1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

گزرتے لمحے۔۔!!

ماوراء نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 8, 2006

  1. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,533
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question

    موت کا بھی علاج ہو شاید
    زندگی کا کوئی علاج نہیں
     
  2. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399
    ~~
    یہ جو زندگی کی کتاب ہے، یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
    کہیں اک حسیں سا خواب ہے، کہیں جاں لیوا عذاب ہے

    کہیں چھاؤں ہے کہیں دھوپ ہے، کہیں اور ہی کوئی روپ ہے
    کئی چہرے اس میں چھپے ہوئے، اک حجاب سی یہ نقاب ہے

    کہیں کھو دیا کہیں پا لیا کہیں رو لیا کہیں گا لیا
    کہیں چھین لیتی لے ہر خوشی کہیں مہرباں بے حساب ہے

    کہیں آنسووں کی ہے داستاں کہیں مسکراہٹوں کا ہے بیاں
    کہیں برکتوں کی ہے بارشیں کہیں تشنگی بے حساب ہے

    ~~​
     
  3. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399
    ~~
    زندگی کے بند دروازں سے ٹکرانے کے بعد
    راستے کچھ عقل و دل کے درمیاں سے مل گئے


    ~~​
     
  4. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,533
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question

    زندگی جس کا بڑا نام سنا جاتا ہے
    اک کمزور سی ہچکی کے سوا کچھ بھی نہیں​
     
  5. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,533
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    خواب،خواہش، وہم ہے زندگی
    اِک بھیانک حادثہ ہے زندگی
    آج تک یہ مسئلہ سلجھا نہیں
    میں خفا ہوں کہ خفا ہے زندگی​
     
  6. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399

    ~~
    بڑا دُشوار ہوتا ہے
    ذرا سا فیصلہ کرنا
    کہ جیون کی کہانی کو
    کہاں سے یاد رکھنا ہے
    کہاں سے بھول جانا ہے
    کِسے کتنا بتانا ہے
    کس سے کتنا چھپانا ہے
    کہاں رو رو کے ہنسنا ہے
    کہاں ہنس ہنس کے رونا ہے
    کہاں آواز دینی ہے
    کہاں خاموش رہنا ہے
    کہاں رستہ بدلنا ہے
    کہاں سے لوٹ جانا ہے
    بڑا دُشوار ہوتا ہے
    ذرا سا فیصلہ کرنا
    ~~​
     
  7. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399
    ~~
    زندگی ہر حال میں پیاری لگی
    دل نے بھی ہر بار ہم سے یہ کہا
    جو ہوا، اچھا ہوا
    کچھ یادیں، کچھ باتیں ہم سے رہ گئیں
    خواب ٹوٹے
    خواہشیں ہم سے بھی روٹھیں
    زندگی پھر بھی مگر چلتی رہی
    پیاری لگی
    کچھ دوست روٹھے اور کچھ رشتے بھی ٹوٹے
    پیار بھی تھا اور نفرت بھی تھی
    ایسا لگتا ہے ہم کو
    اجنبی سے پیار تھا
    بس اس کا انتظار تھا
    اک اجنبی کی یاد میں سب کچھ سہا
    کچھ نہ کہا
    زندگی ہر حال میں پیاری لگی

    ~~​
     
  8. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,612
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    بہت خوب۔
     
  9. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,984
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    بہت خوب ماوراء
    مجھے بھی دو شعر یاد آ گئے۔


    ---پاؤں پھیلاؤں تو دیوار سے سر لگتا ہے!!!
    زندگی!تُو نے مجھے قبر سے کم دی ہے جگہ



    ---کبھی پلکوں پہ آنسو ہیں، کبھی لب پہ شکایت ہے
    مگر اے زندگی پھر بھی مجھے تُم سے محبت ہے
     
  10. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399
    برترِ از انديشہء سود و زياں ہے زندگي
    ! ہے کبھي جاں اور کبھي تسليمِ جاں ہے زندگي

    تو اسے پيمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
    ! جاوداں پيہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگي

    اپني دنيا آپ پيدا کر اگر زندوں ميں ہے
    ! سِرِّ آدم ہے ضميرِ کن فکاں ہے زندگي

    زندگاني کي حقيقت کوہکن کے دل سے پوچھ
    ! جوئے شير و تيشہ و سنگِ گراں ہے زندگي

    بندگي ميں گھٹ کے رہ جاتي ہے اک جوئے کم آب
    اور آزادي ميں بحرِ بے کراں ہے زندگي

    آشکارا ہے يہ اپني قوّتِ تسخير سے
    گرچہ اک مٹّي کے پيکر ميں نہاں ہے زندگي

    قلزمِ ہستي سے تو ابھرا ہے مانندِ حباب
    اس زياں خانے ميں تيرا امتحاں ہے زندگي

    خام ہے جب تک تو ہے مٹّي کا اک انبار تو
    ! پختہ ہو جائے تو ہے شمشير بے زنہار تو

    ہو صداقت کے ليے جس دل ميں مرنے کي تڑپ
    پہلے اپنے پيکرِ خاکي ميں جاں پيدا کرے

    پھونک ڈالے يہ زمين و آسمانِ مستعار
    اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پيدا کرے

    زندگي کي قوّتِ پنہاں کو کر دے آشکار
    تا يہ چنگاري فروغِ جاوداں پيدا کرے

    خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب
    تا بدخشاں پھر وہي لعلِ گراں پيدا کرے

    سوئے گردوں نالہء شب گير کا بھيجے سفير
    رات کے تارں ميں اپنے رازداں پيدا کرے

    ! يہ گھڑي محشر کي ہے تو عرصہء محشر ميں ہے
    ! پيش کر غافل عمل کوئي اگر دفتر ميں ہے


    علامہ اقبال
     

اس صفحے کی تشہیر