کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

فرخ منظور

لائبریرین
آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

جانِ جاں ظلم ہے خاطر شکنی عاشق کی
کعبہء دل کو جو توڑو گے تو بدعت ہو گی

حال انجام کا آغاز میں معلوم نہ تھا
کیا سمجھتے تھے، محبت میں مصیبت ہو گی

اے صنم وصل ترا مجھ کو میسر ہو گا
کچھ اگر عشقِ مجازی کی حقیقت ہو گی

(میر وزیر علی صبا لکھنوی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
کیا کروں آرام آئے کس طرح
کس طرف جاؤں کہ گھبراتا ہے دل

کیوں نظام ایسا ہی ہوتا ہے بھلا
کیا یوں ہی ہوتا ہے گر آتا ہے دل؟

(نظام رامپوری)
 

فرخ منظور

لائبریرین
وہ ہے کون دن کہ ترے لیے مجھے تجھ گلی میں گزر نہیں
ہے یہ کیا ستم کہ تجھے سجن مری اب تئیں بھی خبر نہیں

کرے کس طرح سے وہ سنگ دل مرے حالِ خستہ پہ مرحمت
ہے مری طرف سے جو حرفِ زن سو وہ آہ جس میں اثر نہیں

(نظام رامپوری)
 

فرخ منظور

لائبریرین
بر آئے کیونکہ تمنّا، تسلّی ہو کیوں کر
نہ زور دل پہ ہے اپنا نہ بس ہے دلبر پر

ہمارے قتل کی کیوں فکر اس قدر ہے تمہیں
جو حکم ہو تو گلا آپ رکھ دیں خنجر پر؟

(نظام رامپوری)
 

فرخ منظور

لائبریرین
یوں تو دس گز کی زباں ہم بھی بتاں رکھتے ہیں
بات کو طول نہیں دیتے خدا کے ڈر سے

مہر کی اس سے توقع غلطی اپنی تھی
کہیں دلداری ہوئی بھی ہے کسو دلبر سے؟

(میر تقی میر)
 

فرخ منظور

لائبریرین
اربابِ اشتیاق سے پردا نہ چاہیے
اے حسنِ خود نما تجھے ایسا نہ چاہیے

ان کا ستم بھی عین کرم ہے خواص کو
اس کا مگر عوام میں چرچا نہ چاہیے

کچھ حد سے بڑھ چلیں ہیں تری کج ادائیاں
اس درجہ اعتبارِ تمنا نہ چاہیے

(حسرت موہانی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
ہو کر سوار توسنِ عمرِ رواں پہ آہ
ہم اس سرائے دہر میں کیا آئے کیا چلے
قاتل جو تیرے دل میں رکاوٹ نہ ہو تو کیوں
رک رک کے میرے حلق پہ خنجر ترا چلے
لبریز ہو گیا مرا شاید کہ جامِ عمر
تم وقتِ نزع مجھ سے جو ہو کر خفا چلے
کیا دیکھتا ہے؟ ، ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیب
یاں جان ہی بدن میں نہیں، نبض کیا چلے
لے جائیں تیرے کشتہ کو جنت میں بھی اگر
پھر پھر کے تیرے گھر کی طرف دیکھتا چلے
اس روئے آتشیں کے تصور میں یادِ زلف
ہے کیا غضب کہ آگ لگے اور ہوا چلے
(استاد ابراہیم ذوق)
 

مہ جبین

محفلین
آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

جانِ جاں ظلم ہے خاطر شکنی عاشق کی
کعبہء دل کو جو توڑو گے تو بدعت ہو گی

حال انجام کا آغاز میں معلوم نہ تھا
کیا سمجھتے تھے، محبت میں مصیبت ہو گی

اے صنم وصل ترا مجھ کو میسر ہو گا
کچھ اگر عشقِ مجازی کی حقیقت ہو گی

(میر وزیر علی صبا لکھنوی)
بہت خوب غزل ہے صبا صاحب کی
فرخ منظور بھائی بہت شکریہ شامل کرنے کا
 
Top