گلی سے گزرتی رہیں لڑکیاں

Arshad khan

محفلین
خلیل الرحمٰن صاحب مجھے گرائمر نہیں آتی
جو کچھ لکھا ہے میری طرف سے تو اب بھی درست ہے
بحر حال آپ اگر درستی فرمائیں تو. .تشکر
 

Arshad khan

محفلین
سبحان اللہ سبحان اللہ بہت خوب۔۔۔ زبردست
مطلع نے مکمل طور پر گرفت میں لے لیا اور اسی کے سحر میں کھو گیا۔ سبحان اللہ
ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭتی ﺭﮨﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻬﯽ ﮐﻬﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺭﮐﮭﯽ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ
جو کم ظرف احباب یہاں اس خوبصورت شاہکار غزل پر گرامر اور عروض کی گھٹیا باتیں کریں ان کی ہجو بھی لکھیے جناب۔
فاتح بھائی آپ سمجھدار ہیں میں خاموش ______`
 
ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭتی ﺭﮨﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻬﯽ ﮐﻬﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺭﮐﮭﯽ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ

ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﺭﮨﻨﻤﺎ
ﻋﻄﺎ ﺟﻦ ﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻡ ﺑﺪﻡ ﺳﺴﮑﯿﺎﮞ

ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ

ﮐﻮﺋﯽ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺎﻧﮑﻨﮯ
ﮐﻬﻠﯽ ﮨﮯ ﺭﮐﮭﯽ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ

ﮐﻬﮍﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ ﺗﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ
ﺍﮔﺮ ﭼﮧ ﻣﻠﯽ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮬﻤﮑﯿﺎﮞ

خلیل الرحمٰن صاحب مجھے گرائمر نہیں آتی
جو کچھ لکھا ہے میری طرف سے تو اب بھی درست ہے
بحر حال آپ اگر درستی فرمائیں تو. .تشکر

کھڑکیاں، ہچکیاں، سسکیاں دھمکیاں یہ سب الفاظ چونکہ جمع کے صیغے میں ہیں لہٰذا ان کے ساتھ
گزرتی رہیں لڑکیاں
کھلی رکھیں کھڑکیاں
کھلی تھیں کھڑکیاں
عطا کیں سسکیاں
کیوں آرہی ہیں ہچکیاں
ملی ہیں مجھے دھمکیاں

آنا چاہیے۔

اسی طرح جانکنے کی بجائے جھانکنے ہونا چاہیے۔
 
آخری تدوین:

آوازِ دوست

محفلین
خلیل الرحمٰن صاحب مجھے گرائمر نہیں آتی
جو کچھ لکھا ہے میری طرف سے تو اب بھی درست ہے
بحر حال آپ اگر درستی فرمائیں تو. .تشکر
شاعری کی حد سے زیادہ حدود و قیود نئے لوگوں کے لیے حوصلہ شکن ہو جاتی ہیں سو آغاز جیسا بھی ہو سفر جاری رکھیں۔ آزاد نظم بھی کمال چیز ہے آپ اس پر بھی طبع آزمائی کر سکتے ہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
اس غزل کے قوافی اکثر غلط ہیں۔ اس لحاظ سے غزل بھی غلط ہو گئی، لیکن فرد فرد اشعار کی اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں۔
غلط قوافی اس طرح کہ قافئے کے آخر کا مشترکہ فقرہ ’یاں‘ ہو تو ایک دو قوافی ’کیاں‘ والے چل سکتے ہیں۔ لیکن یہاں صرف ’کیاں ‘ہے
، اور اس سے پہلے کھِڑ، یعنی کھ پر زیر، لڑ، یعنی لام پر زبر، یعنی اس قسم کے قوافی میں حرکت بھی یکساں ہونی چاہئے۔ پھر بھی کھڑ اور لڑ تو کچھ حد تک غلط قوافی ہو سکتے ہیں، لیکن ’سس‘ (سسکیاں) اور ’ہچ‘ (ہچکیاں) کسی طرح قوافی نہیں ہو سکتے۔

ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭتی ﺭﮨﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻬﯽ ﮐﻬﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺭﮐﮭﯽ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ
۔۔پہلا مصرع درست بحر میں ہے، لیکن دوسرا نہیں

ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﺭﮨﻨﻤﺎ
ﻋﻄﺎ ﺟﻦ ﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻡ ﺑﺪﻡ ﺳﺴﮑﯿﺎﮞ
۔۔جن نے کی۔۔ اب متروک ہے، س نے یا جنہوں نے ہونا چاہئے۔ بحر درست ہے

ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ
۔۔درست بحر

ﮐﻮﺋﯽ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺎﻧﮑﻨﮯ
ﮐﻬﻠﯽ ﮨﮯ ﺭﮐﮭﯽ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ

ﮐﻬﮍﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ ﺗﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ
ﺍﮔﺮ ﭼﮧ ﻣﻠﯽ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮬﻤﮑﯿﺎﮞ
یہ بھی درست بحر میں ہیں، اور سوائے ’ہے‘ کی جگہ ٓہیںّ کے کوئی غلطی نہیں ہے، جس کی اصلاح ہو چکی ہے
 
اس غزل کے قوافی اکثر غلط ہیں۔ اس لحاظ سے غزل بھی غلط ہو گئی، لیکن فرد فرد اشعار کی اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں۔
غلط قوافی اس طرح کہ قافئے کے آخر کا مشترکہ فقرہ ’یاں‘ ہو تو ایک دو قوافی ’کیاں‘ والے چل سکتے ہیں۔ لیکن یہاں صرف ’کیاں ‘ہے
، اور اس سے پہلے کھِڑ، یعنی کھ پر زیر، لڑ، یعنی لام پر زبر، یعنی اس قسم کے قوافی میں حرکت بھی یکساں ہونی چاہئے۔ پھر بھی کھڑ اور لڑ تو کچھ حد تک غلط قوافی ہو سکتے ہیں، لیکن ’سس‘ (سسکیاں) اور ’ہچ‘ (ہچکیاں) کسی طرح قوافی نہیں ہو سکتے۔

ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭتی ﺭﮨﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻬﯽ ﮐﻬﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺭﮐﮭﯽ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ
۔۔پہلا مصرع درست بحر میں ہے، لیکن دوسرا نہیں

ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﺭﮨﻨﻤﺎ
ﻋﻄﺎ ﺟﻦ ﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻡ ﺑﺪﻡ ﺳﺴﮑﯿﺎﮞ
۔۔جن نے کی۔۔ اب متروک ہے، س نے یا جنہوں نے ہونا چاہئے۔ بحر درست ہے

ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ
۔۔درست بحر

ﮐﻮﺋﯽ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺎﻧﮑﻨﮯ
ﮐﻬﻠﯽ ﮨﮯ ﺭﮐﮭﯽ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ

ﮐﻬﮍﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ ﺗﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ
ﺍﮔﺮ ﭼﮧ ﻣﻠﯽ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮬﻤﮑﯿﺎﮞ
یہ بھی درست بحر میں ہیں، اور سوائے ’ہے‘ کی جگہ ٓہیںّ کے کوئی غلطی نہیں ہے، جس کی اصلاح ہو چکی ہے
استاد محترم اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ آپ میری شاعری کی بھی اصلاح کردیں گے۔
 
Top