کیا یورپ کی ترقی مذہب کو ترک کرنے کی مرہون منت ہے؟

سید رافع

محفلین
اگرکسی کرنسی کی قوت خرید طویل وقت گزرنے کے باوجود مسلسل ایک جیسی رہے تو آپ کی یہ دلیل درست ثابت ہوگی۔ لیکن ایک ایسے عالمی مالیاتی نظام میں جہاں ڈالر اور دیگر قومی کرنسیاں مسلسل افراط زر یا قوت خرید میں کمی کا شکار ہیں وہاں قرض پر سود لئے بغیر معیشت اور مالیاتی نظام کیسے چلے گا؟ قرض پر سود اس لئے لیا جاتا ہے تاکہ قرضہ واپسی کے دوران جو کرنسی کی قوت خرید میں کمی واقع ہوئی ہے، اس نقصان کو پورا کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ کمزور معیشت والے ممالک میں افراط زر بہت زیادہ ہوتا ہے وہاں شرح سود بھی اس حساب سے بہت زیادہ رکھا جاتا ہے۔اور اسی لئے ان ممالک میں سرمایہ کاری کے مواقع مضبوط معیشت والے ممالک سے کم ہوتے ہیں۔

دیکھیں آپ کے پاس اس وقت گفتگو کے تین آپشن ہیں۔

ایک بات تو یہ ہے کہ افراط زر کے مقابل سود رکھا جاتا ہے۔ بجا۔ یہ اس وقت کی صورتحال ہے۔ اب سنیں اگر کہ آپ خالص عقلی پیمانے پر کوئی دوسرے نظام کی بنیاد پر بحث کرنا چاہتے ہیں تو وہ میں نے نیو ورلڈ آرڈر آف پیس کے تحت شروع کی۔

دوسرا اگر موجودہ نظام ہی کو اسلامی ممالک میں رائج کرنا ہے تو مسلمانوں میں سود کھانے کو کیسے رواج دیا جائے نعوذ باللہ اس پر بات کرتے ہیں۔

تیسرا آپشن ہے کہ اسلام کے تحت زندگی اس سودی ماحول میں کیسے گزاریں۔ اگر یہ بات ہے تو ہمیں قرآن اور اسکے سمجھنے والوں کے دلائل لانے ہوں گے۔

چوتھا کوئی آپشن ہے ہی نہیں۔ اگر ہے تو سامنے لائیں۔ مجھے لگتا ہے آپکو آپشن ٢ سوٹ کرے گا۔
 

جاسم محمد

محفلین
افراط زر ہوتا کیوں ہے کبھی سوچا ہے الٹے سیدھے سوال داغنے سے پہلے؟ بات گہری ہو جائے گی لیکن نقصان، زلزلے، آفات، بیماریاں، طوفان افراط زر سے بندھے ہیں۔ افراط زر بہت زیادہ ہو گا اگر کہ سود لیا جائے گا۔ بات مزید گہری ہو جائے گی لیکن سنیں سود ماں سے ٣٦ دفعہ زنا کرنے سے شدید ہے۔ زنا سے قتل بڑھتا ہے۔ اور سنیں کہ افراط زر رحمان و رحیم سے جنگ کی وجہ سے ہے کیونکہ سود اللہ کی رحمانیت سے جنگ ہے۔ ان تمام باتوں کو آپ کہاں سننے والے۔ آپ کو اکانومسٹ کے بنائے ہوئے چارٹ میں ڈالر کی گرتی ہوئی قدر تو دکھائی دے جائے گی لیکن یہ سب کچھ دکھائی نہ دے گا جو اوپر بیان کیا۔
افراط زر ، زر یعنی قومی کرنسی کی قوت خریدنے کم ہونے پر بڑھ جاتا ہے۔ قومی کرنسی کی قوت خرید کیوں گرتی ہے کا جواب اس ملک کی معیشت کے خدوخال سے دیا جا سکتا ہے۔ جس ملک کی معیشت اور مالیاتی عشاریے مستحکم ہوں گے اس ملک کی قومی کرنسی کی افراط زر ان ممالک سے کم ہوگی جن کی معیشت مضبوط ہے نہ مالی حالات۔
یاد رہے کہ ہر ملک کا اسٹیٹ بینک شرح سود کو اس ملک کی افراط زر سے کچھ پوائنٹ اوپر ہی رکھتا ہے۔ اگر وہ یہ نہ کرے تو ملک کا ہر مالیاتی ادارہ دیوالیہ ہو جائے گا۔ کیونکہ شرح سود افراط زر سے نیچے رکھنے پر مالیاتی اداروں کے منافع ختم ہو جاتے ہیں اور یوں ان کا دیوالیہ ہونا لازم ملزوم ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
لیکن یہ سب کچھ بیان کرنا آپ کے سامنے ایسا ہے جیسا بھینس کے بین۔ آپ وہیں کھڑے رہیں گے کہ دفاع کریں سود کا اور امید رکھیں کہ مستقبل خوشحال اور آضرت تابناک ہو گی۔ ایمان کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ برائی کو برائی تو جانیں۔ سود سے بچنا مشکل ہی نہیں اس دور میں ناممکن ہے سو بلاوجہ اس بات پر وقت کسی کو ضایع نہیں کرنا چاہیے کہ سود سے کیسے بچیں۔ جب وقت آئے گا اللہ سود کو لپیٹ دے گا۔ کیا اللہ ہم کو دیکھ نہیں رہا؟ کہ ہم کیا دل میں سود کے بارے میں سوچتے ہیں۔
بھائی یہ سب یاد دھانی کی باتیں ہیں اب جس کا جتنا دل چاہے اتنا سود سے بچنے کا اہتمام رکھے۔
بھائی میں سود کا کسی صورت دفاع نہیں کر رہا۔ میرا موقف تو واضح ہے کہ جب تک قومی کرنسیاں افراط زر کا شکار ہوتی رہیں گی، موجودہ مالیاتی نظام میں سے سود کو نکالا نہیں جا سکتا۔ ہاں اگر اقوام عالم کوئی ایسی کرنسی دریافت کرلیتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی قوت خرید برقرار رکھ سکتی ہو تو اس صورت میں اس سودی نظام کو خیرباد کہا جا سکتا ہے۔
کرپٹوکرنسی ورلڈ میں اس حوالہ سے کام جاری ہے اور عین ممکن ہے مستقبل میں قومی کرنسی کی بجائے کرپٹو کرنسی جیسے بٹ کائن رائج ہو جائے جس میں افراط زر صفر فیصد ہوگا۔یوں جس اثاثہ کی قیمت آج 1 بٹ کائن ہے وہ 100 سال بعد بھی وہی رہے گی۔ اور یوں قرضہ دینے والا اور لینے والا دونوں سود کی لعنت سے آزاد ہو جائیں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
ایک بات تو یہ ہے کہ افراط زر کے مقابل سود رکھا جاتا ہے۔ بجا۔ یہ اس وقت کی صورتحال ہے۔
خالص عقلی پیمانے پر کوئی دوسرے نظام کی بنیاد پر بحث کرنا چاہتے ہیں
خالص عقلی پیمانہ پر متبادل نظام صرف اسی صورت آسکتا ہے جب قومی کرنسی افراط زر سے آزاد ہوگی۔ جب تک موجودہ مالیاتی نظام میں زیر استعمال کرنسیاں مسلسل افراط زر کا شکار ہو رہی ہیں تو ایسے میں ان کی لین دین سودکے تحت ہی ہوگی۔ یہ لازم ملزوم ہے۔ آپ یہ نہیں کر سکتے کہ مختلف افراط زر والی قومی کرنسیاں بھی موجود رہیں اور اسٹیٹ بینک شرح سود بھی صفر کر دے۔یہ بالکل غیرمنطقی سی بات ہے۔ ایسا کرنے سے تو آپ کے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہو جائیں گے۔ جو قرض دینے کے قابل رہیں گے اور نہ واپس لینے کے۔
 

سید رافع

محفلین
اس سوال کا جواب پہلے بھی دیا چکا ہے کہ کچھ سالوں بعد جب بٹ کائن نامی کرپٹو کرنسی کی مزید سپلائی رُک جائے گی تو اس کی افراط زر صفر فیصد ہوگی۔
bitcoin-inflation-rate-1024x511.png

سونا چاندی اس لئے مضبوط کرنسی نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ بھی افراط زر یا قوت خرید میں کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جناب آپکو بٹ کوائن کے انفلیشن کے بارے میں غلط فہمی ہوٙئی ہے۔ اس دنیا میں ٹوٹل ٢١ ملین بٹ کوائنز ہیں۔ ابھی بٹ کوائن کی انفلیشن اس لیے ہے کیونکہ سارے کوائنز مائن نہیں ہوئے ہیں جب ہو جائیں گے تو MB/M0 انفلیشن صفر ہو جائے گی کیونکہ نئے مائن نہیں کیے جا سکتے۔ لیکن M1/M2/M3/MZM انفلیشن پھر بھی باقی رہے گی جیسی کہ آج کی کرنسیوں میں ہے۔ پھر جیسے آج ڈالر یا کسی کرنسی کی قدر کا تعلق اسکی قبولیت سے ہوتا ہے تو یہ اثر بٹ کوئن میں بھی باقی رہے گا۔

اصل بات یہ ہے کہ تجارت کا حجم کم کرنا ہو گا۔ اس وقت غیر ضروری تجارت ہو رہی۔ اکانومی سود کی وجہ سے انفلیٹ ہے۔ اس کا پنکچر ریسیشن کی صورت میں ہر چودہ سال میں نکلتا رہتا ہے۔ جب اکانومی سکڑے گی جیسا کہ آجکل ہے تو قرضوں کی ضرورت کم ہو گی۔ لوگ ان ضروریات پر آ جائیں گے جو حقیقی ہیں۔ مثلا ملکوں ملکوں تفریحی کی غرض سے گھومنا ہوٹلنگ، طرح طرح کے موبائل لیپ ٹاپ موویز لباس گاڑیاں کھانے اور ناجانے کیا کیا الا بلا پر توجہ نہیں رہے گی۔ اس کے بجائے کاشتکاری اور ضروری صنعتوں پر توجہ ہو گی تو قرضہ کم اور اکانومی اسٹیبل ہو جائے گی۔
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
اصل بات یہ ہے کہ تجارت کا حجم کم کرنا ہو گا۔ اس وقت غیر ضروری تجارت ہو رہی۔ اکانومی سود کی وجہ سے انفلیٹ ہے۔ اس کا پنکچر ریسیشن کی صورت میں ہر چودہ سال میں نکلتا رہتا ہے۔ جب اکانومی سکڑے گی جیسا کہ آجکل ہے تو قرضوں کی ضرورت کم ہو گی۔ لوگ ان ضروریات پر آ جائیں گے جو حقیقی ہیں۔ مثلا ملکوں ملکوں تفریحی کی غرض سے گھومنا ہوٹلنگ۔ طرح طرح کے موبائل لیپ ٹاپ موویز لباس گاڑیاں کھانے اور ناجانے کیا کیا الا بلا۔ اس کے بجائے کاشتکاری اور ضروری صنعتوں پر توجہ ہو گی تو قرضہ کم اور اکانومی اسٹیبل ہو جائے گی۔
اس طویل بحث میں پہلی بار زبردست بات کی ہے۔ (y)(y)(y)
لیکن یہاں بھی وہی غلطی کہ سارا الزام سود پر ڈال دیا ہے۔ معیشت سود کی وجہ سے انفلیٹ نہیں ہوتی۔ بلکہ معیشت اپنے حجم سے زیادہ کرنسی جاری کرنے پر انفلیٹ ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ جیسا کہ آپ نے کہا ریسیشن کی شکل میں ہر دس سے بیس سال بعد ظاہر ہوتا ہے۔
 

زیک

مسافر
اصل بات یہ ہے کہ تجارت کا حجم کم کرنا ہو گا۔ اس وقت غیر ضروری تجارت ہو رہی۔ اکانومی سود کی وجہ سے انفلیٹ ہے۔ اس کا پنکچر ریسیشن کی صورت میں ہر چودہ سال میں نکلتا رہتا ہے۔ جب اکانومی سکڑے گی جیسا کہ آجکل ہے تو قرضوں کی ضرورت کم ہو گی۔ لوگ ان ضروریات پر آ جائیں گے جو حقیقی ہیں۔ مثلا ملکوں ملکوں تفریحی کی غرض سے گھومنا ہوٹلنگ۔ طرح طرح کے موبائل لیپ ٹاپ موویز لباس گاڑیاں کھانے اور ناجانے کیا کیا الا بلا۔ اس کے بجائے کاشتکاری اور ضروری صنعتوں پر توجہ ہو گی تو قرضہ کم اور اکانومی اسٹیبل ہو جائے گی۔
بہترین۔ آسان حل ہے دنیا تباہ کر دیں
 

جاسم محمد

محفلین
جناب آپکو بٹ کوائن کے انفلیشن کے بارے میں غلط فہمی ہوٙئی ہے۔ اس دنیا میں ٹوٹل ٢١ ملین بٹ کوائنز ہیں۔ ابھی بٹ کوائن کی انفلیشن اس لیے ہے کیونکہ سارے کوائنز مائن نہیں ہوئے ہیں جب ہو جائیں گے تو MB/M0 انفلیشن صفر ہو جائے گی کیونکہ نئے مائن نہیں کیے جا سکتے۔ لیکن M1/M2/M3/MZM انفلیشن پھر بھی باقی رہے گی جیسی کہ آج کی کرنسیوں میں ہے۔
M1/M2/M3/MZM افراط زر فریکشنل ریزرو بینکنگ کی وجہ سے ہوتی ہے۔مثال کے طور پر بینک 100 ڈالر ریزرو میں رکھ کر 90 ڈالرمزید بطور قرض جاری کر سکتا ہے اور اس پر سود کھا سکتا ہے۔ مالیاتی نظام میں سارے فساد کی جڑ یہ فریکشنل ریزرو بینکنگ ہے نہ کہ سود۔
https://www.quora.com/Why-can-banks...t-enter-a-bank-and-take-it-from-them-by-force
 

سید رافع

محفلین
اس طویل بحث میں پہلی بار زبردست بات کی ہے۔ (y)(y)(y)
لیکن یہاں بھی وہی غلطی کہ سارا الزام سود پر ڈال دیا ہے۔ معیشت سود کی وجہ سے انفلیٹ نہیں ہوتی۔ بلکہ معیشت اپنے حجم سے زیادہ کرنسی جاری کرنے پر انفلیٹ ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ جیسا کہ آپ نے کہا ریسیشن کی شکل میں ہر دس سے بیس سال بعد ظاہر ہوتا ہے۔

آپ پھر غلطی کر گئے بینک قرضے جاری کرنے سے نہیں چلتا بلکہ حاصل ہونے والے سود سے چلتا ہے۔ اگر بینک ہی نہیں ہو گا تو قرضے جاری کون کرے گا؟ اور معیشت انفلیٹ کیسے ہو گی؟ بینک مرے گا جب سود مر جائے گا۔ جتنا زیادہ شرح سود ہو گی اور جتنا زیادہ قرضوں کی طلب ہو گی بینک موٹا ہو گا۔
 

جاسم محمد

محفلین
آپ پھر غلطی کر گئے بینک قرضے جاری کرنے سے نہیں چلتا بلکہ حاصل ہونے والے سود سے چلتا ہے۔ اگر بینک ہی نہیں ہو گا تو قرضے جاری کون کرے گا؟ اور معیشت انفلیٹ کیسے ہو گی؟ بینک مرے گا جب سود مر جائے گا۔ جتنا زیادہ شرح سود ہو گی اور جتنا زیادہ قرضوں کی طلب ہو گی بینک موٹا ہو گا۔
اس سوال کا جواب بھی پہلے دیا جا چکا ہے۔ بہت سے مغربی ممالک کے اسٹیٹ بینک نے شرح سود طویل عرصہ تک صفر سے بھی نیچے یعنی منفی رکھا ہوا ہے۔ یعنی ان ممالک کے کمرشل بینک کو اُلٹا لینے کے دینے پڑ رہے ہیں۔ شرح سود اتنا کم کرنے کا مقصد ڈپازٹرز کو پیسے بینک میں رکھنے کی بجائے معیشت کا پہیہ چلانے کیلئے کہیں اور انویسٹ کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر مقصد بینک کو زیادہ سے زیادہ سو کھلانا ہوتا تو شرح سود منفی رکھتے؟
ES2004Fig1_20200226112429.jpg
 

سید رافع

محفلین
اس سوال کا جواب بھی پہلے دیا جا چکا ہے۔ بہت سے مغربی ممالک کے اسٹیٹ بینک نے شرح سود طویل عرصہ تک صفر سے بھی نیچے یعنی منفی رکھا ہوا ہے۔ یعنی ان ممالک کے کمرشل بینک کو اُلٹا لینے کے دینے پڑ رہے ہیں۔ شرح سود اتنا کم کرنے کا مقصد ڈپازٹرز کو پیسے بینک میں رکھنے کی بجائے معیشت کا پہیہ چلانے کیلئے کہیں اور انویسٹ کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر مقصد بینک کو زیادہ سے زیادہ سو کھلانا ہوتا تو شرح سود منفی رکھتے؟
ES2004Fig1_20200226112429.jpg

جی فلاحی ریاست کا ۵٠ فیصد ٹیکس انہی حماقتوں کو جاری و ساری رکھنے کے لیے سبسڈی ہے۔ کس قدر بڑا فراڈ ہے کہ اچھے خاصے لوگ بھی دین چھوڑ عقل چھوڑ اس پاگل پنے کے خبطی نظام کے دفاع میں بات کرتے ہیں۔
 

سید رافع

محفلین
بہترین۔ آسان حل ہے دنیا تباہ کر دیں

جناب جب معیشت سکڑے گی تو ملک و شہر و خاندان پامال ہوں گے۔ جو عقلمند ہیں وہ ضروری پر قناعت کریں گے۔ ساری دنیا ٢١ لاکھ بٹ کوائن پر مبنی ہو گی۔ مطلب کہ رقم کی طلب بڑھے گی اور مذید ہو گی نہیں تو ہر شئے کو سستا یا مہنگا کرنے کا اختیار سب سے زیادہ بٹ کوائن رکھنے والے کے اختیار میں ہو گا نہ کہ اس شئے کی ضرورت پر۔

شاید کچھ علاقوں میں بارٹر سسٹم واپس آجائے۔
 

زیک

مسافر
بھائی کچھ بتا کر ہنسا کریں۔ آپ یوں ہنستے ہیں کہ سامنے والا احمق محسوس ہوتا ہے۔ جبکہ ہماری نظر میں بات اسکے بالکل برعکس ہے۔
کچھ ہسپانوی ایمپائر کی امریکہ میں سونے چاندی کی کانوں کا معیشت پر اثر کے بارے میں ہی مطالعہ کر لیں
 

آوازِ دوست

محفلین
دوستو زندگی پہلے بھی کھیل نہ تھی پر اب تو کافی مشکل لگنے لگی ہے۔ ایک دوست نے "میزان (فتویٰ یافتہ اسلامی) بینک" سے مکان بنانے کے لیے قرض (حسنہ نہیں) لیا تھا۔ کُچھ اُس نادان کی خبر دیں بچ رہے گا یا گیا سیدھا دوزخ کی آگ میں؟
 

سید رافع

محفلین
کچھ ہسپانوی ایمپائر کی امریکہ میں سونے چاندی کی کانوں کا معیشت پر اثر کے بارے میں ہی مطالعہ کر لیں

ہسپانوی سلطنت کے بارے میں بعد میں لکھوں گا۔ پہلے اصل نکتے کی طرف آتا ہوں۔

کیا سونے اور چاندی کی اپنی ذاتی قدر نہیں ہے جبکہ بٹ کوائن یا ڈالر کی کوئی ذاتی قدر نہیں؟ یہ ہے اصل سوال۔
 

سید رافع

محفلین
کچھ ہسپانوی ایمپائر کی امریکہ میں سونے چاندی کی کانوں کا معیشت پر اثر کے بارے میں ہی مطالعہ کر لیں

کیا تاریخی گولڈ رش سے اندازہ نہیں ہو جاتا ہے کہ سونے اور چاندی کی انسانوں میں کس قدر اہمیت ہے؟ کیا سونے کی انسان سے ایک فطری محبت نہیں ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی؟
 

سید رافع

محفلین
کچھ ہسپانوی ایمپائر کی امریکہ میں سونے چاندی کی کانوں کا معیشت پر اثر کے بارے میں ہی مطالعہ کر لیں

کیا آج بھی کرورنا کی وجہ سے لوگ ڈالر کی طرف نہیں گئے بلکہ گولڈ کی طرف گئے؟ کیا گولڈ 1700 ڈالر پر اونس فروخت نہیں ہو رہا ہے؟ کیا یہی حالت 2008 کے اکانومی کریش یا اس سے قبل کی کسی آفت یا سیاسی تبدیلی میں نہیں تھی؟

کیا یہ کہنا صحیح نہیں کہ:

سونے سے محبت فطری ہے جبکہ بٹ کوائن سے محبت غیر فطری اور دجل ہے۔
جسطرح مرد کی عورت سے محبت فطری ہے جبکہ مرد سے محبت غیر فطری اور دجل ہے۔
اور جیسے زمین اور جانوروں سے محبت فطری ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹ سے غیر فطری اور دجل ہے۔

سو پہلے تو فطرت کی طرف واپس آنا ہو گا تاکہ بٹ کوائن کے دجل کے بجائے گولڈ کے فطری لالچ کا علاج کیا جائے۔
 
Top