ہم نے کہا " چلو تمہیں دُور یہاں سے لے چلیں " - مصحف اقبال توصیفی

ظفری

لائبریرین
ہم نے کہا " چلو تمہیں دُور یہاں سے لے چلیں "
کہتی ہے " ٹھیک ہے مگر " اب اس " مگر " کا کیا کریں​

اپنا تو اک چراغ تھا ، جس کو ہوا بجھا گئی
ہم نہیں جانتے انہیں ، شمس و قمر کا کیا کریں​

قیس کی بات اور تھی ، اس کا نہ کوئی گھر نہ ٹھور
یہ جو ہمارے ساتھ اک گھر بھی ہے ، گھر کا کیا کریں​

اوروں کے سامنے رہے ہم ، بڑی آن بان سے
اپنی نظر سے گر گئے ، اپنی نظر کا کیا کریں​

( مصحف اقبال تو صیفی )​
 

نایاب

لائبریرین
السلام علیکم
محترم ظفری بھائی
بہت خوب
مصحف اقبال تو صیفی جی کا خوب کلام ہے ۔
نایاب
 

ظفری

لائبریرین
استادِ محترم ۔۔ ! شکریہ تو مجھے آپ کا ادا کرنا چاہیئے کہ آپ نے اتنا اچھا مجموعہ برقیایا ۔ اقبال صاحب کی شاعری میں مجھے اپنی زبان ملی ہے ۔ بہت ہی خوبصورت شاعری ہے ۔ اقبال صاحب نے میرا شکریہ ادا کیا ہے تو یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میرا تذکرہ ان کی زبان پر آیا ۔ میں آپ دونوں کے لیئے دعا گو ہوں ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
اوروں کے سامنے رہے ہم ، بڑی آن بان سے
اپنی نظر سے گر گئے ، اپنی نظر کا کیا کریں

خوبصورت غزل کے لئے شکریہ!
 
Top