1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جگر کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا ۔ جگر مرادآبادی

شاہ حسین نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 18, 2009

  1. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,902
    کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
    جس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیا

    جب اُس رخِ پرنور کا جلوہ نظر آیا
    کعبہ نظر آیا نہ کلیسا نظر آیا

    یہ حسن ، یہ شوخی ، یہ کرشمہ ، یہ ادائیں
    دنیا نظر آئی مجھے ، تو کیا نظر آیا

    اِک سر خوشیِ عشق ہے ، اک بے خودیِ شوق
    آنکھوں کو ، خدا جانے ، مری کیا نظر آیا

    قربان تری شانِ عنایت کے دل و جاں
    جب آنکھ کھلی ، قطرہ بھی دریا نظر آیا

    جب دیکھ نہ سکتے تھے تو دریا بھی تھا قطرہ
    اس کم نگہی پر مجھے کیا کیا نظر آیا

    ہر رنگ ترے رنگ میں ڈوبا ہوا نکلا
    ہر نقش ترا نقشِ کفِ پا نظر آیا

    آنکھوں نے دکھادی جو ترے غم کی حقیقت
    عالم مجھے سارا تہ و بالا نظر آیا

    ہر جلوے کو دیکھا ترے جلووں سے منوّر
    ہر بزم میں تو انجمن آرا نظر آیا
    جگر مرادآبادی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    بہت ہی خوب شاہ صاحب۔۔۔شاملِ بزم کرنے کے لیئے بیحد شکریہ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ شاہ صاحب جگر کا کلام شئیر کرنے کے لئے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,170
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جب اُس رخِ پرنور کا جلوہ نظر آیا
    کعبہ نظر آیا نہ کلیسا نظر آیا

    یہ حسن، یہ شوخی، یہ کرشمہ، یہ ادائیں
    دنیا نظر آئی مجھے، تو کیا نظر آیا

    اِک سر خوشیِ عشق ہے، اک بے خودیِ شوق
    آنکھوں کو خدا جانے مری کیا نظر آیا

    واہ واہ واہ، لاجواب

    شکریہ جناب خوبصورت غزل پوسٹ کرنے کیلیے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر