"گھر والی - باہر والی"

جبھی آپ کے نام کے دونوں جز بکثرت اشعار میں پائے جاتے ہیں۔:)

کہانی کار نے بات پھر وہیں سے شروع کی جہاں دم لینے کو رکا تھا۔

’’۔۔۔ اے لو! دیکھا آپ نے بوا؟ آج کل کے لمڈے بڑے بڑوں کے کان کاٹتے ہیں! کیا ہمارا زمانہ ہوتا تھا، ائے ہئے! ایک سے ایک آگے ہے آج کل۔ اے، یہ کل کی لڑکیاں بات کرتی ہیں تو دیدے بھی پھاڑ کے کرتی ہیں منہ پھٹ کہیں کی۔ اور بوا! ہمیں تو یہ کہتے بھی لاج آتی ہے کہ یہ لمڈے! توبہ توبہ توبہ، دیدے پھٹے رکھتے ہیں ہر وقت۔ اب ہمارا منہ اور مت کھلوائیے۔‘‘ نصیبن بوا کی بات شیطان کی آنت کو بھی مات دے گئی۔ چندن بوا نے کتنی جمائیاں لی اور جان بوجھ کے منہ سے لمبی سی ’’آ ا ا ا‘‘ بھی نکالی، اپنے ناخونوں سے بھی کھیل کے دکھایا پر منہ سے کچھ نہ کہا، کہ ’بوا ہمارے دماغ کی دہی تو بن چکی، اب کیا لسی بنائیے گا؟‘۔ چندن بوا کی یہی خاموشی اُن کا قصور ٹھہری۔ بڑی بوا نے جو یہ جانا کہ ’واں ایک خامشی ہے ۔۔۔‘ تو بہت جزبز ہوئیں۔ ’’آپ‘‘ سے ایک دم ’’تو‘‘ پی اتر آئیں: ’’اے سنتی نہیں کیا؟ ہم تجھ سے بات کر رہے ہیں، دیواروں سے نہیں۔ پر تُو بھی تو دیوار ہے سدا کی۔ اے لو، کوئی آج کی بات تھوڑی ہے۔ اے ہے، لڑکی! کچھ منہ سے تو پھوٹ! کیا اپنے ہی ناخونوں کا خون کئے دے رہی ہے ۔۔۔‘‘

کہانی کار نے سر اٹھا کے دیکھا تو وہاں تھا ہی کوئی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔ فی البدیہہ​
۔۔
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
اسمیں عجیب کیا؟؟؟؟
سرسری سا ذکر تھا اک سرسری نے کر دیا​
سچ یہی ہے مہ جبیں، اک سرسری سی بات تھی​
پوچھتی کیوں آپ ہیں اس بات کی تفصیل اب؟​
جانے دیجے، گم بھی کیجے، اک ذری سے بات تھی!​
 

مہ جبین

محفلین
سرسری ذکر کو سرسری طور پر ہم نے جانے دیا​
اور گم کردیا ،ڈبہ بند کردیا ، ٹھیک کاشف بھیا؟؟؟​
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
سرسری ذکر کو سرسری طور پر ہم نے جانے دیا​
اور گم کردیا ،ڈبہ بند کردیا ، ٹھیک کاشف بھیا؟؟؟​
واہ واہ! بہت خوب بہنا۔ بہت خوب۔ اسی دن کا انتظار تھا! عینی شاہ کے بعد، آخر میں نے آپ کو بھی شاعری پر لگا ہی دیا!!
 

مہ جبین

محفلین
کہانی کار نے بات پھر وہیں سے شروع کی جہاں دم لینے کو رکا تھا۔

’’۔۔۔ اے لو! دیکھا آپ نے بوا؟ آج کل کے لمڈے بڑے بڑوں کے کان کاٹتے ہیں! کیا ہمارا زمانہ ہوتا تھا، ائے ہئے! ایک سے ایک آگے ہے آج کل۔ اے، یہ کل کی لڑکیاں بات کرتی ہیں تو دیدے بھی پھاڑ کے کرتی ہیں منہ پھٹ کہیں کی۔ اور بوا! ہمیں تو یہ کہتے بھی لاج آتی ہے کہ یہ لمڈے! توبہ توبہ توبہ، دیدے پھٹے رکھتے ہیں ہر وقت۔ اب ہمارا منہ اور مت کھلوائیے۔‘‘ نصیبن بوا کی بات شیطان کی آنت کو بھی مات دے گئی۔ چندن بوا نے کتنی جمائیاں لی اور جان بوجھ کے منہ سے لمبی سی ’’آ ا ا ا‘‘ بھی نکالی، اپنے ناخونوں سے بھی کھیل کے دکھایا پر منہ سے کچھ نہ کہا، کہ ’بوا ہمارے دماغ کی دہی تو بن چکی، اب کیا لسی بنائیے گا؟‘۔ چندن بوا کی یہی خاموشی اُن کا قصور ٹھہری۔ بڑی بوا نے جو یہ جانا کہ ’واں ایک خامشی ہے ۔۔۔ ‘ تو بہت جزبز ہوئیں۔ ’’آپ‘‘ سے ایک دم ’’تو‘‘ پی اتر آئیں: ’’اے سنتی نہیں کیا؟ ہم تجھ سے بات کر رہے ہیں، دیواروں سے نہیں۔ پر تُو بھی تو دیوار ہے سدا کی۔ اے لو، کوئی آج کی بات تھوڑی ہے۔ اے ہے، لڑکی! کچھ منہ سے تو پھوٹ! کیا اپنے ہی ناخونوں کا خون کئے دے رہی ہے ۔۔۔ ‘‘

کہانی کار نے سر اٹھا کے دیکھا تو وہاں تھا ہی کوئی نہیں۔

۔۔۔ ۔۔۔ ۔ فی البدیہہ
۔۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کہانی میں کہانی کار نے نصیبن بُوا کو مخاطب کیا ہے یا چندن بُوا کو؟؟؟؟:confused4:
 
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کہانی میں کہانی کار نے نصیبن بُوا کو مخاطب کیا ہے یا چندن بُوا کو؟؟؟؟:confused4:


یہ تو ہم نے بھی نہیں پوچھا، بوا! پر، ایک بات تو ہے، چلو کہنے کی حد تک ہی سہی کہ مخاطب کسی کو بھی کیا ہو، نصیبن بوا ہوں کہ چندن بوا، کہیں گی یہی کہ:
’’اے لو! بوا، سنا تم نے؟ نگوڑا کیا کہہ گیا تمہیں!؟‘‘

مادام گل بانو
 

مہ جبین

محفلین
ن

نامعلوم اول

مہمان
بجا ارشاد فرمایا ، اب میں آرام سے انتہائی بے تکی تک بندی کرتے ہوئے نہیں ڈروں گی :D
یہ ہوئی نہ بات!

میری شاگردی میں آ کر سارے بندے، بندیاں​
ٹنڈے، لنگڑے، لولے، بھینگے اور اندھے، اندھیاں​
بھول جاتے ہیں سبھی قانونِ شعر و شاعری​
شوق سے کرتے ہیں بے خوف و خطر، تک بندیاں!!​
 
بیگم کوجوسب کچھ بتا دو تو مزہ آ جائے
پھر سر پر چمٹے کے جلترنگ کا مزہ آ جائے:laugh:
بیگم کو سنائی تھی، بس اتنا جواب ملا کہ کیا کروں دودھ والا آج کل دودھ ہی اچھا نہیں لا رہا، چائے کا رنگ کیا خاک نکھرے گا؟
آپ آفس ہی جا کر لطف لیا کریں ;)
 
Top