کراچی میں گرفتار ہونے والا امریکی شہری ایف بی آئی ایجنٹ ہے: امریکہ

کراچی میں گرفتار ہونے والا امریکی شہری ایف بی آئی ایجنٹ ہے: امریکہ
امریکہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پیر کو کراچی کےانٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسلحہ سمیت گرفتار ہونے والا امریکی شہری ایف بی آئی کا ایجنٹ ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق پریس بریفنگ کے دوران کی۔
اس سے قبل امریکی ذرائع ابلاغ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ سےگرفتار ہونے والے امریکی شہری ایف بی آئی کے ایجنٹ ہیں جو عارضی طور پر پاکستان میں تعینات تھے۔
پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے پیر کے روز ایف بی آئی کے ایجنٹ کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا تھا جسے بعد میں جوڈیشیل مجسٹریٹ ملیر کےسامنے پیش کیا تھا۔ عدالت نے پولیس کی درخواست پر جوئل کوکس نامی امریکی شہری کو چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔
ایف بی آئی ایجنٹ جوئل کوکس کو پیر کے روز کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نائن ایم ایم پستول کی پندرہ سے زائد گولیاں سمیت گرفتار کیا تھا۔
جوئل کراچی سے اسلام آْباد جا رہے تھے کہ سکیننگ کے دوران ان کے بیگ میں گولیاں پائی گئیں۔
پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کے خلاف سندھ آرمز ایکٹ کےتحت مقدمہ درج کیاگیا ہے اور انہیں تفتیش کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
عدالت نے پولیس کی درخواست قبول کرلی اور چار روز کے لیے ملزم کو پولیس حوالے کر دیا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
امریکیوں کے "گورے ایجنٹ" بے چارے فوراً ہی پکڑے جاتے ہیں۔ ایک اُن کے کالے ایجنٹ ہیں جو سالہا سال عیاشیاں کرتے رہتے ہیں اور کوئی اُنہیں پکڑتا بھی نہیں ہے۔
 

عماد بزدار

محفلین
کراچی: سیشن عدالت ملیر نے گر فتار ایف بی آئی کے ایجنٹ جوئیل کاکس کی ضمانت 10 لاکھ روپے میں منظور کر لی گئی ہے جس کے بعد اسے کسی بھی وقت رہا کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سیشن عدالت ملیر نے 3 روز قبل کراچی ایئر پورٹ سے حراست میں لئے گئے ایف بی آئی کے ایجنٹ جوئیل کاکس کی درخواست پر اس کی ضمانت 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے عوض منظور کر لی ہے، جس کے بعد اسے کسی بھی وقت رہا کردیا جائے گا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ جوئیل کاکس کی رہائی حکومت اور امریکی سفارت خانے کے دباؤ پر عمل میں آئی ہے، امریکی سفارت خانے کے کہنے پر ہی ایف بی آئی ایجنٹ کو تھانہ ایئرپورٹ کے بجائے آرٹلری میدان پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا، جوئیل کاکس کی رہائی کے لئے چیف سیکرٹری اور ہوم سیکر ٹری خود تھانے گئے اور پولیس حکام کو کیس ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی جس پر پولیس نے سیشن کورٹ ملیر میں ریکارڈ پیش کیا کہ جوئیل کاکس کسی بھی مقدمے میں پولیس کو مطلوب نہیں ہے۔

واضح رہے کہ جوئیل کاکس کو 3روز قبل جناح انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے اسلام آباد جاتے ہوئے اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب اس کے سامان سے پستول کی 15 گولیاں اور جاسوسی کے خفیہ آلات برآمد ہوئے تھے۔
 

ساقی۔

محفلین
ایف بی آئی کے ایجنٹ جوئیل کاکس کے سامان میں پستول کی 15 گولیاں اور جاسوسی کے خفیہ آلات رکھنے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی۔ جوئیل کاکس ایک "معصوم ایف بی آئی ایجنٹ" ہے ۔ اسے سازش میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ لہذا اسے باعزت بری کیا جائے اور طالبان کو جو کہ "اصل مجرم "ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔:)
 

x boy

محفلین
ابھی فواد آتے ہوں گے اس ایف بی آئی کے ایجنٹ کو معصوم ثابت کرنے کے لیے۔
سیلری کس بات کی وہ لیتا ہے ضرور یوایس کا اسٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹ مین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹ
لکھنے آئے گا۔
 

ساجد

محفلین
یعنی امریکی خود کو ہر قاعدے قانون سے آزاد سمجھتے ہیں اور پاکستانی ان کے ڈالروں کے کانے ہیں ۔ بس یہ مختصر سی کہانی ہے ۔
جتنی چاہو لمبی چوڑی بحث کر لو نتیجہ یہی ہے ۔
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امریکی عہديدار جن کا تعلق وفاقی تحقیقاتی بیورو [ايف - بی - آئ] سے ہے، وہ پاکستان ميں امريکی مشن کے قانونی اتاشی کی معمول کی کاروائيوں ميں معاونت کے ليے گئے تھے جس ميں ہمعصر پاکستانی حکومتی اہلکاروں سے معمول کی بات چيت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری طور پر پاکستان کی مقامی پولیس کو تربیت بھی فراہم کررہے تھے۔

ہم اس مسئلے کے حل کیلئے پاکستانی حکام کیساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ يہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


www.state.gov

http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

قیصرانی

لائبریرین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امریکی عہديدار جن کا تعلق وفاقی تحقیقاتی بیورو [ايف - بی - آئ] سے ہے، وہ پاکستان ميں امريکی مشن کے قانونی اتاشی کی معمول کی کاروائيوں ميں معاونت کے ليے گئے تھے جس ميں ہمعصر پاکستانی حکومتی اہلکاروں سے معمول کی بات چيت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری طور پر پاکستان کی مقامی پولیس کو تربیت بھی فراہم کررہے تھے۔

ہم اس مسئلے کے حل کیلئے پاکستانی حکام کیساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ يہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


www.state.gov

http://www.facebook.com/USDOTUrdu
آج ہی کسی جگہ پڑھ رہا تھا کہ پاکستان میں جاری امریکی امدادی منصوبوں میں کرپشن کے خلاف نگرانی کی مہم میں موصوف بھی شامل تھے :)
 
Top