ہر ایک رُت میں اداس نسلوں‌نے خواب دیکھے۔۔زاہد فخری

فرحت کیانی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 28, 2007

  1. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,984
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    ہر ایک رُت میں اداس نسلوں‌نے خواب دیکھے
    وطن میں فصلِ بہار دیکھی گلاب دیکھے

    ہر ایک موسم کی ایک جیسی شبیہ دیکھی
    سبھی درختوں پہ ایک جیسے عذاب دیکھے

    جو بند آنکھوں سے بارشوں میں نہا رہے تھے
    کھلی جو آنکھیں تو دشت دیکھا سراب دیکھے

    کسے خبر ان اجڑی آنکھوں کا راز کیا ہے
    کوئی مسافر کبھی یہ شہرِ خراب دیکھے

    وہ جس میں اپنے گھروں کے لٹنے کا تذکرہ ہے
    لہو ہے جس کے ورق ورق پر وہ باب دیکھے

    اگر وہ فخری! محبتوں کا ثبوت مانگے
    تو اس سے کہنا وہ ہجرتوں کی کتاب دیکھے

    ۔۔زاہد فخری
     
  2. سارہ خان

    سارہ خان محفلین

    مراسلے:
    15,819
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    زبردست ۔۔۔:clapp::clapp:
     
  3. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,612
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    جو بند آنکھوں سے بارشوں میں نہا رہے تھے
    کھلی جو آنکھیں تو دشت دیکھا سراب دیکھے


    خوب ۔۔۔۔
     

اس صفحے کی تشہیر