کریڈیٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کا حکم

فرقان احمد

محفلین
ہمیں یہ تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہو گا کہ دورِ حاضر میں دیگر بہت سے شعبوں کی طرح اب تک مسلم دنیا کی طرف سے اطمینان بخش متبادل بنکاری نظام وضع نہیں کیا جا سکا ہے۔یہ ایک بہت بڑی کوتاہی ہے جس کے باعث ایسے افراد معلق ہو کر رہ گئے ہیں جو بہرصورت بنکوں کے مروجہ سودی نظام سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
 
ہمیں یہ تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہو گا کہ دورِ حاضر میں دیگر بہت سے شعبوں کی طرح اب تک مسلم دنیا کی طرف سے اطمینان بخش متبادل بنکاری نظام وضع نہیں کیا جا سکا ہے۔یہ ایک بہت بڑی کوتاہی ہے جس کے باعث ایسے افراد معلق ہو کر رہ گئے ہیں جو بہرصورت بنکوں کے مروجہ سودی نظام سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
غیر سودی بینکاری اور اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں سے متعلق آپ کتنا جانتے ہیں؟
 

فرقان احمد

محفلین
غیر سودی بینکاری اور اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں سے متعلق آپ کتنا جانتے ہیں؟
عبید بھائی! انفرادی سطح پر بہت کوششیں کی گئی ہیں تاہم ہمارے مراسلے میں 'اطمینان بخش' سے مراد یہی ہے کہ اس حوالے سے جمہور علمائے کرام باہم متفق نہ ہیں جو کہ تشویش ناک امر ہے۔ کیا آپ مختلف مسالک کے معروف علمائے کرام کا نام لے کر بتا سکتے ہیں کہ ان کی اسلامی بنکاری نظام کے بارے میں کیا رائے ہے؟
 
عبید بھائی! انفرادی سطح پر بہت کوششیں کی گئی ہیں تاہم ہمارے مراسلے میں 'اطمینان بخش' سے مراد یہی ہے کہ اس حوالے سے جمہور علمائے کرام باہم متفق نہ ہیں جو کہ تشویش ناک امر ہے۔ کیا آپ مختلف مسالک کے معروف علمائے کرام کا نام لے کر بتا سکتے ہیں کہ ان کی اسلامی بنکاری نظام کے بارے میں کیا رائے ہے؟
جمہور علماء کا اتفاق۔
آہ۔۔۔ ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا۔
یہ کوششیں قیام پاکستان کے آغاز سے ہی جاری ہیں۔ یہ آج سے 25 سال پہلے کی روداد دیکھیے۔
یہ روداد "انفرادی" کوشش کی نہیں بلکہ کسی حد تک اجتماعی کوششوں کی ہے۔ اور ان کوششوں کا ایک طویل سلسلہ اب تک جاری ہے جسے بہت سے لوگ نہیں جانتے۔
اصل الجھن کچھ اور ہے۔
موجودہ معاشی نظام کا اگر آپ مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ موجودہ معاشی (خصوصاً بینکاری) نظام پیچ در پیچ الجھاؤ رکھتا ہے، اس کو سلجھانے، اس کے مقابلے میں اسلامی بینکاری کو کامیاب کرانے اور موجودہ سرمایہ دارانہ نظام پر حاوی یا کم از کم مساوی درجہ دینے میں صرف علماء کرام کا اتفاق بالکل کافی نہیں، بلکہ علماء اور ارباب اقتدار دونوں کا شدید تعاون ضروری ہے۔ اس کے بغیر انتھک سے انتھک کوشش بھی "انفرادی" ہوکر رہ جائے گی۔
خیر لمبی بات نہیں کرتا۔ آپ صرف ان کوششوں کو دیکھ لیں۔
 

فرقان احمد

محفلین
جمہور علماء کا اتفاق۔
آہ۔۔۔ ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا۔
یہ کوششیں قیام پاکستان کے آغاز سے ہی جاری ہیں۔ یہ آج سے 25 سال پہلے کی روداد دیکھیے۔
یہ روداد "انفرادی" کوشش کی نہیں بلکہ کسی حد تک اجتماعی کوششوں کی ہے۔ اور ان کوششوں کا ایک طویل سلسلہ اب تک جاری ہے جسے بہت سے لوگ نہیں جانتے۔
اصل الجھن کچھ اور ہے۔
موجودہ معاشی نظام کا اگر آپ مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ موجودہ معاشی (خصوصاً بینکاری) نظام پیچ در پیچ الجھاؤ رکھتا ہے، اس کو سلجھانے، اس کے مقابلے میں اسلامی بینکاری کو کامیاب کرانے اور موجودہ سرمایہ دارانہ نظام پر حاوی یا کم از کم مساوی درجہ دینے میں صرف علماء کرام کا اتفاق بالکل کافی نہیں، بلکہ علماء اور ارباب اقتدار دونوں کا شدید تعاون ضروری ہے۔ اس کے بغیر انتھک سے انتھک کوشش بھی "انفرادی" ہوکر رہ جائے گی۔
خیر لمبی بات نہیں کرتا۔ آپ صرف ان کوششوں کو دیکھ لیں۔
آپ نے اس حوالے سے اہم معلومات بہم پہنچائیں، شکریہ!
 

زیک

تکنیکی معاون
اس کو سلجھانے، اس کے مقابلے میں اسلامی بینکاری کو کامیاب کرانے اور موجودہ سرمایہ دارانہ نظام پر حاوی یا کم از کم مساوی درجہ دینے میں صرف علماء کرام کا اتفاق بالکل کافی نہیں، بلکہ علماء اور ارباب اقتدار دونوں کا شدید تعاون ضروری ہے۔
اکنامکس، فنانس اور بیکنگ کے سکالرز اور ایکسپرٹس کی مدد بھی لازم ہے۔
 
جو رقم ہم بچوں کے نام پر بینکوں میں فکس کروا دیتے ہیں اسے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
ظاہر ہے کہ منحصر ہے اس پر کہ بینک اس سے کیا کرتا ہے۔ اور یہ بھی ظاہر ہی ہے کہ ایک بینک پیسے کا کر بھی کیا سکتا ہے ۔ گمان و امید ہے تھوڑا کہے گئے بہت جا نا جائے گا۔
 

شاہد شاہ

محفلین
قرض لینا ممنو ع نہیں ،لیکن قرض کا نفع لینا اور دینا ممنوع ہے
حدیث شریف میں ہے
ہر وہ قرض کو نفع جاری کرے وہ سود ہے
معاملہ اتنا آسان نہیں۔ مثال کے طور پر آپنے کاروبار کیلئے قرض لیا۔ اس میں منافع ہوا۔ کیا قرض دینا والا اس منافع میں حصہ دار نہیں؟ اگر ہے تو وہ سود تصور ہوگا؟
 

یاز

محفلین
معاملہ اتنا آسان نہیں۔ مثال کے طور پر آپنے کاروبار کیلئے قرض لیا۔ اس میں منافع ہوا۔ کیا قرض دینا والا اس منافع میں حصہ دار نہیں؟ اگر ہے تو وہ سود تصور ہوگا؟
ایک اور مسئلہ بھی ہے۔
ایک شخص نے دوسرے کو دس ہزار روپیہ قرض دیا، جس سے اس وقت ایک تولہ سونا خریدا جا سکتا تھا۔ دوسرے شخص نے بیس سال بعد پیسہ واپس کرنا چاہا۔ اس وقت سونا چالیس ہزار روپے کا تولہ ہے۔
اب چالیس ہزار روپیہ واپس لیتا ہے تو اس میں تیس ہزار سود ہو گا یا نہیں۔ اور اگر فقط دس ہزار واپس کیا جائے تو پہلے شخص کا کیا قصور؟
 

شاہد شاہ

محفلین
ایک اور مسئلہ بھی ہے۔
ایک شخص نے دوسرے کو دس ہزار روپیہ قرض دیا، جس سے اس وقت ایک تولہ سونا خریدا جا سکتا تھا۔ دوسرے شخص نے بیس سال بعد پیسہ واپس کرنا چاہا۔ اس وقت سونا چالیس ہزار روپے کا تولہ ہے۔
اب چالیس ہزار روپیہ واپس لیتا ہے تو اس میں تیس ہزار سود ہو گا یا نہیں۔ اور اگر فقط دس ہزار واپس کیا جائے تو پہلے شخص کا کیا قصور؟
متفق۔ اسی لئے میں مسیحی پروٹیسٹنٹ ریفارم کا حامی ہوں کیونکہ انہوں نے صرف ناجائز سود پر پابندی لگائی تاکہ مالی معاملات کو جدید دور کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو آج اسلامی سود والا درد سر لئے بیٹھے ہوتے
 

عثمان

محفلین
ایک اور مسئلہ بھی ہے۔
ایک شخص نے دوسرے کو دس ہزار روپیہ قرض دیا، جس سے اس وقت ایک تولہ سونا خریدا جا سکتا تھا۔ دوسرے شخص نے بیس سال بعد پیسہ واپس کرنا چاہا۔ اس وقت سونا چالیس ہزار روپے کا تولہ ہے۔
اب چالیس ہزار روپیہ واپس لیتا ہے تو اس میں تیس ہزار سود ہو گا یا نہیں۔ اور اگر فقط دس ہزار واپس کیا جائے تو پہلے شخص کا کیا قصور؟
یہ تو میرے خیال میں سکہ رائج الوقت کی قیمت ہوئی۔
ایک شخص نے دوسرے کو دو تولے سونا قرض پر دیا۔ بیس برس بعد سونے کی قدر دوگنی ہوچکی ہے۔ تو کیا اب وہ شخص ایک تولہ سونا واپس کرے گا یا دو تولے ؟ :)
 
آخری تدوین:

زیک

تکنیکی معاون
ایک اور مسئلہ بھی ہے۔
ایک شخص نے دوسرے کو دس ہزار روپیہ قرض دیا، جس سے اس وقت ایک تولہ سونا خریدا جا سکتا تھا۔ دوسرے شخص نے بیس سال بعد پیسہ واپس کرنا چاہا۔ اس وقت سونا چالیس ہزار روپے کا تولہ ہے۔
اب چالیس ہزار روپیہ واپس لیتا ہے تو اس میں تیس ہزار سود ہو گا یا نہیں۔ اور اگر فقط دس ہزار واپس کیا جائے تو پہلے شخص کا کیا قصور؟
اسی سوال کو سونے کی بجائے چاندی، گندم، گائے یا سی شیل کی قیمت کے حساب سے بھی سوچیں
 
Top