کیا اللہ تعالٰی کے مبعوث کیئے ہوئے انبیاء کرام سے باالقصد خطاؤں کا صدور ممکن تھا؟؟؟

arifkarim

معطل
ہر شخص کا ایک ماضی ہوتا ہے جو عموما برائی اور اچھائی کا مرکب ہوتا ہے کوئی بھی شخص معصوم عن الخطا نہیں ہے ماسوائے انبیا کرام ۔ ایسا ہی ماضی نواز و شہباز کا بھی ہے عمران کا بھی اور زرداری کا بھی ۔تاہم نواز ،شہباز اور عمران ماضی کے اندھیروں سے نکل کر ایک روشن حال کے متمنی نظر آتے ہیں‌ جبکہ زرداری کے چہار سو اب بھی اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ اگر کسی کو اب بھی زرداری اور پیپلز پارٹی کے بارے میں کوئی خوش فہمی ہے تو خیر وکلا کا مارچ شروع ہو لینے دیں جلد ہی عوامی مزاج بھی کھل کر سامنے آجائے گا۔

انبیاء کرام غلطیوں سے پاک نہیں ہیں۔ ہماری طرح کے انسان ہیں لیکن باقی انسانوں سے عموما کم نوعیت کی غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ انکا خدا سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے-----------
لیجئے، اب ایک الیکٹڈ جمہوری پارٹی کیخلاف احتجاج کا آغاز ہوتا ہے- پہلے مشرف کیخلاف ہو رہا تھا، اس سے پہلے نواز شریف کیخلاف، اس سے پہلے ۔۔۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
انبیاء کرام غلطیوں سے پاک نہیں ہیں۔ ہماری طرح کے انسان ہیں لیکن باقی انسانوں سے عموما کم نوعیت کی غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ انکا خدا سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے-----------۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عارف یہ آپ کیا لکھ رہے ہیں، کچھ علم ہے آپ کو؟؟؟؟؟؟ لا حول ولا قوۃ۔

انبیاء کرام غلطیوں اور گناہوں سے پاک تھے۔
 

ساقی۔

محفلین
انبیاء کرام غلطیوں سے پاک نہیں ہیں۔ ہماری طرح کے انسان ہیں لیکن باقی انسانوں سے عموما کم نوعیت کی غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ انکا خدا سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے-----------

خدا کا خوف کھاو ۔ کیا قبر کو بھول گئے ہو۔؟ ابو جہل کی طرح اللہ کے پیغامبروں پر بھی زبان درازی کرنے لگے ہو ۔
 

ظفری

لائبریرین
انبیاء کرام غلطیوں سے پاک نہیں ہیں۔ ہماری طرح کے انسان ہیں لیکن باقی انسانوں سے عموما کم نوعیت کی غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ انکا خدا سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے-----------

میں دوسروں کی طرح بھڑکا تو ضرور ہوں ۔ مگر ۔۔۔ خیر ۔۔۔۔انتہائی تحمل کے ساتھ تم سے یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ انبیاء کرام کی کسی بھی غلطی کی طرف نشان دہی کردو ۔ ابھی کچھ کہنا نہیں چاہتا مگر پھر بھی مختصراً کہتا چلوں کہ انبیاء کرام ہمارے اور تمہارے ووٹوں سے چُنے نہیں‌جاتے ۔ اللہ تعالی ان کو بہت آزمائش اور امتحان کے بعد نبوت کے عہدے پر فائز کرتا ہے ۔ ہاں میرا سوال نہیں بھولنا ۔۔۔۔ :shameonyou:
 

فخرنوید

محفلین
میں دوسروں کی طرح بھڑکا تو ضرور ہوں ۔ مگر ۔۔۔ خیر ۔۔۔۔انتہائی تحمل کے ساتھ تم سے یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ انبیاء کرام کی کسی بھی غلطی کی طرف نشان دہی کردو ۔ ابھی کچھ کہنا نہیں چاہتا مگر پھر بھی مختصراً کہتا چلوں کہ انبیاء کرام ہمارے اور تمہارے ووٹوں سے چُنے نہیں‌جاتے ۔ اللہ تعالی ان کو بہت آزمائش اور امتحان کے بعد نبوت کے عہدے پر فائز کرتا ہے ۔ ہاں میرا سوال نہیں بھولنا ۔۔۔۔ :shameonyou:

میں نوٹ کر رہا ہوں کہ جناب عارف کریم صاحب کافی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شر پسند باتیں کر جاتے ہیں۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
ماشاء اللہ، عارف کریم کی زبان درازیاں ہرجگہ پہنچی ہوئی ہیں۔

میرے خیال میں عارف بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کے نبی کے بارے میں نہیں، شاید کسی جھوٹے نبی کی بات کر رہے ہیں۔ کیا خیال ہے عارف؟
 

طالوت

محفلین
کیا ہی اچھا ہو نبیل کہ عارف کے اس "انکشاف" کو کسی نئے دھاگے میں منتقل کر دیا جائے اور دھاگہ موضوع کی مناسبت سے چلتا رہے ، پھر دیکھتے ہیں عارف کیا جواب دیتے ہیں ظفری کے سوال کا ۔۔۔۔۔
وسلام
 
ماشاء اللہ، عارف کریم کی زبان درازیاں ہرجگہ پہنچی ہوئی ہیں۔

میرے خیال میں عارف بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کے نبی کے بارے میں نہیں، شاید کسی جھوٹے نبی کی بات کر رہے ہیں۔ کیا خیال ہے عارف؟

اب تو کسی شک کی گنجائش نہیں رہی۔
 

شمشاد

لائبریرین
انبیاء کرام غلطیوں سے پاک نہیں ہیں۔ ہماری طرح کے انسان ہیں لیکن باقی انسانوں سے عموما کم نوعیت کی غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ انکا خدا سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے-----------

اللہ تعالٰی کے چنے ہوئے انبیاء کرام تو ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہی ہیں، البتہ شیطان کے چنے ہوئے غلطیاں کرتے ہوں گے۔
 
اللہ تعالٰی کے چنے ہوئے انبیاء کرام تو ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہی ہیں، البتہ شیطان کے چنے ہوئے غلطیاں کرتے ہوں گے۔
اور یہ سلسلہ مسیلمہ کذاب سے لے کر پچھلی صدے کے کذات تک چلتا ہے اور آگے بھی کتنے ہی کذاب آئیں گے۔
 

فخرنوید

محفلین
اللہ تعالٰی کے چنے ہوئے انبیاء کرام تو ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہی ہیں، البتہ شیطان کے چنے ہوئے غلطیاں کرتے ہوں گے۔

آپ کی اس بات پر میری طرف سے تمغہ حسن کارکردگی ملنا چاہیے۔


سب دعا کر لو!

اے اللہ!
ہم پر اپنا کرم فرما ۔ ہمیں سیدھے رستے پر چلنے کی تقفیق دے اور ہم میں سے جو لوگ بہک گئے ہیں ۔ انہیں سیدھے رستے پر چلنے کی توفیق دے اور ہدایت دے۔ اور ان کے شر سے ہمیں محفوظ فرما۔

آمین
 

arifkarim

معطل
میں دوسروں کی طرح بھڑکا تو ضرور ہوں ۔ مگر ۔۔۔ خیر ۔۔۔۔انتہائی تحمل کے ساتھ تم سے یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ انبیاء کرام کی کسی بھی غلطی کی طرف نشان دہی کردو ۔ ابھی کچھ کہنا نہیں چاہتا مگر پھر بھی مختصراً کہتا چلوں کہ انبیاء کرام ہمارے اور تمہارے ووٹوں سے چُنے نہیں‌جاتے ۔ اللہ تعالی ان کو بہت آزمائش اور امتحان کے بعد نبوت کے عہدے پر فائز کرتا ہے ۔ ہاں میرا سوال نہیں بھولنا ۔۔۔۔ :shameonyou:

احادیث اور قرآن پاک میں بھی ذکر ملتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک بندہ "غلطی " سے قتل ہو گیا تھا۔ بعد میں آپؑ نے خدا سے اس فعل کی معافی بھی مانگی تھی۔ ایک بار آنحضورؐ سے بھی نماز میں ایک رکعت کم یا زیادہ ہو گئی تھی۔ صحابہ کرام کے استفسار پر آپ ؐ نے فرمایا تھا کہ میں بھی آپ لوگوں کی طرح کا ایک بشر ہوں (مطلب بھول سکتا ہوں)۔ (اصل حدیث کا حوالہ یاد نہیں)
اور سب سے بڑھ کر حضرت آدم علیہ السلام نے شیطان کے بہکاوے میں آکر ’’ایک غلطی‘‘ کی تھی۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک انکو پہلا نبی مانا جاتاہے۔ ۔۔۔
میری گزارش ہے کہ بھڑکنے سے پہلے تاریخ کا مطالعہ کر لیا کریں۔
 
پہلے غلطی ۔ خطا اور گناہ میں فرق کر لیجئے ۔ پھر کسی کی بات کیجئے ۔ اور انبیاء کرام کی خطائیں گناہ نہیں بلکہ امت کی تعلیم کے لیئے ہوا کرتی تھیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ براہ راست کسی کو کفر کا فتویٰ لگانے سے پہلے اسکی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنا زیادہ مناسب رہے گا ۔
 

arifkarim

معطل
پہلے غلطی ۔ خطا اور گناہ میں فرق کر لیجئے ۔ پھر کسی کی بات کیجئے ۔ اور انبیاء کرام کی خطائیں گناہ نہیں بلکہ امت کی تعلیم کے لیئے ہوا کرتی تھیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ براہ راست کسی کو کفر کا فتویٰ لگانے سے پہلے اسکی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنا زیادہ مناسب رہے گا ۔

اب آئے نہ لائن پہ، میں نے اوپر والی پوسٹ میں "غلطی اور خطا" ہی لکھا تھا کہ انبیاء کرام سے بھی سرزد ہو سکتی ہیں۔ گناہ کا میں نے کوئی ذکر نہیں کیا۔ لیکن چونکہ میں جانتا ہوں کہ مسلمان جذباتیات سے زیادہ کام لیتے ہیں۔ اسلئے پوسٹ کا متن پڑھے بغیر ہی جھٹ ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
ذاتیات پر نہیں اترنا چاہیے۔

یہ کون بہت سے لوگ ہیں جن کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کو پہلا نبی مانا جاتاہے، جبکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام پہلے نبی ہیں۔

اور باقی کے جو دو واقعات آپ نے بیان کیئے ہیں، وہ بس باتیں ہی ہیں جو کہ گھڑی گئی ہیں۔ ان کا مستند حوالہ کہیں نہیں ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔
 

arifkarim

معطل
اور باقی کے جو دو واقعات آپ نے بیان کیئے ہیں، وہ بس باتیں ہی ہیں جو کہ گھڑی گئی ہیں۔ ان کا مستند حوالہ کہیں نہیں ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام والا واقعہ تو قرآن سے ثابت ہے:
612.gif

613.gif


باقی واقعات کیلئے "مستند" احادیث سے رجوع کریں۔ موضوع سے ہٹنے پر معذرت، منتظمین چاہیں تو ان پیغامات کو الگ کر سکتے ہیں۔
 
گو یہ دھاگا اس موضوع کے لیے مناسب نہیں ہے لیکن عارف کریم زبردستی اپنی جس جہالت پر اڑے ہوئے ہیں اس کے بارے میں ایک مختصر سی بات میں ضرور کرنا چاہوں گا اولا تو یہ عارف کریم یہ سمجھ لیں کہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہر موضوع اور خصوصاعقائد و تعلیمات اسلامی کے ہر موضوع میں کودنے کو فرض سمجھ لیں چاہے اس بارے میں کوئی واقفیت اور ٹکا برابر معلومات ان کو حاصل نہ ہوں دوسری بات یہ کہ وہ اپنہ جہالت کی بنا پر پہلے ایک بات غلط کرتے ہیں اور بعد میں شرمندہ ہونے کے بجائے اس کی مزید تاویلات پیش کرتے ہیں شروع میں انہوں نے کہا کہ
بیاء کرام غلطیوں سے پاک نہیں ہیں۔ ہماری طرح کے انسان ہیں لیکن باقی انسانوں سے عموما کم نوعیت کی غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ انکا خدا سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے-----------
اور بعد میں جب ان پر گرفت کی گئی تو جھٹ انہوں نے پینترا بدلا اور کہنے لگے کہ
ب آئے نہ لائن پہ، میں نے اوپر والی پوسٹ میں "غلطی اور خطا" ہی لکھا تھا کہ انبیاء کرام سے بھی سرزد ہو سکتی ہیں۔ گناہ کا میں نے کوئی ذکر نہیں کیا۔ لیکن چونکہ میں جانتا ہوں کہ مسلمان جذباتیات سے زیادہ کام لیتے ہیں۔ اسلئے پوسٹ کا متن پڑھے بغیر ہی جھٹ ذاتیات پر اتر آتے ہیں
۔
حالانکہ ان کی پہلی پوسٹ پر غور کریں موصوف فرما رہے ہیں کہ انبیا عموما کم نوعیت کی غلطیاں کرتے ہیں فی الحال قطع نظر دیگر باتوں کہ ذرا عموما پر ہی غور کر لیں عموما کا مطلب ہوتا ہے عام طور پر یعنی اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ انبیا عا م طور پر کم نوعیت کی غلطیاں کر تے ہیں ہمیشہ نہیں یعنی کبھی کبھی وہ عام انسانوں‌کی طرح بھی غلطیاں کرتے ہیں تو بتائے اب عصمت انبیا کا عقیدہ کہاں گیا۔
پھر انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی ایک سہو اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اس زمانہ کا واقعہ بیان کیا جب وہ نبوت سے سرفراز ہی نہ کیے گئے تھے گویا نبی ہی نہ تھے؟ ایک بات ذہن میں رکھئے تفصیل کسی جدا خاص اس موضوع سے متعلق دھاگے میں عرض کی جاسکتی ہے کہ انبیا کی طرف غلطی کی نسبت بھی گناہ ہے رب العزت نے انبیا کرام کو طبعا قبائح اور معاصی سے متنفر کیا ہوتا ہے طاعات کی طرٍ ان کی رغبت عقلی ہی نہیں بلکہ طبعی بھی ہوتی ہے اسی طرح معاصی سے ان کا تنفر عقلی ہی نہیں بلکہ طبعا ہوتا ہے ان کا ہر ارداہ ، عمل اور قول ہر حرکت و سکون کائنات کے لیے اسوہ اور نمونہ ہوتی ہےہاں تقاضہ بشریت کی بنا پر سہو و نسیان کا امکان باقی رہتا ہے تاہم فورا ہی اس پر متنبہ کردیا جاتا ہے اور یہ سہو ہر گز کوئی گناہ یا کوئی غلطی نہیں ہوتی ۔یہی بات سیدنا آدم علیہ السلام کے باب میں بھی ہے خود قران میں اس بارے میں ہے
[arabic]. وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًاo[/arabic]
. اور درحقیقت ہم نے اس سے (بہت) پہلے آدم (علیہ السلام) کو تاکیدی حکم فرمایا تھا سو وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں بالکل (نافرمانی کا کوئی) ارادہ نہیں پایا (یہ محض ایک بھول تھی)
تو گذارش یہ ہے کہ اس باب میں بہت محطاط رہنے کی ضرورت ہے اپنی ذات کا تو ان کو بڑا خیال ہے اور فورا ممبران کے اس جائز ردعمل کو وہ ذاتیات سے تعبیر فرماتے ہیں لیکن انبیا کرام کے معاملے میں وہ اتنے بے دحڑک ہیں‌کہ جو ذہین میں‌آرہا ہے وہ بکتے چلے جارہے ہیں ۔
 

arifkarim

معطل
گو یہ دھاگا اس موضوع کے لیے مناسب نہیں ہے لیکن عارف کریم زبردستی اپنی جس جہالت پر اڑے ہوئے ہیں اس کے بارے میں ایک مختصر سی بات میں ضرور کرنا چاہوں گا اولا تو یہ عارف کریم یہ سمجھ لیں کہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہر موضوع اور خصوصاعقائد و تعلیمات اسلامی کے ہر موضوع میں کودنے کو فرض سمجھ لیں چاہے اس بارے میں کوئی واقفیت اور ٹکا برابر معلومات ان کو حاصل نہ ہوں دوسری بات یہ کہ وہ اپنہ جہالت کی بنا پر پہلے ایک بات غلط کرتے ہیں اور بعد میں شرمندہ ہونے کے بجائے اس کی مزید تاویلات پیش کرتے ہیں شروع میں انہوں نے کہا کہ

اور بعد میں جب ان پر گرفت کی گئی تو جھٹ انہوں نے پینترا بدلا اور کہنے لگے کہ
۔
حالانکہ ان کی پہلی پوسٹ پر غور کریں موصوف فرما رہے ہیں کہ انبیا عموما کم نوعیت کی غلطیاں کرتے ہیں فی الحال قطع نظر دیگر باتوں کہ ذرا عموما پر ہی غور کر لیں عموما کا مطلب ہوتا ہے عام طور پر یعنی اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ انبیا عا م طور پر کم نوعیت کی غلطیاں کر تے ہیں ہمیشہ نہیں یعنی کبھی کبھی وہ عام انسانوں‌کی طرح بھی غلطیاں کرتے ہیں تو بتائے اب عصمت انبیا کا عقیدہ کہاں گیا۔
پھر انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی ایک سہو اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اس زمانہ کا واقعہ بیان کیا جب وہ نبوت سے سرفراز ہی نہ کیے گئے تھے گویا نبی ہی نہ تھے؟ ایک بات ذہن میں رکھئے تفصیل کسی جدا خاص اس موضوع سے متعلق دھاگے میں عرض کی جاسکتی ہے کہ انبیا کی طرف غلطی کی نسبت بھی گناہ ہے رب العزت نے انبیا کرام کو طبعا قبائح اور معاصی سے متنفر کیا ہوتا ہے طاعات کی طرٍ ان کی رغبت عقلی ہی نہیں بلکہ طبعی بھی ہوتی ہے اسی طرح معاصی سے ان کا تنفر عقلی ہی نہیں بلکہ طبعا ہوتا ہے ان کا ہر ارداہ ، عمل اور قول ہر حرکت و سکون کائنات کے لیے اسوہ اور نمونہ ہوتی ہےہاں تقاضہ بشریت کی بنا پر سہو و نسیان کا امکان باقی رہتا ہے تاہم فورا ہی اس پر متنبہ کردیا جاتا ہے اور یہ سہو ہر گز کوئی گناہ یا کوئی غلطی نہیں ہوتی ۔یہی بات سیدنا آدم علیہ السلام کے باب میں بھی ہے خود قران میں اس بارے میں ہے
[arabic]. وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًاo[/arabic]
. اور درحقیقت ہم نے اس سے (بہت) پہلے آدم (علیہ السلام) کو تاکیدی حکم فرمایا تھا سو وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں بالکل (نافرمانی کا کوئی) ارادہ نہیں پایا (یہ محض ایک بھول تھی)
تو گذارش یہ ہے کہ اس باب میں بہت محطاط رہنے کی ضرورت ہے اپنی ذات کا تو ان کو بڑا خیال ہے اور فورا ممبران کے اس جائز ردعمل کو وہ ذاتیات سے تعبیر فرماتے ہیں لیکن انبیا کرام کے معاملے میں وہ اتنے بے دحڑک ہیں‌کہ جو ذہین میں‌آرہا ہے وہ بکتے چلے جارہے ہیں ۔
آپ میری بات کا غلط مطلب لیکر خوامخواہ مشتعل ہو رہے ہیں۔ میرا وہ مطلب ہر گز نہیں تھا جو آپ لوگ میرے سے منسوب کر رہے ہیں۔ عموما سے میری مراد صرف یہ تھی کہ انبیا کرام عام انسانوں جیسی سنگین غلطیاں ہرگزنہیں کرتے۔ البتہ بشری کمزوری کے باعث کبھی کبھار بھول یا خطا سرزد ہو سکتی ہے! اب اگر اس ’’عموما‘‘ کو آپ میرے خلاف کیچڑ اچھالنے کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔۔۔ شوق سے کریں!
 
Top