کراچی میں گرفتار ہونے والا امریکی شہری ایف بی آئی ایجنٹ ہے: امریکہ

سویدا

محفلین

محمداحمد

لائبریرین
آج ہی کسی جگہ پڑھ رہا تھا کہ پاکستان میں جاری امریکی امدادی منصوبوں میں کرپشن کے خلاف نگرانی کی مہم میں موصوف بھی شامل تھے :)

یہ تو پھر ظلم ہوا نا۔۔۔! :evil:

امریکہ اپنی حد میں رہے۔ "پاکستان" کے خلاف ایسی مذموم کاروائیاں کرنے والوں کو اپنا انجام سوچ لینا چاہیے۔ :):D:p
 

محمداحمد

لائبریرین
آج ہی کسی جگہ پڑھ رہا تھا کہ پاکستان میں جاری امریکی امدادی منصوبوں میں کرپشن کے خلاف نگرانی کی مہم میں موصوف بھی شامل تھے :)
شاید اسی لئے اتنا وبال ہوا!!!

ایک شعر ہمارے کرپٹ "محبِ وطن" حکمرانوں کی طرف سے:

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
جب بولنے لگے تو ہمیں پر برس پڑے

:ROFLMAO:
 
پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے پیر کے روز ایف بی آئی کے ایجنٹ کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا تھا:rollingonthefloor:
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
ایڈے ایفیشنٹ ادارے ؟ ؟؟؟
اندرون خانہ کچھ اور ہی سین ہو گا۔
اور امریکہ کی تصدیق ؟؟ مطلب لال بتی کے پیچھے لگانا ۔ :sick:
 

ساجد

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امریکی عہديدار جن کا تعلق وفاقی تحقیقاتی بیورو [ايف - بی - آئ] سے ہے، وہ پاکستان ميں امريکی مشن کے قانونی اتاشی کی معمول کی کاروائيوں ميں معاونت کے ليے گئے تھے جس ميں ہمعصر پاکستانی حکومتی اہلکاروں سے معمول کی بات چيت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری طور پر پاکستان کی مقامی پولیس کو تربیت بھی فراہم کررہے تھے۔

ہم اس مسئلے کے حل کیلئے پاکستانی حکام کیساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ يہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


www.state.gov

http://www.facebook.com/USDOTUrdu
اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بندے کو اجازت مل گئی کہ فلائٹ میں اسلحہ لے کر سفر کرے ۔ جناب ، یہ ہوائی سفر کے بین الاقوامی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں بھی امریکہ بار بار جھوٹ بول کر کافی خجل ہوا تھا اور آپ اسی خجالت کا اعادہ پھر سے کر رہے ہیں ۔
 

قیصرانی

لائبریرین
اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بندے کو اجازت مل گئی کہ فلائٹ میں اسلحہ لے کر سفر کرے ۔ جناب ، یہ ہوائی سفر کے بین الاقوامی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں بھی امریکہ بار بار جھوٹ بول کر کافی خجل ہوا تھا اور آپ اسی خجالت کا اعادہ پھر سے کر رہے ہیں ۔
ایک بات واضح رہے کہ میری معلومات کے مطابق اس بندے کے پاس گولیاں تھیں لیکن پستول نہیں تھا۔ شاید منہ سے ہی ٹھاہ ٹھوہ کر لیتا؟ :)
بین الاقوامی طور پر یہ بات کوئی اچھبنے کی نہیں کہ ان ممالک میں جہاں اسلحہ عام ہو، ہوائی مسافروں کے سامان سے خالی یا بھری ہوئی گولیاں برآمد ہوں
ایک واقعہ بتاتا ہوں کہ 2001 میں اسلام آباد گیا تھا تو وہاں ایک دوست ساتھ تھے۔ صبح بس پہنچی تو ابھی اندھیرا ہی تھا کہ ہم اترے۔ راستے میں پولیس والے نے روکا کہ تلاشی دو۔ میرا دوست ایک دم سے اکھڑ گیا کہ کیوں تلاشی دیں؟ کیا ہم کوئی مجرم ہیں؟ پولیس والے نے مزید پولیس منگوا لی۔ اسی وقت میں نے مداخلت کر کے دوست کو چپ کرایا اور پولیس والے سے کہا کہ آپ تلاشی لے لیں۔ پولیس والا بھی کچھ ٹھنڈا ہوا اور کہتا ہے کہ ٹھیک ہے جاؤ، تلاشی کی ضرورت نہیں ہے۔ یونیورسٹی کے کام وغیرہ نمٹا کر شام کو جب ہوٹل پہنچے تو بیگ سے سامان نکالتے ہوئے میری نظر پڑی کہ بیگ کی تہہ میں 12 بور کی بندوق کے لئے ایس جی، ایل جی اور 4 نمبر کے کئی کارتوس اور ان کے خالی کھوکھے بھی موجود تھے۔ پھر مجھے یاد آیا کہ چھوٹا بھائی کچھ دن قبل ہی شکار پر جاتے ہوئے یہی بیگ ساتھ لے گیا تھا۔ اگر پولیس والے تلاشی لے لیتے تو اور کچھ نہ سہی، چند گھنٹوں کے لئے اچھا خاصا پریشان ہونا پڑتا
 

ساجد

محفلین
ایک بات واضح رہے کہ میری معلومات کے مطابق اس بندے کے پاس گولیاں تھیں لیکن پستول نہیں تھا۔ شاید منہ سے ہی ٹھاہ ٹھوہ کر لیتا؟ :)
بین الاقوامی طور پر یہ بات کوئی اچھبنے کی نہیں کہ ان ممالک میں جہاں اسلحہ عام ہو، ہوائی مسافروں کے سامان سے خالی یا بھری ہوئی گولیاں برآمد ہوں
ایک واقعہ بتاتا ہوں کہ 2001 میں اسلام آباد گیا تھا تو وہاں ایک دوست ساتھ تھے۔ صبح بس پہنچی تو ابھی اندھیرا ہی تھا کہ ہم اترے۔ راستے میں پولیس والے نے روکا کہ تلاشی دو۔ میرا دوست ایک دم سے اکھڑ گیا کہ کیوں تلاشی دیں؟ کیا ہم کوئی مجرم ہیں؟ پولیس والے نے مزید پولیس منگوا لی۔ اسی وقت میں نے مداخلت کر کے دوست کو چپ کرایا اور پولیس والے سے کہا کہ آپ تلاشی لے لیں۔ پولیس والا بھی کچھ ٹھنڈا ہوا اور کہتا ہے کہ ٹھیک ہے جاؤ، تلاشی کی ضرورت نہیں ہے۔ یونیورسٹی کے کام وغیرہ نمٹا کر شام کو جب ہوٹل پہنچے تو بیگ سے سامان نکالتے ہوئے میری نظر پڑی کہ بیگ کی تہہ میں 12 بور کی بندوق کے لئے ایس جی، ایل جی اور 4 نمبر کے کئی کارتوس اور ان کے خالی کھوکھے بھی موجود تھے۔ پھر مجھے یاد آیا کہ چھوٹا بھائی کچھ دن قبل ہی شکار پر جاتے ہوئے یہی بیگ ساتھ لے گیا تھا۔ اگر پولیس والے تلاشی لے لیتے تو اور کچھ نہ سہی، چند گھنٹوں کے لئے اچھا خاصا پریشان ہونا پڑتا
قیصرانی بھائی ، اب کیا کریں کہ منہ سے ٹھوں ٹھاں والی بات فضائی سفر کے قوانین مرتب کرنے والوں کے خانے میں فٹ نہیں آ سکی تھی اور ان کے بنائے قواعد کے مطابق دوران سفر بارود لے جانا بھی منع ہے ۔ ویسے بھی یہ بارود لے جانے کا کام کوئی عسکریت پسند گروہ کرتا تو بات سمجھ میں آتی لیکن ایک بڑے ملک کا سرکاری بندہ یہ کام کرے تو پھر ؟؟؟ :)
 

Fawad -

محفلین
مقامی پولیس کی تربیت :laughing:


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

کچھ رائے دہندگان جو اس حقيقت کے حوالے سے شکوک کا اظہار کر رہے ہيں کہ ايف بی آئ کا عہديدار پاکستان ميں تربيت فراہم کرنے کی غرض سے آيا تھا، انھيں چاہيے کہ پاکستان کے تمام صوبوں کی مقامی پوليس سميت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ليے برسوں سے جاری امريکی حکومت کی امداد کی وسعت اور اس کے دور رس اثرات کا بغور جائزہ لیں۔

فروری 6 2014 کی اس پريس ريليز کو پڑھيں جس ميں صوبہ سندھ ميں مقای پوليس کو دی جانے والی تربيت اور اس پروگرام کی تفصيل کے ساتھ درجنوں گاڑيوں کا بھی ذکر موجود ہے جو امريکی حکومت کے توسط سے دی گئيں تھيں۔

http://karachi.usconsulate.gov/pr-02062014.html

ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ بھی واضح رہے کہ پاکستان وہ واحد ملک نہيں ہے جہاں امريکی حکومت مقامی پوليس اور ديگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تربيت فراہم کر رہی ہے۔ گزشتہ 30 برسوں سے بيوريو آف ڈيپلوميٹک سيکورٹز اينٹی ٹيررازم اسسٹنس (اے – ٹی – اے) نامی پروگرام ہمارے شراکت دار ممالک ميں قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کو انسداد دہشت گردی سے متعلق تربيت فراہم کرنے ميں پيش پيش ہے۔

اے – ٹی – اے کے اثرات دوررس ہيں۔ صرف سال 2011 ميں ہی اے – ٹی – اے پروگرام کے توسط سے 537 کورسز،مشاورت، اور ديگر متعلقہ سازوسامان 64 ممالک کے قريب 11000 شرکاء تک پہنچايا گيا۔

اس کے علاوہ ديگر ايسے محکمے اور بيوريو بھی ہيں جو دنيا بھر ميں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی افاديت اور انکی اہليت ميں بہتری کے ليے تربيت، سازوسامان، متعلقہ مہارت اور ديگر لوازمات فراہم کرتے ہيں۔ بيوريو آف نيشنل نارکاٹکس اور لاء انفورسمنٹ افيرز (آئ – اين – ايل) اس کی ايک اور مثال ہے۔

پاکستان ميں ان کی کاوشوں کا ايک سرسری جائزہ آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔

http://www.state.gov/j/inl/regions/afghanistanandpakistan/219258.htm

آئ – اين – ايل کا پاکستان ميں قانون کے نفاذ کے ضمن ميں جو تعاون اور امداد شامل ہے اس ميں پاکستان کے مختلف صوبوں کی پوليس فورس کی مخصوص ضروريات کو بھی ملحوظ رکھا گيا ہے۔

سال 2002 سے ملک بھر ميں آئ – اين – ايل کا ايک پروگرام جاری ہے جس کے توسط سے پاکستان ميں قانون نافذ کرنے والے عناصر کی اہليت ميں اضافے اور اس ضمن ميں اصلاحات کی ترويج کے ليے تربيت فراہم کی جا رہی ہے۔

سال 2002 سے اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 15،000 سے زائد افسران نے آئ – اين – ايل کے تعاون سے تربيت حاصل کی ہے۔ اسی طرح سال 2009 سے اب تک ليوی کے 843، کے پی کے 470 ايليٹ پوليس اہلکار، اسلام آباد پوليس کے 19 اور پنجاب پوليس کے 11 ارکان کو آئ – اين – ايل کی معاونت سے تربيت فراہم کی گئ ہے۔

اور آخر ميں ايک پاکستانی پوليس آفيسر کی مثال پيش ہے جس نے امريکی اعانت سے تربيت حاصل کی اور جس نےعام پاکستانی شہريوں کی زندگياں بچانے ميں اپنا موثر کردار ادا کيا۔

image.jpg


image.jpg




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


www.state.gov

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

raise_your_voice.jpg
 

قیصرانی

لائبریرین
قیصرانی بھائی ، اب کیا کریں کہ منہ سے ٹھوں ٹھاں والی بات فضائی سفر کے قوانین مرتب کرنے والوں کے خانے میں فٹ نہیں آ سکی تھی اور ان کے بنائے قواعد کے مطابق دوران سفر بارود لے جانا بھی منع ہے ۔ ویسے بھی یہ بارود لے جانے کا کام کوئی عسکریت پسند گروہ کرتا تو بات سمجھ میں آتی لیکن ایک بڑے ملک کا سرکاری بندہ یہ کام کرے تو پھر ؟؟؟ :)
جی میں یہ بتا رہا تھا کہ اس طرح کی غلطی بہت عام بات ہے :)
 
Top