کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

فرخ منظور

لائبریرین
از بسکہ چشمِ تر نے بہاریں نکالیاں
مژگاں ہیں اشکِ سرخ سے پھولوں کی ڈالیاں

اے مصحفی تو ان سے محبت نہ کیجیو
ظالم غضب ہی ہوتی ہیں یہ دلّی والیاں

(مصحفی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
اب نت کی سہے تیری جفا کون
تجھ ساتھ میاں وفا کرے کون
سو بار گیا میں اُس کے در پر
پوچھا نہ کسی سے یہ بھی تھا کون
ہر چند سب آشنا ہیں لیکن
اس وقت میں اپنا آشنا کون

(مصحفی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
کھلکھلا کر نہ ہنسا کیجیے آپ
ایسی باتوں سے حیا کیجیے آپ
کوئی ہو کیوں رہے تمہارا شاکِر
نہ مروّت نہ وفا کیجیے آپ
کیوں میاں مصحفی جی دیتے ہو
درد اپنے کی دوا کیجیے آپ

(مصحفی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
کنجِ قفس میں لطف ملا جس کو وہ اسیر
چھُوٹا بھی گر تو پھر نہ سوئے آشیاں گیا

تکلیف سیرِ باغ نہ کر ہم کو ہم صفیر
مدت ہوئی کہ دل سے وہ ذوقِ فغاں گیا

یارانِ رفتہ ہم سے منہ اپنا چھپا گئے
معلوم بھی ہوا نہ کدھر کارواں گیا

باہم جنہوں میں مہر و مروت کی رسم تھی
وہ لوگ کیا ہوئے وہ زمانہ کہاں گیا

(مصحفی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
عشق کے صدمے اٹھائے تھے بہت پر کیا کہیں
اب تو ان صدموں سے کچھ جی اپنا گھبرانے لگا
دیکھتے ہی اُس کے کچھ اُس کی یہ حالت ہو گئی
جو مجھے سمجھائے تھا میں اس کو سمجھانے لگا

(مصحفی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
ہم تو چمکتے ہی ہوا ہو گئے
مثلِ شرر دم میں فنا ہو گئے

مجلسِ ہستی میں جو آئے تھے یار
یہ نہیں معلوم وہ کیا ہو گئے

رشک ہے اوقات پر ان کے مجھے
موسمِ گُل میں جو رِہا ہو گئے

سیرِ چمن کی نہ دلا ہم کو یاد
وہ بھی دن اے بادِ صبا ہو گئے

(مصحفی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
کیوں تڑپتے ترے بسمل ہیں یہ مرجائیں کہیں
سر دمِ تیغ تلے رکھ کے گزر جائیں کہیں

زیرِ دیوار چمن ذبح مجھے کر صیّاد
شاید اڑتے ہوئے یہاں سے میرے پر جائیں کہیں

(مصحفی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
غیروں کو پان دیتے ہو ہر وقت تم لگا
اِک روز خون ہوگا اسی برگِ پان پر
باتیں چبا چبا نہ کرو تم چبا کے پان
سرخی لبوں کی لائے گی آفت دہان پر

(مصحفی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
یہ خستہ تمام ہو چکا اب
بس اپنا تو کام ہو چکا اب
سب ناظمِ ملک سو رہے ہیں ہائے
دنیا کا نظام ہو چکا اب
قاصد گر اس گلی میں جاوے
کہیو کہ غلام ہو چکا اب
دنیا ہے سرائے فانی اس سے
چلیے کہ مقام ہو چکا اب

(مصحفی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
چلی بھی جا جرسِ غنچہ کی صدا پہ نسیم
کہیں تو قافلۂ بادِ بہار ٹھیرے گا
جو سیر کرنی ہے کرلے کہ جب خزاں آئی
نہ گُل رہے گا چمن میں نہ خار ٹھیرے گا

(مصحفی)
 
Top