یہ شادی نہیں ہو سکتی؟۔

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

نایاب

لائبریرین
برادر محترم،
آپ کے حملوں کا شکریہ۔
اس دھاگے میں بھی میرا یہی مؤقف تھا جو یہاں ہے۔ جو لکھا ہے اسے بار بار پڑھئے۔ یہ حقیقت ہے کہ فرسٹ کزنز کی شادیاں رسول اللہ صلعم کے دور میں بھی ہوتی رہیں۔ کیا اس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا؟ یہ وہاں بھی ثابت کیا تھا کہ ایسا رسول اکرم کے حکم سے کبھی نہیں ہوا۔ جن نکات پر وہاں بات ہوئی تھی- وہ صرف اتنے ہی تھا کہ ایسا رسول اکرم کے دور میں ہوتا رہا ہےجو دوسروں نے کیا نا کہ رسول اکرم نے۔ آپ نے اس کو یہاں کچھ اس کو کچھ اور ہی رنگ دے دیا ہے۔ جیسا کہ آج کے دور میں اللہ تعالی کے حکم کے خلاف عام طور پر ہوتا ہے اور سب کے لئے قابل قبول ہوتا ہے۔ آپ ایسے جاری عمل سے قرآن حکیم کے حکم کو غلط ثابت کرتے ہیں کرتے رہئیے۔ آپ جب بھی پوچھیں گے کہ کیا ایسا ہوتا ہے تو میں آپ سے اتفاق ہی کروں گا یہ ہاں ایسا ہوتا ہے لیکن میرا کیا خیال ہے وہ بہت ہی صاف ہے کہ اللہ تعالی نے یہ خاص اجازت صرف اور صرف رسول اکرم کو دی تھی عام مسلمانوں کا یہ خاص اجازت حاصل نہیں ۔



میرے محترم بھائی آپ کا یہ استفسارانہ سوال ہی آپ کی قران فہمی پر اشکال پیدا کر رہا ہے ۔
جس ہستی مبارک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم بارے استفسار کیا جا رہا ہے ۔ وہ صادق و امین ہستی جو
اللہ کے سچے رسول کے درجہ پر فائز ہوتے اس کلام حق کی مخاطب ٹھہری ۔۔۔۔۔
سورة إبراهيم ( 14 )
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللّهُ مَن يَشَاء وَيَهْدِي مَن يَشَاء وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ {4}
ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب بھی کوئی رسول بھیجا ہے، اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔ پھرا للہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے، وہ بالا دست اور حکیم ہے۔

سورة ق ( 50 )
فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ {45}
پس اےنبیؐ، آپ اس قرآن کے ذریعے سے ہر اس شخص کو نصیحت کیجیے جو میری تنبیہ سے ڈرے۔

اور یہ ہستی پاک اپنے فرائض کو کماحقہ ادا کرتے رحمت العالمین قرار پائی ۔۔۔۔
اس ہستی پاک کے بارے کیسے یہ گمان و قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس " اہم حکم ممنوع " کی تبلیغ و تعلیم سے قاصر رہی یا کسی " سہو و نسیان " کا شکار ہوئی ۔
میرے محترم بھائی کیا آپ اپنے اس دعوی کے بارے کوئی حدیث مبارکہ پیش کر سکتے ہیں جو کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے آپ کے پیش کردہ اس دعوی کی تصدیق کر سکے ۔اور اس بنیاد پر یہ " حکم " قائم " کیا جا سکے کہ "فرسٹ کزن سسٹر " سے شادی ممنوع ہے ۔ ؟
اگر آپ ایسا کوئی حکم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیش نہیں کر سکتے تو پھر آپ کی جانب سے اس آیت قرانی کی روشنی میں جناب رسول صلی اللہ و آلہ وسلم نے اللہ کی جانب سے آنے والے اک اہم حکم کی واضع تبلیغ کرنے میں " قصدا یا سہوا " روگردانی کی ۔ اور دین ناقص رہ گیا ۔۔۔۔ اور یہ بات کم از کم میرے نزدیک آپ جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پاک پر امر محال اور بہتان عظیم ہے ۔۔
میرے محترم بھائی آپ جن دلائل کے بل پر " فرسٹ کزن سسٹر " سے شادی کو " ممنوع عام " قرار دے رہے ہیں ۔ ان دلائل کو اگر کسوٹی مان لیا جائے تو امت مسلمہ کا " اجتماع تعداد و طریقہ نماز " ہی مشکوک ٹھہرتا ہے ۔ کہ اللہ نے تو " نماز قائم کرنے کا حکم فرمایا " اور " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے " نماز پڑھنا " قرار دے دیا ۔۔۔استغفراللہ ۔۔۔
میرے محترم بھائی جب ہمارے پاس قران پاک کی واضح آیات سے یہ ثابت ہے کہ کون کون سے رشتے " محرمات " میں شامل ہیں ۔ تو یہ ساری بحث فضول ٹھہرتی ہے ۔ اور آپ بذات خود اس امر سے اتفاق کر چکے ہیں کہ ایسا " رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں ہوتا رہا " کیا یہ ممکن ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی نگاہوں کے سامنے " امر اللہ " کے مخالف عمل ہوتے دیکھتے رہتے اور خاموشی اختیار فرماتے ۔؟ ۔۔۔۔۔ استغفراللہ
میرے محترم بھائی " یہ جو کچھ آیات قرانی " نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیئے خاص قرار دیتے " چھوٹ " کا شور مچایا جاتا ہے ۔ یہی " چھوٹ " گستاخوں کو نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت و کردار پر زبان درازی کرنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔

عرض یہ ہے کہ اپنی حمایت کے لئےشیطانی راستہ اختیار کرنے کے بجائے قرآن حکیم کا راستہ اختیار کیجئے ۔

فرسٹ کزنز سسٹرز سے شادی کرنے کے معاملے میں میں کبھی بھی قرآن حکیم کے حکم کے خلاف عادل سہیل صاحب سے متفق نہیرہا۔ یہ درست ہے کہ قران حکیم کی آیات متشابہہ یعنی ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہ ہیں لیکن آپ کی پیش کردہ آیات کا تعلق بھائی اس معاملے سے بالکل بھی نہیں بنتا ہے۔ یعنی نایاب آپ کی پیش کردہ آیت، کسی طور اس موضوع سے تعلق نہیں رکھتی۔ قرآن حکیم پڑھنا اور سمجھنا کسی طور گمراہی نہیں ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائیں ۔

یہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ آپ جو کچھ بھی کیجئے وہ آپ کا دین ہے --
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ --
یہ کسی بھی طور نبی اکرم پرنور کی ذات مبارک پر کوئی الزام نہیں ۔ آپ کے محبوب کرداروں نے اس آیت پر کوئی بات نہیں کی۔ آپ کہیں کی بات کہیں ملا رہے ہیں۔

قران پاک کیسے ہدایت کی روشنی بخشتا ہے اور کیسے فاسقوں کے لیئے گمراہی کی تاریکی کو تاریک تر کرتا ہے درج ذیل آیات اس کی روشن دلیل ہیں ۔
قرآن حکیم میں اسلوب تبلیغ اس امر پر استوار ہے کہ یہ اپنے ایک حصے میں بیان کردہ احکامات و فرائض کی تفسیر دوسرے حصے سے کرتا ہے اور پوری بات تب ہی سمجھ میں آسکتی ہے جب کہ اسی موضوع سے متعلق قرآن کی دیگر آیات سے بھی رہنمائی لی جائے۔بےشک اس میں کوئی شک نہیں کہ ہدایت و گمراہی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور کسی دوسرے کو اس پر کوئی اختیار نہیں ،لیکن اللہ کس کو گمراہ کرتا ہے اور کس کو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے اور اس کے لیے اللہ کی طے شدہ سنت کیا ہے اور اس نے کونسا معیار مقرر فرما رکھا ہے، ؟؟

سورة الأنعام ( 6 )
۔۔۔ مَن يَشَإِ اللهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ {39}
اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے۔

سورة النحل ( 16 )
وَلَوْ شَاء اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلكِن يُضِلُّ مَن يَشَاء وَيَهْدِي مَن يَشَاء وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ {93}
اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی(کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتاہے گمراہی میں ڈالتاہے اور جسے چاہتاہے راہِ راست دکھا دیتاہے، اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس ہو کر رہے گی۔

سورة القصص ( 28 )
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَن يَشَاء وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ {56}
(اے نبی ﷺ) تم جسے چاہواسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔

سورة البقرة ( 2 )
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَ۔كِنَّ اللهَ يَهْدِي مَن يَشَاء ۔۔۔ {272}
اے محمدؐ، لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔

سورة النحل ( 16 )
إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللهَ لاَ يَهْدِي مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ {37}
اےنبیؐ، تم چاہے ان کی ہدایت کے کتنے ہی حریص ہو، مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتاہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور اس طرح کےلوگوں کی مددکوئی نہیں کر سکتا۔

سورة الزمر ( 39 )
۔۔۔ وَمَن يُضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ {36} وَمَن يَهْدِ اللهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ ۔۔۔ {37}
اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں، اور جسے وہ ہدایت دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں۔

سورة الرعد ( 13 )
۔۔۔وَمَن يُضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ {33}
اور جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔

سورة الإسراء ( 17 )
وَمَن يَهْدِ اللهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاء مِن دُونِهِ ۔۔۔ {97}
جس کواللہ ہدایت دے دے وہی ہدایت پانےوالا ہے،اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے سوا ایسےلوگوں کے لیے تو کوئی حامی و ناصر نہیں پا سکتا۔

سورة الزمر ( 39 )
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاء وَمَن يُضْلِلْ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ {23}
اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں۔ اسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کےجسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے ۔

سورة سبأ ( 34 )
وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ الَّذِي أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ وَيَهْدِي إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ {6}
اے نبیؐ ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیاگیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے۔

سورة الأنعام ( 6 )
ذَلِكَ هُدَى اللهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ ۔۔۔ {88}
یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتاہے۔

سورة المائدة ( 5 )
۔۔۔قَدْ جَاءكُم مِّنَ اللّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ {15} يَهْدِي بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنِ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ {16}
تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ اُن لوگوں کو جو اُس کی رضاکے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کر اُجالے کی طرف لاتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف اُن کی رہنمائي کرتا ہے۔

سورة ق ( 50 )
فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ {45}
پس اےنبیؐ، آپ اس قرآن کے ذریعے سے ہر اس شخص کو نصیحت کیجیے جو میری تنبیہ سے ڈرے۔

سورة النساء ( 4)
مَّنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ ۔۔۔ {80}
جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی

سورة التكوير ( 81 )
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ {27} لِمَن شَاء مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ {28} وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاء اللهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ {29}
یہ تو سارے جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے، تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو ۔ اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ رب العالمین نہ چاہے۔

سورة البقرة ( 2 )
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُواْ فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَ۔ذَا مَثَلاً يُضِلُّ بِهِ كَثِيراً وَيَهْدِي بِهِ كَثِيراً وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلاَّ الْفَاسِقِينَ {26}
ہاں، اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔ جو لوگ حق بات کو قبول کرنےوالے ہیں، وہ انہی مثالوں کو دیکھ کر جان لیتےہیں کہ یہ حق ہے جو اُن کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی مثالوں سے اللہ کو کیا سروکار؟ اِس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہ ِراست دکھا دیتا ہے۔ اور اُس سے ‍ گمراہی میں وہ اُنہی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں۔

سورة الرعد ( 13 )
۔۔۔قُلْ إِنَّ اللهَ يُضِلُّ مَن يَشَاء وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ {27}
کہو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کودکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔

سورة الشورى (42)
۔۔۔ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاء وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ {13}
اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کودکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔

سورة الزمر ( 39 )
وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى ۔۔۔ {17}
جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے۔

سورة غافر ( 40)
هُوَ الَّذِي يُرِيكُمْ آيَاتِهِ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَاء رِزْقًا وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَن يُنِيبُ {13}
وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے، مگر(ان نشانیوں کے مشاہدے سے)سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنےوالاہو۔

سورة العنكبوت ( 29 )
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ {69}
اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکوکاروں ہی کے ساتھ ہے۔

سورة الرعد ( 13 )
۔۔۔قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ وَلا أُشْرِكَ بِهِ إِلَيْهِ أَدْعُو وَإِلَيْهِ مَآبِ {36}
اےنبیؐ، کہہ دو “مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیاہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھیراؤں، لہذا میں اُسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے”۔

سورة لقمان (31 )
۔۔۔ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَاب َ إِلَيَّ ۔۔۔ {15}
پیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیاہے۔

سورة البقرة ( 2 )
۔۔۔وَاللهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ {258}
اور اللہ ظالموں کو راہ ِراست نہیں دکھایا کرتا۔

سورة البقرة ( 2 )
۔۔۔وَاللهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ {264}
اورکافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے۔

سورة المائدة ( 5 )
وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ {108}
اللہ نافرمانی کرنے والوں(فاسقوں) کو ہدایت نہیں دیتا۔

سورة النساء (4)
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَظَلَمُواْ لَمْ يَكُنِ اللّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلاَ لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقاً {168} إِلاَّ طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللّهِ يَسِيرًا {169}
جن لوگوں نے کفر و بغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم و ستم پر اتر آئے ہیں اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئي راستہ بجز جہنم کے راستے کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کے لیے یہ بہت آسان ہے۔

سورة النحل ( 16 )
إِنَّ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللّهِ لاَ يَهْدِيهِمُ اللّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ {104}
جو لوگ اللہ کی آیت کو نہیں مانتے اللہ ان کو کبھی ہدایت (صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق)نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

سورة غافر ( 40)
۔۔۔إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ {28}
اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرجانےوالا اور کذاب ہو۔

سورة الزمر ( 39 )
أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ {3}
خبردار ، دین خالص اللہ کا حق ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں(اور اپنے اس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتےہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں، اللہ یقیناًان کےدرمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو۔

سورة الأعراف ( 7 )
سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ آيَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا وَإِن يَرَوْاْ سَبِيلَ الرُّشْدِ لاَ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلاً وَإِن يَرَوْاْ سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلاً ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا وَكَانُواْ عَنْهَا غَافِلِينَ {146}
میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی نگاہیں پھیردونگا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں ، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائيں گے، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پرواہی کرتے رہے۔:

سورة الأنعام ( 6 )
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ {144}
پھراس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط رہنمائي کرے۔ یقیناً اللہ ایسے ظالموں کو راہِ راست نہیں دکھاتا۔

سورة القصص ( 28 )
۔۔۔ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ {50}
اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا۔

سورة الصف (61)
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَى إِلَى الْإِسْلَامِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ {7}
اب بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جا رہی ہو؟ا یسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔

سورة فاطر ( 35 )
أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا فَإِنَّ اللهَ يُضِلُّ مَن يَشَاء وَيَهْدِي مَن يَشَاء ۔۔۔{8}
(بھلا کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا) جس کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اسے اچھا سمجھ رہا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ ِراست دکھا دیتا ہے۔

سورة الأنعام ( 6 )
فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاء كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ {125} وَهَ۔ذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا قَدْ فَصَّلْنَا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ {126}
پس (یہ حقیقت ہے کہ)اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے کہ(اسلام کا تصور کرتے ہی ) اُسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے۔اس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی)نا پاکی اُن لوگوں پر مسلط کر دیتا ہےجو ایمان نہیں لاتے، حالانکہ یہ راستہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات اُن لوگوں کےلیے واضح کردیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔
 

موجو

لائبریرین
السلام علیکم
تعبیر بہن نے جو کچھ لکھا ہے میرے تاثرات بھی کچھ ایسے ہی تھے مگر اظہار اس لئے نہیں کئے کہ بزرگ کہیں ڈانٹ ہی نہ دیں۔
 

footprints

محفلین
فوٹ پرنٹ صاحب، ترجمے کا لنک موجود ہے۔ سارے حوالے بھی موجود ہیں۔ لنک پر کلک کیجئے اور حوالہ دیکھ لیجئے۔
معاف کیجیے گا خاں صاحب ! کہ شاید یہ آپ پر یہ گراں گزرا۔
بہرحال آپ نے جو ترجمہ پیش کیا تھا وہ مولانا احمد علی لاہوری صاحب کا ہے:
اے نبی ہم نے آپ کے لیے آپ کی بیویاں حلال کر دیں جن کے آپ مہر ادا کر چکے ہیں اور وہ عورتیں جو تمہاری مملومکہ ہیں جو الله نے آپ کو غنیمت میں دلوادی ہیں اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کے خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی اور اس مسلمان عورت کو بھی جو بلاعوض اپنے کوپیغمبر کو دے دے بشرطیکہ پیغمبر اس کو نکاح میں لانا چاہے یہ خالص آپ کے لیے ہے نہ اور مسلمانوں کے لیے ہمیں معلوم ہے جو کچھ ہم نے مسلمانو ں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں مقرر کیا ہے تاکہ آپ پر کوئی دِقت نہ رہے اور الله معاف کرنے والا مہربان ہے
اور وہ اس کی وضاحت "قرآن عزیز" (قران حکیم کا ترجمہ مع حواشی) کے حاشیہ میں ربط آیات کے عنوان کے تحت یوں فرماتے ہیں:
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سارے قسم عورتوں کے حلال ہیں۔
یعنی آیت سے ماخوذہ مفہوم آپ کا اپنا ہے نہ کہ مترجم کا جس کی تفہیم کے لیے آپ نے ترجمہ کی تقطیع اور تلوین کا سہارا لیا۔
لہذا آئندہ گفتگو اپ کے پیش کردہ مفہوم کے متعلق ہو گی ۔
 
برادر محترم۔
درج ذیل یہ تمام آیات یہ ثابت کرتی ہیں کہ جو کچھ رسول اکرم نے سمجھایا وہ درست ہے تو برادر محترم، ہمیں کسی روایت، آیت، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دے کر یہ سمجھائیے کرسول اکرم نے فرست کزن بہن بھائی کی شادی کی اجازت دی یا کروائیِ۔ بات وہیں ختم ہو جائے گی۔ ہمارا آپ کا کوئی جھگڑا ہی نہیں اس بات پر کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات نا مانیں۔ لیکن کم از کم ایسی بات تو سامنے لائیے۔ ہو یہ گیا ہے کہ سنی سنائی سنتے سنتے ۔ اس پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔ شادی میں بھی ایسا ہی ہے اور زکواۃ میں بھی۔ چونکہ فرست کزن بہن بھائی کی شادی ہوتی ہی رہتی ہے لہذا اس کو جائز سمجھ لیا جائے؟ آپ قرآن حکیم کی دیگر آیات کو صرف حوالہ ہی دے دیجئے۔ میں ضرور غور کروں گا۔

والسلام

میرے محترم بھائی آپ کا یہ استفسارانہ سوال ہی آپ کی قران فہمی پر اشکال پیدا کر رہا ہے ۔
جس ہستی مبارک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم بارے استفسار کیا جا رہا ہے ۔ وہ صادق و امین ہستی جو
اللہ کے سچے رسول کے درجہ پر فائز ہوتے اس کلام حق کی مخاطب ٹھہری ۔۔۔ ۔۔
سورة إبراهيم ( 14 )
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللّهُ مَن يَشَاء وَيَهْدِي مَن يَشَاء وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ {4}
ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب بھی کوئی رسول بھیجا ہے، اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔ پھرا للہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے، وہ بالا دست اور حکیم ہے۔

سورة ق ( 50 )
فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ {45}
پس اےنبیؐ، آپ اس قرآن کے ذریعے سے ہر اس شخص کو نصیحت کیجیے جو میری تنبیہ سے ڈرے۔

اور یہ ہستی پاک اپنے فرائض کو کماحقہ ادا کرتے رحمت العالمین قرار پائی ۔۔۔ ۔
اس ہستی پاک کے بارے کیسے یہ گمان و قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس " اہم حکم ممنوع " کی تبلیغ و تعلیم سے قاصر رہی یا کسی " سہو و نسیان " کا شکار ہوئی ۔
میرے محترم بھائی کیا آپ اپنے اس دعوی کے بارے کوئی حدیث مبارکہ پیش کر سکتے ہیں جو کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے آپ کے پیش کردہ اس دعوی کی تصدیق کر سکے ۔اور اس بنیاد پر یہ " حکم " قائم " کیا جا سکے کہ "فرسٹ کزن سسٹر " سے شادی ممنوع ہے ۔ ؟
اگر آپ ایسا کوئی حکم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیش نہیں کر سکتے تو پھر آپ کی جانب سے اس آیت قرانی کی روشنی میں جناب رسول صلی اللہ و آلہ وسلم نے اللہ کی جانب سے آنے والے اک اہم حکم کی واضع تبلیغ کرنے میں " قصدا یا سہوا " روگردانی کی ۔ اور دین ناقص رہ گیا ۔۔۔ ۔ اور یہ بات کم از کم میرے نزدیک آپ جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پاک پر امر محال اور بہتان عظیم ہے ۔۔
میرے محترم بھائی آپ جن دلائل کے بل پر " فرسٹ کزن سسٹر " سے شادی کو " ممنوع عام " قرار دے رہے ہیں ۔ ان دلائل کو اگر کسوٹی مان لیا جائے تو امت مسلمہ کا " اجتماع تعداد و طریقہ نماز " ہی مشکوک ٹھہرتا ہے ۔ کہ اللہ نے تو " نماز قائم کرنے کا حکم فرمایا " اور " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے " نماز پڑھنا " قرار دے دیا ۔۔۔ استغفراللہ ۔۔۔
میرے محترم بھائی جب ہمارے پاس قران پاک کی واضح آیات سے یہ ثابت ہے کہ کون کون سے رشتے " محرمات " میں شامل ہیں ۔ تو یہ ساری بحث فضول ٹھہرتی ہے ۔ اور آپ بذات خود اس امر سے اتفاق کر چکے ہیں کہ ایسا " رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں ہوتا رہا " کیا یہ ممکن ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی نگاہوں کے سامنے " امر اللہ " کے مخالف عمل ہوتے دیکھتے رہتے اور خاموشی اختیار فرماتے ۔؟ ۔۔۔ ۔۔ استغفراللہ
میرے محترم بھائی " یہ جو کچھ آیات قرانی " نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیئے خاص قرار دیتے " چھوٹ " کا شور مچایا جاتا ہے ۔ یہی " چھوٹ " گستاخوں کو نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت و کردار پر زبان درازی کرنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔



قران پاک کیسے ہدایت کی روشنی بخشتا ہے اور کیسے فاسقوں کے لیئے گمراہی کی تاریکی کو تاریک تر کرتا ہے درج ذیل آیات اس کی روشن دلیل ہیں ۔
قرآن حکیم میں اسلوب تبلیغ اس امر پر استوار ہے کہ یہ اپنے ایک حصے میں بیان کردہ احکامات و فرائض کی تفسیر دوسرے حصے سے کرتا ہے اور پوری بات تب ہی سمجھ میں آسکتی ہے جب کہ اسی موضوع سے متعلق قرآن کی دیگر آیات سے بھی رہنمائی لی جائے۔بےشک اس میں کوئی شک نہیں کہ ہدایت و گمراہی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور کسی دوسرے کو اس پر کوئی اختیار نہیں ،لیکن اللہ کس کو گمراہ کرتا ہے اور کس کو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے اور اس کے لیے اللہ کی طے شدہ سنت کیا ہے اور اس نے کونسا معیار مقرر فرما رکھا ہے، ؟؟

سورة الأنعام ( 6 )
۔۔۔ مَن يَشَإِ اللهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ {39}
اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے۔

سورة النحل ( 16 )
وَلَوْ شَاء اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلكِن يُضِلُّ مَن يَشَاء وَيَهْدِي مَن يَشَاء وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ {93}
اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی(کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتاہے گمراہی میں ڈالتاہے اور جسے چاہتاہے راہِ راست دکھا دیتاہے، اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس ہو کر رہے گی۔

سورة القصص ( 28 )
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَن يَشَاء وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ {56}
(اے نبی ﷺ) تم جسے چاہواسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔

سورة البقرة ( 2 )
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَ۔كِنَّ اللهَ يَهْدِي مَن يَشَاء ۔۔۔ {272}
اے محمدؐ، لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔

سورة النحل ( 16 )
إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللهَ لاَ يَهْدِي مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ {37}
اےنبیؐ، تم چاہے ان کی ہدایت کے کتنے ہی حریص ہو، مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتاہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور اس طرح کےلوگوں کی مددکوئی نہیں کر سکتا۔

سورة الزمر ( 39 )
۔۔۔ وَمَن يُضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ {36} وَمَن يَهْدِ اللهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ ۔۔۔ {37}
اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں، اور جسے وہ ہدایت دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں۔

سورة الرعد ( 13 )
۔۔۔ وَمَن يُضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ {33}
اور جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔

سورة الإسراء ( 17 )
وَمَن يَهْدِ اللهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاء مِن دُونِهِ ۔۔۔ {97}
جس کواللہ ہدایت دے دے وہی ہدایت پانےوالا ہے،اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے سوا ایسےلوگوں کے لیے تو کوئی حامی و ناصر نہیں پا سکتا۔

سورة الزمر ( 39 )
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاء وَمَن يُضْلِلْ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ {23}
اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں۔ اسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کےجسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے ۔

سورة سبأ ( 34 )
وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ الَّذِي أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ وَيَهْدِي إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ {6}
اے نبیؐ ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیاگیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے۔

سورة الأنعام ( 6 )
ذَلِكَ هُدَى اللهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ ۔۔۔ {88}
یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتاہے۔

سورة المائدة ( 5 )
۔۔۔ قَدْ جَاءكُم مِّنَ اللّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ {15} يَهْدِي بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنِ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ {16}
تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ اُن لوگوں کو جو اُس کی رضاکے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کر اُجالے کی طرف لاتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف اُن کی رہنمائي کرتا ہے۔

سورة ق ( 50 )
فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ {45}
پس اےنبیؐ، آپ اس قرآن کے ذریعے سے ہر اس شخص کو نصیحت کیجیے جو میری تنبیہ سے ڈرے۔

سورة النساء ( 4)
مَّنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ ۔۔۔ {80}
جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی

سورة التكوير ( 81 )
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ {27} لِمَن شَاء مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ {28} وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاء اللهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ {29}
یہ تو سارے جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے، تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو ۔ اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ رب العالمین نہ چاہے۔

سورة البقرة ( 2 )
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُواْ فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَ۔ذَا مَثَلاً يُضِلُّ بِهِ كَثِيراً وَيَهْدِي بِهِ كَثِيراً وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلاَّ الْفَاسِقِينَ {26}
ہاں، اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔ جو لوگ حق بات کو قبول کرنےوالے ہیں، وہ انہی مثالوں کو دیکھ کر جان لیتےہیں کہ یہ حق ہے جو اُن کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی مثالوں سے اللہ کو کیا سروکار؟ اِس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہ ِراست دکھا دیتا ہے۔ اور اُس سے ‍ گمراہی میں وہ اُنہی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں۔

سورة الرعد ( 13 )
۔۔۔ قُلْ إِنَّ اللهَ يُضِلُّ مَن يَشَاء وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ {27}
کہو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کودکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔

سورة الشورى (42)
۔۔۔ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاء وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ {13}
اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کودکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔

سورة الزمر ( 39 )
وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى ۔۔۔ {17}
جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے۔

سورة غافر ( 40)
هُوَ الَّذِي يُرِيكُمْ آيَاتِهِ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَاء رِزْقًا وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَن يُنِيبُ {13}
وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے، مگر(ان نشانیوں کے مشاہدے سے)سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنےوالاہو۔

سورة العنكبوت ( 29 )
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ {69}
اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکوکاروں ہی کے ساتھ ہے۔

سورة الرعد ( 13 )
۔۔۔ قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ وَلا أُشْرِكَ بِهِ إِلَيْهِ أَدْعُو وَإِلَيْهِ مَآبِ {36}
اےنبیؐ، کہہ دو “مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیاہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھیراؤں، لہذا میں اُسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے”۔

سورة لقمان (31 )
۔۔۔ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَاب َ إِلَيَّ ۔۔۔ {15}
پیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیاہے۔

سورة البقرة ( 2 )
۔۔۔ وَاللهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ {258}
اور اللہ ظالموں کو راہ ِراست نہیں دکھایا کرتا۔

سورة البقرة ( 2 )
۔۔۔ وَاللهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ {264}
اورکافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے۔

سورة المائدة ( 5 )
وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ {108}
اللہ نافرمانی کرنے والوں(فاسقوں) کو ہدایت نہیں دیتا۔

سورة النساء (4)
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَظَلَمُواْ لَمْ يَكُنِ اللّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلاَ لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقاً {168} إِلاَّ طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللّهِ يَسِيرًا {169}
جن لوگوں نے کفر و بغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم و ستم پر اتر آئے ہیں اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئي راستہ بجز جہنم کے راستے کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کے لیے یہ بہت آسان ہے۔

سورة النحل ( 16 )
إِنَّ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللّهِ لاَ يَهْدِيهِمُ اللّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ {104}
جو لوگ اللہ کی آیت کو نہیں مانتے اللہ ان کو کبھی ہدایت (صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق)نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

سورة غافر ( 40)
۔۔۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ {28}
اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرجانےوالا اور کذاب ہو۔

سورة الزمر ( 39 )
أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ {3}
خبردار ، دین خالص اللہ کا حق ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں(اور اپنے اس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتےہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں، اللہ یقیناًان کےدرمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو۔

سورة الأعراف ( 7 )
سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ آيَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا وَإِن يَرَوْاْ سَبِيلَ الرُّشْدِ لاَ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلاً وَإِن يَرَوْاْ سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلاً ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا وَكَانُواْ عَنْهَا غَافِلِينَ {146}
میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی نگاہیں پھیردونگا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں ، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائيں گے، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پرواہی کرتے رہے۔:

سورة الأنعام ( 6 )
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ {144}
پھراس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط رہنمائي کرے۔ یقیناً اللہ ایسے ظالموں کو راہِ راست نہیں دکھاتا۔

سورة القصص ( 28 )
۔۔۔ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ {50}
اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا۔

سورة الصف (61)
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَى إِلَى الْإِسْلَامِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ {7}
اب بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جا رہی ہو؟ا یسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔

سورة فاطر ( 35 )
أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا فَإِنَّ اللهَ يُضِلُّ مَن يَشَاء وَيَهْدِي مَن يَشَاء ۔۔۔ {8}
(بھلا کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا) جس کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اسے اچھا سمجھ رہا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ ِراست دکھا دیتا ہے۔

سورة الأنعام ( 6 )
فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاء كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ {125} وَهَ۔ذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا قَدْ فَصَّلْنَا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ {126}
پس (یہ حقیقت ہے کہ)اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے کہ(اسلام کا تصور کرتے ہی ) اُسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے۔اس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی)نا پاکی اُن لوگوں پر مسلط کر دیتا ہےجو ایمان نہیں لاتے، حالانکہ یہ راستہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات اُن لوگوں کےلیے واضح کردیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔
 
معاف کیجیے گا خاں صاحب ! کہ شاید یہ آپ پر یہ گراں گزرا۔
بہرحال آپ نے جو ترجمہ پیش کیا تھا وہ مولانا احمد علی لاہوری صاحب کا ہے:

اور وہ اس کی وضاحت "قرآن عزیز" (قران حکیم کا ترجمہ مع حواشی) کے حاشیہ میں ربط آیات کے عنوان کے تحت یوں فرماتے ہیں:

حوالہ
یعنی آیت سے ماخوذہ مفہوم آپ کا اپنا ہے نہ کہ مترجم کا جس کی تفہیم کے لیے آپ نے ترجمہ کی تقطیع اور تلوین کا سہارا لیا۔
لہذا آئندہ گفتگو اپ کے پیش کردہ مفہوم کے متعلق ہو گی ۔

برادر محترم،
یہ بھلا کیا بات ہوئی۔ آپ اوپن برہان پر مولانا احمد علی کا میرا دیا ہوا حوالہ، دوسری سائٹ سے دوبارہ فراہم کرکے کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں؟
پھر یہ بات تو درست ہے اور میں نے بھی لکھی ہے کہ رسول اکرم کو خاص اجازت دو عدد ممنوع کی دی گئی۔ جو عام مسلمانوں کو نہیں دی گئی۔ آپ تھوڑی تکلیف کیجئے اور یہ دھاگہ سارے کا سارا پڑھ لیجئے۔ آپ نے اپنے انڈر لائین کئے ہوئے کو بھی واضح نہیں کیا۔ اور نا ہی آپ نے اس مراسلے پر نظر ڈالی جس میں کوئی ترجمہ نہیں ہے۔ تھوڑی تکلیف فرمائیے پھر بات کرتے ہیں۔

والسلام
 

انتہا

محفلین
بہت آسان سی بات ہے جسے ایک معمولی فہم رکھنے والا بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ بات صرف آخری نوعیت کے لیے فرمائی جا رہی ہے۔
اور اس مسلمان عورت کو بھی جو بلاعوض اپنے کوپیغمبر کو دے دے بشرطیکہ پیغمبر اس کو نکاح میں لانا چاہے یہ خالص آپ کے لیے ہے نہ اور مسلمانوں کے لیے
اب خان صاحب پتا نہیں اسے پچھلے سیاق و سباق سے جوڑنے کے کیوں چکر میں ہیں؟؟
اب تک تو کسی محدث وفقیہ کہ نظر اس تک نہیں پہنچی، یہ اپنی تحقیق میں نرالے ہیں۔
یہی نتیجہ ہوتا ہے ٹامک ٹوئیاں مارنے کا۔
وَمَا یُضِلُّ بِہ اِلَّا الْفٰسِقِیْن
 

footprints

محفلین
فوٹ پرنٹ صاحب، جو میں نے پیش کیا اس کی ذًہ داری مجھ پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ جو کچھ آپ نے انڈر لائین کیا اس پر بھی خیال آرائی کرچکا ہوں۔ آپ اپنا خیال پیش کیجئے۔
ترجمے کا لنک موجود ہے۔ سارے حوالے بھی موجود ہیں۔ لنک پر کلک کیجئے اور حوالہ دیکھ لیجئے۔ نحوی تحلیل کا لنک بھی موجود ہے ۔ لیکن آپ کا مدعا میری سمجھ سے باہر ہے۔ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں یہ بھی واضح نہیں ہے۔ اگر ترجمہ درست نہیں تو درست ترجمہ پیش کیجئے اور آگے بڑھئے۔ لگتا ہے کچھ اٹک گیا ہے ۔ یہ آخری بار ہے اگر آپ کوئی بامعانی بات نہیں پیش کرتے تو آپ کو مستقل اگنور لسٹ پر ڈالنے جا رہا ہوں۔

جو کچھ آپ نے انڈر لائین کیا اس پر بھی خیال آرائی کرچکا ہوں
محترم خان صاحب ! جناب سے بندہ اسی خیال آرائی کی بابت ہی تو مستقل دریافت کرنا چارہا ہے کہ اس آپ کی اس خیال آرائی کی کوئی علمی دلیل تو ہو گی جس سے آپ کے اس خیال کو سمجھنے میں سہولت ہوگی ۔
اور آپ اپنی اس گفتگو کا حوالہ مت دیجیے گا۔
سوال یہ ہے کہ باقی مومنین کو کس "ممنوع" سے روکا گیا ہے؟​

کچھ لوگوں کا یہ نظریہ بھی ہے کہ -- اس خاص اجازت کا اطلاق​
صرف اور صرف دوسرے نمبر کے "ممنوع"​
----​
وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا ---
پر ہوتا ہے​
ایسا ممکن نہیں ۔ اس کے دو عدد جواز ہیں۔​
1۔ یہ تو بالکل سامنے کی بات ہے اور درست ہے کہ کم از کم دوسرا "ممنوع" عام مومنین کے لئے نہیں ہے ۔ لیکن اس جملے میں​
رسول اکرم صلعم کو دو قسم کی عورتوں سے شادی کی اجازت​
دی گئی ہے​
جس کی شرط ہے کہ اگر نبی اکرم چاہی​
ں۔ وہ دو قسمیں ہیں​
"فرسٹ کزن سسٹرز"​
اور​
"خود کو تحفہ کرنے والی مومنات"​
ان دونوں کو​
زمانہء حال میں اجازت دی جارہی​
ہے تو کیا وجہ ہے کہ نبی کے لئے اس خاص اجازت کو ان دونوں میں سے صرف ایک قسم​
"خود کو تحفہ کرنے والی مومنات"​
تک محدود رکھا جائے​

2۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ 4:23 میں حرام کی جانے والی "بہنوں" میں "فرسٹ کزن سسٹرز" شامل ہیں۔ ورنہ 33:50 میں خاص طور نبی اکرم صلعم کو اس اجازت کو دینے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی ۔ اسی طرح بناء مہر کے اپنے آپ کو تحفہ کرنے والی بھی منع تھیں، نبی اکرم کے لئے خاص طور پر ان دو ممنوع کردہ خواتین کو جائز قرار دیا گیا جبکہ باقی مسلمانوں کو یہ خاص اجازت نہیں دی گئی۔​
اس میں تو آپ نے اپنے خیال کو بنیاد بنا کر عمارت کی تعمیر کی ہے اور اپنے خیال سے متعارض خیال کی نفی کی ہے۔ جبکہ آپکی فکر سے متعارض خیال کی بنیادیں علمی ہیں اور اپنی تاریخ رکھتی ہیں ۔ لہذا کیا آپ اپنے خیال کی علمی وضاحت پیش کر سکتے ہیں؟ براہ مہربانی اپنی رائے کو قرآن حکیم کے متن ہی واضح کیجیے گا کیوں میں آپ کی خدمت میں بارہا یہ بات پیش کر چکا ہوں کہ متن قرآنی آپکی رائے سے متصادم ہے جس کی وضاحت آپ نے نہیں کی۔

۔ یہ آخری بار ہے اگر آپ کوئی بامعانی بات نہیں پیش کرتے تو آپ کو مستقل اگنور لسٹ پر ڈالنے جا رہا ہوں۔
بہت خوب اور آپکی توجہ کے لیے!
 
غیر مسلم بھی سو فیصد متفق نہیں ہوتے۔۔۔ :)
کیونکہ میڈیکل سائنس یہ نہیں کہتی کہ ہر کزن میرج کے نتیجے میں نقائص واقع ہوں گے، ہاں یہ ضرور کہتی ہے کہ اس کے چانسز نان کزن میرجز کی نسبت ذرا زیادہ ہوتے ہیں۔


کزن میرج میں بچوں میں نقائص چالیس کے قریب پہنچ کر شادی کرنے والی خواتین میں تقریبا برابر ہیں یعنی عام شادی کے مقابلے میں دو یا تین فیصد زیادہ۔

امریکہ میں یہ پابندی 1965 کی خانہ جنگی کے دوران لگائی گئی تھی اور اس کی بنیاد ٹھوس سائنسی تحقیق نہیں بلکہ سیاسی مقاصد تھے۔

اب اس کی سائنسی بنیادیں بہت کمزور پڑ چکی ہیں اس کے لیے موقر سائنسی جریدے کا مضمون پڑھ لیں

کزن میرج ٹھیک ہے
 
محترم خان صاحب ! جناب سے بندہ اسی خیال آرائی کی بابت ہی تو مستقل دریافت کرنا چارہا ہے کہ اس آپ کی اس خیال آرائی کی کوئی علمی دلیل تو ہو گی جس سے آپ کے اس خیال کو سمجھنے میں سہولت ہوگی ۔
اور آپ اپنی اس گفتگو کا حوالہ مت دیجیے گا۔

اس میں تو آپ نے اپنے خیال کو بنیاد بنا کر عمارت کی تعمیر کی ہے اور اپنے خیال سے متعارض خیال کی نفی کی ہے۔ جبکہ آپکی فکر سے متعارض خیال کی بنیادیں علمی ہیں اور اپنی تاریخ رکھتی ہیں ۔ لہذا کیا آپ اپنے خیال کی علمی وضاحت پیش کر سکتے ہیں؟ براہ مہربانی اپنی رائے کو قرآن حکیم کے متن ہی واضح کیجیے گا کیوں میں آپ کی خدمت میں بارہا یہ بات پیش کر چکا ہوں کہ متن قرآنی آپکی رائے سے متصادم ہے جس کی وضاحت آپ نے نہیں کی۔


بہت خوب اور آپکی توجہ کے لیے!
برادر محترم،
آپ اس مراسلے کو دیکھئے جس میں ترجمہ نہیں پیش کیا گیا بلکہ صرف عربی متن بناء کسی ترجمے کے پیش کیا گیا ہے ، اس میں آیت کا تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے ۔ آپ دیکھ لیں تو پھر بات کرتے ہیں۔ اس میں صرف اور صرف قرآن کے متن سے ہی سمجھایا گیا ہے کہ اس آیت میں کیا درج ہے۔ آپ تکلیف فرمائیے اور بتائیے کہ اس آیت کی تحلیل میں کیا درست نہیں ۔ اور متن قرآنی کہاں کس رائے سے متصادم ہے۔ اب تک آپ ہوئی تیر چلا رہے ہیں کوئی مناسب نکتہ سامنے نہیں آیا ہے۔ کیا آپ میرا اور اپنا وقت برباد کررہے ہیں؟

آپ کی آسانی کے لئے میرے اس مراسلے کا اقتباس۔ اس میں بتائیے کہ کس حصے پر آپ کا اعتراض ہے اور کیوں؟

چونکہ آپ نے پوچھا لہذا میرا فرض بنتا ہے کہ اس آیت کو مناسب مقامات پر توڑ کر دکھایا جائے۔

ايَاأَيُّهَا النَّبِيُّ
إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ
وَ بَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا
خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ
قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

پہلا جملہ ۔۔ رسول اکرم صلعم سے خطاب
دوسرا جملہ ۔۔۔ ماضی میں جو رسول اکرم کرچکے ہیں ، اس کے درست ہونے کا بیان ہے۔ پاسٹ پرفیکٹ ٹینس ہے
تیسرا جملہ ۔۔۔ ۔ مستقبل میں جس کام کی خاص اجازت دی گئی۔ مکہ سے آئی ہوئی کزنزسے شادی اور وہ عورتیں جو اپنے آپکو رسول اکرم کے لئے تحفتہ پیش کردیں۔ یہ پریزینٹ اندڈیفینیٹ اور پریزینٹ کنٹینیؤس ٹینس میں ہے۔لہذا الگ جملہ ہے
چوتھا جملہ --- اس کا اطلاق صرف مستقبل کے لئے خاص اجازت یعنی تیسرے جملے پر ہو سکتا ہے جو کہ صرف مستقبل میں ممکن ہے۔۔ اس میں دوسرے مسلمانوں کو اپنی کزنز سے شادی کی ممانعت اور عورتوں کو تحفتہ کے طور پر قبول کرنے کے ممانعت دونوں آگئیں۔
پانچواں جملہ۔ ماضی میں دئے گئے حکم کو دہرایا گیا کہ ان مومنین کے لئے ان کی ازواج اور ملکت ایمانھم کے لئے کیا کیا حکم دیا گیا اس کا اعادہ۔

تجزیہ حاضر ہے ۔ سمجھنا آپ کا کام ہے۔تجزیہ کا لنک
والسلام
 

ساجد

محفلین
کزن میرج میں بچوں میں نقائص چالیس کے قریب پہنچ کر شادی کرنے والی خواتین میں تقریبا برابر ہیں یعنی عام شادی کے مقابلے میں دو یا تین فیصد زیادہ۔

امریکہ میں یہ پابندی 1965 کی خانہ جنگی کے دوران لگائی گئی تھی اور اس کی بنیاد ٹھوس سائنسی تحقیق نہیں بلکہ سیاسی مقاصد تھے۔

اب اس کی سائنسی بنیادیں بہت کمزور پڑ چکی ہیں اس کے لیے موقر سائنسی جریدے کا مضمون پڑھ لیں

کزن میرج ٹھیک ہے
محب علوی بہت شکریہ کہ مجھے مطالعہ کے لئے ایک بہترین سائٹ فراہم کر دی۔ آج کل میں اپنے بُک مارکس کی چھانٹی کر رہا ہوں۔ اگر مزید ہوں تو مجھے ذاتی پیغام میں ان کے روابط بھیج دیں۔
 
محب علوی بہت شکریہ کہ مجھے مطالعہ کے لئے ایک بہترین سائٹ فراہم کر دی۔ آج کل میں اپنے بُک مارکس کی چھانٹی کر رہا ہوں۔ اگر مزید ہوں تو مجھے ذاتی پیغام میں ان کے روابط بھیج دیں۔

ساجد ، شکریہ کرکے شرمندہ نہ کریں اور مضامین اور مشاغل کی فہرست مہیا کر دیں ذاتی پیغام میں۔ میں انشاءللہ ان پر آپ کو ویب سائٹس مہیا کرتا رہوں گا اور ساتھ ساتھ کچھ تبادلہ خیال بھی کرتے رہیں گے۔
 

ساجد

محفلین
ساجد ، شکریہ کرکے شرمندہ نہ کریں اور مضامین اور مشاغل کی فہرست مہیا کر دیں ذاتی پیغام میں۔ میں انشاءللہ ان پر آپ کو ویب سائٹس مہیا کرتا رہوں گا اور ساتھ ساتھ کچھ تبادلہ خیال بھی کرتے رہیں گے۔
جی بالکل متفق ہوں آپ سے۔
 
کزن میرج میں بچوں میں نقائص چالیس کے قریب پہنچ کر شادی کرنے والی خواتین میں تقریبا برابر ہیں یعنی عام شادی کے مقابلے میں دو یا تین فیصد زیادہ۔

امریکہ میں یہ پابندی 1965 کی خانہ جنگی کے دوران لگائی گئی تھی اور اس کی بنیاد ٹھوس سائنسی تحقیق نہیں بلکہ سیاسی مقاصد تھے۔

اب اس کی سائنسی بنیادیں بہت کمزور پڑ چکی ہیں اس کے لیے موقر سائنسی جریدے کا مضمون پڑھ لیں

کزن میرج ٹھیک ہے
ہائے اوئے اے کی ہوگیا۔
 

footprints

محفلین
برادر محترم،
آپ اس مراسلے کو دیکھئے جس میں ترجمہ نہیں پیش کیا گیا بلکہ صرف عربی متن بناء کسی ترجمے کے پیش کیا گیا ہے ، اس میں آیت کا تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے ۔ آپ دیکھ لیں تو پھر بات کرتے ہیں۔ اس میں صرف اور صرف قرآن کے متن سے ہی سمجھایا گیا ہے کہ اس آیت میں کیا درج ہے۔ آپ تکلیف فرمائیے اور بتائیے کہ اس آیت کی تحلیل میں کیا درست نہیں ۔ اور متن قرآنی کہاں کس رائے سے متصادم ہے۔ اب تک آپ ہوئی تیر چلا رہے ہیں کوئی مناسب نکتہ سامنے نہیں آیا ہے۔ کیا آپ میرا اور اپنا وقت برباد کررہے ہیں؟
والسلام
بہت خوب رہی ! محترم آپ نے کسی سوال کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ خیر یہ انداز آپ ہی کو مبارک ہو۔
آپ مستقل میرے ایک بنیادی سوال سے گریزاں ہیں اور مذکورہ آیت کی نحوی تشریح پر آمادہ نہیں ، اور تجزیہ کرتے ہیں تو مفردات کا اور ان کے سیاق سے تعلق کو واضح نہیں کرتے اور اگر ان سے عبارت کا حوالہ دے کر بات کریں تو اسے گول کر دیتے ہیں اور مزید اسائینمنٹ سوال کرنے والے کے لیے، خود کا پورا خیال ہی ہوا میں بلکہ خلا میں اور دوسروں کے لیے طعنے، اور جناب کے انداز کے کیا کہنے!
 
بہت خوب رہی ! محترم آپ نے کسی سوال کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ خیر یہ انداز آپ ہی کو مبارک ہو۔
آپ مستقل میرے ایک بنیادی سوال سے گریزاں ہیں اور مذکورہ آیت کی نحوی تشریح پر آمادہ نہیں ، اور تجزیہ کرتے ہیں تو مفردات کا اور ان کے سیاق سے تعلق کو واضح نہیں کرتے اور اگر ان سے عبارت کا حوالہ دے کر بات کریں تو اسے گول کر دیتے ہیں اور مزید اسائینمنٹ سوال کرنے والے کے لیے، خود کا پورا خیال ہی ہوا میں بلکہ خلا میں اور دوسروں کے لیے طعنے، اور جناب کے انداز کے کیا کہنے!

آپ کا میرا تجزیہ کرنے کا شکریہ۔
بھائی نا آپ کا کوئی سوال واضح ہے اور نا ہی آیت کا تجزیہ۔

آپ اپنا تجزیہ اپنی نحوی تشریح ، اپنا ترجمہ فراہم کرکے سمجھائیے کہ اس آیت کے بارے میں آپ کا اپنا فہم کیا ہے اور سمجھائیے کہ اس آیت کو سمجھنے میں غلطی کیا کی ہے ۔ تاکہ ہم جیسوں کے لئے بھی ہدایت کا راستہ کھل جائے۔۔

والسلام
 
ذاتی اٹیک میں بھی آپ پر 301 کر سکتا ہوں :) ۔۔۔ لیکن ذاتی اٹیک کرنے کے بجائے، ایسے تبصرات کو گاربیج بن میں ڈالنا بہتر ہوگا۔ کوئی کام کی بات کرو سر جی۔
آپ آیت پر غور کریں اور بتائیےکہ اس آیت میں کیا لکھا ہے۔ مجھے اندازا ہے کہ شیطانیت پرست ، اللہ کے فرمان قرآن حکیم سے بہت دور بھاگتے ہیں۔ آیات چھوڑ کر شیطانیوں پر اتر آتے ہیں۔
واہ بہت خوب۔کیا خوبصورت بات کی ہے۔
جس بات کا جواب مانگو اس کو گاربیج میں ڈال دیتے ہیں اور دوسروں کو شیطانیت پرست کہتے ہیں سبحان اللہ
 
نایاب بھائی نے جو حوالہ عادل سہیل صاحب کا دیا ہے اور اس کے آگے خان صاحب نے جو لکھا ہے، اس کے بعد تو انہیں کچھ کہنا ہی نہیں چاہیے۔
سیانے کہتے ہیں رسی جل گئی پر بل نہیں گیا۔یہاں بھی وہی ماجرا ہے
 

footprints

محفلین
آپ کا میرا تجزیہ کرنے کا شکریہ۔
بھائی نا آپ کا کوئی سوال واضح ہے اور نا ہی آیت کا تجزیہ۔
آپ اپنا تجزیہ اپنی نحوی تشریح ، اپنا ترجمہ فراہم کرکے سمجھائیے کہ اس آیت کے بارے میں آپ کا اپنا فہم کیا ہے اور سمجھائیے کہ اس آیت کو سمجھنے میں غلطی کیا کی ہے ۔ تاکہ ہم جیسوں کے لئے بھی ہدایت کا راستہ کھل جائے۔۔
والسلام
سوال ایک بار پھر ایک نئے پیرائےمیں آپ کے لیے حاضر ہے!

وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۔

مندرجہ بالا آیت میں "خَالِصَةً" کا تعلق کس سے ہے؟ "امْرَأَةً مُّؤْمِنَةً" سے ہے یا آیت میں واردہ تمام گزشتہ خواتین سے؟
اور ویسے میں نے نہ تو اپنے کسی فہم کی بات کی اور نہ ہی کوئی تجزیہ کیا بلکہ آپ ہی کی اپنی نصیحت کردہ ویب سائیٹ سے نحوی تشریح وضاحت پیش کی تو آپ ہمیشہ اس سے گریزاں رہے!
اور اللہ ہم سب کو ہدایت عطاء فرمائے۔ (اللهم اهدنا فيمن هديت) ۔ آمین
 

پپو

محفلین
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَ بِالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَمَا ہُمۡ بِمُؤۡمِنِیۡنَۘ﴿۸﴾
اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللّٰہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں

جیسا کہ بھائی فاروق سرور صاحب کہہ دیتے ہیں ۔اس آیت کا متعلقہ زیر بحث موضوع گفتگو سے کیا تعلق ۔ ٹھیک کہتے ہونگے۔ قرآن ایک زندہ و جاوید کتاب ہے یہ کتاب چونکہ خالق انسان کی طرف انسانی سوچ و فہیم پر بھی گفتگو کرتی ہے لہذا یہ کچھ ایسے لوگوں کے مائنڈ کے بارے میں بھی گفتگو کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس راہ میں کیسے لوگ ملیں گے ۔سب کو اپنا ساتھی نہ سمجھ لینا ۔
فرض کریں ایک آدمی نے لاہور سے اسلام آباد جانا ہے تو اسے کہا جائے گا بھائی سب سے پہلے یہاں سے لاری اڈا جانا ہے وہ اگر کہے بھائی میں اسلام آباد جانا چاہتا ہوں لاری اڈا کی بات ہی نہ کرو۔ اچھا چلو نہیں کرتے آپ گاڑی میں سوار ہوجائیں گاڑی پہلے گوجرانوالہ جائے گی۔ اگر وہ بھائی صاحب غصہ سے بولیں یار میں نے اسلام آباد جانا تو کیا مجھے کبھی لاری اڈا کبھی گوجرانوالہ لئے جا رہا ہے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں آپ اس کو راستہ ہی نہیں بتائیں گے ۔ کیونکہ وہ بند ہ رہنمائی چاہتا ہی نہیں ہے آپ کس سنا رہے ہیں ۔ یہ سب کچھ مجھے اس لئے لکھنا پڑا کہ نایاب بھائی کی درج کردہ آیات کو اس بنا رد کر دیا گیا کہ موضوع سے ہٹ کر تھیں نایاب بھائی جو کچھ بتانا چاہ رہے تھے وہ واضح نہ کر سکے میں اس کی وضاحت بھی دونگا نایاب بھائی وہ آیات جن کا ذکر فاروق صاحب نے کیا متشبہات سے ہے ہی نہیں وہ تو محکم آیت ہے
اب اسی تناظر میں میری ساری بحث‌ کو دیکھا جائے جو آیات میں نے اوپر درج کی وہ دراصل ایک انسانی سوچ کی عکاس ہیں کہ کچھ لوگ ہوں جو کہیں گے ہم ایمان لائے مگر وہ صاحب ایمان نہیں ہونگے
اب میں ان آیات کو مکمل نقل کرتا ہوں جو انسان کی اندر کی نفسیات کو کھول کر رکھ دیتا ہے
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَ بِالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَمَا ہُمۡ بِمُؤۡمِنِیۡنَۘ﴿۸﴾
اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللّٰہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں ہیں

یُخٰدِعُوۡنَ اللہَ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَمَا یَخْدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَمَا یَشْعُرُوۡنَؕ﴿۹﴾
فریب دینا چاہتے ہیں اللّٰہ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں یہ فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں اس کا شعوربھی نہیں

فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللہُ مَرَضًا ۚ وَلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ ۬ۙ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ﴿۱۰﴾
ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللّٰہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَا تُفْسِدُوۡا فِی الۡاَرْضِ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوۡنَ﴿۱۱﴾
اورجب اُن سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں

اَلَاۤ اِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُوۡنَ وَلٰکِنۡ لَّا یَشْعُرُوۡنَ﴿۱۲﴾
سن لویہ ہیں وہی فسادی ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمْ اٰمِنُوۡا کَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡۤا اَنُؤْمِنُ کَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَہَآءُ ؕ اَلَاۤ اِنَّہُمْ ہُمُ السُّفَہَآءُ وَلٰکِنۡ لَّا یَعْلَمُوۡنَ﴿۱۳﴾
اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤجیسے اور لوگ ایمان لا ئے ہیں تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایما ن لے آئیں سنتاہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمْ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمْ ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہۡزِءُوۡنَ﴿۱۴﴾
اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں

اَللہُ یَسْتَہۡزِئُ بِہِمْ وَیَمُدُّہُمْ فِیۡ طُغْیٰنِہِمْ یَعْمَہُوۡنَ﴿۱۵﴾
اللّٰہ ان سے استہزاء فرماتا ہے اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

ان آیات کی روشنی میں آپ اپنے ارد گرد رہنے والوں لوگوں کو پرکھیں یہ آیات کفار کے لئے ہرگز نہیں ہیں یہ ایسے ہی مسلمانوں کے لئے ہیں جو ایمان کے دعوہ دار ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی کلی کھول کر بیان کر دی ہے

اب ہم دوسری طرف آتے ہیں ایک اور طرح کی سوچ رکھنے والے لوگ بھی ایمان کے دعوہ دار ہیں


اَلَاۤ اِنَّ لِلہِ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الۡاَرْضِ ؕ وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُرَکَآءَ ؕ اِنۡ یَّ۔تَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوۡنَ ﴿۶۶﴾
سن لو بیشک اللّٰہ ہی کے مِلک ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمینوں میں اورکس کے پیچھے جارہے ہیں وہ جو اللّٰہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے

فَاِنۡ لَّمْ یَسْتَجِیۡبُوۡا لَکَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوۡنَ اَہۡوَآءَہُمْ ؕ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَیۡرِ ہُدًی مِّنَ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۵۰﴾
پھر اگر وہ یہ تمہارا فرمانا قبول نہ کریں تو جان لو کہ بس وہ اپنی خواہشو ں ہی کے پیچھے ہیں اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللّٰہ کی ہدایت سے جدا بیشک اللّٰہ ہدایت نہیں فرماتا ظالم لوگوں کو


ایسے لوگ بھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دعوہ دار ہیں ایمان کے ہی مگر وہ پیروی کر رہے ہیں گمان کی اپنے گمان کو اور خواہش نفس کو ہی اپنا رہبرکر لیا ہے

اب ہم چلتے موضوع زیر بحث کی طرف بھائی فاروق ذرا یہ بتادیں نیچے دی گئی آیات کن رشتوں کو حرام قرار دے رہی ہیں ان میں ان رشتوں کا ذکر(جن کا تذکرہ آپنے کیا) اس لئے چھوڑ دیا گیا تاکہ آپ اور آنے لوگ اپنی من مانی تاویلات کرتے رہیں
وَلَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ فٰحِشَۃً وَّمَقْتًا ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۲۲﴾٪
اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو گزرا وہ بے شک بے حیائی اور غضب کا کام ہے اور بہت بری راہ

حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمْ اُمَّہٰتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَخٰلٰتُکُمْ وَبَنَاتُ الۡاَخِ وَبَنَاتُ الۡاُخْتِ وَاُمَّہٰتُکُمُ الّٰتِیۡۤ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمۡ مِّنَ الرَّضٰعَۃِ وَاُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبٰٓئِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیۡ دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ ۫ فَاِنۡ لَّمْ تَکُوۡنُوۡا دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ ۫ وَحَلٰٓئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیۡنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ ۙ وَ اَنۡ تَجْمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخْتَیۡنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿ۙ۲۳﴾
حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اُن بی بیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبییں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بے شک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے

حرمت کے تمام رشتے یہاں بیان کر دئیے گئے اس کے بعد کس بات کی گنجائش باقی بچتی ہے وہ بات متفق الیہ ہے کہ آپکی درج کردہ آیت کے آخر میں جو اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی وہ تعدد ازدواج کے حوالے سے ہے ناکہ آپ کی درج کردہ حرمت کے بارے میں
دوسری بات ہمارے اسلاف آج تک اس آیت کا وہ مطلب نہ نکال سکے جو آپ نے نکالا
تیسری بات آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ حلال و حرام کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضاحت فرما گئے اس بعد اس کی اجازت نہ کسی کو ہے اور نہ کوئی کر سکتا ہے
چوتھی بات ہو سکتا ہے کچھ لوگ مسلم معاشرتی نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہوں اور کچھ لوگ ان کے آلہ کار ہوں دانستہ یا غیر دانستہ
لَکُمْ دِینُکُمْ وَلِیَ دِینِ
تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top