کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل سینیٹ سے منظور، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کا احتجاج

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 29, 2019

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    کم عمری کی شادی؟
    ذیشان الحسن عثمانی ہفتہ 4 مئ 2019
    [​IMG]
    کیا کم عمر میں شادی درست اقدام ہے؟ (فوٹو:۔ انٹرنیٹ)

    مغرب زدہ معاشرے میں ایک سوال جو آج کل بہت اٹھتا ہے وہ اسلام میں کم عمری کی شادی کی اجازت ہے۔ دیکھا دیکھی ہمارے اپنے ٹی وی چینلز اور صحافیوں نے بھی اس پر بولنا شروع کردیا ہے کہ اسلام اتنی چھوٹی عمر میں شادی کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ یہ تو معصوم بچیوں پر سراسر ظلم ہے۔

    اس سوال کا جواب تو آپ خود ہی دے سکتے ہیں، صرف تھوڑے سے کامن سینس کی ضرورت ہے۔ اجازت اور حکم میں بڑا فرق ہے۔

    اسلام بلوغت کے بعد شادی کی اجازت دیتا ہے، والدین کی رضامندی کے بعد۔ جسے آپ امریکا میں پیرینٹل کونسینٹ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر ملک و معاشرے کی روایات بھی تو ہیں۔ اگر بات صرف اتنی ہے کہ کم عمر میں شادی کی اجازت دینی ہی نہیں چاہیے تو میں آپ سے درخواست کروں گا کہ تھوڑا سا تاریخ کا، اور تھوڑا امریکا کے قانون کا مطالعہ کرلیں۔

    اسلام سے پہلے رومن ایمپائر میں شادی کے لیے قانونی عمر دس سے چودہ سال تھی اور قانون تو تھا ہی اشرافیہ کے لیے۔ باندی غلاموں یا نچلے طبقے کو تو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا۔ چوتھی صدی عیسوی تک چرچ میں قانونی عمر بارہ سال تک تھی۔ سولہویں صدی کے آغاز میں یورپین ممالک میں یہ عمر تیرہ سے سولہ سال کے درمیان تھی اور امریکا میں پانچ سے دس سال کے درمیان۔ تاریخ میں 1689 میں ورجینیا کی ریاست میں دس سالہ بیویوں کے کئی حوالہ جات موجود ہیں۔ نویں صدی عیسوی میں انگلستان میں قانونی عمر آٹھ سے دس سال تھی، اور پندرھویں صدی تک امریکن کالونیوں میں بھی یہی رواج تھا۔ شیکسپیئر کی جولیٹ بھی تو تیرہ سال کی تھی۔

    جی، آپ کی بات بجا ہے۔ میں ماضی کی بات نہیں کرتا، میں تو آج کل کے دور کی بات کرتا ہوں۔

    آج کل کے ماڈرن، پڑھے لکھے، تہذیب یافتہ اور حقوق نسواں کے علمبردار دور میں بھی کیا یہ ممکن ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر میں بچیوں کی شادی کردی جائے؟

    امریکا میں شادی کی اوسط عمر خواتین کے لیے تیس سال یا اس سے کچھ زائد ہے۔ یہ اٹھارہ کے آس پاس بیس اکیس سال کی عمر کچھ مناسب نہیں لگتی۔

    عبداللہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ہمیں یہ بتائیں ’’کاغذ کے ایک ٹکڑے‘‘ سے آپ کو پریشانی کیا ہے؟

    بالکل نہیں! ہمیں تو پریشانی لڑکیوں کی صحت کی ہے کہ وہ اس کم عمر میں جنسی معاملات کو کیسے نبھائیں گی اور حمل کے مراحل کیسے طے کریں گی۔

    عبداللہ نے شوخ آنکھوں کے ساتھ اپنی بات جاری رکھی۔

    خدایا! آپ جیسے معصوم لوگ تو ملکوں کا سرمایہ ہوتے ہیں، کیا آپ اخبار نہیں پڑھتے؟ ٹی وی، ریڈیو بھی نہیں؟

    جناب والا 1960 تک ڈیلاوئیر میں سات سال کی عمر کی بچی سے جنسی تعلق جائز تھا، اگر ماں باپ کی مرضی سے شادی ہوئی ہو۔

    سوائے ایک آدھ کو چھوڑ کر آج بھی امریکا کی تمام ریاستوں میں شادی کی قانونی عمر سولہ سال ہے اٹھارہ نہیں۔ میساچوسیٹس کی ریاست میں بارہ سال ہے۔ انڈیانا، ہوائی اور جارجیا میں پندرہ اور پینسلوانیا اور نیویارک میں چودہ۔

    کیلیفورنیا میں کم از کم عمر کی تو کوئی قید ہی نہیں ہے۔ اگر ماں باپ کی مرضی شامل ہو تو کسی بھی عمر میں شادی جائز ہے۔ کتنی ہی ایسی ریاستیں ہیں جو عمر کی حد میں مزید کمی کردیتی ہیں اگر لڑکی حاملہ ہو تو۔

    اور جہاں تک جنسی معاملات یا حمل کی مشکلات کا سوال ہے تو امریکا میں قریباً نصف کے قریب ہائی اسکول میں پہنچنے والے ان مراحل سے گزر چکے ہوتے ہیں۔ سال میں کوئی دس لاکھ بچیاں تیرہ سے انیس سال کی عمر میں حاملہ ہوجاتی ہیں، یعنی ہر ایک منٹ میں دو۔ امریکی حکومت سال کا چالیس بلین ڈالر صرف انہی کی دیکھ بھال، بچاؤ اور مشورے اور تعلیم پر خرچ کرتی ہے۔ حاملہ ہونے والی ان لڑکیوں سے ان کے ہونے والے بچوں کے باپ شادیاں نہیں کرتے۔ ہر دس میں سے آٹھ لڑکے بغیر شادی کے بھاگ جاتے ہیں۔ 89 فیصد یہ لڑکیاں اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ پاتیں۔

    یہ بچیاں امریکا میں ہونے والی پیدائشوں کا اکیس فیصد بنتی ہیں۔ 1975 تک یہ باون فیصد تھیں۔ آج بھی امریکا میں اکتالیس فیصد بچے شادی سے پہلے پیدا ہوتے ہیں۔

    آپ فرما رہے تھے کہ اوسطً عمر تیس سال ہے شادی کی۔

    ارے بھائی امریکا کے اپنے صدر گرو کلیولینڈ نے 2 جون 1886 کو وائٹ ہاؤس کے بلیو روم میں فرانسس فولسوم سے شادی کی۔ جب خاتونِ اوّل کی عمر صرف اکیس سال تھی تو آپ کی اوسط سے تو وہ بھی قابل تعزیر قرار پائے۔

    آپ لوگوں کی حقائق کے برخلاف انہی تقریروں کی وجہ سے پاکستان، انڈیا اور ایسے ہی کئی ممالک میں شادی کی قانونی عمر اٹھارہ سال کردی گئی ہے، مگر آپ کے یہاں نہیں ہے اور مسلمانوں کا ہی رونا کیوں؟ اندورا، کولمبیا اور پیراگوئے میں آج تک یہ عمر چودہ سال ہے، مالی اور انگولا میں پندرہ سال، میکسیکو، اسکاٹ لینڈ، سیریا لیون، گیمبیا، انگلینڈ اور لائبیریا میں سولہ سال اور ان میں سے کوئی بھی اسلامی ملک نہیں ہے۔

    کتنے ہی ڈیوک آف انگلینڈ ہیں جن کی شادیاں سولہ سال کیا چودہ سال یا اس سے بھی کم عمر میں ہوئیں۔

    بحث اس بات کی نہیں کہ کون کیا کررہا ہے، میں تو صرف اتنا عرض کر رہا ہوں کہ ہر معاشرے، ہر ملک، ہر طبقہ، ہر تاریخ، ہر جغرافیہ کے اپنے اپنے اطوار ہوتے ہیں اور ان کی عزت کرنی چاہیے۔ اگر کوئی کسی مفلوک الحال بچی کے ساتھ ظلم کررہا ہے تو وہ بلاشبہ قابل تعزیر ہے، وہ چاہے پاکستان میں ہو یا امریکا میں۔

    آئیے مل کر ارلی ٹین ایج پریگننسی پر فون کی کوئی ایپ بناتے ہیں کہ بے چاری بچیوں کا بھلا ہو۔

    نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    کم سنی کی شادی اور اس سے متعلق قانون سازی
    04/05/2019 اعظم پیرزادہ

    [​IMG]

    گزشتہ دنوں سے جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ ہے کم سنی کی شادی اور اس سے متعلق قانون سازی؟

    مسئلہ حقیقت پسند اور مسلمہ ہے مگر اس کے حل کی کسی بھی تجویز سے قبل اگر اس معاملے کے سیاق و سباق کو سمجھ لیا جائے تو معاشرتی بحث کافی حد تک سمٹ سکتی ہے۔ حکومتی موقف ہے کہ کم سنی کی شادیاں مسائل اور الجھنوں کا باعث بنتی ہیں سو شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال ہونی چاہیے۔ جو کہ ایک قانون کی صورت میں نافذالعمل کی جائے۔ جبکہ علما ء کرام اور فقہاء کے نزدیک یہ ایک مذہبی معاملہ ہے اور اس کو قرآن و حدیث کی روشنی میں ہی حل کرنا چاہیے۔ جو کہ عین مناسب اور درست موقف ہے۔ لیکن یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ علماء کرام کو بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں بلوغت کو صرف جسمانی بلوغت پر ہی موقوف نہیں کر دینا چاہیے بلکہ مکمل حالات، موسمی تغیرات اور معاشرتی حقائق کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کیونکہ اسلام نے اس معاملے کو کسی قانون کی شکل میں نافذ نہیں کیا بلکہ احسن فعل قرار دے کر معاشرتی پس منظر سے مشروط کر دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کافی حد تک ہمارے علما ء کے نزدیک یہ طے ہے کہ اسلام کم سنی کی شادی کے حق میں ہے۔

    اس ضمن میں کسی بھی موقف کو قانونی رنگ دینے سے پہلے ضرورت ہے کہ سب سے پہلے شادی کو سمجھا جائے کہ شادی ہے کیا؟ اگرانسان اور حیوان میں امتیازی فرق تلاش کیا جائے تو شادی ان میں سے ایک ہے۔ انسان ہوں یا حیوان دونوں کو اپنی نسل بڑھانے کی فطری ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مگر انسان کو ممتاز اسی لئے رکھا گیا ہے کہ وہ نہ صرف نسل کو بڑھانے کا کام کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی اولاد کی مکمل پرورش اور تربیت کا ذمہ دار بھی بنتا ہے۔ یعنی کسی کا بچہ اگر معاشرے میں فساد یا کسی بھی قسم کے بگاڑ کی وجہ بنتا ہے تو لا محالہ اس کے والدین کی تربیت پر انگلیاں اٹھیں گی۔ خود اسلام بھی اگر نیک اولاد کو صدقہ جاریہ قرار دیتا ہے تو کیا بد اولاد کے معاملے میں وہ والدین کو بری الذمہ قرار دے رہا ہے؟ یقیناً نہیں۔

    آنے والے ہر نئے دور اور زمانے کی بنیادی اکائی ہمارے آج کے بچے ہیں۔ جس قسم کے بچے ہوں گے معاشرہ ویسے ہی رنگ میں رنگا جائے گا۔ تربیت یافتہ، با اخلاق اور با تہذیب بچے آپ کے آنے والے معاشرے کی خوبصورتی کی گواہی دے رہے ہوں گے اور اس کے برعکس خود رو پودوں کی طرح پلتے برہتے بچوں سے کسی اچھے مستقبل کی توقع رکھنا چلملاتی دھوپ میں بارش کی توقع کے مترادف ہی ہے۔ اسی طرح اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ کم سنی کی شادی میں کوئی قباحت نہیں اگر یہ کم سنی عمر کی بلوغت پر ہی اکتفا نہ کرتی ہو بلکہ ذہنی بالیدگی اور ذمہ دارانہ سوچ کی بھی حامل ہو۔

    جب شادی شدہ جوڑا مذہبی اور معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہو اور اپنی اولاد کے ہر اچھے برے فعل کو قسمت پر ڈالنے کی بجائے اپنی کوتاہی اور عاقبت نااندیشی کا اعتراف کرنے کی ہمت رکھتا ہوتو یقیناً وہ لائق شادی کہلائے گا۔ ورنہ عمر کے بڑھنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑنا جب کسی بھکارن کے بچے نے بھیک ہی مانگنی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے کہ اس کی ماں دس سے پندرہ سال کی کوئی بچی ہے یا پچیس سال کی لڑکی۔

    اسلام آفاقی مذہب اور قیامت تک کے انسانوں کے لئے راہ ہدایت ہے۔ اسلام بھی اہل لوگوں پر ذمہ داریاں ڈالنے اور امانتیں ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یعنی اگر کوئی اہل نہیں تو اس پر وہ ذمہ داری ڈالنا سراسر غیر اسلامی فعل ہے جس کو مذہب کی چادر میں لپیٹنے کی کوشش آج کے علماء کر بھی رہے ہیں۔ شادی ضرور کریں اور جلد از جلد کریں لیکن سب سے پہلے اس بات کا یقین کر لیں کہ جن افراد کی شادی کی جارہی ہے کیا وہ اس اہلیت کے حقدار ہیں بھی کہ نہیں؟

    یہ عذر بھی تسلیم ہے کہ دیر سے شادیاں معاشرتی اور جنسی بے راہ روی کو جنم دیتی ہیں مگر معذرت کے ساتھ پورے معاشرے سے اک سوال ہے کہ اگرپانچویں سے نویں جماعت کے بچے اگر جنسی بے راہ روی کی مرتکب ہو جائیں تو کیا اس کی وجہ بھی دیر سے شادی کرنا ہے یا کچھ اور؟

    اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر آج کے دور میں جنسی بے راہ روی کا شکار ہماری یہ نوخیز نسل ہی ہے جو سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کی آڑ میں گھروں سے نکل کر راستے بھٹکتی پھر رہی ہے۔

    یقیناً اس بدحالی کی وجہ ان بچوں بچیوں کی دیر سے شادی نہیں بلکہ کسی حد تک ان کے والدین کی کم عمری میں یا کم عقلی کی عمر میں شادی ہے۔ جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے یہ بچے ماں باپ کی غیر ذمہ دارانہ تربیت اور ناپختہ فہم وفراست کا شکار ہو گئے۔ کیونکہ جن افراد نے ان بچوں کو اچھا برا سمجھانا تھا وہ خود ہی اچھے برے کی تمیز سے لاعلم رہے تو اپنے بچوں کو سمجھاتے بھی تو کیا؟ آج کی بے راہ روی کی وجہ آج کے بچے نہیں بلکہ گزشتہ کل کے بچے ہیں جو خود بھی غیر تربیت یافتہ رہے اور اپنی اولاد کو بھی تربیت دینے سے قاصر ہیں۔

    اگر ہمیں آنے والے کل کو محفوظ اور معقول بنانا ہے تواپنی آج کی نسل پر توجہ دینا ہوگی اور ان کی شادیوں سے قبل ان کی تربیت کی فکر کرنی ہوگی۔ ماں باپ کے درجے پر پہنچنے سے قبل ان کو ماں باپ کے حقوق اور فرائض کو سمجھنا ہوگا ہم میں سے کتنے ایسے والدین ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو بتایا کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ بطور ایک باپ کے یا شوہر کے کیسے تھے اور اسلام ہم سے کیا طلب کرتا ہے؟ بحث کو سمیٹنے کے لئے ایک حدیث کا مفہوم بیان کردوں کہ ”باپ اپنی اولاد کو جو بہترین تحفہ دیتا ہے وہ ان کی اچھی تربیت ہے۔ “ (ترمذی) ۔ یعنی وقت پر شادی شاید ایک احسن تحفہ ہو مگر تربیت کو بہترین تحفہ کہا گیا ہے سو ہمیں پہلے اس پر توجہ دینی ہے۔

    کیا ہی احسن ہو! اگر ہمارے علماء اور حکومت ِوقت میں شادی کی کم سے کم عمر کے قانون کی بحث کی بجائے اچھی تربیت اور والدین کی ذمہ داریوں سے متعلق قوانین وضع کیے جائیں کہ اگر کوئی بچہ غیر تعلیم یافتہ رہ گیا تو اس کے ماں باپ قصوروار کہلائیں گے۔ اسی طرح چائلڈ لیبر اور کم عمری کی جنسی بے راہ روی کے قصور وار بھی والدین ہی ٹھہرائے جائیں گے تو شاید کسی کو بھی اعتراض نہ ہو کہ شادی کس عمر میں ہو رہی ہے۔
     
  4. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    8,562
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    ارے نہیں بھئی جاسم محمد ! اس کا مقصد محض یہ ہے کہ ان کاموں میں بلاوجہ تاخیر سے کچھ معاشرتی فساد پیدا ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں جنہیں نہیں ہونا چاہیئے ۔ اسلام معاشرتی مصلحتوں کی حفاظت کئی سطحوں پر کرتا ہے اور یہ بھی اسی کا ایک پہلو ہے۔اور بس۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 3
  5. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,973
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    یعنی بقول آپ کے تمام کلاسیکل مفسرین کا اجماع ہے کہ کسی بھی عمر کی بچی کی شادی اسلام میں جائز ہے چاہے وہ ایک دن ہی کی کیوں نہ ہو۔ ماشاءاللہ!
     
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  6. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,973
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    لیکن اسی لڑی سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اسلام نابالغ کی شادی کی بھی کھلی اجازت دیتا ہے
     
  7. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,571
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    تمام سمجھدار انسانوں کا اجماع ہے کہ آپ پورا مراسلہ پڑھے بغیر تبصرہ کرنے کے عادی ہیں .
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  8. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    سرخ متن سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ تمام عجمی لڑکیوں کے ساتھ یہی مسئلہ ہے؟ وضاحت فرمائیے۔
     
  9. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ان شرائط کے ساتھ کون ذی عقل ایک دن کی بچی کی شادی کو جائز سمجھتا ہے؟
    بلاؤ ذرا 8 ارب انسانوں کو۔
     
  10. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,973
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    چلیں اس بات کا جواب دے دیں: اگر باقی شرائط پوری ہوں تو کیا ایک دن کی بچی کا نکاح اس کا باپ کر سکتا ہے؟
     
  11. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,571
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    پہلے آپ ذرا وہ پٹی اتاریں جو مراسلہ پڑھنے سے روکتی ہے.
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  12. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,088
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اس کو بونگی مارنا کہتے ہیں
     
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  13. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,088
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ بھی بونگی کہلاتی ہے
     
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  14. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,062
    نکاح کے لیے بچی کی رضامندی ضروری ہے اور یہ رضامندی تبھی لی جا سکتی ہے جب بچی بالغ ہو جائے۔ کسی استثنائی مثال میں ایسا ہو بھی جائے کہ بچی کا نکاح اُس کا باپ کر دے (اس بابت ہمیں بھی اشکال ہے کہ آیا ایک دن کی بچی کا باپ اس کا نکاح کر بھی سکتا ہے یا نہیں)، تب بھی جب بچی بالغ ہو گی، تو اُس سے اس بابت رائے لی جائے گی اور تبھی اس کی رخصتی عمل میں آئے گی جب بچی اس بابت اپنی رضامندی ظاہر کر دے، یعنی کہ لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کا تعلق کسی دوسرے کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا ہے، شاید اس حوالے سے کسی فقہ میں گنجائش موجود ہو تو الگ معاملہ ہے۔۔! واللہ اعلم ۔۔۔!
     
    آخری تدوین: ‏مئی 5, 2019
  15. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,062
    صحیح بخاری کی حدیث ہے ۔۔۔!
    ان النبی صلی الله عليه وسلم قال : لا تنکح الايم حتی تستامر ولاتنکح البکر حتی تستاذن.
    (بخاری، الصحيح، 5 : 974، رقم : 4843، باب لا تنکح الاب وغيره البکر و الثيب الابر ضاها
    ترجمہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غیر شادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا بغیر اجازت نکاح نہ کیا جائے۔‘‘
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  16. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یہ احادیث نظر کیوں نہیں آرہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 5, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  17. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,062
    -
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,088
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میرا خیال ہے کہ جہالت کو یہاں تعصب سے مراد لیا جائے۔ آصف بھائی یقینا تعصب لکھنا اور کہنا چاہ رہے ہونگے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    کیسے معاشرتی فسادات؟ مثالوں سے واضح کریں۔ ایسا نہیں ہے کہ اگر جلد سے جلد جنسی طور پر بالغوں کی شادی نہ کرائی گئی تو معاشرہ میں فحاشی پھیل جائے گی۔ اس لایعنی خوف کے پیچھے کوئی حقائق نہیں ہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  20. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    جی یہ کوئی نئی بات نہیں۔ 1400 سالہ تاریخ اسلام ہے۔
     
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر