کہیں سنیں گے تو بھیدی بھی گھر کے نکلیں گے!

محمداحمد

لائبریرین
واہ واہ!

سبحان اللہ۔ کیا اچھی غزل ہے۔

ماشاءاللہ۔

غبارِ خاطر و گردِ سفر کو بیٹھنے دو
ہم انتظار کریں گے، ٹھہر کے نکلیں گے

اور یہ شعر! اس پر تو 'ایکسکلوسو' داد وصول کیجے۔

اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
 
ایک چھوٹی سی بات یہ کہ ’’دلدر نکلنا‘‘ کچھ کھٹک رہا ہے ۔ اسے دیکھ لیجئے ۔ یہ محاورہ کہیں ایجادِ بندہ تو نہیں ؟!:)
اصل میں دلدر کا مفہوم افلاس و نکبت سے لے کر نحوست تک کو محیط ہے۔ بحر الفصاحت کے مطابق ہندو دیوالی کی صبح کو رات کا کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے اس پر ایک پرانا چراغ جلا دیتے ہیں اور اس رسم کو دافعِ بلیات خیال کرتے ہیں۔ یہ رسم دلدر نکالنا کہلاتی ہے۔ باقی طرز ہائے اظہار از قسم دلدر دور ہونا، دلدر بھاگنا، دلدر پار ہونا، دلدر جانا وغیرہ سادہ طور پر نحوست یا ابتلا کے دور ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
خدا جانے کس ترنگ میں تھا میں۔ فرہنگِ آصفیہ کی جگہ بحر الفصاحت لکھ گیا۔
 
Top