کچھ سمجھ نہیں آئی کونسا کام مشکل ہے۔
شعر کہنا؟
یا جو شعر کا مفہوم ہے وہ؟

چھوٹی بحر میں بڑے مضامین لانا مشکل کام ہے۔ ایک بڑے مضمون کا ٹکڑا اُسی سطح کے مضمون کا متقاضی ہوتا ہے۔ دوسرا مصرع زبان و بیان اور فکری سطح پر مصرعِ موجود کے ہم پلہ ہو تب بات بنتی ہے۔ آپ کو یا تو مصرعِ موجود کی وکالت کرنی ہے یا اس کی نفی کرنی ہے، یا اس کو معانی کا مختلف زاویہ دینا ہے (اور اصل شاعر کے کہے کو نہیں دہرانا)۔ آپ کو مصرعِ موجود کی سطح پر جا کر سوچنا ہو گا۔ لفظیات میں بھی رعایت بننی چاہئے۔ اگر آپ کا واسطہ اقبال کے ایک عمیق و دقیق فلسفیانہ مضمون سے پڑ جائے تو؟ یہ مشکل اور بڑھ جاتی ہے۔
اس لئے عرض کیا تھا کہ "اوکھا کم اے"؛ کم از کم میرے لئے۔
 
چھوٹی بحر میں بڑے مضامین لانا مشکل کام ہے۔ ایک بڑے مضمون کا ٹکڑا اُسی سطح کے مضمون کا متقاضی ہوتا ہے۔ دوسرا مصرع زبان و بیان اور فکری سطح پر مصرعِ موجود کے ہم پلہ ہو تب بات بنتی ہے۔ آپ کو یا تو مصرعِ موجود کی وکالت کرنی ہے یا اس کی نفی کرنی ہے، یا اس کو معانی کا مختلف زاویہ دینا ہے (اور اصل شاعر کے کہے کو نہیں دہرانا)۔ آپ کو مصرعِ موجود کی سطح پر جا کر سوچنا ہو گا۔ لفظیات میں بھی رعایت بننی چاہئے۔ اگر آپ کا واسطہ اقبال کے ایک عمیق و دقیق فلسفیانہ مضمون سے پڑ جائے تو؟ یہ مشکل اور بڑھ جاتی ہے۔
اس لئے عرض کیا تھا کہ "اوکھا کم اے"؛ کم از کم میرے لئے۔
بہت شکریہ استاد محترم اس حوالے سے میری معلومات میں ایک اچھا اضافہ کرنے کے لیے۔۔۔
 
شعراء حضرات واپس تشریف لائیں۔۔۔اور گرہ لگائیں۔۔۔
پیر نصیر الدین نصیر کی دست نظر سے ایک مصرعہ طبع آزمائی کے لیے حاضر ہے۔۔۔۔

نیرنگیءِ عالم کا یہ عالم، ارے توبہ
 

سید عاطف علی

لائبریرین
شعراء حضرات واپس تشریف لائیں۔۔۔اور گرہ لگائیں۔۔۔
پیر نصیر الدین نصیر کی دست نظر سے ایک مصرعہ طبع آزمائی کے لیے حاضر ہے۔۔۔۔

نیرنگیءِ عالم کا یہ عالم، ارے توبہ
نیرنگیءِ عالم کا یہ عالم، ارے توبہ
ہر روز نئے پردہء سیمیں کا تماشا
 
متفق! آپ کے مصرعے میں "رعایت" بہت عمدہ آئی ہے۔ حرف، سخن، قرض؛ سب ادا کرنے کے ہوتے ہیں۔
اپنے ادبی سفر کے بارے میں بھی کچھ بتائیے گا، کہ سنگِ راہ کہاں کہاں سنگِ میل بنے۔
جناب آسی صاحب ۔ جواب میں تاخیر کے لئے ازحد معذرت خواہ ہوں ۔ کچھ ذاتی الجھنوں نے اس طرف آنے نہیں دیا۔ آپ کا یہ سوال مجھ پر قرض تھا سو تاخیر سے ہی سہی جواب کے لئے یہاں حاضر ہونا پڑا ۔ اگر اپنے جواب کو ایک مصرع میں سمیٹوں تو یہ کہوں گی کہ : اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
اپنے تمام تر شوق کے باوجود شاعری کو وہ وقت اور توجہ نہ دے سکی کہ جو اس کا تقاضا ہے ۔ زندگی کی کشاکش نے اسے فہرست ِ ترجیحات میں ہمیشہ بہت نیچے رکھا ۔ چنانچہ شعری سفر اب تک قسطوں میں ہوا ہے ۔ کچھ چلے پھر رک گئے ۔ پھر دو قدم چلے اور پھر کئی سال کے لئے منجمد ہوگئے ۔ بس اسی طرح ہوتا آیا ہے اور لگتا ہے کہ مستقبل میں بھی یوں ہی ہوتا رہے گا ۔ زندگی تو اپنا رخ موڑتی نظر نہیں آتی۔ اور مجھے تو اس کے پیچھے پیچھے ہی چلنا ہے ۔ اب جہاں لے جائے ۔ آپ دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
محمد یعقوب آسی
 

سید عاطف علی

لائبریرین
عاطف علی شعر اچھا ہے!
لیکن سوال یہ ہے کہ ہر روز پردہء سیمیں نیا ہے کہ تماشا نیا ہے؟ :):):)
سید عاطف علی
ممنون ہوں ہما صاحبہ ۔ مگر وضاحت سےعاجز۔گویم مشکل وگر نگویم مشکل ۔یا یوں کہہ لیں کہ جومزاج یار میں آئے ۔البتہ نشاندہی کا بہر حال شکریہ:)۔
فرائض منصبی پہ براجمان تھا لیکن مصرع پر نظر پڑی ،پسند آیا، تو روانی میں کہہ گیا اور لکھ بھی گیا۔ یوں بھی کہہ لیں کہ ہے پردہء سیمیں پہ نیا روز تماشا
 
مکمل شعر
ہم اپنی طرف ان کی نظر دیکھ رہے ہیں
حیرت ہے کہ وہ آج کدھر دیکھ رہے ہیں
نیرنگی ءِ عالم کا یہ عالم، ارے توبہ
کیا کہیے، جو ہم شام و سحر دیکھ رہے ہیں۔
نصیر الدین نصیر گولڑوی رحمتہ اللہ علیہ
 
بہت مغرور ہوتے جا رہے ہو
محبت میں تکبر خوب شے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری چاہتوں سے تم بھی شاید
بہت مغرور ہوتے جا رہے ہو
 

اکمل زیدی

محفلین
ایسے ہی ایک مصرع ذ ہن میں آیا ہے احباب سے ....گرہ لگائی کی ..درخواست ہے ... اور مصرع صحیح ہے ؟؟ یعنی شعریت ہے یا وہ بھی موقوف ہے ...:)۔۔آراء درکار ہے

سوزش غم موقوف ہوتی جارہی ہے
 
Top