گر اے ماہی کھڑے کچے بھی ہوں آنا پڑے گا(اصلاح فرمائیے)

راشد ماہیؔ نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 1, 2018

  1. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    انکو انہی کا کہا یاد دلانا پڑے گا
    کہ میاں عشق کیا گر تو نبھانا پڑے گا

    پار وہ یار بلائے گا تو جانا پڑے گا
    گر اے ماہی کھڑے کچے بھی ہوں آنا پڑے گا

    رستہِ عشق ہے یہ کوئی تماشہ تونہیں
    روشنی کے لیے یاں دل بھی جلانا پڑے گا

    دلِ خود سے چلے گا تو کوئی دوری نہیں ہے
    درمیاں تیرے مرے ایک زمانہ پڑے گا

    کتنا پاگل ہے مری سانس لے کے بولا طبیب
    زندہ رہنے کے لیے تجھکو بھلانا پڑے گا

    جاں نکل جائے گی جاں دل نہیں بہلے گا مرا
    دل کے بہلانے کو جاناں تجھے آنا پڑے گا

    نینوں سے کیوں نہیں پڑتے مرا حالِ دل تم
    چارہ گرکیا یوں اک اک زخم دکھانا پڑے گا

    کتنے سادہ ہیں کہ ہر مکھ پہ بھروسہ کر لیں
    کتنے یاروں سے ہمیں اور دغا کھانا پڑے گا

    نت نئے شک کیے رہتا ہے محبت پہ مری
    لگتا ہے ماہیؔ کو اب مر کے دکھانا پڑے گا
     
  2. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,089
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اشعار کی بندش کئی جگہوں پر بہت سست معلوم ہو رہی ہے. ردیف میں بھی یائے لین کا اسقاط موجود ہے جو کہ گراں محسوس ہوتا ہے.
     
  3. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    بندش سست؟ ذرا سمجھا دیجئے
    تا کہ آئندہ محتاط رہوں
    کرم
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,251
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ردیف اگر "دکھانا ہو گا" ہو تو روانی بہتر محسوس ہوتی ہے۔ کئی مصرعے بحر سے خارج ہیں۔ کیا تخلص واقعی ماہی رکھنا ضروری ہے؟
     
  5. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    سلام استاد محترم اعجازعبید صاحب
    برائے کرم بے وزن مصرعوں کی نشاندہی کر دیجئے۔۔۔۔
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,251
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ خارج از بحر ہیں
    دلِ خود سے چلے گا تو کوئی دوری نہیں ہے

    کتنا پاگل ہے مری سانس لے کے بولا طبیب
    معذرت کہ محض دو مصرع ہی خارج ہیں میں نے پہلے سرسری طور پر دیکھا تھا۔ لیکن بحر اور تقطیع درست ہونے کے باوجود حروف کا اکثر جگہ غلط اسقاط ہے۔ اس لیے بندش اور روانی پر اثر پڑتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    دلِ خد سے(فعلاتن
    چ لِ گا تو(فعلاتن
    کوئی دوری(فعلاتن
    نہیں ہے(فعلن

    سرکار الف عین
    یہ ٹھیک نہیں ہے
    عروض۔کام بھی ٹھیک دکھاتی ہے
    باقی آ پ فرمائیے،،،
     
  8. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
  9. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    اب دیکھیے جی۔۔۔

    چھین کے سانسیں مری کہتا ہے خبطی طبیب
    فاعلاتن فعلاتن مفعولن فعلان
     
  10. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ایک بات دھیان میں رہے کہ عروض استاد نہیں ہے۔
    اس سے مدد شروع میں ضرور لیں، مگر اسے حتمی نہ سمجھیں۔ باقی خود غور کریں کہ ایک حد سے زیادہ اسقاط بھلا معلوم نہیں ہوتا۔ :)
     
  11. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    سمجھیائیے تو سہی صاحب!
    کہاں کہاں کوتاہیاں ہیں
    برائےکرم۔۔۔۔
     
  12. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    اب دیکھیے صاحبان!
    برائے کرم ساتھ ساتھ شعر کی نشاندہی بھی کیجیے۔۔۔۔

    جیسے ہی ہم چلیں گے پیچھے زمانہ ہوگا
    دل تو کیا پتھروں کو بھی چلےآنا ہوگا
    حسن سے تو مرے محبوب کے کترا کے گزر
    مہ تجھے مان بہت روپ کا مانا ہوگا
    تمھیں کیوں شک ہے بھلا ہم پہ مسلمانی کا
    دل میں کیا جھانکتے ہو اک بت خانہ ہوگا
    رات بھر ہائے وہ تیرے در نالوں کی پکار
    پھر تڑپ کے مَرا کوئی دیوانہ ہوگا
    شمع یہ کون پڑا ہے ترے قدموں پہ جلا
    چوم بیٹھا سرِ محفل پروانہ ہوگا
    قول تم کو وہ تمھارا ہی صنم یاد ہے نا !
    کہ پیا عشق کیا گر تو نبھانا ہو گا
    پار وہ یار بلائے گا تو جانا ہوگا
    گر اے ماہی کھڑے کچے بھی ہوں آنا ہوگا
    رستہِ عشق ہے یہ کوئی تماشہ تونہیں
    روشنی کے لیے یاں دل بھی جلانا ہوگا
    اے مرے چارہ گرو تم تو کہا کرتے تھے
    زندگی باہوں کا تری سرہانہ ہو گا
    دلِ خود سے جو چلو گے تو کوئی دوری نہیں
    درمیاں تیرے مرے ایک زمانہ ہوگا
    دشمنوں سے بھری محفل میں بلا کے کہے وہ
    مسکرانا پڑے گا جشن منانا ہوگا
    اپنا دل مانے نہ اور عشق تقاضا ہے کہ اب
    جہاں والوں کو بھی ہم نےسمجھانا ہوگا
    چھین کے سانسیں مری کہتا ہے خبطی طبیب
    زندہ رہنے کے لیے تجھ کو بھلانا ہوگا
    جاں نکل جائے گی جاں دل نہیں بہلے گا مرا
    دل کے بہلانے کو جاناں تجھے آنا ہوگا
    نینوں سے کیوں نہیں پڑتے مرا حالِ دل تم
    چارہ گرکیا یوں اک اک زخم دکھانا ہوگا
    کتنے سادہ ہیں کہ ہر مکھ پہ بھروسہ کر لیں
    کتنے یاروں سے ہمیں اور دغا کھانا ہوگا
    نت نئے شک کیے رہتا ہے محبت پہ مری
    لگتا ہےاب تجھے مر کے دکھانا ہوگا
    توبہ توبہ شبِ ہجراں نہ کٹے ہے ہم سے
    اب تو جاں سے ہی گزر جانا کہ جانا ہوگا
    بھول ہی جائیں گے ہم صدمے سبھی محشر کے
    سامنے جیسے ہی منظر جانانہ ہوگا
    جام ہاتھوں سے اٹھانے کی نہیں اب ہمت
    بیٹھ کے بالیں پہ نینوں سے پلانا ہوگا
    کب یہ معلوم تھا کم بخت محبت ماہی ؔ
    شہر بھر کے غموں کا ایک ٹھکانہ ہوگا
     
  13. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ایک مثال لیجیے
    جیسے ہی ہم فاعلاتن ے گرایا گیا
    چلیں گے پی فَعِلاتن یں گرایا گیا
    چھے زمانہ فَعِلاتن ے گرایا گیا
    ہو گا فعلن
    اس مصرع میں چار حروف گرائے ہیں۔ خاص طور پر یں دونوں کو اکٹھا گرانے سے پرہیز کریں

    دل تو کیا پت فاعلاتن
    تھروں کو بھی فَعلاتن وں گرایا گیا
    چلے آنا فَعِلاتن ے گرایا گیا
    ہو گا فعلن
    یہاں بھی تین حروف گرائے گئے۔
    خاص طور پر پتھروں کا وں گرانا بھلا معلوم نہیں ہو رہا۔

    اب اسی نہج پر پوری غزل کا جائزہ لے کر سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  14. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    آپ نے چلیں کا یں کہا اور کہا کہ دو حروف گرائے ہیں
    مگر ن غنہ کا تو پہلے ہی وزن کوئی نہیں ہوتا تو دو کیسے گرے؟؟
    اسی طرح پتھروں کے وں میں بھی ایک حرف گرایا گیا
    اسکی مگر اجازت بھی ہے نا
    ذرا مفصل بتائیے کہ
    کیا کوئی حرف بھی نہیں گرا سکتے؟
    کیا اساتذہ کے ہاں مثالیں نہیں؟
    اگر گرا سکتے ہیں تو کیا معیار ہونا چاہیے؟
    ڈت کے تنقید کیجئیے
    مگر مفصل۔
    میں جانتا ہوں کہ
    مرے لیے یہ ایک نعمت ہے !
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 4, 2018
  15. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہیارے بھائی وزن نہ ہونا مختلف بات ہے، حرف کا موجود ہونا مختلف۔
    بالکل ایسے جیسے جانا اور جاناں ہم وزن تو ہیں مگر ہم قافیہ نہیں۔ ں بحیثیت حرف موجود ہوتا ہے۔
    میں نے ناجائز نہیں کہا، بلکہ یہ کہا ہے کہ حد سے زیادہ حروف کو گرانے سے گری کریں۔
    اس سے شعر کی روانی میں کمی آتی ہے۔ جو شعر کی صحت کو متاثر کرتی ہے۔
    جیساکہ اوپر لکھا کہ بھلا معلوم نہیں ہو رہا۔ قاری کو پڑھنے میں رکاوٹ ہوتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    کرم سرکار آپ کا
    مگر میں بات کو پکڑ نہیں پا رہا
    کہ برائے کرم اسقاط کا معیار کیا ہے؟ تفصیلاََ سمجھا دیجئے
     
  17. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
  18. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ایک اصول جو واضح طور پر موجود ہے وہ یہ کہ عربی اور فارسی الاصل الفاظ میں حروف کا گرانا جائز نہیں ہے۔
    باقی کے لیے اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ شعر کی روانی متاثر نہ ہو۔ اتنا ہی اسقاط ہو جتنا پڑھنے میں بھلا معلوم ہو۔
     
    • متفق متفق × 1
  19. راشد ماہیؔ

    راشد ماہیؔ محفلین

    مراسلے:
    123
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    تو اب یہ بھی خیال رکھنا پڑے گا کہ
    حرف عربی فارسی کا ہے یا بھاشا کا۔۔۔۔!
     
    • متفق متفق × 1
  20. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یہ خیال تو اور وجوہات کی بنا پر بھی رکھنا پڑتا ہے۔ :)
     

اس صفحے کی تشہیر