شادی میں کوئی طبی خطرہ نہیں ہو سکتا۔ ورنہ اللہ کریم اس کی اجازت مرحمت نہ کرتا۔
ان نام نہاد نقصانات کا شوشہ مغرب زدہ طبقے کا چھوڑا ہوا ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ ہمارے معاشرے میں نصف سے زیادہ شادیاں بہت قریبی رشتوں میں ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے تو ہماری ساری آبادی کو اپاہج ہونا چاہئے تھا۔
گستاخی معاف، اگر کوئی امر مانع نہ ہو تو یہ تھریڈ بند کر دیجئے۔ بہت نوازش۔
 

footprints

محفلین
سلام آپ پر اور آپ کا بہت شکریہ۔

میں نے آپ کی پریزینٹیشن میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے۔ اس کا مقصد آپ سے سمجھنا ہے نا کہ آپ پر کسی غلط بیانی کو رکھنا۔

آپ مدد فرمائیے اور بتائیے کہ کیا وجہ ہے
خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ
کا اطلاق صرف
وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا
پر ہی کیوں ہے؟

اور کیا وجہ ہے کہ
خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ
کا اطلاق
وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ
وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا
پر کیوں نہیں ہے۔
جب کہ ان دونوں "ممنوع" کا زمانہ پریزینٹ کنٹی نیوس ہے یعنی وقوع پذیر ہونے والا ہے ۔اور دونوں نبی اکرم کو مخاطب کرکے کہے جارہے ہیں۔

جبگہ
إِنَّا أَحْلَلْنَا

لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ
کا زمانہ اللہ تعالی کی طرف سے اس امر کی تصدیق ہے کہ رسول اکرم جو کرچکے ہیں ماضی میں وہ رسول اکرم نے درست کیا ہے ۔

جناب خان صاحب!
معلوم نہیں کہ آپ کو موضوع شروع کرنے کی کیا سوجھی جبکہ آپ کسی مناسب سوال کا جواب دینے کی استظاعت یا ہمت ہی نہیں پاتے ، اس دھاگہ میں نے بارہا ایک ہی سوال جناب سے کیا لیکن آپ جواب نہیں دینا چاہتے اور مستقل سائل ہی پر اس حوالہ سے اعتراض وارد کرتے آئے ہیں اور اگر اب کسی اعتراض کی گنجائش نہیں نظر آتی تو وہی سوال پلٹ کر سائل سے کرلیتے ہیں۔ بہت خوب !

جناب والا (معذرت کے ساتھ) آپ کا مبلغ علم اردو یا انگریزی میڈیم تک معلوم ہوتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ آپ نے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ جناب امت کے اجماعی موقف سے منحرف تو آپ ہیں لہذا اپنے خیال کے اثبات کی ذمہ داری تو آپ ہوتی ہے۔ ہاں اگر کوئی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی تو (فاسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون) کے مصداق اوروں سے سمجھ لیجیے۔

اور ہم محفلین کو یہاں امت کے اجماعی موقف ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ کوشش تو تعلیم وتبلیغ اور اتمام حجت کی ہے، لہذا اگر آپ واقعی سمجھنا سمجھانا چاہتے ہیں تو پہلےآپ سے پوچھے گئے سوالات کے جواب دیجیے، تاکہ بات آگے بڑھے۔۔۔
 

پردیسی

محفلین
حلال یا حرام، آپ اس کا فیصلہ خود اس آیت کی روشنی میں کیجئے۔
اللہ تعالی نے رسول اکرم کو اجازت دی کہ درج ذیل سے بھی شادی کرسکتےہیں اور اس کے بعد فرمایا۔
(یہ حکم) صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں،
آپ کے چچا کی بیٹیاں، اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے

33:50

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

اے نبی! بیشک ہم نے آپ کے لئے آپ کی وہ بیویاں حلال فرما دی ہیں جن کا مہَر آپ نے ادا فرما دیا ہے اور جو (احکامِ الٰہی کے مطابق) آپ کی مملوک ہیں، جو اللہ نے آپ کو مالِ غنیمت میں عطا فرمائی ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مؤمنہ عورت بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح) کے لئے دے دے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اسے اپنے نکاح میں لینے کا ارادہ فرمائیں (تو یہ سب آپ کے لئے حلال ہیں)، (یہ حکم) صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں، واقعی ہمیں معلوم ہے جو کچھ ہم نے اُن (مسلمانوں) پر اُن کی بیویوں اور ان کی مملوکہ باندیوں کے بارے میں فرض کیا ہے، (مگر آپ کے حق میں تعدّدِ ازواج کی حِلّت کا خصوصی حکم اِس لئے ہے) تاکہ آپ پر (امتّ میں تعلیم و تربیتِ نسواں کے وسیع انتظام میں) کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے
اس آیت سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کزنز سے شادی جو مکہ سے ہجرت کرکے آئی تھی اس آیت کے حکم کے مطابق ہوا۔ لیکن یہ رسول اکرم کے لئے خاص تھا، باقی مومنوں کے لئے نہیں ۔ اس آیت میں رسول اکرم کے لئے کیا کچھ خاص کیا گیا وہ درج ہے۔ ان میں سے باقی مومنین کے لئے ان خاص حقوق کے لئے منع کردیا گیا۔ ان خاص حقوق میں کزنز سے شادی کی ممانعت بھی شامل ہے۔ لہذا کزنز سے شادی مشکوک قرار پائی۔
رسول اکرم کی شادی زینب بنت جیش سے قرار پائی، جو ان کی فرسٹ کزن تھیں۔ یہ اس آیت کے عین مطابق ہے۔ لیکن ایسی فرسٹ کزن شادیوں کی اجازت دوسرے مومنین کو نہیں دی گئی۔ یہ اس آیت میں صاف درج ہے۔ عربی عبارت پر غور فرمائیں۔
اس کو آپ مانیں یا نا مانیں ۔۔۔ یہ آپ پر منحصر ہے۔ میرا کام شئیر کرنا تھا ۔ وہ پورا ہوا۔

محترم فاروق سرور خان صاحب میں ان آیات کے حوالہ سے کچھ کہنا چاہوں گا۔اس وقت میں مصروف ہوں انشااللہ جلد ہی میں لکھتا ہوں
 
جناب خان صاحب!
معلوم نہیں کہ آپ کو موضوع شروع کرنے کی کیا سوجھی جبکہ آپ کسی مناسب سوال کا جواب دینے کی استظاعت یا ہمت ہی نہیں پاتے ، اس دھاگہ میں نے بارہا ایک ہی سوال جناب سے کیا لیکن آپ جواب نہیں دینا چاہتے اور مستقل سائل ہی پر اس حوالہ سے اعتراض وارد کرتے آئے ہیں اور اگر اب کسی اعتراض کی گنجائش نہیں نظر آتی تو وہی سوال پلٹ کر سائل سے کرلیتے ہیں۔ بہت خوب !

جناب والا (معذرت کے ساتھ) آپ کا مبلغ علم اردو یا انگریزی میڈیم تک معلوم ہوتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ آپ نے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ جناب امت کے اجماعی موقف سے منحرف تو آپ ہیں لہذا اپنے خیال کے اثبات کی ذمہ داری تو آپ ہوتی ہے۔ ہاں اگر کوئی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی تو (فاسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون) کے مصداق اوروں سے سمجھ لیجیے۔

اور ہم محفلین کو یہاں امت کے اجماعی موقف ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ کوشش تو تعلیم وتبلیغ اور اتمام حجت کی ہے، لہذا اگر آپ واقعی سمجھنا سمجھانا چاہتے ہیں تو پہلےآپ سے پوچھے گئے سوالات کے جواب دیجیے، تاکہ بات آگے بڑھے۔۔۔
آپ اپنا سوال واضح انداز میں لکھ دیں۔ مجھے اب تک آپ کا سوال ہی سمجھ نہیں آیا۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top