کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 13, 2009

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    خبر کو یار کی دل کو میں بھیجا ہے کہ جا لاوے
    نہیں معلوم ہوتا ہے اسے کب تک خدا لاوے

    عزیزاں ایک لمحے میں مرا جی اب نکلتا ہے
    طبیبِ عشق کو کوئی شتابی سے بلا لاوے

    موا مظہر پڑا ہے یار کے کوچہ میں کئی دن سے
    خدا کے واسطے اس کو کوئی جا کر اٹھا لاوے

    (مرزا مظہر جانِ جاناں)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    9,063
    مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے
    اِک اور ذات میں ڈھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

    مری صدا نہ سہی۔۔ہاں۔۔ مرا لہو نہ سہی
    یہ موج موج اچھلتا ہوا سا کچھ تو ہے!!!

    کہیں نہ آخری جھونکا ہو مِٹتے رِشتوں کا
    یہ درمیاں سے نکلتا ہوا سا کچھ تو ہے!!!

    نہیں ہے آنکھ کے صحرا میں ایک بوند سراب
    مگر یہ رنگ بدلتا ہوا سا ۔۔۔۔ کچھ تو ہے!!!

    جو میرے واسطے کل زہر بن کے نکلے گا
    تِرے لبوں پہ سنبھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

    یہ عکسِ پیکرِ صد لمس ہے، نہیں۔۔ نہ سہی
    کسی خیال میں ڈھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

    کسی کے واسطے ہوگاپیام یا کوئی قہر
    ہمارے سر سے یہ ٹلتا ہوا سا کچھ تو ہے

    بکھر رہا ہے فضا میں یہ دودِ روشن کیا
    اُدھر پہاڑ کے جلتا ہوا سا کچھ تو ہے

    مِرے وجود سے جو کٹ رہا ہے گام بہ گام
    یہ اپنی راہ بدلتا ہوا سا ۔۔۔ کچھ تو ہے!!!!


    شاعر: راجند منچذا بانی
     
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ہوئے انسان سب سوزِ محبت کے لیے پیدا
    فرشتہ ہوتے گر ہوتے عبادت کے لیے پیدا
    (استاد ابراہیم ذوقؔ)
     
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    دل تشنۂ آبِ ذقنِ یار تھا کتنا
    دیکھو کہ گرا چاہ میں کیا کود کے دھم سے
    (وزیر کرنالی)
     
  5. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,351
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مجرائی خلق میں ان آنکھوں سے کیا کیا دیکھا

    پر کہیں سبطِ پیمبر سا نہ آقا دیکھا​



    ظلم اے مجرائی سجاد نے کیا کیا دیکھا

    گھر لٹا، قید ہوئے، باپ کا لاشہ دیکھا​



    کہتی تھی زینبِ مضطر کہ خدا خیر کرے

    شب کو یاں خواب میں عریاں سرِ زہرا دیکھا​



    جب چڑھے دوشِ محمد پہ علی کعبے میں

    یک بیک زیرِ قدم عرشِ معلیٰ دیکھا​




    بعدِ معراج علی نے یہ نبی سے پوچھا

    یا رسولِ دو جہاں عرش پہ کیا کیا دیکھا​



    ہنس کے فرمایا کہ اے نیرِ افلاکِ شرف

    ہر جگہ واں بھی ترے نور کا جلوہ دیکھا​



    گر پڑے سبطِ نبی تھام کے ہاتھوں سے جگر

    علی اکبر کو جو ریتی پہ تڑپتا دیکھا​



    بانو کہتی تھی جواں ہو کے سِدھارے اکبر

    وا دریغا نہ دلہن دیکھی نہ سہرا دیکھا​



    بیڑیاں دیکھیں تو پھیلا دیے عابد نے قدم

    سر کو نہوڑا دیا جب طوق کا حلقہ دیکھا​



    کیا تحمل تھا کہ پیاسے رہے دو روز حُسین

    آنکھ اٹھا کر نہ مگر جانبِ دریا دیکھا​



    بانو رو دیتی تھی منہ ڈھانپ کے اصغر کے لیے

    کسی عورت کی جو آغوش میں بچّہ دیکھا​




    کہتے تھے سیدِ سجاد کہ دیکھے نہ کوئی

    ہم نے جو کچھ ستمِ لشکرِ اعدا دیکھا​



    صدمے کانٹوں کے، جفا طوق کی، ایذائے رسن

    ایک بابا کے جدا ہونے سے کیا کیا دیکھا​



    شام میں لوگ یہ کہتے تھے کہ آج آنکھوں سے

    بے ردا ہم نے سرِ دخترِ زہرا دیکھا​



    ننگے سر خلق نے اُس بی بی کو دیکھا افسوس

    جس کی مادر کا کسی نے نہ جنازہ دیکھا​




    جا کے زینب نے وطن میں یہ کہا صغریٰ سے

    کہوں کس منہ سے کہ پردیس میں کیا کیا دیکھا​



    تین دن بند رہا گرمی میں پانی مجھ پر

    کس مسافر نے بتاؤ ستم ایسا دیکھا​



    سامنے قتل ہوئے مسلمِ بیکس کے پسر

    اپنے فرزندوں کو بسمل سا تڑپتا دیکھا​



    میں نے ماتم کیا لاشے پہ بنے قاسم کے

    میں نے اک رات کی بیاہی کا رنڈاپا دیکھا​



    میں نے دیکھا علمِ شاہ کو آلودهٔ خوں

    میں نے عباس کو بے جاں لبِ دریا دیکھا​



    میں نے دیکھا علی اصغر کا گلا خون سے تر

    میں نے زخمی علی اکبر کا کلیجا دیکھا​



    میں نے دیکھا شہِ مظلوم کو خنجر کے تلے

    میں نے نیزے پہ سرِ دلبرِ زہرا دیکھا​



    ہائے کیوں ہو نہ گئیں کور کہ اِن آنکھوں سے

    میں نے بے گور و کفن بھائی کا لاشہ دیکھا​



    غرض اک دم کہیں فرصت نہ ملی ماتم کی

    قید خانے میں سکینہ کا جنازہ دیکھا​



    پھر گیا آنکھوں میں شہ کا رخِ پُرخوں مونس

    جب کہیں مقتلِ شپیر کا نقشہ دیکھا​


    (میر مونس لکھنوی)
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    خط بھیجنے لگا جو اُس آئینہ رُو کو میں
    توتے کی طرح آنکھ کبوتر بدل گیا
    (اسِیر)
     
  7. قاری محمد عثمان صدیقی

    قاری محمد عثمان صدیقی محفلین

    مراسلے:
    88
    پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کے ناصر. غم سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے.
     
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بھائی صاحب، ناصر کاظمی صاحب آج کے جدید شاعر ہیں۔ براہِ کرم یہاں پر صرف ان شعرا کا کلام درج کیا جائے جو علامہ اقبال سے قبل کے ہیں۔ شکریہ!
     
  9. قاری محمد عثمان صدیقی

    قاری محمد عثمان صدیقی محفلین

    مراسلے:
    88
    زباں سے کہ بھی دیا لا الہ تو کیاحاصل دل ونگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
     
  10. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اپنے پاجامۂ کم خواب کی ہر بوٹی کو
    شمع رُو شب کو چراغِ تہہِ دامن سمجھا

    بسترِ گُل سے منقش جو ہوا اس کا بدن
    تنِ نازک پہ وہ پھلکاری کی چپکن سمجھا
    ۔۔۔۔۔
    یہ عالم اس کے خطِ سبز نے دکھایا ہے

    کہ جس کو دیکھ کے عالم نے زہر کھایا ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    میں نے پاس اس کوجو بٹھلا کے کھلایا بِیڑا
    قتل پر میرے رقیبوں نے اٹھایا بِیڑا
    (شاہ نصیرؔ)
     
  11. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    یاد میں اس کے گُلِ عارض کی اشکِ خوں سے رات
    لی جِدھر کروٹ اُدھر بستر گُلابی ہو گیا
    (ظفرؔ)
     
  12. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بِسترِ گُل پر جو تُو نے کروٹیں لیں رات کو
    عطر آگیں ہو گئے اے گل بدن سب پِس کے پُھول
    (شاہ نصیرؔ)
     
  13. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    لکھے کی کیا خبر تھی، یہ کون جانتا تھا
    لیلیٰ کے ساتھ پڑھ کر مجنوں خراب ہو گا
    (میر وزیر علی صبا لکھنوی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کبھی وہ رُو برو آیا تو ہوتا
    کوئی یاں تک اسے لایا تو ہوتا
    نہ اٹھتے پھر تو نقشِ پا کی صورت
    وہاں قسمت نے پہنچایا تو ہوتا
    وہ مانے یا نہ مانے تجھ سے ہمدم
    ولیکن اس کو سمجھایا تو ہوتا

    (بہرام جی جاما سپ جی دستور)​
     
  15. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ریختہ سن کے ہمارا وہ رقیبِ موذی
    مثل بچھو کے چھپا رخنۂ دیوار میں جا
    ۔۔۔۔۔۔
    دل کو لے بوسہ نہ دے ہے وہ پری دیکھو تو
    اوس نے سیکھی ہے عجب مفت بری دیکھو تو
    ۔۔۔۔۔۔
    فکر اطفال کو ہے سنگ اٹھا لانے کی
    آمد آمد ہوئی شاید ترے دیوانے کی

    (غلام مصطفیٰ تحیّرؔ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بزم میں اس چشمِ مخموری کے آگے ساقیا
    طاقِ نسیاں پر ترا شیشہ دھرا رہ جائے گا​
    (مرزا مسیتا بیگ)​
     
  17. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    دیکھا ہے ہم نے جو کہ تماشا جہان کا
    دھوکا تھا، واہمہ تھا، توہم تھا، خواب تھا​
    (مرزا مسیتا بیگ)​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بے یار شیشہ سنگِ ملامت تھا بزم میں
    بے بادہ جام صورتِ چشمِ حباب تھا​
    (مرزا مسیتا بیگ)​
     
  19. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    آپ سے گر نہیں وصال ہوا
    پھر سمجھ لو مرا وصال ہوا
    (میر حیات الدین صافؔ)​
     
  20. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کسی کے آتے ہی ساقی کے یہ حواس گئے
    شراب سیخ پہ ڈالی، کباب شیشے میں
    (از دفترِ فصاحت، وزیرؔ لکھنوی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4

اس صفحے کی تشہیر