یو بی ایل والٹ سے انٹرنیٹ پر خریداری اب اور بھی آسان

دنیا جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے، انٹرنیٹ کی اہمیت اور ضرورت میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے۔ انٹرنیٹ پر خریداری کا رجحان اگرچہ پاکستان میں اب نیا نہیں رہا لیکن اب تک یہ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور چند بڑے شہروں تک محدود تھا۔ اس کی وجہ دیگر شہروں میں کریڈٹ‌کارڈ کی سہولت موجود نہ ہونا تھی۔ لیکن۔۔۔۔

اب یو بی ایل نے اپنے اے ٹی ایم ڈیبٹ کارڈ کو انٹرنیٹ پر استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ اس طرح اب پاکستان کے تقریبآ تمام شہروں میں انٹرنیٹ پر خریداری ممکن ہوگئی ہے۔

یو بی ایل ڈیبٹ کارڈ کو انٹرنیٹ پر ایکٹویٹ کروانے کیلئے انٹرنیٹ رجسٹریشن فارم یو بی ایل کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ فارم پر کرکے یو بی ایل کو بذریعہ فیکس یا ای میل ارسال کریں اور چوبیس گھنٹے بعد آپ کا کارڈ انٹرنیٹ پر استعمال کیلئے تیار ہوگا!!

یو بی ایل اے ٹی ایم کارڈ کے انٹرنیٹ پر استعمال کے چارجز فی سیشن صرف ایک سو روپے ہیں جو کہ کریڈٹ کارڈ کے اخراجات کے تناسب میں کہیں کم ہیں (کیونکہ کریڈٹ کارڈ کی سالانہ فیس کے علاوہ انشورنس فیس، فی ٹرانزیکشن چارجز اور متعدد ٹیکسز بھی ایک بوجھ سے کم نہیں(۔

امید ہے، یو بی ایل کی یہ نئی سروس پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی اور انٹرنیٹ پر خریداری کے رجحان میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہیکنگ میں کمی کا باعث بھی بنے گی (کیونکہ اکثر لوگ کریڈٹ کارڈ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے چوری شدہ کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں(۔
 

کاشف رفیق

محفلین
معلومات دینے کا شکریہ۔

چند گزارشات؛
اگر یہ کارڈ ہی ہیک کرلیا گیا تو ہیکنگ مزید نہیں بڑھ جائے گی!

ویسے بینک الفلاح اور عسکری بینک کے کریڈٹ کارڈز کی سالانہ فیس کوئی نہیں ہے۔ اگر آپ بل کی مکمل ادائیگی بروقت کردیں تو بھی کوئی اضافی چارجز ادا نہیں کرنے ہوتے۔ مزید انٹرنیٹ پر استعمال کرنے کیلئے یہ کارڈ ہر سیشن کیلئے کھلوانے پڑتے ہیں تاکہ ہیکنگ کے خطرے سے بچا جاسکے۔
 
معلومات دینے کا شکریہ۔

چند گزارشات؛
اگر یہ کارڈ ہی ہیک کرلیا گیا تو ہیکنگ مزید نہیں بڑھ جائے گی!

ویسے بینک الفلاح اور عسکری بینک کے کریڈٹ کارڈز کی سالانہ فیس کوئی نہیں ہے۔ اگر آپ بل کی مکمل ادائیگی بروقت کردیں تو بھی کوئی اضافی چارجز ادا نہیں کرنے ہوتے۔ مزید انٹرنیٹ پر استعمال کرنے کیلئے یہ کارڈ ہر سیشن کیلئے کھلوانے پڑتے ہیں تاکہ ہیکنگ کے خطرے سے بچا جاسکے۔

الفلاح اور عسکری کے کارڈز پر سالانہ فیس تو نہیں ہے لیکن انشورنس چارجز اور رقم نکلوانے پر سود موجود ہیں۔ جبکہ یو بی ایل کے ڈیبٹ کارڈ پر ایسی کوئی فیس نہیں ہے۔ جہاں تک بات رہی کارڈ ہیک ہونے کی تو اس کا حل یو بی ایل نے اس طرح نکالا ہے کہ جب آپ انٹرنیٹ پر ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنا چاہیں، یو بی ایل کی مفت ہیلپ لائن پر کال کرکے انٹرنیٹ کیلئے کارڈ ایکٹویٹ کروا لیں۔ ایکٹویشن کے لئے یو بی ایل آپ سے استعمال کا دورانیہ اور زیادہ سے زیادہ رقم پوچھے گا۔ ایکٹویشن کے بعد آپ اپنا کارڈ انٹرنیٹ پر استعمال کرسکیں گے۔ اس طرح ہیکنگ کا کوئی خطرہ نہیں رہتا تا آنکہ آپ اپنا خفیہ کی ورڈ اور دیگر ذاتی معلومات (اپنے یو بی ایل اکاؤنٹ سے متعلقہ( کسی سے شیئر نہ کریں۔
 

شہزاد وحید

محفلین
جدید دور جہاں ہر میدان میں آسانیاں مہیا کر رہا ہے وہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر ہر کام بیٹھے بیٹھے کر لیا جائے تو چلنا پھرنا بلکل چھوٹ جائے گا۔پہلے ہی بڑھتی ہوئی آرام طلبی کی وجہ سے انسانی بیماریاں بڑھ گئی ہیں، پہلے لوگ ہر کام ہاتھ سے اور دور دور کا سفر پیدل کیا کرتے تھے تو ان کی زندگیاں لمبی اور صحت اچھہ ہوتی تھی۔آج جے دور میں ہر کام بیٹھے بٹھائے اور مشین ک زریعے ہو رہا ہے اور اب تو شاپنگ کے لئیے بھی بازار جانے کی ضرورت نہیں تو اپنے اعضا کو حرکت میں رکھنے کا بھی کوئی معقول انتظام ہونا چاہیے۔
 

شمشاد

لائبریرین
معقول انتظام تو یہی ہے کہ باقی کاموں سے وقت کی بچت ہی بچت ہے تو ورزش کریں۔ صبح شام ورزش کریں۔ اس سے صحت اچھی رہتی ہے۔
 
Top