"گھر والی - باہر والی"

’’تھا‘‘ ۔۔ ماضی بعید ۔۔
اپنے ہی جیسے (میرے ساتھی) ایک ’’بے چارے سفید پوش‘‘ کی بپتا، جو انہوں نے مجھ سے کہی۔ پس منظر صرف اتنا ہے کہ وہ ایک گاؤں سے آیا کرتے تھے، اور بس سٹینڈ سے دفتر تک یکے میں۔ ساہی وال ’’باہر والے اڈے‘‘ سے شہر کو ملانے والا پل جو کم و پیش دو کلومیٹر لمبا ہے، اور خاصا بلند ہے کہ اُس کے نیچے سے تہرا چوہرا ریلوے ٹریک، ایک نہر اس کی دونوں پٹڑیاں اور دو ذیلی سڑکیں گزرتی ہیں۔

کہنے لگے: ’’یار آج کوچوان نے اچھی نہیں کی میرے ساتھ‘‘
پوچھا: ’’کیا ہوا؟ کوئی جھگڑا تو نہیں ہو گیا؟‘‘
بولے: ’’نہیں یار، جھگڑا کیا ہونا تھا، پر اُس نے اچھی نہیں کی!‘‘
پوچھا: ’’ہوا کیا؟ کچھ بتاؤ تو!‘‘
بولے: ’’اس کا مریل سا گھوڑا آدھی چڑھائی پر ہانپنے لگا اور بہت سست پڑ گیا، تو پتہ ہے؟ اس نے کیا کِیا؟‘‘
کہا: ’’کچھ بتاؤ گے تو پتہ چلے گا نا!‘‘
بولے: ’’گھوڑے سے کہنے لگا ’دُر فِٹے منہ تیرا! تُردا کیویں اے جیویں انتی (29) تاریخ نوں کلرک تُردے نیں!‘ ‘‘
۔۔۔۔

آپس کی بات ہے بعد میں انتیس تو بہت دور، نَو تاریخ کو اِس سے بھی بُرا حال ہونے لگا تھا۔ اور اَب؟ پانچ سے آگے کی گنتی بھولنے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔
 
’’تھا‘‘ ۔۔ ماضی بعید ۔۔
اپنے ہی جیسے (میرے ساتھی) ایک ’’بے چارے سفید پوش‘‘ کی بپتا، جو انہوں نے مجھ سے کہی۔ پس منظر صرف اتنا ہے کہ وہ ایک گاؤں سے آیا کرتے تھے، اور بس سٹینڈ سے دفتر تک یکے میں۔ ساہی وال ’’باہر والے اڈے‘‘ سے شہر کو ملانے والا پل جو کم و پیش دو کلومیٹر لمبا ہے، اور خاصا بلند ہے کہ اُس کے نیچے سے تہرا چوہرا ریلوے ٹریک، ایک نہر اس کی دونوں پٹڑیاں اور دو ذیلی سڑکیں گزرتی ہیں۔

کہنے لگے: ’’یار آج کوچوان نے اچھی نہیں کی میرے ساتھ‘‘
پوچھا: ’’کیا ہوا؟ کوئی جھگڑا تو نہیں ہو گیا؟‘‘
بولے: ’’نہیں یار، جھگڑا کیا ہونا تھا، پر اُس نے اچھی نہیں کی!‘‘
پوچھا: ’’ہوا کیا؟ کچھ بتاؤ تو!‘‘
بولے: ’’اس کا مریل سا گھوڑا آدھی چڑھائی پر ہانپنے لگا اور بہت سست پڑ گیا، تو پتہ ہے؟ اس نے کیا کِیا؟‘‘
کہا: ’’کچھ بتاؤ گے تو پتہ چلے گا نا!‘‘
بولے: ’’گھوڑے سے کہنے لگا ’دُر فِٹے منہ تیرا! تُردا کیویں اے جیویں انتی (29) تاریخ نوں کلرک تُردے نیں!‘ ‘‘
۔۔۔ ۔

آپس کی بات ہے بعد میں انتیس تو بہت دور، نَو تاریخ کو اِس سے بھی بُرا حال ہونے لگا تھا۔ اور اَب؟ پانچ سے آگے کی گنتی بھولنے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔
:laugh::laugh::laugh:
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
کہنے لگے: ’’یار آج کوچوان نے اچھی نہیں کی میرے ساتھ‘‘
پوچھا: ’’کیا ہوا؟ کوئی جھگڑا تو نہیں ہو گیا؟‘‘
بولے: ’’نہیں یار، جھگڑا کیا ہونا تھا، پر اُس نے اچھی نہیں کی!‘‘
پوچھا: ’’ہوا کیا؟ کچھ بتاؤ تو!‘‘
بولے: ’’اس کا مریل سا گھوڑا آدھی چڑھائی پر ہانپنے لگا اور بہت سست پڑ گیا، تو پتہ ہے؟ اس نے کیا کِیا؟‘‘
کہا: ’’کچھ بتاؤ گے تو پتہ چلے گا نا!‘‘
بولے: ’’گھوڑے سے کہنے لگا ’دُر فِٹے منہ تیرا! تُردا کیویں اے جیویں انتی (29) تاریخ نوں کلرک تُردے نیں!‘ ‘‘
اب تو سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اچھی خاصی ہو گئی ہیں۔ دو سال پہلے جب میں ابھی ملازمت کر رہا تھا، آدھی تنخواہ بچ جاتی تھی۔
لگتا ہے مبالغہ آرائی اب بھی جاری ہے!!
 
اب تو سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اچھی خاصی ہو گئی ہیں۔ دو سال پہلے جب میں ابھی ملازمت کر رہا تھا، آدھی تنخواہ بچ جاتی تھی۔



لگتا ہے مبالغہ آرائی اب بھی جاری ہے!!





بجا ارشاد جناب! سرکاری ملازم تو چھ ہزار مہینے کا بھی ہے اور تین لاکھ مہینے کا بھی۔ اوسط درجے کے بابو کی تنخواہ فی زمانہ بھی (پچھلے مہینے کے ادھار کھاتے اور بجلی پانی کا بل اور دیگر کٹوتیاں ادا کرنے کے بعد)آدھی بچ جاتی ہے، جس کی قوت پر اسے آدھا مہینہ نقد اور آدھا مہینہ ادھار سودا سلف لانا ہوتا ہے، بچوں کے سکول کی فیسیں دینی ہوتی ہیں، آئے گئے مہمان یار دوست بھی بھگتانے ہوتے ہیں، اور، اور، اور۔

اس میں ’’دم دا دم، نہ دھوکھا نہ غم‘‘ والے شامل نہیں۔
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
بجا ارشاد جناب! سرکاری ملازم تو چھ ہزار مہینے کا بھی ہے اور تین لاکھ مہینے کا بھی۔ فی زمانہ اوسط درجے کے بابو کی تنخواہ بھی (پچھلے مہینے کے ادھار کھاتے اور بجلی پانی کا بل اور دیگر کٹوتیاں ادا کرنے کے بعد) آدھی بچ جاتی ہے، جس کی قوت پر اسے آدھا مہینہ نقد اور آدھا مہینہ ادھار سودا سلف لانا ہوتا ہے۔
اس میں ’’دم دا دم، نہ دھوکھا نہ غم‘‘ والے شامل نہیں۔

ٹی وی پرہی سنتے رہتے ہیں کہ اتنے سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ آپ کی باتوں سے تو لگتا ہے کچھ بھی نہیں ہوا!!
عجیب قوم ہے۔ پھر بھی ساری کی ساری سرکاری نوکری کے حصول کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی ہے!!
 
ٹی وی پرہی سنتے رہتے ہیں کہ اتنے سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ آپ کی باتوں سے تو لگتا ہے کچھ بھی نہیں ہوا!!

عجیب قوم ہے۔ پھر بھی ساری کی ساری سرکاری نوکری کے حصول کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی ہے!!



ہمارے سرکاری میڈیا کا حال کسے نہیں معلوم، جناب کاشف عمران صاحب۔ اتنے سو فیصد میں ہندسوں کا ہیر پھیر صرف ایک مثال سے سمجھ لیجئے۔ ایک سکیل میں بنیادی تنخواہ چھ ہزار روپے ہے۔ اور مہنگائی الاؤنس وغیرہ تین ہزار ملا کر کل نو ہزار ہوا۔ سرکار نے پانچ چھ سال میں ایک بار مذکورہ الاؤنس کو تنخواہ میں ضم کر کے نئی تنخواہ دس ہزار مقرر کر دی (ایک سو چھیاسٹھ فی صد) اور وہ کل بھی ’’اضافہ‘‘ مشتہر ہو گیا اور یہ بات دبا دی گئی کہ وہ الاؤنس تو ختم ہو چکے اور عددی اضافہ محض گیارہ فی صد ہوا ہے۔ جب کہ ان پانچ چھ برسوں میں مہنگائی پچاس فی صد بڑھی ہے۔ اور وہ چھ ہزار والے کو کم از کم ساڑھے تیرہ ہزار ملنے چاہئے تھے تب حساب برابر ہوتا (چھ ہزار جمع تین ہزار کل نو ہزار اور اس پر پچاس فی صد مہنگائی ملا کر ساڑھے تیرہ ہزار)۔ اس بے چارے کی حقیقی تنخواہ تو چالیس فی صد کے لگ بھگ گھٹی ہے۔ جب کہ میڈیا اس کو ایک سو چھیاسٹھ فی صد اضافہ بتا رہا ہے۔ ستم بالائے ستم کہ چپراسی اور کلرک کی تنخواہ سے انکم ٹیکس بھی کٹنے لگا کہ جناب آپ کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس کو کیا کہئے گا؟

رہی سرکاری نوکری کی بات، تو بھائی مرتا کیا کچھ نہیں کرتا؟ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔ نجی ادارے سکڑ رہے ہیں، غیر ملکی ادارے اپنے سلسلے سمیٹ رہے ہیں۔ بجلی، گیس، تیل سب کچھ کا کیا حال ہے اور ایسے میں ملازمتوں کے مواقع نکلتے کہاں ہیں، بلکہ لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ نوکریوں کے متلاشیوں کے جمگھٹے صرف سرکاری اداروں کے دفاتر میں ہی نہیں، ہر اُس جگہ دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں کسی خالی اسامی کی بھنک ملتی ہے۔

اور کیا کچھ ہے، مت پوچھئے!
 
یہ بات آپ کی بالکل بجا ہے کہ قوم ہم واقعی عجیب ہیں۔
اور ہر الیکشن میں ووٹ اسی کو دیتے ہیں جو اپنے پچھلے سارے عہد میں ہمارے لہو سے عشرت کشید کرتا رہا، اور ہم بارہا کہتے رہے کہ بس، اب اس کو ووٹ کوئی نہیں ملے گا!! ۔
 
ن

نامعلوم اول

مہمان
ہمارے سرکاری میڈیا کا حال کسے نہیں معلوم، جناب کاشف عمران صاحب۔ اتنے سو فیصد میں ہندسوں کا ہیر پھیر صرف ایک مثال سے سمجھ لیجئے۔ ایک سکیل میں بنیادی تنخواہ چھ ہزار روپے ہے۔ اور مہنگائی الاؤنس وغیرہ تین ہزار ملا کر کل نو ہزار ہوا۔ سرکار نے پانچ چھ سال میں ایک بار مذکورہ الاؤنس کو تنخواہ میں ضم کر کے نئی تنخواہ دس ہزار مقرر کر دی )ایک سو چھیاسٹھ فی صد) اور وہ کل بھی ’’اضافہ‘‘ مشتہر ہو گیا اور یہ بات دبا دی گئی کہ وہ الاؤنس تو ختم ہو چکے اور عددی اضافہ محض گیارہ فی صد ہوا ہے۔ جب کہ ان پانچ چھ برسوں میں مہنگائی پچاس فی صد بڑھی ہے۔ اور وہ چھ ہزار والے کو کم از کم ساڑھے تیرہ ہزار ملنے چاہئے تھے تب حساب برابر ہوتا (چھ ہزار جمع تین ہزار کل نو ہزار اور اس پر پچاس فی صد مہنگائی ملا کر ساڑھے تیرہ ہزار)۔ اس بے چارے کی حقیقی تنخواہ تو چالیس فی صد کے لگ بھگ گھٹی ہے۔ جب کہ میڈیا اس کو ایک سو چھیاسٹھ فی صد اضافہ بتا رہا ہے۔ ستم بالائے ستم کہ چپراسی اور کلرک کی تنخواہ سے انکم ٹیکس بھی کٹنے لگا کہ جناب آپ کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس کو کیا کہئے گا؟

رہی سرکاری نوکری کی بات، تو بھائی مرتا کیا کچھ نہیں کرتا؟ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔ نجی ادارے سکڑ رہے ہیں، غیر ملکی ادارے اپنے سلسلے سمیٹ رہے ہیں۔ بجلی، گیس، تیل سب کچھ کا کیا حال ہے اور ایسے میں ملازمتوں کے مواقع نکلتے کہاں ہیں، بلکہ لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ نوکریوں کے متلاشیوں کے جمگھٹے صرف سرکاری اداروں کے دفاتر میں ہی نہیں، ہر اُس جگہ دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں کسی خالی اسامی کی بھنک ملتی ہے۔

اور کیا کچھ ہے، مت پوچھئے!

میں تو واقعی دنیا سے کٹ چکا ہوں! ویسے جب ملازمت کر رہا تھا، تب بھی پریشان تو تھا، مگر ایسا ہی لا علم بھی۔ خود اخراجات ہمیشہ کم ہی رہے، سو پریشانی کبھی نہ ہوئی۔ ایک دو جگہ سے نوکری کی آفر ملی تھی۔ نہیں کی۔ اب لگتا ہے اگلی مرتبہ کچھ کرنا ہی پڑے گا!!
 

گل بانو

محفلین
یہ تو ہم نے بھی نہیں پوچھا، بوا! پر، ایک بات تو ہے، چلو کہنے کی حد تک ہی سہی کہ مخاطب کسی کو بھی کیا ہو، نصیبن بوا ہوں کہ چندن بوا، کہیں گی یہی کہ:
’’اے لو! بوا، سنا تم نے؟ نگوڑا کیا کہہ گیا تمہیں!؟‘‘

مادام گل بانو
اے لو بُوا ہم کاہے کو بولیں آج کل نیا زمانہ ہوئے ہے اتنی ہچر مُچر کاہے کی ؟
 
:battingeyelashes: بہت خوب! آئندہ بھابھی سے اصلاح ضرور کرائیے گا :smile2:
بھابھی سے اصلاح کا مشورہ تو خوب ہے، لیکن بہن میری ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں وہ میری شاعری کی اصلاح کی بجائے میری اصلاح نہ شروع کردیں (بیگم کی اصلاح کے طریقوں سے اللہ کی پناہ) :)
ویسے انہوں نے تو اس قطعہ کو بہت پسند کیا تھا اور کہا تھا کہ پہلے 3 مصرعے پڑھ کر تو دماغ کسی اور طرف جاتا ہے لیکن چوتھے مصرعے پر آکر پڑھنے یا سننے والا خود ہی اپنی سوچ پر ہنس پڑتا ہے۔
 

نگار ف

محفلین
بھابھی سے اصلاح کا مشورہ تو خوب ہے، لیکن بہن میری ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں وہ میری شاعری کی اصلاح کی بجائے میری اصلاح نہ شروع کردیں (بیگم کی اصلاح کے طریقوں سے اللہ کی پناہ) :)
ویسے انہوں نے تو اس قطعہ کو بہت پسند کیا تھا اور کہا تھا کہ پہلے 3 مصرعے پڑھ کر تو دماغ کسی اور طرف جاتا ہے لیکن چوتھے مصرعے پر آکر پڑھنے یا سننے والا خود ہی اپنی سوچ پر ہنس پڑتا ہے۔
:mean: ہاہا بس یہی سنا چاہ رہی تھی میں۔۔۔۔ آپ اجازت لے چکے ہیں۔۔۔۔
بہت عمدہ ۔۔۔۔۔۔۔
 
:mean: ہاہا بس یہی سنا چاہ رہی تھی میں۔۔۔ ۔ آپ اجازت لے چکے ہیں۔۔۔ ۔
بہت عمدہ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔

اجازت لے چکا ہوں اسی لئے تو لکھ رہا ہوں کہ

بیگم کو اعتراض ہے اشعار پہ میرے
"کہتی ہے اس سے آپ کو دولت نہیں ملتی"
بیکار سا وہ کام سمجھتی ہے سخن کو
بیگم سے شاعری کی اجازت نہیں ملتی
 

نگار ف

محفلین
اجازت لے چکا ہوں اسی لئے تو لکھ رہا ہوں کہ

بیگم کو اعتراض ہے اشعار پہ میرے
"کہتی ہے اس سے آپ کو دولت نہیں ملتی"
بیکار سا وہ کام سمجھتی ہے سخن کو
بیگم سے شاعری کی اجازت نہیں ملتی
بہت عمدہ۔۔۔
مگر اک بات ہے کہ ذوق شاعری نہیں رکھتی ہونگی ۔۔۔۔ ورنہ اجازت تو بقول آپکے مل ہی جاتی ہے :tongue:
 
Top