کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل سینیٹ سے منظور، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کا احتجاج

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 29, 2019

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    2,922
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ایک بار پھر یہ اعادہ کرنا شائد مفید رہے کہ
    اسلام میں زبردستی شادی کی کوئی گنجائش نہیں، بعینہ کسی کو شادی سے انسانی قوانین کے ذریعے روکا بھی نہیں جاسکتا۔
    شادی کا اختیار لڑکا اور لڑکی کو بلوغت کے بعد حاصل ہے چاہے وہ بلوغت کسی بھی عمر میں ہو،
    شادی کے لیے لڑکا اور لڑکی کو بغیر کسی شرعی اعتراض کے والدین کی رضامندی مقدم رکھنا چاہیے۔ لیکن اس کے لیے لڑکا/لڑکی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
    شریعت نے بلوغت کے بعد دونوں کو ایک اعلی و ارفع طریقہ بتلایا ہے کہ وہ کسی بھی بےاطمینانی میں اللہ تعالیٰ سے بذریعہ استخارہ کے مشورہ لیں۔ لیکن یہ استخارہ خود کرنا ضروری ہے۔ کسی عامل وغیرہ سے استخارہ کروانے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔

    جو افراد بل کی حمایت کررہے ہیں وہ صرف اور صرف علماء کرام اور عالم اسلام سے بغض کی بنا پر اڑے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس کوئی شرعی دلیل نہیں۔

    جو بل پاس کیا گیا ہے اس کا شریعت کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے محبوب و محدود سائنس سے بھی کوئی تعلق نہیں۔

    یہ بل مغربی و ہندو لابی کی رضامندی سے پاس کروایا گیا ہے تاکہ اسکول اور کالجز سمیت معاشرے میں نوجوان طبقے میں قبول اسلام کا راستہ روکا جائے۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 10, 2019
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  2. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,609
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,312
    6 سال عمر والی احادیث کو ردکرنے کیلئے بعد میں تاولیں گھڑی گئی ہیں۔ حالانکہ روایات میں واضح ہے کہ جب حضرت عائشہؓ کی شادی ہوئی۔ اس وقت وہ گڑیوں سے کھیلتی تھیں:
    [​IMG]
     
    آخری تدوین: ‏مئی 10, 2019
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  4. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    2,922
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    محترم خالد محمود چوہدری صاحب آپ جن نکات سے غیر متفق ہیں ان کی نشاندہی کرکے جواب دیں۔ کم از کم میرے خیال میں ہم یہاں ریٹنگ کا کھیل نہیں کھیل رہیں۔ شکریہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  5. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,621
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    حقیقت خرافات میں کھو گئی
    یہ امت روایات میں کھو گئی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,609
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,312
    مزید تاویلیں۔ احادیث کی تینوں مستند کتب یعنی صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن ابو داؤد میں حضرت عائشہ کی شادی کے وقت عمر ۶ سال اور رخصتی کے وقت عمر ۹ سال درج ہے۔ مزید یہ کہ تینوں مستند کتب میں حضرت عائشہ کا شادی اور رخصتی کے وقت گڑیوں سے کھیلنے کا ذکر موجود ہے۔
    کونسی ۱۶ یا ۱۹ سال کی لڑکی گڑیوں سے کھیلتی ہے؟ اب آپ لوگ قیامت تک تاویلیں گھڑتے رہیں۔ یہ حقائق نہیں بدلنے والے۔
     
  8. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    2,922
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    تاویل کا لفظ استعمال کرنا مناسب نہیں کیوں کہ غامدی نے جو دلائل دیے ہیں ان کو پرکھا جائے تو درست رہے گا۔
    مثلا غامدی فرماتے ہیں کہ ستۃ عشر میں عشر "گرگیا"۔ اب اس دلیل پر کوئی کیا کہے۔ معلوم نہیں ان صاحب کو کیسے علم ہوا کہ آج سے سینکڑوں سال قبل کس کاتب سے اتنی بڑی چوک ہوئی اور یہ کوئی ٹائپو بھی نہیں نہ اس وقت پرنٹنگ ہوتی تھی کہ بندہ کڑیوں سے کڑیاں ملا کر ثابت کردے کہ دیکھو یہاں پر "گرنے" کا امکان سب سے زیادہ ہے لہذا عین ممکن ہے کہ عشر کا پورا لفظ گرگیا یا رہ گیا۔
    اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمر کے یہ الفاظ ایک جگہ نہیں بہت جگہ وارد ہوئے، اب غامدی صاحب کی تحقیق میں یہ سب کیسے گریں گے، اس کا معلوم کرنا ضروری ہے۔
    اور سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ستۃ عشر میں تو عشر گرگیا لیکن تسعۃ عشر میں بھی عشر گرگیا تھا اس کے متعلق غامدی صاحب کی تحقیق آنکھیں بند کیے ہوئی ہے۔

    امید ہے کہ دوسروں کو علامہ ابن خلدون کی عاقلانہ نصیحتیں کرنے والا غامدی خود بھی اپنی اس غیرعاقلانہ تحقیق پر عقل کی نگاہ ڈالیں گے۔ لیکن اس کا امکان کم ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 10, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,312
    متفق۔ پھر غامدی صاحب خود کو محقق کہتے ہیں۔ “ایسا ہوا ہوگا” کوئی قابل قبول دلیل نہیں ہے۔
     
  10. محمد ابراہیم خان افغان

    محمد ابراہیم خان افغان محفلین

    مراسلے:
    48
    جھنڈا:
    Pakistan
    آپ کو یاد ہوگا، کچھ زمانہ پہلے امریکی خاتون سارہ پالن اور آصف زرداری کا مصافحہ میڈیا پر کافی شہرت پا گیا تھا۔ انہی دنوں موصوفہ کی ایک سترہ سالہ بیٹی برسٹل کے حاملہ ہونے کی خبر بھی گرم تھی! جناب کو میں برطانوی اخبار "دی گارڈین" کا اس خبر کے حوالے سے ایک دس سالہ پرانا لنک دیتا ہوں، آپ ضرور ملاحظہ فرماکر اپنی رائے سے نوائیے گا۔ اس کی شہ سرخی بھی درج کیے دیتا ہوں:
    Sarah Palin reveals 17-year-old daughter is pregnant!
    Republican vice presidential candidate says Bristol will keep baby and marry the father
    اب آپ ہی ارشاد فرمائیے، یہ انسانی حقوق کے چیمپیئن، امریکا کے اپنے گھر کا حال ہے کہ شادی سے پہلے ایک سترہ سالہ "بچی" حاملہ ہوکر شہ سرخیوں کی زینت بن رہی ہے مگر کسی کو ذرا ترس نہیں آرہا!!!
     
  11. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    2,922
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    پانچ ماہ سے حاملہ ہونے کا مطلب ہوا 16 سال۔
     
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,312
    امریکا میں باقاعدہ ٹین ایج حمل کے خلاف حکومتی پروگرامز کام کر رہے ہیں۔ امریکی سوسائٹی میں اسے اچھا فعل تصور نہیں کیا جاتا ۔
    Pregnancy Prevention | Youth.gov
     
  13. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    2,922
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    امریکی سوسائٹی، یہ کون لوگ ہیں؟
     
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,312
    امریکی معاشرہ۔ عام لوگ۔
     
  15. محمد ابراہیم خان افغان

    محمد ابراہیم خان افغان محفلین

    مراسلے:
    48
    جھنڈا:
    Pakistan
    جاسم محمد
    رومانس کے لیے تو آپ عمر کی تعیین کے قائل نہیں اور شادی کے لیے عمر کی تعیین پر مصر ہیں! سوال یہ ہے کہ اگر گرل و بوائے فرینڈز اٹھارہ سال سے بھی پہلے جنسی تعلق قائم کرسکتے ہیں بلکہ بچے بھی پیدا کرسکتے ہیں تو لفظ شادی سے کیا قیامت نازل ہوجاتی ہے کہ جوں ہی اس کا نام شادی پڑجائے، آپ کو تکلیف ہونے لگتی ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ آپ جو یہ اٹھارہ سال کی رٹ لگائے نہیں تھک رہے، کیا سترہ سال اور اٹھارہ سال میں کوئی خاص فرق ہے کہ سترہ سالہ تو بچہ یا بچی بن جائے اور ایک سال بعد یکایک یعنی اٹھارہ سال میں نانا یا نانی بن جائے!! اور تو اور سترہ سالہ بچے تو رومینس میں آزاد کہ جس سے چاہیں عشق لڑائیں اور شادی میں پابند، یہ آزادی پر قدغنیں کیسی؟؟!!
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  16. محمد ابراہیم خان افغان

    محمد ابراہیم خان افغان محفلین

    مراسلے:
    48
    جھنڈا:
    Pakistan
    اگر آپ نے حساب کتاب کرکے عمر صحح نکالی ہے تو درست ہے۔ میرا مقصد اس کی کم عمری پراستدلال کرنا تھا جو شہ سرخی میں دوران حمل سترہ برس لکھا ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  17. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    2,922
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یہ سمجھنے والے نہیں۔ بچپن ہی سے ان کی قدرتی انٹیلیجنس کو جس ڈیٹا سے ٹرین کروایا جاتا ہے، وہ بائس پھر چھٹتے نہیں چھٹتی، اوپر سے میڈیا کے ذریعے مسلسل نیا ڈیٹا انٹر کیاجاتا ہے اور وہ بھی طے شدہ الگورتھم میں سرائیت کرتاجاتا ہے۔
     
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,312
    اس پر پہلے بھی بہت بار بات ہو چکی ہے۔ بچپن کا رومانس ایسا نہیں کہ اس کے لئے شادی جیسے بالغانہ’کنٹریکٹ‘ کی ضرورت پڑے۔
    جنسی روابط تو جنسی بلوغت آنے کےفوراً قائم ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود مغربی ممالک میں اس کی کم سے کم قانونی عمر 15 سے 18 سال رکھی گئی ہے۔
    نیز شادی کی کم سے کم عمر 18 سال رکھنے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ شادی کرنے والے فریقین اس قانونی ’کنٹریکٹ‘ کی ذمہ داری اٹھانے کیلئے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہوں۔ ذہنی طور پر بچے کو یہ ذمہ داری نہیں سونپی جا سکتی۔
     
  19. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    2,922
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یعنی 18 سال سے کم عمر لڑکا لڑکی اس قابل نہیں ہوتے کہ ان کی شادی ہوسکے؟
     
  20. محمد ابراہیم خان افغان

    محمد ابراہیم خان افغان محفلین

    مراسلے:
    48
    جھنڈا:
    Pakistan
    امریکا میں کوئی ٹین ایجر اگر حاملہ ہے تو اس کے لیے ابورشن یعنی اسقاط حمل ایک الگ سے متنازعہ مسئلہ ہے۔ ابورشنسٹس اور اینٹی ابورشنسٹس کی محاذ آرائی سے آپ واقف ہوں گے۔ تو کیوں نہ نکاح کا دروازہ کھول کر، رومانس وغیرہ کے نام سے زنا کے یہ چور دروازے بند کر دئیے جائیں!؟ قرآن تو کہتا ہے:
    ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشة في الذين آمنوا لهم عذاب اليم في الدنيا والآخرة۔ والله يعلم وانتم لا تعلمون۔ (النور)
    ترجمہ: جو لوگ مسلمانوں میں بے راہ روی کو فروغ دینا پسند کرتے ہیں، ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (سورۂ نور)
    اور یاد رہے اسلام میں پسند کی شادی کرنا بالکل جائز ہے مگر گرل یا بوائے فرینڈز رکھنا ایک جدا گانہ مسئلہ ہے جو مشرق کے لیے بالکل ایک اجنبی تصور ہے کہ آپ پہلے میاں بیوی کی طرح رہیں، پسند آجائے تو فبہا ورنہ دوسرا چن لیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر