کون ہیں یہ ؟ از شکیل شمسی

ابن جمال

محفلین
کوہیں یہ ؟
از:شکیل شمسی
اس وقت اسلام اور مسلمانوں کو دو قسم کے دشمنوں کے وار جھیلنا پڑ رہے ہیں۔ ایک وار صہیونی و دیگر اسلام دشمن طاقتیں سامنے سے کر رہی ہیں اور دوسرا وار اندر سے ہو رہا ہے۔یہ بات سب جانتے ہیں کہ سامنے سے وار کرنے والے دشمنوں سے لڑنا تو آسان ہے، لیکن اندر سے ہونے والے وار کو جھیل پانا نہایت دشوار ہے۔اس وقت مسلمانوں میں قاتلوں کا ایک ایسا گروہ سرگرم ہے، جو مسلمانوں کو ہی قتل کر رہا ہے اور اسلام کی بدنامی کا باعث بھی بن رہا ہے۔اس گروہ کی سرگرمیوں کا خاص مرکز اس وقت عراق، پاکستان، افغانستان اور ایران کا سیستان علاقہ ہے۔ ان علاقوں میں مسجدوں، امام باڑوں، مدرسوں اور اسکولوں پر حملے کر کے عام لوگوں کو قتل کرنا ایک عام سی بات ہو گیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب کسی شیعہ علاقہ پر حملہ ہو تا ہے تو اس کا الزام سنی فرقہ پر لگایا جاتا ہے اور جب سنی بستی میں بم پھٹے تو اس کی ذمہ داری وہابی مسلمانوں پر عائد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ اس طرح کے قاتلانہ حملوں کے پیچھے ایک ایسا مسلمان گروہ کام کر رہا ہے، جو اپنے آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو مسلمان نہیں مانتا ۔
چہلم کے روز عراق میں شیعوں پر تین بار حملہ ہوا اور اس کو سنی فرقہ پر تھوپنے کی کوشش کی گئی، جب کہ سنی فرقہ کے بڑے بڑے قبائلی لیڈروں نے بغداد سے کربلا جانے والے راستوں پر شیعہ زائرین کو سہولتیں پہنچانے کے لئے مختلف انتظامات کئے تھے اور امدادی کیمپ لگائے تھے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی دو بم دھماکے ہوئے تو ان کے ذریعہ شیعہ سنی فساد کروانے کی کوشش کی گئی، لیکن پاکستانی عوام اس چال کو سمجھ گئے اور انھوں نے یہ اعلان کیا کہ یہ کام تکفیری فرقہ کا ہے، جس کو تمام مسلمانوں نے خارجی قرار دیا ہے۔اس اعلان کے بعد ہر ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھے گاکہ آخر تکفیری فرقہ کہاں سے آیا اور کب اس کی شروعات ہوئی؟ تو میں نے بھی مناسب سمجھا کہ قارئین کو اس فرقہ کے بارے میں تھوڑی سی معلومات فراہم کروا دوں؟
تکفیری ایک ایسا فرقہ ہے، جس کی بنیاد صرف پچاس سال قبل مصر میں ڈالی گئی تھی۔ اس فرقہ کے لوگ اپنے آپ کو تکفیر والھجرہ بھی کہتے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے علاوہ تمام مسلمان اللہ کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور اللہ کے راستے سے بھٹک جانے والا ہر شخص واجب القتل ہے۔اس فرقہ کا قیام 1960میں ہوا تھا، لیکن 1977تک عام لوگوں کو اس فرقہ کے قیام کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔ اس فرقہ کا بانی مصر نژاد شکری مصطفی نام کا ایک زرعی سائنسداں تھا، جس نے The Society of Muslims (مسلم سماج) کے نام سے ایک گروہ بنایا اور بہت ہی خفیہ طریقے سے اپنے مشن کی شروعات کی۔اس شخص نے اپنے گروہ کے درمیان یہ بات پھیلائی کہ تمام مسلمان مرتد ہو گئے ہیں، یعنی اللہ کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا نہیں چاہیے۔ شکری کا کہنا تھا کہ مسلم معاشرہ بھٹک چکا ہے اور جب تک زمین پر سچی خلافت قائم نہ ہو جائے، تب تک سچے مسلمانوں کو سماج سے کٹ کر رہنا چاہیے۔کچھ ہی عرصہ بعد شکری کو مصر کی ممنوعہ تنظیم اخوان المسلمین سے رشتے رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، لیکن جیل میں رہنے کے بعد شکری اپنے عقائد کے معاملے میں مزید سخت ہو گیا۔1971میں جب شکری کو جیل سے رہا کیا گیا تو اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے تکفیری فرقہ کی بنیاد ڈالی اور عام مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسانے کا کام شروع کیا۔مصر کے لوگوں کے دلوں میں امریکہ اور اسرائیل کے لئے جو نفرت بھری تھی، اس کو شکری نے خوب خوب کیش کیا۔ مصر کے امریکہ نواز حکمرانوں کی حرکتوں اور ان کے اسرائیل کے ساتھ اندرونی رشتوں سے ناراض مسلمانوں کا ایک طبقہ اس کے ساتھ ہوتا گیا۔ اس کے ساتھ جیسے جیسے لوگ آتے گئے، اس کا مشن مضبوط ہوتا گیا۔ اس گروہ کے لوگوںنے ابتدائی دنوں میں پہاڑوں، صحرائوں اور ویرانوں میں قیام کرنا شروع کیا اور اپنے ہم خیال مسلمانوں کے علاوہ کسی دوسرے مسلمان سے رابطہ نہیں رکھا۔ شکری نے اپنے آپ کو مہدی موعود بھی کہنا شروع کر دیا اور اپنے ساتھ شامل ہونے والے مسلمانوں کے تمام شرعی مسائل، شادی بیاہ اور طلاق کے فیصلے کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا اور دوسرے مسلمانوں سے تعلقات رکھنے کو حرام قرار دے دیا۔ اس شخص نے مصر کی عورتوں پر بڑا جادو کیا۔شکری ان سے کہتا تھا کہ ایسے ماں باپ کی خدمت کرنا حرام ہے، جو اسلام سے بھٹک گئے ہیں۔شکری کے خفیہ مہم میں عورتوں نے اتنی دلچسپی دکھائی کہ بہت سی عورتیں اپنے گھر بار چھوڑ کر کوہ صحرا کی خاک چھاننے کے لئے اس کے گروہ میں شامل ہو گئیں۔ شکری نے مصر کے کئی دور دراز علاقوں میں اپنے آشرم بھی قائم کرلئے تھے، جہاں ان عورتوں نے قیام کیا۔ کئی خانوادوں نے ان عورتوں کو واپس لانے کے لئے مصر کی عدالتوں کا دروزہ بھی کھٹکھٹایا، لیکن ناکام رہے کیوں کہ یہ عورتیں اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی تھیں۔ شکری کے فرقہ میں بڑی تعداد میںعورتوں کے شامل ہونے کا ایک فائدہ یہ ہونے والا تھا کہ ان کی گود میں پلنے والی نسل شکری کے خیالات کو زیادہ آسانی سے سمجھ سکے گی۔ شکری نے یہ کام اتنی خاموشی سے کیا کہ دوسرے مسلم ممالک تو کیا مصر کے عام لوگوں کو بھی اس کی خبر نہیں لگی۔ اس بیچ اس نے اپنے فرقہ کو مصر،عراق، افغانستان، پاکستان، سوڈان، سعودی عرب اور یمن جیسے ممالک میں پھیلانے میں کامیابی بھی حاصل کر لی۔
1977میں شکری کے گروہ سے وابستہ کچھ لوگوں نے ہی مصر کے صدر انورسادات کو اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے کی پاداش میں قتل کر دیا، لیکن اس وقت تک چوں کہ تکفیری فرقہ کے بارے میں عوام کو معلوم نہیں تھا، اس لئے اس کو اخوان المسلمین کی حرکت کہا گیا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد شکری کے گروہ نے ایک مصری عالم دین اور مصر کی وزارت میں دینی امور کے سابق وزیر محمد الذہبی کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ مصری سراغ رساں جب اس قتل کی تہہ میں گئے تو انھیں معلوم ہوا کہ اس قتل کے پیچھے اصل میں شکری مصطفی کا ہاتھ ہے۔ اسی زمانے میں لوگوں کو شکری کے تکفیری عقائد کے بارے میں پتہ چلا۔ شکری کو مصری پولس نے گرفتار کیا اور وہاں کی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی۔1978میں شکری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا، لیکن تب تک اس کا فرقہ اپنی جڑیں بہت مضبوط کر چکا تھا۔ تکفیری خاموشی سے اپنے فرقہ کے عقائد کی تبلیغ کرتے رہے۔ ان لوگوں کو ایک سہولت یہ حاصل ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے درمیان پوری طرح گھل مل جانے کی غرض سے وہ فرقہ کی بھلائی کے لئے نماز کو ترک کر سکتے ہیں، داڑھی رکھنے کی ضرورت نہیں، شراب پینے اور سور کا گوشت کھانے کی اجازت ان کو حاصل تھی ۔اس فرقہ کے مبلغوں نے مسلمانوں کے بھیس میں گھوم گھوم کر یہ بات پھیلائی کہ کافروں سے نجات حاصل کرنے سے پہلے ان مسلمانوں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے، جو کفار کی مدد کر رہے ہیں۔ اس فرقہ کا سب سے خطرناک عقیدہ یہ تھا کہ اگر نیک مقصد کے لئے کسی بے گناہ کی جان لینا پڑے تو لی جا سکتی ہے۔ اپنے اسی عقیدے کو بنیاد بنا کر انھوں نے مسلمانوں کی بستیوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔عراق، پاکستان اور افغانستان کو تکفیری فرقہ نے اپنا مستقر بنایا کیوں کہ وہ یہاں کے نوجوانوں کے دلوں میں امریکہ کے خلاف موجود نفرت کو آسانی کے ساتھ کیش کر سکتے تھے۔ ان علاقوں میں قتل و غارت گری کے لئے انھوں نے نوجوانوں کو باقاعدہ طور پر ریکروٹ کرنا شروع کیا۔کئی برس کی جد و جہد کے بعد اندر ہی اندر ایسے سیکڑوں نوجوان تیار ہو گئے، جو مسلمانوں کے مجمع میں گھس کر مسلمانوں کو ہی قتل کرنے کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کی نظر میں شیعہ اور سنی دونوں ہی فرقہ کے لوگ واجب القتل ہیں، اسی لئے پاکستان میں کبھی یہ سنیوں کی مسجدوں پر حملہ کرتے ہیں اور کبھی شیعوں کے جلوس پر۔ عراق میں بھی ان کایہی رویہ ہے، یہ لوگ وہاں کے کر د النسل سنیوں اور شیعوں کو برابر سے مار رہے ہیں۔ ان سب پر الزام یہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ سب امریکہ کے حامی ہیں۔ اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک مسلط شدہ فوج سے اگر کوئی ٹکرا نہ سکے تو کیا اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے اور یہ بھی تفریق نہ کی جائے کہ مرنے والا بچہ ہے یا بوڑھا؟ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ایران اور سعودی عرب کے علما سمیت تقریباً سب ہی بڑے علما تکفیر والھجرہ کو خارجی فرقہ قرار دے چکے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کل آٹھ یا نو تکفیری رہنمائوں کے نام ملتے ہیں، جن میں سے پانچ کا تعلق امریکہ سے ہے۔ امریکی ریکارڈ کے مطابق نائن الیون حملہ کا خاص مجرم محمد عطا بھی ایک تکفیری تھا۔ان حقائق کے پیش نظر اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ تمام مسلمان اس اسلام دشمن گروہ کی سرگرمیوں کے خلاف کھل کر آواز بلند کریں اور اسلام کی بدنامی کا سامان کرنے والے اس قاتل گروہ کو پوری طرح بے نقاب کرنے کا کام انجام دیں۔
 

میر انیس

لائبریرین
بہت شکریہ اتنی اہم معلومات دینے کا پر بہت سی الجھنیں ابھی باقی ہیں یا شاید میں ہی اچھی طرح نہیں سمجھ پایا ۔ وہ یہ کہ گو کہ اب پاکستان میں اللہ کا شکر ہے لوگوں کو بہت عقل آگئی ہے پر یہاں مخالف فرقہ کو برداشت نہ کرنا اور جمعہ کے خطبوں میں اشتعال انگیز بیانات دینا تو آج بھی موجود ہے بہت سی تنظیمیں موجود ہیں جن کی وڈیو کیسیٹ آپ کو مل جائیں گی جو کھلم کھلا ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور میں نے تو یہاں تک سنا ہے کہ انکی مسجدیں مسجدیں نہیں ہیں بت خانے ہیں بلکہ ان سے بھی بد تر ہیں انکو جلا دینا چاہیئے یا تو ہم یہ تصور کر لیں کہ ان میں سے جو بھی چاہے وہ شیعہ ہے یا سنی اگر اشتعال پھیلارہا ہے تو وہ تکفیری ہے تو آپ تو کہ رہے ہیں کہ وہ لوگ نہ تو ڈاڑھی کو اچھا سمجھتے ہیں نہ نماز کی انکے ہاں اہمیت ہے ۔ جبکہ یہاں پر معاملہ یہ ہے کہ جو سب سے زیادہ نمازی ہوگا اور اسکی ڈاڑھی لمبی ہوگی وہ ہی دوسرے کو مسلمان نہیں سمجھے گا میرا مقصد یہاں توہینِ شریعت نہیں بلکہ آج کل جو مشاہدہ ہے وہ عرض کر رہا ہوں۔ جیسا کہ صوفی محمد صاحب کہ انکی نظر میں ہمارے یہاں کہ سارے عالمِ دین بے دین تھے انکی تقاریر تو آپ نے سنیں ہونگی ۔ تو کیا وہ تکفیری فرقے سے تعلق رکھتے ہیں یا مسلم خان صاحب جنہوں نے اپنے سسر کے ساتھ گھر سے باہر نکلنے والی عورت کو بھی کوڑے پڑوادیئے تھے کیا وہ بھی تکفیری فرقے سے تعلق رکھتے ہیں میری عقل یہ بات تسلیم نہیں کرتی کیوں کہ یہ سب ملا عمر کو اپنا رہنما مانتے ہیں جبکہ ملا عمر تو امیر امومنین کی حیثیت سے افغانستان پر ایک اسلامی طرز کی حکومت کرچکے ہیں اور انکے کسی بھی رویہ سے یہ نہیں لگتا تھا کہ وہ ایک نئے فرقہ کے پیروکار ہیں
 

گرائیں

محفلین
انیس جعفری صاحب:

ایک صوفی محمد یا مسلم خان جو کہ ٹیکسی ڈرائیور تھا یا فضل اللہ جو کہ ایک لفٹ آُپریٹر تھا، کی وجہ سے سب کو رگیدنا کہاں انصاف ہے جناب؟
یہ لوگ تو مکمل عالم بھی نہیں ہیں۔


اگر جان کی امان پاؤں ، ناظمین کی طرف سے،تو صرف ایک جملہ کہوں گا اور وہ آپ کے تن من میں آگ لگا دے گا انشا ٕاللہ۔ مگر آج کل ناظمین کچھ زیادہ محتاط ہیں۔

امید ہے جناب میرا اشارہ سمجھ گئے ہوں گے۔
 
انیس جعفری صاحب:

ایک صوفی محمد یا مسلم خان جو کہ ٹیکسی ڈرائیور تھا یا فضل اللہ جو کہ ایک لفٹ آُپریٹر تھا، کی وجہ سے سب کو رگیدنا کہاں انصاف ہے جناب؟
یہ لوگ تو مکمل عالم بھی نہیں ہیں۔
مکمل عالم تو کوئی بھی نہیں ہوتا گرائیں صاحب۔ ۔ لیکن کیا یہ المیہ نہیں کہ لاکھوں کی آبادی پر مشتمل اتنے وسیع و عریض علاقے میں انکے مکتبہءِ فکر کے کسی عالم کو توفیق نہیں ہوئی کہ انکی خلافِ اسلام کرتوتوں کی مذمت کرتا۔ ۔ ۔بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور اسی بناء پر انیس صاحب کی بات میں کافی وزن ہے۔:)
 
Top