کراچی میں پہلی بارcngبسوں کا آغاز

1054.gif


12_07.gif


02_24.gif


ماخذ: جنگ کراچی
 
شہریوں کیلئے ماحول دوست 50 سی این جی بسیں پیر 27 جولائی سے چلیں گی مسافروں کیلئے پہلی مرتبہ ای ٹکٹنگ نظام متعارف کرایا گیا جس کیلئے مختلف مقامات پر بوتھ بنائے گئے ہیں کرا یہ 10 تا 15 روپے ہوگا۔ باخبر ذرائع کے مطابق سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونی کیشن کے پروجیکٹ کے تحت چلنے والی ان 50 بسوں میں 25 ہینوپاک اور 25 ڈائیوو کمپنی کی تیارکردہ ہیں ۔ سی این جی بسوں کے فی الحال 2 روٹس کا انتخاب کیا گیاہے جو سرجانی تا ٹاور اور سرجانی تا کورنگی چلیں گی ان بسوں میں کنڈیکٹر نہیں ہونگے ان بسوں کا ٹرمینل سرجانی ٹاؤن میں قائم کیا گیا ہے ان بسوں کے آمد کے بعد شہریوں کو معیاری سفری سہولت میسر آئے گی۔ ان کا کرایہ 10تا 15 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
 

ابوشامل

محفلین
محترم! ایک وضاحت کر دوں۔ کراچی میں سی این جی بسیں پہلی بار نہیں چلی ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ شہری حکومت نے سویڈن سے منگوائی گئی شاندار سی این جی بسیں چلائی تھیں جو موجودہ شہری حکومت نے آتے ہی نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند کر دی تھیں۔ اب جو بسیں چلائی گئی ہیں وہ مقامی طور پر تیار کردہ ہیں اور کسی طور ان کا مقابلہ گزشتہ دور حکومت کی سی این جی بسوں سے نہیں کیا جا سکتا۔
بہرحال اچھے اقدام کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ہماری دعا ہے کہ ہر روٹ پر اس طرح کی بسیں جلد از جلد چلائی جائیں تاکہ کراچی ٹرانسپورٹ پر قابض مافیا کے قبضے سے نکل سکے۔
 
محترم! ایک وضاحت کر دوں۔ کراچی میں سی این جی بسیں پہلی بار نہیں چلی ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ شہری حکومت نے سویڈن سے منگوائی گئی شاندار سی این جی بسیں چلائی تھیں جو موجودہ شہری حکومت نے آتے ہی نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند کر دی تھیں۔ اب جو بسیں چلائی گئی ہیں وہ مقامی طور پر تیار کردہ ہیں اور کسی طور ان کا مقابلہ گزشتہ دور حکومت کی سی این جی بسوں سے نہیں کیا جا سکتا۔
بہرحال اچھے اقدام کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ہماری دعا ہے کہ ہر روٹ پر اس طرح کی بسیں جلد از جلد چلائی جائیں تاکہ کراچی ٹرانسپورٹ پر قابض مافیا کے قبضے سے نکل سکے۔

محترم! ایک وضاحت میں بھی کر دوں کہ سی این جی بسیں پہلے بھی آئی تھی لیکن وہ ڈیزل بسیں تھیں ان کے اسپئر پارٹس بھی مارکیٹ میں دستیاب نہ تھے جس کی وجہ سے وہ چل نہ سکیں موجوہ بسیں مکمل سی این جی بسیں ہیں۔اسی لئے ہم کہہ سکتے ہیں کراچی میں پہلی بارسی این جی بسوںکا آغاز ہوگیا ہے۔

امید ہے اس جواب سے آپ کی تسلی وتشفی ہو گئی ہوگی۔
 

شمشاد

لائبریرین
محترم! ایک وضاحت میں بھی کر دوں کہ سی این جی بسیں پہلے بھی آئی تھی لیکن وہ ڈیزل بسیں تھیں ان کے اسپئر پارٹس بھی مارکیٹ میں دستیاب نہ تھے جس کی وجہ سے وہ چل نہ سکیں موجوہ بسیں مکمل سی این جی بسیں ہیں۔اسی لئے ہم کہہ سکتے ہیں کراچی میں پہلی بارسی این جی بسوںکا آغاز ہوگیا ہے۔

امید ہے اس جواب سے آپ کی تسلی وتشفی ہو گئی ہوگی۔

یہ کیا؟ سی این جی بسیں تھیں اور ڈیزل بھی تھیں؟ یہ کون سی ٹیکنولوجی ہے بھئی؟
 

طالوت

محفلین
یہ ان کی ہی ٹیکنالوجی ہے ۔ جو سی این جی کو ڈیزل پر چلا رہے ہیں ۔ پتہ نہیں کیسے ہضم کر لی جاتی ہیں ایسی باتیں ۔
وسلام
 

mfdarvesh

محفلین
محترم! ایک وضاحت میں بھی کر دوں کہ سی این جی بسیں پہلے بھی آئی تھی لیکن وہ ڈیزل بسیں تھیں ان کے اسپئر پارٹس بھی مارکیٹ میں دستیاب نہ تھے جس کی وجہ سے وہ چل نہ سکیں موجوہ بسیں مکمل سی این جی بسیں ہیں۔اسی لئے ہم کہہ سکتے ہیں کراچی میں پہلی بارسی این جی بسوںکا آغاز ہوگیا ہے۔

امید ہے اس جواب سے آپ کی تسلی وتشفی ہو گئی ہوگی۔

عموما دونوں ایندھن استعال ہوتے ہیں cng گاڑیوں میں۔ کیا یہ صرف ایک ایندھن استعمال کرنے والی گاڑی ہے ؟
 

ابوشامل

محفلین
محترم! ایک وضاحت میں بھی کر دوں کہ سی این جی بسیں پہلے بھی آئی تھی لیکن وہ ڈیزل بسیں تھیں ان کے اسپئر پارٹس بھی مارکیٹ میں دستیاب نہ تھے جس کی وجہ سے وہ چل نہ سکیں موجوہ بسیں مکمل سی این جی بسیں ہیں۔اسی لئے ہم کہہ سکتے ہیں کراچی میں پہلی بارسی این جی بسوںکا آغاز ہوگیا ہے۔

امید ہے اس جواب سے آپ کی تسلی وتشفی ہو گئی ہوگی۔
کمال ہے ۔یہ بات پہلی بار آپ سے سنی ہے۔ خیر لیکن برادر آپ خود بتائیے کہ سویڈن کی ان بسوں اور ہینو کی موجودہ بسوں کا کوئی مقابلہ ہے؟؟؟
 

شکاری

محفلین
میں نے کراچی کی موجودہ گرین بسوں میں سفر کیا ہے لوگوں کو اس سے بہت اُمیدیں وابستہ ہیں یہ گورمنٹ کا اچھا قدم ہے اگر کامیاب ہوگیا تو۔

میرا ارادہ بھی ہے اس پر باقاعدہ پوسٹ لکھنے کا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کرسکا۔
 

شمشاد

لائبریرین
جہاں تک مجھے علم ہے ڈیزل اور سی این جی انجن ایک نہیں ہوتے۔ ہاں پیٹرول اور سی این جی ایک ہی انجن ہوتا ہے۔
 

شاہ حسین

محفلین
سٹی گورمنٹ (ایم۔کیو۔ایم) کا نہایت عمدہ قدم ہے جس کی جتنی تعریف کری وہ کم ہے جو کہ انُ حالات میں ہے جب پیپلز پارٹی سٹی گورمنٹ کی ٹانگ کھیچنے میں‌لگی ہوئی ہے ان مشکل حالات میں مصطفیٰ کمال اور ایم کیو ایم کی قیادت کا یہ قدم نہایت قابل تعریف ہے ۔
 

شاہ حسین

محفلین
جہاں تک مجھے علم ہے ڈیزل اور سی این جی انجن ایک نہیں ہوتے۔ ہاں پیٹرول اور سی این جی ایک ہی انجن ہوتا ہے۔

میں پورا اتفاق کرتا ہوں آپ کی بات سے ۔ بلکل صحیح فرمایا کہ پیٹرول انجن اور سی ۔ این ۔ جی انجن ایک ہی ہوتے ہیں جبکہ ڈیزل انجن میں سی این جی کا استعمال ناممکن ہوتا ہے ۔ :battingeyelashes:
 

ابوشامل

محفلین
یہ حرکتیں پہلی مرتبہ میٹرو اور بعد ازاں سی این جی بسوں کے چلنے کے بعد بھی کی گئی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ کس طرح سگنل پر گاڑیاں کھڑی ہونے کے دوران منی بسوں کے کنڈیکٹر میٹرو کے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو گالیاں دے کر چھیڑتے تھے۔ بلکہ ٹرانسپورٹر مافیا کی جانب سے ان حرکتوں کے علاوہ وہ ٹریفک پولیس اہلکار جن کی بسیں روٹ پر چلتی ہیں، یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ ٹریفک پولیس کے کئی اہلکاروں کی گاڑیاں مختلف روٹس پر چلتی ہیں، وہ نئی گاڑیوں کو بلا وجہ روکتے ہیں، ان کے چالان کاٹتے ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ عام لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں جنہیں بلا وجہ کی تکلیف ہوتی رہتی ہے۔ جب یو ٹی ایس بسوں کا آغاز ہوا تھا تو میں نے خود دیکھا تھا کہ لوگ کرسیوں کو لات مار کے اتر جایا کرتے تھے، یا پھر کھڑکی کی شیشوں کے گزر گاہ میں کاغذ گھسا دیا کرتے۔ اس طرح کچھ ہی عرصے میں یو ٹی ایس بسوں کا کباڑا نکل گیا۔
اس قوم کو میں کیا کہوں۔۔۔۔۔ جاہلوں کا ریوڑ ہے ریوڑ۔ چند ہی انسانوں کے بچے ملیں گے آپ کو یہاں ورنہ اوپر سے لے کر نیچے تک سب جہالتوں کے ٹوکرے سروں پر لیے دندناتے پھرتے ہیں۔
 

طالوت

محفلین
یہ حرکتیں پہلی مرتبہ میٹرو اور بعد ازاں سی این جی بسوں کے چلنے کے بعد بھی کی گئی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ کس طرح سگنل پر گاڑیاں کھڑی ہونے کے دوران منی بسوں کے کنڈیکٹر میٹرو کے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو گالیاں دے کر چھیڑتے تھے۔ بلکہ ٹرانسپورٹر مافیا کی جانب سے ان حرکتوں کے علاوہ وہ ٹریفک پولیس اہلکار جن کی بسیں روٹ پر چلتی ہیں، یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ ٹریفک پولیس کے کئی اہلکاروں کی گاڑیاں مختلف روٹس پر چلتی ہیں، وہ نئی گاڑیوں کو بلا وجہ روکتے ہیں، ان کے چالان کاٹتے ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ عام لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں جنہیں بلا وجہ کی تکلیف ہوتی رہتی ہے۔ جب یو ٹی ایس بسوں کا آغاز ہوا تھا تو میں نے خود دیکھا تھا کہ لوگ کرسیوں کو لات مار کے اتر جایا کرتے تھے، یا پھر کھڑکی کی شیشوں کے گزر گاہ میں کاغذ گھسا دیا کرتے۔ اس طرح کچھ ہی عرصے میں یو ٹی ایس بسوں کا کباڑا نکل گیا۔
اس قوم کو میں کیا کہوں۔۔۔۔۔ جاہلوں کا ریوڑ ہے ریوڑ۔ چند ہی انسانوں کے بچے ملیں گے آپ کو یہاں ورنہ اوپر سے لے کر نیچے تک سب جہالتوں کے ٹوکرے سروں پر لیے دندناتے پھرتے ہیں۔
جملہ انتہائی سخت ہےاور اکثریت ان جیسوں کی نہیں ۔ اکثریت کا مسئلہ تماش بینی ہے کہ نہ ہم کسی کو ہاتھ سے رروکنے کی جرات رکھےتے ہیں زبان میں قوت رکھتے ہیں ۔ اور ایمان کے آخری درجے والے کام ہی ہمارے من پسند ہیں ۔ ۔ ۔ ا
وسلام
 
گلشن چورنگی کے ای ٹکٹ مرکز پر 15 روپے کرایہ کا بورڈ آویزاں دیکھا ہے اب پتا نہیں کہاں تک کے 15 روپے ہوں گے گلشن سے
 

ابوشامل

محفلین
جملہ انتہائی سخت ہےاور اکثریت ان جیسوں کی نہیں ۔ اکثریت کا مسئلہ تماش بینی ہے کہ نہ ہم کسی کو ہاتھ سے رروکنے کی جرات رکھےتے ہیں زبان میں قوت رکھتے ہیں ۔ اور ایمان کے آخری درجے والے کام ہی ہمارے من پسند ہیں ۔ ۔ ۔ ا
وسلام
جی مجھے بالکل پتہ ہے کہ یہ جملہ بہت سخت ہے۔ اس سے آپ میری کوفت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ بات صرف پبلک ٹرانسپورٹ تک ہی محدود نہیں۔ آپ نکلیے باہر، دیکھیے کہ یہ قوم کیا کرتوت کر رہی ہے؟ میں خود کئی مرتبہ wrong side سے پوری رفتار سے آنے والی موٹر سائیکل یا گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچا ہوں۔ اور حیرت ناک بات یہ کہ الٹا موصوف مجھے جھاڑنے لگے۔ یہ وہ چھوٹی سی باتیں ہیں جو کسی بھی قوم کے مجموعی مزاج کو ظاہر کرتی ہیں۔
 
Top