کسی کی آبرو کو خاک میں رولا نہیں جاتا - برائے اصلاح

ظہیرؔ بھائی، آداب!
سر تسلیم خم ۔۔۔ آپ کی بات عین مناسب ہے ۔۔۔ لیکن پاؤں (بمعنی پانا) اور پاؤں (بمعنی پیر) کے جدید تلفظ میں بہرحال معمولی فرق تو ہے۔ پاؤں(پانا) میں تو واؤ واضح طور پر معروف سنائی دیتی ہے جبکہ پاؤں(پیر) میں کچھ کچھ مجہول۔ دراصل میرا یہ نکتہ اٹھانے کا اصل مقصد یہ تھا کہ کئی مرتبہ ایسا دیکھا ہے کہ کوئی شاعر پاؤں (بمعنی پیر) کو دعاؤں، خطاؤں وغیرہ کے ساتھ قافیہ لایا تو اساتذہ نے تلفظ کی بنیاد پر ٹوک دیا۔ بس اسی لئے یہ بات کی کہ اگر مستقبل میں قافیہ کے باب میں کبھی کسی کو اس اعتراض کا سامنا ہو تو وجہ ذہن نشین رہے۔

بہرحال، ظاہر ہے کہ آپ کی بات میری رائے سے کہیں زیادہ وزن رکھتی ہے کہ مستند ہے آپ کا فرمایا ہوا :) آپ کے مطالعے کا ایک چوتھائی بھی ہمارے پاس ہوتا تو کیا بات تھی :)

دعاگو،
راحلؔ۔
ہا ہا ہا ہا !!! بہت خوب راحل بھائی ! آپ نے میرے کندھے پر بندوق رکھ کر میر کا مصرع خود میر ہی کے متھے مار دیا ۔ :):):) بیشک میر صاحب کہہ گئے ہیں کہ مستند ہے اُن کا فرمایا ہوا لیکن حقیقت یہ ہے کہ میر کی زبان اور کلام ہر معاملے میں حجت نہیں ہے ۔ بہت کچھ اگڑم بگڑم بھی لکھ گئے ہیں موصوف۔ ان کی زبان ان کے عہد کی آئینہ دار تھی ۔ درجنوں الفاظ اور نحوی اسلوب جو وہ استعمال کر گئے کب کے متروک ہوچکے ہیں ۔ تب سے اب تک اردو بہت سنور چکی اور ترقی کرچکی ہے ۔ ارتقائی عمل جاری ہے ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا پاؤں بروزن فعلن بھی متروک ہو چکا ۔ لیکن تسہیل اور کشادگی کی غرض سے میں سمجھتا ہوں کہ اسے بروزن فعلن باندھنے کی اجازت ہونی چاہئے ۔ وجوہات پہلے ہی تفصیلاً عرض کرچکا ہوں۔ میر کے اشعار تو لفظ مذکور کا ارتقا دکھانے کے لئے نقل کئے تھے ۔
قافیہ کا نکتہ آپ نے بہت اچھا اٹھایا۔ بیشک پاؤں بمعنی قدم کو دعاؤں ، صداؤں کا قافیہ نہیں بنایا جاسکتا کہ تلفظ میں فرق ہے ۔ لیکن لوگ اب بنارہے ہیں کہ تلفظ میں فرق معمولی سا ہے ۔ جمال احسانی کی یہ غزل دیکھئے گا ۔
 
مصدر ہوتا کیا ہے اس بات کا علم ہی نہیں ہے اگر اس کی انگلش پتا چل سکے تو شاید پتا ہی ہوں. کچھ ان ٹرمز کی وجہ سے مراسلے کو سمجھنے میں غلط فہمی کا شکار ہوئی. آپ نے مطلع کے حوالے سے قوانین میں جو بتائے اک فعل اور دوسرا جیسا باجا ... اس سے اگلے اشعار میں ایسے الفاظ جن کے آخر میں الف آتا ہے گنجائش نکل آتی ہے .. روند تو دال پر ختم ہوجاتا ہے اور روندا ہم نے الف لگا کے لفظ بنادیا ہے جبکہ باجا اک مکمل لفظ ہے. اسطرح کہتا بہنا ، بہرا مطلع میں نہیں آسکتے مگر یہ اگلے اشعار میں آسکتے ہیں ... معذرت مجھ سے غلطی ہوگئی ہے سمجھنے میں. مگر آپ دونوں اساتذہ کی گفتگو ایک ہی ہے
کوئی بات نہیں بیٹا ۔ میرا بھی یہی خیال تھا کہ آپ کو ٹھیک سے بات سمجھ میں نہیں آئی ۔ کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو دوبارہ پوچھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا ۔ :)

مصدر کی وضاحت میں نے اوپر اپنے مراسلے میں بڑے آسان پیرائے میں کر تو دی تھی لیکن پھر سمجھادیتا ہوں ۔ مصدر کے لغوی معنی ہیں نکلنے کی جگہ ، صادر ہونے کی جگہ ، منبع ، جڑ وغیرہ ۔ اسے انگریزی میں root wordکہتے ہیں ۔ لسانیات میں اصطلاحاً morphemeبھی کہا جاتا ہے ۔ مصدر کے تصور کو ایک مثال سے سمجھئے ۔ علم ایک لفظ ہے جو تین حروف (عین لام میم) پر مشتمل ہے ۔ اسی بنیادی لفظ میں کچھ تبدیلیاں کرکے اس سے کئی نئے الفاظ نکالے گئے ہیں ۔ مثلاً عالم ، علیم ، معلم ، تعلیم ، تعلم ، علوم ، علما ، عالمہ وغیرہ ۔ گرامر کی اصطلاح میں اس بنیادی لفظ "علم" کو مصدر کہیں گے اور اس سے نکلنے والے تمام الفاظ کو مشتقات ۔ نوٹ کیجئے کہ بنیادی حروف (عین لام میم) سے پہلے ، بعد میں یا ان کے درمیان میں کچھ حروف کا اضافہ کر کے نئے الفظ مشتق کئے گئے ہیں ۔ مصدر سے نئے الفاظ کا اشتقاق جن قواعد کی رُو سے کیا جاتا ہے اُن کے علم کو علم الصرف یا صَرف کہتے ہیں ۔

لیکن سمجھنےکی اہم بات یہ ہے کہ علمِ قافیہ میں مصدر کی اصطلاح گرامر کے مصدر سے مختلف ہے ۔ اس فرق کو سمجھنے کے لئے پہلے اس بات کو سمجھئے کہ اردو میں اکثر ایک مکمل اور بامعنی لفظ کو جوں کا توں برقرار رکھتے ہوئے اس کے آگے کچھ حروف کا اضافہ کرکے اس کی جمع ، تانیث ، تصغیر یا کوئی صیغہ وغیرہ بناتے ہیں ۔ مثلاً باغ سے باغوں اور باغات ، کتاب سے کتابوں اور کتابیں ، کمال سے کمالوں اور کمالات ، چل سے چلنا ، چلو ، چلیں ، چلوں ، چلا ، چلتے وغیرہ ۔ ان مثالوں میں اصل لفظ کو مصدر یا مصدرِ قافیہ کہتے ہیں اور اس کے آگے اضافہ کئے گئے حروف کو زائد یا اضافی حروف کہتے ہیں ۔ مطلع میں اصل لفظ یا مصدر کو قافیہ بنانےکے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے آگے موجود اضافی حروف کو ردیف مانا جاتا ہے ۔ چنانچہ شرابوں کا قافیہ کتابوں ، حسابوں ، نصابوں ، خرابوں ہوگا ۔ ان میں شراب ، کتاب ، حساب ، نصاب وغیرہ قافیے ہیں اور "وں" کے زائد یا اضافی حروف ردیف میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ اسی طرح مطلع میں کمالات کا قافیہ باغات نہیں لاسکتے کیونکہ باغ اور کمال ہم قافیہ نہیں ہیں ۔ "ات" اضافی حروف ہیں اور ردیف کا حصہ ہیں ۔ قافیے کا تعین ان اضافی حروف سے نہیں بلکہ اصل لفظ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اگر باغات اور کمالات کے قوافی مطلع میں لائیں تو ایطائے جلی کا عیب واقع ہوجائے گا ۔ ان مثالوں کی روشنی میں اب میرے پہلے مراسلے کو پڑھئے تو آپ کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ روندا اور رولا کے قوافی مطلع میں کیوں استعمال نہیں کئے جاسکتے ۔ اردو افعال میں مصدرِ قافیہ فعل کا صیغۂ امر ہوتا ہے ۔ اس مصدر کے آگے حروف زیادہ کرکے دیگر تمام صیغے بنائے جاتے ہیں ۔ جیسے روند سے روندا ، روندے ، روندیں ، روندی ، روندے ، روندنا وغیرہ ۔ مذکورہ بالا غزل کے مطلع میں روندا اور رولا کی وجہ سے ایطائے جلی واقع ہو رہا ہے ۔ لیکن روندا اور باجا کے قوافی اس عیب کو دور کردیتے ہیں اور بقیہ غزل میں ایسے تمام قوافی کو ممکن بنادیتے ہیں کہ جن کے آخر میں الف آرہا ہو ۔
فعل کے صیغۂ امر کو فعل کا مصدر مانا جاتا ہے ۔ یعنی مصدر وہ بنیادی لفظ ہوتا ہے کہ جس کے آگے حروف کا اضافہ کرکے فعل کے دیگر صیغے بنائے جاتے ہیں۔ "لکھ" ایک مصدر ہے ۔ اس مصدر سے لکھا ، لکھی ، لکھو ، لکھتا ، لکھتی ، لکھتے ، لکھیں ، لکھوں ، لکھنا وغیرہ کے الفاظ بنائے گئے ۔ اسی طرح "چل" کے مصدر سے چلا ، چلتا ، چلتی ، چلئے ، چلو، چلیں وغیرہ بنائے گئے ہیں ۔ یہ بات نوٹ کیجئے کہ ان تمام الفاظ کی ابتدا میں "لکھ" اور "چل" مشترک ہے اور اس مصدر کے آگے زائد حروف لگا کر مختلف صیغے بنادیئے گئے ہیں ۔
۳۔ مطلع میں دو افعال کو قافیہ بناتے وقت ان کے مصدر کو دیکھا جاتا ہے ۔ مصدر کا ہم قافیہ ہونا ضروری ہے ۔ یعنی کہتا اور سُنتا قافیہ نہیں ہوسکتے ۔ اس لئے کہ سُن اور کہہ ہم قافیہ نہیں ہیں ۔ اس کے برعکس کہتا اور بہتا قوافی ہوسکتے ہیں کیونکہ کہہ اور بہہ ہم قافیہ ہیں ۔ اسی طرح دیکھا اور لکھا بھی قوافی نہیں ہوسکتے کہ دیکھ اور لکھ ہم قافیہ نہیں ہیں ۔

امید ہے کہ اب بات سمجھ میں آگئی ہوگی ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
ان میں سے اکثر دولخت ہیں یا دونوں مصرعوں کا ربط کمزور ہے۔ کیوں ہیں وہ آپ خود معلوم کیجئے اپنے اشعار کو دشمن کی آنکھ سے دیکھئے اور کڑے سوالات کیجئے ۔ وجہ سمجھ میں آجائے گی ۔۔ آخری مطلع درست ہے اور مصرع مربوط ہیں ۔ لیکن دل سے چہرہ جانے کے بجائے آنکھوں یا تصور سے چہرہ نہیں جاتا زیادہ معقول اور بہتر ہوگا ۔
آداب
اب ملاحظہ کیجیئے ۔۔ ۔ امید ہے کہ کوئی نہ کوئی مطلع ٹھیک ہو گا ۔ ۔ ورنہ مزید کوشش ہو گی ۔ ۔ ان شاء اللہ ۔ ۔ ۔ رہنمائی کے لیئے شکر گزار رہوں گی ۔ ۔


بہت مہمان آئے ان سے پر ٹہرا نہیں جاتا
ہمارے دل سے اک آسیب کا سایہ نہیں جاتا

یا

یہاں پر جو بھی آئے اس سے بس ٹہرا نہیں جاتا
ہمارے دل سے اک آسیب کا سایہ نہیں جاتا
یا

بہت ویران مکاں ہے اس لیئے ٹہرا نہیں جاتا
ہمارے دل سے اک آسیب کا سایہ نہیں جاتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری چاہتوں کا آنکھوں سے سپنا نہیں جاتا
چلے آؤ کسی کو ہم سے اب چاہا نہیں جاتا

یا
تمہیں کیوں کھو دیا ہم نے یہ پچھتاوا نہیں جاتا
چلے آؤ کسی کو ہم سے اب چاہا نہیں جاتا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھلائیں کس طرح تم کو تمہیں بھولا نہیں جاتا
تمہارا آنکھوں میں جو نقش ہے، چہرہ نہیں جاتا

یا

بھلائیں کس طرح تم کو تمہیں بھولا نہیں جاتا
ہماری آنکھوں میں جو نقش ہے، چہرہ نہیں جاتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوئیں مسدود راہیں اس لیئے پہنچا نہیں جاتا
تمہارے دل کی نگری تک کوئی رستہ نہیں جاتا
 

الف عین

لائبریرین
معزز استادِ محترم الف عین ،
ظہیراحمدظہیر
محمد خلیل الرحمٰن ، سید عاطف علی
@محمّد احسن سمیع :راحل:بھائ


آداب

کچھ اشعار مطلع کے طور پر لکھے ہیں ۔ ۔ آپ سے گزارش ہے کہ رہنمائی کیجیئے کہ کون سا بہتر ہو گا ۔ ۔ اس کے بعد دیگر تصحیح شدہ اشعار آپ کی خدمت میں پیش کروں گی ۔ ۔



بہت محبوس رہتے ہیں کہیں نکلا نہیں جاتا
ہمارے دل سے اک آسیب کا سایہ نہیں جاتا

یا

بہت کوشش بھی کرتے ہیں اسے بھولا نہیں جاتا
ہمارے دل سے کیوں آسیب کا سایہ نہیں جاتا

یا

کہاں پر کھو گئے ہو تم، تمہیں ڈھونڈا نہیں جاتا
تمہارے دل کی نگری تک کوئی رستہ نہیں جاتا

یا


اندھیرا ہر طرف ہے گھر سے اب نکلا نہیں جاتا
تمہارے دل کی نگری تک کوئی رستہ نہیں جاتا

یا

بھلائیں کس طرح تم کو تمہیں بھولا نہیں جاتا
بھلایا، دل پہ ہے جو نقش، وہ چہرہ نہیں جاتا

یا

بھلائیں کس طرح تم کو تمہیں بھولا نہیں جاتا
ہمارے دل پہ ہے جو نقش وہ چہرہ نہیں جاتا
دوسرے اور تیسرے میں سے کوئی سا بھی مطلع بہتر ہو گا، تکنیکی طور پر تو سارے درست ہیں
 

الف عین

لائبریرین
دوسرے اور تیسرے میں سے کوئی سا بھی مطلع بہتر ہو گا، تکنیکی طور پر تو سارے درست ہیں
اوہو، تم نے تدوین کر دی ہے اپنے مراسلے میں، میرے پاس کل سے ہی یہ صفحہ کھلا ہوا تھا! اب پھر سے دیکھ رہا ہوں
رنگین شعر اور بالکل آخری شعر منتخب کر لو، دونوں ہی اچھے ہیں، دونوں کو مطلع بنا دو
 

الف عین

لائبریرین
ظہیراحمدظہیر ، سچی بات تو یہ ہے کہ میں عروض داں واقعی نہیں ہوں اور اس کا اعتراف کئی بار کر چکا ہوں کہ میرا علم صرف پریکٹکلی تک ہے کہ والد مرحوم کے ساتھ ان کی کی ہوئی اصلاحات دیکھتا تھا اور ان سے ان پر گفتگو کرتا تھا( ابھی راحت اندوری کے انتقال کے بعد والد کے ایک دوسرے شاگرد سے معلوم ہوا کہ راحت نے بھی شروع میں والد سے اصلاح لی تھی)۔
قافیے کے بارے میں تمہارا وہی جملہ دیکھا تھا جسے رنگین بنایا گیا تھا۔ کیونکہ میرے نزدیک آتا جاتا ہنسنا گھوڑا کھانا سایا دیکھا بھی قوافی قبول ہیں جن کے آخر میں صرف الف مشترک ہو
 

صابرہ امین

لائبریرین
اوہو، تم نے تدوین کر دی ہے اپنے مراسلے میں، میرے پاس کل سے ہی یہ صفحہ کھلا ہوا تھا! اب پھر سے دیکھ رہا ہوں
رنگین شعر اور بالکل آخری شعر منتخب کر لو، دونوں ہی اچھے ہیں، دونوں کو مطلع بنا دو
آداب

آپ کا بے حد شکریہ ۔ ۔ جزاک اللہ
اب میں باقی اشعار بھی تصحیح کے بعد پیش کرتی ہوں ۔ ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
ظہیراحمدظہیر ، سچی بات تو یہ ہے کہ میں عروض داں واقعی نہیں ہوں اور اس کا اعتراف کئی بار کر چکا ہوں کہ میرا علم صرف پریکٹکلی تک ہے کہ والد مرحوم کے ساتھ ان کی کی ہوئی اصلاحات دیکھتا تھا اور ان سے ان پر گفتگو کرتا تھا( ابھی راحت اندوری کے انتقال کے بعد والد کے ایک دوسرے شاگرد سے معلوم ہوا کہ راحت نے بھی شروع میں والد سے اصلاح لی تھی)۔
قافیے کے بارے میں تمہارا وہی جملہ دیکھا تھا جسے رنگین بنایا گیا تھا۔ کیونکہ میرے نزدیک آتا جاتا ہنسنا گھوڑا کھانا سایا دیکھا بھی قوافی قبول ہیں جن کے آخر میں صرف الف مشترک ہو
بھئی واہ ۔ ۔ سبحان اللہ ۔ ۔ آپ کے محترم والد صاحب کے بارے میں جان کربہت خوشی ہوئی کہ اندوری صاحب سمیت کئی شاعروں نے ان سے اکتساب کیا اور ان سے فیض یاب ہوئے ۔ ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کریں ۔ ۔ آمین
استاد محترم، جتنی شفقت اور محنت سے آپ مبتدیوں کو سکھاتے ہیں وہ یقیناً آپ کے والد صاحب کا فیضان اور صدقہء جاریہ کی عملی تفسیر ہے ۔ ۔ آپ کا عجزو انکسار بھی یقیناً قابل ستائش اور مشعل راہ ہے ۔ ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و تندرستی کے ساتھ ایک طویل عمر عطا فرمائیں اور دین و دنیا کی ہر نعمت اور کامیابیاں آپ کا مقدر ہوں ۔ ۔ آمین ثم آمین :flower::flower::flower:
 

صابرہ امین

لائبریرین
آداب
اصلاح و رہنمائی کو مدنظر رکھنے کے بعد اشعار آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ۔ ۔ امید ہے کہ بہتری آئی ہو گی ۔ ۔ شکریہ

مطلع کے اشعار ۔ ۔

تمہیں کیوں کھو دیا ہم نے یہ پچھتاوا نہیں جاتا
چلے آؤ کسی کو ہم سے اب چاہا نہیں جاتا

ہوئیں مسدود راہیں اس لیئے پہنچا نہیں جاتا
تمہارے دل کی نگری تک کوئی رستہ نہیں جاتا


یہاں دوسرے مصرعے میں جاسکتا کہے بغیر مفہوم درست ادا نہیں ہوتا ... گویا ردیف صحیح طرح نبھائی نہیں گئی.
علاوہ ازیں دوسرے مصرعے میں "تو" اضافی ہے.

یہ جانا دیر میں گریہ وزاری اب ہے لاحاصل
محبت کے عذابوں کو تو یوں ٹالا نہیں جاتا
ملاحظہ کیجیئے ۔ ۔ ۔

یہ جانا دیر میں گریہ وزاری اب ہے لاحاصل
محبت کے عذابوں کو سدا رویا نہیں جاتا


یہ جانا دیر میں گریہ وزاری اب ہے لاحاصل
جفاؤں پر کسی کی اس قدر رویا نہیں جاتا


راہوں کی واؤ کا اسقاط اچھا نہیں لگتا، اس کو راہ کردیں.
رستہ ہائے خفی کے ساتھ لکھتے ہیں، ا الف سے لکھیں تو لوگ رِستا سے خلط کردیں گے :)


تمھارا عشق لے آیا ہے ہم کو بند گلیوں میں
تمھاری راہوں تک اب کوئی بھی رستا نہیں جاتا
اب دیکھیئے ۔ ۔

تمھارا عشق لے آیا ہے ہم کو بند گلیوں میں
تمھاری راہ تک اب کوئی بھی رستہ نہیں جاتا

نہ جانے کون سا دن آئے گا وہ مان جائے گا
کوئ اس کو بتاؤ اس طرح روٹھا نہیں جاتا

کون سا دن کے بجائے کب وہ دن کا محل ہے، لیکن وزن درست رکھنے کے لئے الفاظ کی ترتیب بدلنا ہوگی.
ملاحظہ کیجیئے ۔ ۔

وہ دن کب آئے گا یارو، وہ آخر مان جائے گا
کوئ اُس کو بتا ئے اس طرح روٹھا نہیں جاتا

کبھی کیا آئے گا وہ دن کہ وہ بھی مان جائے گا
کوئ اس کو بتاؤ اس طرح روٹھا نہیں جاتا

نجانے آئے گی کب وہ گھڑی وہ مان جائے گا
کوئ اس کو بتاؤ اس طرح روٹھا نہیں جاتا


نجانے کب گھڑی آئے گی کہ وہ مان جائے گا
کوئ اس کو بتائے اس طرح روٹھا نہیں جاتا
 
ظہیراحمدظہیر ، سچی بات تو یہ ہے کہ میں عروض داں واقعی نہیں ہوں اور اس کا اعتراف کئی بار کر چکا ہوں کہ میرا علم صرف پریکٹکلی تک ہے کہ والد مرحوم کے ساتھ ان کی کی ہوئی اصلاحات دیکھتا تھا اور ان سے ان پر گفتگو کرتا تھا( ابھی راحت اندوری کے انتقال کے بعد والد کے ایک دوسرے شاگرد سے معلوم ہوا کہ راحت نے بھی شروع میں والد سے اصلاح لی تھی)۔
قافیے کے بارے میں تمہارا وہی جملہ دیکھا تھا جسے رنگین بنایا گیا تھا۔ کیونکہ میرے نزدیک آتا جاتا ہنسنا گھوڑا کھانا سایا دیکھا بھی قوافی قبول ہیں جن کے آخر میں صرف الف مشترک ہو
میرا بھی یہی خیال تھا اعجاز بھائی کہ آپ نے مراسلہ جزوی طور پر پڑھا تھا ۔ آپ کی مصروفیت اور قلت وقت کا بخوبی علم ہے ۔ جس طرح اردو کی بے لوث اور بے غرض خدمت آپ کررہے ہیں اس سے الحمدللہ سبھی واقف ہیں ۔ پس منظر میں بھی ادارت اور اشاعت کے کام سنبھالے ہوئے ہیں ۔ یہ بزمِ سخن کی خوش قسمتی ہے کہ آپ رہنمائی کے لئے بلاتخصیص اپنا وقت اور توجہ بخشتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے ، صحت و تندرستی ہمیشہ قائم رکھے ۔ اور آپ کے وقت اور توانائی میں برکت عطا فرمائے ۔ آمین ۔
اعجاز بھائی ، آپ نے پہلے بھی ایک دو بار اجمالاً اپنے والد صاحب سے اپنے تلمذ کا ذکر کیا تھا۔ کبھی وقت اور فرصت ملے تو والد صاحب کے بارے میں مختصر سا ہی سہی لیکن ایک سوانحی یا تعرفی خاکہ عنایت فرمائیے گا ۔ یہی وہ لوگ تھے جو شمع سے شمع روشن کرتے گئے اور اردو شعر و ادب کی تہذیبی روایات کو زندہ رکھا ۔ اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔ آمین ۔
 

الف عین

لائبریرین
میرا بھی یہی خیال تھا اعجاز بھائی کہ آپ نے مراسلہ جزوی طور پر پڑھا تھا ۔ آپ کی مصروفیت اور قلت وقت کا بخوبی علم ہے ۔ جس طرح اردو کی بے لوث اور بے غرض خدمت آپ کررہے ہیں اس سے الحمدللہ سبھی واقف ہیں ۔ پس منظر میں بھی ادارت اور اشاعت کے کام سنبھالے ہوئے ہیں ۔ یہ بزمِ سخن کی خوش قسمتی ہے کہ آپ رہنمائی کے لئے بلاتخصیص اپنا وقت اور توجہ بخشتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے ، صحت و تندرستی ہمیشہ قائم رکھے ۔ اور آپ کے وقت اور توانائی میں برکت عطا فرمائے ۔ آمین ۔
اعجاز بھائی ، آپ نے پہلے بھی ایک دو بار اجمالاً اپنے والد صاحب سے اپنے تلمذ کا ذکر کیا تھا۔ کبھی وقت اور فرصت ملے تو والد صاحب کے بارے میں مختصر سا ہی سہی لیکن ایک سوانحی یا تعرفی خاکہ عنایت فرمائیے گا ۔ یہی وہ لوگ تھے جو شمع سے شمع روشن کرتے گئے اور اردو شعر و ادب کی تہذیبی روایات کو زندہ رکھا ۔ اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔ آمین ۔
والد کے شعری مجموعے سارے کمپوز کروا کے میں نے بہت پہلے شائع کر دیے تھے لیکن حیرت انگیز طور پر وہ برقی کتابوں سے کسی وقت خارج ہو گئے۔ شاید یہاں بھی شامل کیے تھے لیکن لنک نہیں مل رہا ہے۔ ایک عیر مطبوعہ مجموعے میں میرا لکھا ہوا ایک مضمون بھی شامل ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
صابرہ امین مطلع پہلا شعر ہی رکھو، بہترین ہو گیا یے
گریہ و زاری والے دونوں متبادل میں گریہ و زاری 'گریا ؤ زاری' تقطیع یو رہا ہے جو علط ہے گریؤ زاری ہونا چاہئے۔ اس کو نکال ہی دو
بند گلیوں.. والا درست شعر ہے
نجانے آئے گی کب وہ گھڑی، وہ مان جائے گا
کوئ اس کو بتاؤ اس طرح روٹھا نہیں جاتا
بہتر ہو گا، گھڑی کے بعد کاما ضرور لگاؤ
 

صابرہ امین

لائبریرین
صابرہ امین مطلع پہلا شعر ہی رکھو، بہترین ہو گیا یے
گریہ و زاری والے دونوں متبادل میں گریہ و زاری 'گریا ؤ زاری' تقطیع یو رہا ہے جو علط ہے گریؤ زاری ہونا چاہئے۔ اس کو نکال ہی دو
بند گلیوں.. والا درست شعر ہے
نجانے آئے گی کب وہ گھڑی، وہ مان جائے گا
کوئ اس کو بتاؤ اس طرح روٹھا نہیں جاتا
بہتر ہو گا، گھڑی کے بعد کاما ضرور لگاؤ
جی بہتر ۔ ۔ تبدیلیوں کے بعد حاضر ہوتی ہوں ۔ ۔ بہت بہت شکریہ ۔ ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
معزز استادِ محترم الف عین ،
ظہیراحمدظہیر
محمد خلیل الرحمٰن ، سید عاطف علی
@محمّد احسن سمیع :راحل:بھائ

آپ سب کی گراں قدر اصلاح و رہنمائی سے غزل کی یہ خوبصورت شکل نکلی ہے ۔ ۔ میں آپ سب کی تہہ دل سے مشکور و ممنون ہوں ۔ ۔ آپ سے نظر ثانی کی درخواست ہے ۔ ۔


تمہیں کیوں کھو دیا ہم نے یہ پچھتاوا نہیں جاتا
چلے آؤ کسی کو ہم سے اب چاہا نہیں جاتا

تھکاوٹ ان کو ہوتی ہے جنہیں دامن چھڑانا ہو
محبت کے سفر میں راستہ دیکھا نہیں جاتا

یونہی دن رات رہتے ہیں مگن ہم اس کی یادوں میں
مگر بس حال اپنے دل کا بتلایا نہیں جاتا

تمھاری بےرخی نے ہم کو کتنا توڑ ڈالا ہے
محبت کا فسانہ ہم سے اب لکھا نہیں جاتا

تمھارا عشق لے آیا ہے ہم کو بند گلیوں میں
تمہارے بام و در تک اب کوئی رستہ نہیں جاتا

نجانے آئے گی کب وہ گھڑی، وہ مان جائے گا
کوئ اس کو بتاؤ اس طرح روٹھا نہیں جاتا
 
آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین
صابرہ امین اچھی غزل ہے۔ہماری طرف سے داد قبول کیجیے۔
محترم ظہیراحمدظہیر اور استادِ محترم جیسے اساتذہ کی شفقت ہے کہ ہم ایسے نوآموز بھی بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں۔اس کے علاوہ برادرم محمّد احسن سمیع :راحل: بھائی بھی بہت توجہ دے کر اصلاحِ سخن کا گوشہ آباد رکھے ہوئے ہیں۔اللہ ان حضرات کو اجرِ کثیر عطا فرمائے۔آمین۔
اپنے اشعار کو دشمن کی آنکھ سے دیکھئے اور کڑے سوالات کیجئے ۔
محترمی ظہیر صاحب کے اور بہت سے زریں اقوال کی طرح یہ قول بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔اس پر عمل کیا جائے تو بہت سی اصلاح خود ہو جاتی ہے۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
صابرہ امین اچھی غزل ہے۔ہماری طرف سے داد قبول کیجیے۔
عاطف بھائی، آپ کے الفاظ ہمارے لیئے بہت قیمتی ہیں ۔ ۔ حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ ۔ ۔ ۔ :)

صابرہ امین
محترم ظہیراحمدظہیر اور استادِ محترم جیسے اساتذہ کی شفقت ہے کہ ہم ایسے نوآموز بھی بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں۔اس کے علاوہ برادرم محمّد احسن سمیع :راحل: بھائی بھی بہت توجہ دے کر اصلاحِ سخن کا گوشہ آباد رکھے ہوئے ہیں۔اللہ ان حضرات کو اجرِ کثیر عطا فرمائے۔آمین۔
جی بالکل بجا فرمایا بھائی۔ ۔ ہم جیسے مبتدی کے ذہن کی گرہیں ایک ایک کر کے کھولنے میں سب کا حصہ ہے ۔ ۔ اور سب کی شاعری پڑھنا بذات خود جدید شاعری سے آگہی کے نادر مواقع فراہم کرتا ہے ۔ ۔ مجھے تو جب فرصت ہو میں یہی کرتی ہوں کہ اکتساب کا کوئی موقع نہ جانے دوں ۔ ۔ راحل بھیا کی کتاب تو یقیناً آپ لے چکے ہوں گے ۔ ۔ اگر اب تک محروم ہیں تو پہلی فرصت میں لے ڈالیئے ۔ لطف اندوز تو ہوں گے ہی، سیکھنے کو بھی بہت ملے گا ۔ ۔ :)


میں آپ سے پوری طرح متفق ہوِں ۔ ۔ :)
 
تمھاری راہ تک اب کوئی بھی رستہ نہیں جاتا
ارے بھئی اس غزل پر تو کافی تبصرے ہو چکے اور بہت سے ضمنی نکات بھی زیر بحث آچکے خصوصاًقافیے
کی خصوصیات بھی زیر بحث آگئیں ۔ اس لیے بس اس کا آخری ریویژن دیکھا ۔
اس مصرع پر شاید کسی کی توجہ نہیں گئی ۔ اس میں راہ اور رستے کے معنوی تصادم کی وجہ سے مجھے عجیب
تعارض سا محسوس ہوا ۔لگتا ہے اس سے مصرع ضعیف پڑ رہا ہے اور مصرع سے شعر بھی ۔
سو یہاں راہ تک کے بجائے گھر تک یا در تک یا اس طرح کی کوئی اور ترکیب آنی چاہیئے ۔ پھر شعر مستحکم ہو گا ۔
جیسے ،
تمہارے بام و در تک اب کوئی رستہ نہیں جاتا ۔


اصلاح سخن کے سلسلے میں جہاں عمومی مشورہ جات ہوں وہاں یہ بات شعراؤ شاعرات کو مدنظر رکھنی چاہیئے
کہ جب وہ اپنی کسی کاوش پر متعدد بار نظر ثانی (بلکہ ثالث و رابع وغیرہ) کریں تو ہر مرتبہ ایک متعین تناظر
سے ریویو کریں ۔

ایک مرتبہ لفظی اور ترکیبی نشست اور مصرعوں کی ظاہری ساخت کے اعتبار سے
پھر اندازِ بیان کے اعتبار سے اور شعری طرز و ترتیب کے لحاظ سے
پھر معنوی اور تخیل سے مطابقت کے لحاظ سے

اس طرح کئی اعتبار سے مناسب تبدیلیوں کی ضرورت نظر آئے گی ۔ مجھے معلوم ہے کہ اس مشق میں کافی جانفشانی ،
مشقت اور ذہنی عرقریزی کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ ان کئی سطحوں کے لحاظ سے غور و خوض کرتے ہوئے خیال
بھی مجموعی طور پر رکھنا پڑتا ہے کہ یہ تمام خصوصیات شعر کے اس تخیل سے موافق بھی رہیں کہ جس پر شعر کی بنیاد
رکھی گئی ہے ۔ اگر ان اصولوں سے اشعار کو ضروری مراحل سے گزارا جائے تو یقینا ایک پختہ اسلوب کا نمونہ سامنے
آئے گا ۔ اس سلسلے میں اساتذہ کے پختہ کلام کا بغور مطالعہ انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ کیوں کہ گہرے مطالعے کے بغیر
اتنی ساری قدروں کو مبتدیوں کے لیے بیک وقت مد نظر رکھنا عموماً سہل نہیں ہو گا ۔ لیکن اگر ان کو سمجھ کر مشق کی
جائے تو اس کے ثمرات یقیناً نظر آئیں گے ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
ارے بھئی اس غزل پر تو کافی تبصرے ہو چکے اور بہت سے ضمنی نکات بھی زیر بحث آچکے خصوصاًقافیے
کی خصوصیات بھی زیر بحث آگئیں ۔ اس لیے بس اس کا آخری ریویژن دیکھا ۔
اس مصرع پر شاید کسی کی توجہ نہیں گئی ۔ اس میں راہ اور رستے کے معنوی تصادم کی وجہ سے مجھے عجیب
تعارض سا محسوس ہوا ۔لگتا ہے اس سے مصرع ضعیف پڑ رہا ہے اور مصرع سے شعر بھی ۔
سو یہاں راہ تک کے بجائے گھر تک یا در تک یا اس طرح کی کوئی اور ترکیب آنی چاہیئے ۔ پھر شعر مستحکم ہو گا ۔
جیسے ،
تمہارے بام و در تک اب کوئی رستہ نہیں جاتا ۔
۔
بہت خوب ۔ ۔ شکریہ ۔ ۔
آپ کی اجازت سے بطور تبرک شامل کر کے خوشی ہو گی ۔ ۔

تمھارا عشق لے آیا ہے ہم کو بند گلیوں میں
تمہارے بام و در تک اب کوئی رستہ نہیں جاتا

اصلاح سخن کے سلسلے میں جہاں عمومی مشورہ جات ہوں وہاں یہ بات شعراؤ شاعرات کو مدنظر رکھنی چاہیئے
کہ جب وہ اپنی کسی کاوش پر متعدد بار نظر ثانی (بلکہ ثالث و رابع وغیرہ) کریں تو ہر مرتبہ ایک متعین تناظر
سے ریویو کریں ۔

ایک مرتبہ لفظی اور ترکیبی نشست اور مصرعوں کی ظاہری ساخت کے اعتبار سے
پھر اندازِ بیان کے اعتبار سے اور شعری طرز و ترتیب کے لحاظ سے
پھر معنوی اور تخیل سے مطابقت کے لحاظ سے

اس طرح کئی اعتبار سے مناسب تبدیلیوں کی ضرورت نظر آئے گی ۔ مجھے معلوم ہے کہ اس مشق میں کافی جانفشانی ،
مشقت اور ذہنی عرقریزی کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ ان کئی سطحوں کے لحاظ سے غور و خوض کرتے ہوئے خیال
بھی مجموعی طور پر رکھنا پڑتا ہے کہ یہ تمام خصوصیات شعر کے اس تخیل سے موافق بھی رہیں کہ جس پر شعر کی بنیاد
رکھی گئی ہے ۔ اگر ان اصولوں سے اشعار کو ضروری مراحل سے گزارا جائے تو یقینا ایک پختہ اسلوب کا نمونہ سامنے
آئے گا ۔ اس سلسلے میں اساتذہ کے پختہ کلام کا بغور مطالعہ انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ کیوں کہ گہرے مطالعے کے بغیر
اتنی ساری قدروں کو مبتدیوں کے لیے بیک وقت مد نظر رکھنا عموماً سہل نہیں ہو گا ۔ لیکن اگر ان کو سمجھ کر مشق کی
جائے تو اس کے ثمرات یقیناً نظر آئیں گے ۔

کیا ہی عمدہ سنہرے نکات ہیں ۔ ۔ یقیناً ایک شعر کو "اچھے" سے "بہترین" بنانے میں مددگار ۔ ۔ :applause: جزاک اللہ
 
Top