ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا (باصؔر سلطان کاظمی)

نیرنگ خیال نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 28, 2016

  1. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا
    کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں سر بھی گئے تو کیا

    اٹھتی رہیں گی درد کی ٹیسیں تمام عمر
    ہیں زخم تیرے ہاتھ کے بھر بھی گئے تو کیا

    ہیں کون سے بہار کے دن اپنے منتظر
    یہ دن کسی طرح سے گزر بھی گئے تو کیا

    اک مکر ہی تھا آپ کا ایفائے عہد بھی
    اپنے کہے سے آج مکر بھی گئے تو کیا

    ہم تو اسی طرح سے پھریں گے خراب حال
    یہ شعر تیرے دل میں اتر بھی گئے تو کیا

    باصؔر تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں
    بیمار ہو؟ پڑے رہو، مر بھی گئے تو کیا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    اعلیٰ غزل ہے باصر ابن ناصر کی
    شراکت کے لیے تشکر نین بھائی ۔۔۔۔بے حد
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ فلک بھائی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر