گاہ بے پایاں خلا تو گاہ تارا کر دیا

نمرہ

محفلین
گاہ بے پایاں خلا تو گاہ تارا کر دیا
کہکشاں کو زندگی کا استعارا کر دیا
قوت گویائی رکھ دی پہلے میری خاک میں
پھر مجھے خاموش رہنے کا اشارا کر دیا
آرزو مجھ کو تو بحر بے کراں ہونے کی تھی
زندگی نے مجھ کو گم گشتہ کنارا کر دیا
کیا ہی سودا تھا کہ مہتابی تبسم کے عوض
اس نے میرے نام اپنا ہر خسارا کر دیا
قدرو قیمت حسن بے پروا کی دل میں تھی بہت
پھر اسے قسمت نے چپکے سے ہمارا کر دیا
حال دل الفاظ میں چھپ جاتا اس کے روبرو
کچھ نہ کہہ پانے نے سب کچھ آشکارا کر دیا
دل کے ساحل پر جو آ نکلا محبت کا صدف
ذات کے پتھر سے اس کو پارا پارا کر دیا
 
قوت گویائی رکھ دی پہلے میری خاک میں
پھر مجھے خاموش رہنے کا اشارا کر دیا
ماشاءاللہ ،
کیا ہی شاندار شعر تخلیق کیا ہے ،
بہت زبردست اور عمدہ غزل نمرہ بہن ۔سلامت رہیں۔
اللہ کریم آپ کے کلام میں اور زیادہ زور عطا فرمائیں ۔آمین
 
آخری تدوین:
جی سر خیال عمدہ ہے احساس عمدہ ہے درد کم دیکهہ رہا ہے زیادہ ہے سوال یہ ہے رقص دل کا نمایاں ہے تصور کا ہے حالِ دل الفاظ میں چهپ جاتا اس کے روبر
و کچهہ نہ کہہ پانے نے سب کچهہ آشکارا کردیا


دوسری طرف ذات کے پتهر نے پارہ پارہ کر دیا

احساس توڑا دل لگانے کی خاموش سارا کر دیا

اچها ہے عمدہ ہے نقطہ جو ہے سمجها نہی سکتے
آپکی وہ پہلے بهیجی ہوئی غزل بہت عمدہ اور اچهی تهی احترامات
 

سید عاطف علی

لائبریرین
قوت گویائی رکھ دی پہلے میری خاک میں
پھر مجھے خاموش رہنے کا اشارا کر دیا
واہ بہت خوب نمرہ جی ۔
اس شعر سے لسان الغیب یاد آگئے ،
درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای
باز میگوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش

اور باقی غزل نے حسرت موہانی کی یاد تازہ کی ۔
تیری محفل سے اٹھاتاغیر مجھ کو کیا مجال
دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کردیا
سب غلط کہتے تھے لطف یار کو وجہ سکوں
درد دل اس نے تو حسرتؔ اور دونا کر دیا
 
قوت گویائی رکھ دی پہلے میری خاک میں
پھر مجھے خاموش رہنے کا اشارا کر دیا

حال دل الفاظ میں چھپ جاتا اس کے روبرو
کچھ نہ کہہ پانے نے سب کچھ آشکارا کر دیا

دل کے ساحل پر جو آ نکلا محبت کا صدف
ذات کے پتھر سے اس کو پارا پارا کر دیا
بہت عمدہ بہن۔ کیا کہنے۔
 

ہادیہ

محفلین
Top