کچھ آگہی کی سبیلیں ہیں انتشار میں بھی (از قلم نیرنگ خیال)

نیرنگ خیال نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 2, 2019

  1. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    کچھ آگہی کی سبیلیں ہیں انتشار میں بھی
    عمر رسیدہ اور جہاندیدہ لوگوں کی باتیں سن کر میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ ان سب کو مصنف ہونا چاہیے۔ کتنا اچھا بولتے ہیں۔ دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے پاس خیالات و الفاظ کی کتنی فراوانی ہے۔ کتنی سہولت سے یہ واقعات بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ مجھے تو جو دو چار لفظ آتے ہیں، فوراً سے پیشتر نوک قلم کے حوالے کر دیتا ہوں۔ دنیا چیختی رہتی ہے کہ یہ زبان و بیان درست نہیں۔ میاں لکھنے کا یہ انداز درست نہیں۔ تم کب لکھنا سیکھو گے؟ لیکن میں سب سے بےپروا جو الٹا سیدھا دل میں آتا ہے لکھتا ہوں اور خوش ہوتا ہوں۔

    لیکن ہر گزرتا دن مجھے چپ رہنا سکھانے لگا ہے۔ میں چاہ کر بھی نہیں لکھ پاتا۔ میں سوچ کر بھی نہیں بول پاتا۔ میرے الفاظ کے آگے خندق اور میری سوچ کے آگے خلا پیدا ہوگیا ہے۔ نیا سال پرانا سال۔۔۔ نئے دن پرانے دن۔۔۔ نئی باتیں پرانی باتیں۔۔۔ سب کتنا بےمعنی ہے۔ سب کتنا مبہم ہے۔ کوئی بات ، کوئی لمحہ، کوئی دن واضح نہیں ہے۔ کسی لفظ میں اثر نہیں ہے۔ کسی بات میں زندگی کی رمق نہیں ہے۔ میں جی رہا ہوں اس لیے کہ ربِ کائنات کی یہی رضا ہے۔ کوئی مر رہا ہے کیوں کہ کاتبِ تقدیر نے یہ لکھا ہے۔ خاموشی۔۔۔ سردی۔۔۔ پھر سر اٹھاتی بہار۔۔۔ گرماتے ہوئے دن۔۔ مختصر راتیں۔۔۔ پھر خزاں ۔۔۔ اور آخر میں سرد راتیں۔۔ خاموشی۔۔۔۔۔ غور سے دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ سال بھی انسانی زندگی گزار رہاہے۔ کسی سرد رات میں کہرے کے پیچھے چھپ کر آخری ہچکی لے گا اور ختم ہوجائے گا۔ اسی سرد رات کی کوکھ سے ایک نیا سال ابھرے گا۔ جب آنکھیں کھولے گا تو بہار لائے گا۔ جوانی میں گرم ہوگا۔ ادھیڑ عمری میں خزاں کے رنگوں سے دل بہلائے گا۔ اور پھر سرد راتوں میں خاموش ہوتا ہوا اپنی آخری ساعت کا انتظار کرے گا۔ کتنی مماثلت ہے اس دورانیے کی انسان کی زندگی سے۔کتنی زندہ لگتی ہے یہ تخیلاتی تقسیم۔ جیسے یہی تو ہے سب کچھ۔ اور ہم۔۔۔ ہم تو ہیں نہیں۔ ہم کہاں ہیں۔ کس برس میں ہیں۔ بہار میں ہیں کہ خزاں میں۔۔۔۔ سرگرم ہیں کہ سرد راتوں کے رحم و کرم پر۔ کون جانے۔۔۔ انسان اور بدلتی رتوں میں یہی فرق رہ گیا ہے کہ انسان نے ظاہری پہناوے کو اندرونی خوبصورتی پر فوقیت دے دی ہے۔ شاید اسی ظاہری تصنع کی نمود اور برجستگی کی موت کا نام ارتقا ہے۔

    فطرت کا ساتھ مجھے ہمیشہ سے بھلا لگتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو مجھے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ جو میرے بکھرے حروف کو الفاظ کی شکل عطا کرتا ہے۔ یہ ہی وہ پانی ہے جس کی بدولت الفاظ جملوں کی فصل میں ڈھل جاتے ہیں۔ ذرا اس درخت کو دیکھو۔۔۔ میں ایک درخت سامنے کھڑا ہوں۔ بظاہر کتنا ہرابھرا۔۔۔ اور جڑیں دیکھو تو۔ دیمک چاٹ گئی ہے۔ تنا بالکل کھوکھلا ہو چکا ہے۔ کسی لمحے یہ درخت گر جائےگا۔ لیکن شاید یہ بھی انسانوں سے متاثر ہوگیا ہے۔ جب تک زندہ ہے ہرا بھرا نظر آنا چاہتا ہے۔ میں اس لمحے میں یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ دھوکا درخت خود کو دے رہا ہے کہ دیکھنے والوں کو۔ میں اس دوراہے کا بھی شکار ہوں کہ دھوکا دہی انسان سے فطرت سے سیکھی ہے یا اس کا خمیر ہے۔ اور یہ درخت کچھ خزاں رسیدہ پتوں کے ساتھ۔۔ کچھ سرخ پتے ہیں اس کے اور کچھ ہرے بھی۔ کتنے بھلے رنگ ہیں اس کے۔ پر یہ پتے سرخ کیوں ہیں۔ کیا درختوں پر بھی جذباتی رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔ کیا جذبات کے اظہار کا طریقہ تمام حیات میں فطری طور پر ایک سا ہے؟ اس میں تنوع کیوں نہیں؟

    اور یہ پتھر سے پھوٹتا پانی۔ تو کیا ہم ساری عمر چشمے کے لیے کسی بیرونی ضرب کے منتظر رہیں گے؟ کیا ان تمام پتھروں سے پانی پھوٹ سکتا ہے؟ یا کوئی کوئی پتھر ہی پانی جاری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ کیا انسان بھی اپنی صلاحیتوں کو دنیا پر آشکار کرنے کے لیے کسی ضرب کا منتظر رہے؟ کوئی واقعہ کوئی حادثہ ، بےاحتیاطی میں لگی ٹھوکر یا نادانستگی میں لگی کوئی ضرب؟ اور جو پھر بھی پانی نہ پھوٹا تو؟ پھر بھی زمین بنجر رہ گئی تو؟ شاخ پر پھول نہ کھلا تو؟ شاید ان سب سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔ شاید ان سب سوالوں کا جواب "شاید" ہی ہے۔ اسی اضطراب میں ایک چھوٹا سا کنکر سامنے بہتے پانی میں پھینکتا ہوں۔ کچھ لہریں پیدا ہوتی کناروں کی طرف بڑھتی ہیں۔ پر جوں جوں اپنے مرکز سے دور ہوتی ہیں، مدہم ہوتی غائب ہونے لگتی ہیں۔ ایسے میں ایک لہر ختم ہونے سے پہلے سرگوشی کرتی ہے۔ نادان! ضرب تو ہر پل، ہر ماہ اور ہر سال لگ رہی ہے۔ گزرتے لمحے جو دنوں میں بدل رہے، دن جو ہفتوں سے مہینوں کا سفر کر رہے، مہینے جو سال کے لفافے میں لپٹ رہے، یہ سب ضربیں ہی تو ہیں۔ احساس پر۔ خیال پر۔ اگر پھر بھی ندامت آ نکھوں سے چشموں کی صورت نہیں بہہ رہی، اگر پھر بھی ذہن و دل کی زمیں پر نئی سوچ، نئے راستوں کے تعین کی فصل نہیں بیجی گئی، اگر پھر بھی شاخِ تخیل پر نئے عزم کے پھول نہیں کھل رہے۔ تو پھر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ضرب تو لگ رہی ہے مگر یہ پتھر کسی چشمے کا ماخذ بننے کا اہل نہیں۔ یہ مٹی بنجر ہے، فصل کا بار نہیں اٹھا سکتی۔ یہ شاخ اپنی اصل سے جدا ہوگئی ہے۔

    سال بھی کتنی عجیب چیز ہے۔ دیکھا جائے تو ان لمحوں کا مجموعہ ہے جو کسی شمار میں نہیں۔ ان دنوں کا گوشوارہ ہے جن کا احتساب نہیں۔ یوں ہی سورج کی طرح طلوع ہوتا ہے، یوں ہی سورج کی طرح غروب ہورہا ہے۔ اور میں بےبسی سے اس بوڑھے سال کو دفناتے اس نومولود سال کا شور سن رہا ہوں۔ جبکہ میرے پاس کسی بوڑھے کا خوبصورت بیان نہیں ۔ کسی داستان گو کی زبان نہیں ۔ اس پر ستم یہ کہ محشر بدایونی کا یہ شعر مجھے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔

    کچھ آگہی کی سبیلیں ہیں انتشار میں بھی
    کبھی کبھی نکل آیا کرو غبار میں بھی

    نیرنگ خیال
    یکم جنوری 2019
    یکم جنوری 2018 کو لکھی گئی تحریر "تتلیاں"
    یکم جنوری 2017 کو لکھی گئی تحریر "عجب تعلق"
    یکم جنوری 2016 کو لکھی گئی تحریر "اوستھا"
    2 جنوری 2015 کو لکھی گئی تحریر "سال رفتہ"
    31 دسمبر 2013 کو لکھی گئی تحریر" کہروا"
     
    • زبردست زبردست × 10
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,258
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اپنی گرفت میں لیتی، اداسی بکھیرتی اور بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرتی ہوئی تحریر۔
    صاحبِ تحریر جس کیفیت میں ہیں،لگتا ہے کہ قاری بھی اُسی کیفیت کے نرغہ میں ہے۔
     
    • متفق متفق × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,110
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یہ تحریر نہیں ہے۔
    اسے شاعری کے زمرہ میں ہونا چاہیے تھا، نثری نظم تو پانی بھرے اس کے آگے۔
    نہیں بلکہ اسے تصویر والے زمرہ میں ہونا چاہیے۔
    یا شاید ویڈیو والا زمرہ ٹھیک رہے گا۔

    چل جھوٹے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. ابن سعید

    ابن سعید خادم

    مراسلے:
    60,164
    :) :) :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,184
    رسید حاضر ہے۔۔۔! فی الوقت پڑھنے کی سچ مچ فرصت نہیں۔ نام دیکھ کر تبصرہ کیے بناء رہا نہیں گیا۔ کہاں گم ہیں صاحب؟ ویسے، اتنی تعریفیں سمیٹنے کے لیے کتنے لفافے بانٹے گئے ہیں آپ کی جانب سے؛ یہ ضرور بتا دیجیے گا۔ :) ہم تو وہی آسمانی رنگ والا ہی لیں گے بھیا! :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. سحرش سحر

    سحرش سحر محفلین

    مراسلے:
    243
    جھنڈا:
    Pakistan
    خیال صاحب! ماشاءاللہ ....
    کاش! زبان وبیان پر ایسی ہی قدرت مجھے بھی حاصل ہوتی ....
    آپ نے بہت ہی خوب لکھا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. سفیر آفریدی

    سفیر آفریدی محفلین

    مراسلے:
    403
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    نیلگوں تالاب کے عکس کی پانی کے قریب خیال اور پتهر پهینکنے کی مشق ہی بہت اعلٰی
    ہر چیز زمانے کے آئینہ دل ہوتی ہے
    خاموش محبت کا تو اتنا صلہ دیا ہوتا
    ساغر صدیقی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,258
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    یہ تحریر پڑھ کے فیض کی نظم یاد آئی۔
    ستارے زخم زخم ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ہے کہ محض جال ہے
    میرے تمہارے عنکبوتِ وہم کا بنا ہؤا
    یہ ہے تو اس کا کیا کریں!
    نہیں ہے تو بھی کیا کریں!
    بتا!بتا!
    بتا!بتا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,398
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جنہیں فطرت سے ہمکلامی کا گر آتا ہے ان کے لئے لفظوں کا دامن کبھی تنگ نہیں پڑھتا
    بہت خوب اور رواں تحریر طوالت کے باوجود کہیں جھول نہیں
    لکھتے رہیں اور شئیر کرتے رہیں
    اللہ کرے زور قلم زیادہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  10. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,595
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    ماشاء اللہ ۔ اپنی تحریروں کو جمع کر کے کتابی شکل میں ضرور شائع کریں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  11. سفیر آفریدی

    سفیر آفریدی محفلین

    مراسلے:
    403
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    نیرنگ خیال تهوڑے غزل غزل پسند ہیں جلے جلے ٹلے ٹلے کاکل پسند ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,251
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    خوبصورت تحریر!

    ہمیشہ کی طرح لاجواب!

    مسحور کن اور کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہوئی۔:)

    ہر سال ایک نایاب تحریر۔۔۔! شاید اسی کی کمی تھی۔

    شاد آباد رہیے نین بھائی! :in-love:
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,984
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    واہ۔ حسب روایت نیرنگی و ندرت خیال اور انداز بیاں بہت اعلی۔
    گزرتے سال اور انسانی زندگی میں کیا خوب مماثلت ڈھونڈی ہے۔
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    11,300
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بہت خوب نیرنگ۔
    ابھی ملاقات کو چند ہی روز گزرے ہیں اور یہ شکوہ تو روبرو بھی ہوا تھا۔
    امید واثق ہے کہ اب جمود ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    آپ کا حسن ظن ہے جاسمن صاحبہ۔ پذیرائی پر شکرگزار ہوں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    محبت ہے آپ کی تابش بھائی۔۔۔۔ :redheart:

    میں تو آپ کو یہ بھی نہیں کہہ سکتا۔۔۔ "چل سچے"۔۔۔۔ :tongueout:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  17. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    اے کیا چکر است۔۔۔ یا مرشد۔۔۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  18. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    رسید جعلی ہے۔۔۔۔ اصلی رسید بمعہ مہر رسید کی جاوے۔۔۔۔
    چلیے۔۔۔ سفید والے دو لے آئیے۔ ایک نیلے والا لے جائیے۔۔۔ :p
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  19. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ سحرش صاحبہ۔ آپ سے غالبا تعارف نہیں۔ بقیہ میں تو اردو محفل کے سب سے نکمے لکھنے والوں میں سے ایک ہوں۔
     
  20. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ آفریدی صاحب۔۔۔ آپ سے بھی تعارف نہیں ہے۔ پتھر پھینکنے کی مشق۔۔۔۔ یعنی آدمی منجنیق ہوا جاتا ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر