کتب خانے جو مٹ گئے

نایاب نے 'کچھ ہلکا پھلکا' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 11, 2009

ٹیگ:
  1. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    السلام علیکم
    کیا علم بھی مٹ جاتا ہے کتب خانوں کے مٹ جانے سے ۔ ؟

    1۔ 503ھ میں طرابلس (لیبیا)پر عیسائیوں نے قبضہ کیا تو وہاں کے کتب خانوں کو جلا دیا۔

    2۔ 656ھ میں ہلاکو خان نے بغدادتاراج کرنے کے بعد وہاں کے عظیم الشان کتب خانوں کو دریائے دجلہ میں پھینکوا دیا دریائے دجلہ میں غرق کی جانے والی کتب کی تعداد چھ لاکھ سے متجاوز تھی ۔بغداد میں علامہ سید رضی موسوی کا کتب خانہ جہاں نہج البلاغۃ جیسی معرکۃ الآرا کتاب تالیف ہوئی دریا برد ہو گیا ۔

    3۔ تاتاریوں نے بغداد کے کتب خانے تباہ کئے اور تمام کتب دریا میں ڈال دیں جس سے دریا کا پانی سیاہ ہو گیا۔ تاتاریوں کا یہ سیلاب صرف بغداد تک ہی محدود نہ رہا بلکہ ترکستان ،ماوراء النہر ،خراسان،فارس،عراق ،جزیرہ اور شام سے گزرا اور تمام علمی یادگاریں مٹاتا چلا گیا

    4۔ صلیبی جنگوں کے دوران عیسائیوں نے مصر ،شام ،سپین اور دیگر اسلامی ممالک کے کتب خانوں کو بری طرح جلا کر تباہ وبرباد کر دیا ۔ان کتب کی تعداد تیس لاکھ سے زائد تھی ۔

    5۔ سپین میں عیسائی غلبے کے بعد وہاں کے کتب خانے جلا دیئے گئے ۔

    6۔Cardinal Ximenes نے ایک ہی دن میں اسی ہزار کتب نذر آتش کر دیں ۔

    7۔فاطمین مصرکے دور میں قاہرہ کے قصرشاہی کا عدیم النظیرکتب خانہ تمام اسلامی دنیا کے کتب خانوں پر سبقت لے گیا تھا جسے صلاح الدین ایوبی نے جلا کر خاکستر کر دیا۔

    8۔420ھ میں سلطان محمود غزنوی نے رے فتح کیا تو وہاں کے کتب خانوں کوجلوا دیا۔

    9۔صاحب بن عباد وزیر کا عظیم الشان کتب خانہ’’ جو دارالکتب رے ‘‘کے نام سے معروف تھا، سلطان محمود غزنوی نے جلا کر تباہ کر دیا

    10۔ قاضی ابن عمار نے طرابلس میں عالیشان کتب خانے کی تاسیس کی جس میں ایک لاکھ سے زائد کتابیں تھیں ۔یہ کتب خانہ صلیبی جنگوں کے دوران برباد کر دیا گیا ۔

    11۔ اسلامی دنیا کے سب سے پہلے عمومی کتب خانہ میں جسے ابو نصر شاپور وزیر بہاء الدولہ نے381ھ میں بغدادا کے محلہ کرخ میں قائم کیا تھا اس کتب خانے میں دس ہزار سے زائد ایسی کتب تھیں جو خود مصنفین یا مشہور خطاطوں کی لکھی ہوئی تھیں۔یاقوت الحموی جس نے دنیائے اسلام کے بہتر سے بہترین کتب خانے دیکھے تھے، لکھا ہے کہ دنیا میں اس سے بہتر کوئی کتب خانہ نہ تھا ۔ اس کتب خانہ کو مورخین نے ’’دار العلم ‘‘کے نام سے موسوم کیاتھا ۔یہ مایہ ناز کتب خانہ 451ھ میں طغرل بیگ سلجوقی نے جلا دیا۔

    12۔ بغداد میں ابو جعفر محمد بن حسن طوسی کا کتب خانہ 385ھ تا 420ھ کئی مرتبہ جلایا گیا ۔آخری مرتبہ 448میں اسطرح جلایا گیا کہ اس کا نام بھی باقی نہ بچا ۔

    13۔ 549ھ میں ترکوں کے ایک گروہ نے ماوراء النہر سے آکر نیشا پور کے کتب خانے جلا دیئے ۔

    14۔ 586ھ میں ملک الموید نے نیشا پور کے باقی ماندہ کتب خانوں کو جلا کر تباہ کر دیا ۔





    حوالہ جات :
    1۔ تاریخ ادبیات، ص85 ،مطبوعہ برلن پروفیسر براؤن
    2۔ رسائل شبلی ،ص50،51،مطبوعہ امرتسرٍٍ علامہ شبلی نعمانی
    3۔ تاریخ تمدن اسلام ،ج 3 جرجی زیدان
    4۔ تاریخ ابن خلدون مؤرخ ابن خلدون
    5۔تاریخ آداب اللغۃ ،ج 3 جرجی زیدان و مقدمہ ابن خلدون
    6۔کتاب الخطاط المقریزی ،ج 1،ص254،مطبوعہ مصر
    7۔ معجم الادباء،ج6،ص259،مطبوعہ مصر یاقوت الحموی
    8۔ زوال سلطنت روما ،ج 3 ایڈورڈ گبن
    9۔الاعیان ،ج1،مطبوعہ دمشق
    10۔تاریخ کامل ،ج 9،ص100 علامہ ابن اثیر
    11۔کشف الظنون ،ج2 و الاعلام الزرکلی ، ج3،ص884،مطبوعہ مصر
    12۔تاریخ کامل ،ج 11،ص102 علامہ ابن اثیر
    13۔ تاریخ کامل ،ج 11،ص103 علامہ ابن اثیر
    نایاب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 21
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    209,431
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت ہی معلوماتی مراسلہ ہے نایاب بھائی آپ کا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,759
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ نایاب۔ آپ نے بہت مفید اور فکر انگیز معلومات فراہم کی ہیں۔ کتب خانے اور درس گاہیں تباہ ہونے سے کسی بھی قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے اور وہ صدیوں پیچھے چلی جاتی ہے۔ لیکن علم بذات خود ختم نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ میں نے اس بارے میں زیادہ تحقیق نہیں کی ہوئی ہے، لیکن میرا اندازہ ہے کہ جس دور میں مسلمان تہذیبوں کی تاخت و تاراج جاری تھی، اسی دور میں یورپ کی احیائے نو کا آغاز ہو چکا تھا اور اس طرح مسلمانوں کا علمی ورثہ یورپ کو منتقل ہو گیا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 10
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,694
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    دنیا میں جس لائبریری کے ضائع ہو جانے کا سب سے زیادہ 'ماتم' کیا جاتا ہے وہ اسکندریہ کی لائبریری ہے جو تیسری صدی قبل مسیح میں بنائی گئی تھی اور قدیم دنیا کی سب سے مشہور لائبریری تھی جس میں لاکھوں کتب تھیں جو نایاب ہو چکیں بلکہ بعض محققین کے نزدیک وہ علم و فضل ایسا گم ہوا کہ آج تک نہیں مل سکا۔

    یہ بدنصیب لائبریری چار بار تباہ و برباد کی گئی، کہا جاتا ہے کہ آخری بار یہ حضرت عمر کے حکم سے جلائی گئی تھی گو مسلمان محققین اس کی تردید کرتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  5. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    السلام علیکم

    بہت تکلیف دہ حقائق نایاب بھائی ۔ بعض دکھ اوربعض نقصانات اقوام کی سطح سے بڑھ کر مکمل انسانیت کا نقصان بھی بن جاتے ہیں ۔ اور کسی قوم کی کوئی ایک نسل بھی اگر مجرم نکل آئے تو اس کے جرائم کا ازالہ صدیوں میں بھی ممکن نہیں ہوپاتا۔ ۔ ۔ لیکن ہر قوم میں کچھ لوگ امید اور کوشش پر یقین رکھنے والے بھی ضرور ہونے چاہییں تاکہ تنکا تنکا ہی سہی تعمیر کا عمل جاری و مسلسل رہے ۔ آپ کی یہ پوسٹ اردو محفل فورم کی چند بہترین فکر انگیز تحریروں میں سے ایک ہے ۔ کتب خانہ ختم ہونے سے علم ختم نہیں ہوتا لیکن پوشیدہ ہو جاتا ہے یا پھر پہنچ سے باہر ، پھر اسے نئے سرے سے تلاش کرنا پڑتا ، حاصل کرنا پڑتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  6. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    فرد قوم کے مقدر کا ستارہ

    السلام علیکم
    فرد قوم کے مقدر کا ستارا÷؟
    فرد معاشرے اور قوم کی وہ اکائی ہے جو اپنے افعال و اعمال سے کسی معاشرے یا قوم کے ظاہری اور باطنی چہرہے کو اک شناخت دیتا ہے ۔ ظاہری چہرہ عمومی سطح پر فرد سے منسلک قوم و معاشرے کی تصویر بناتا ہے ۔ جبکہ باطنی چہرہ قوم اور معاشرے کے باطن اور اس کی روح کی عکاسی کرتا ہے ۔ ظاہری چہرے سے بننی والی تصویر دیکھنے والے کی نگاہ و جذبات کی محتاج ہوتی ہے کہ اسے کس نظر و جذبے سے دیکھا جا رہا ہے ۔ اور یہ چہرہ بدلتا رہتا ہے ۔ کبھی پاکستان اک رول مڈل کے طور پر امریکی یونیورستیوں کے نصاب میں شامل تھا ۔ اور آج وار آن ٹیرر سے منسلک ۔ چین سنگاپور ملائیشا ہندوستان اور کوریا تیس سال پہلے تک غربت کی مثال تھے ۔ اور آج کی مضبوط معیشتیوں والی طاقتیں ۔اور یہ تبدیلیاں صرف افراد کے کردار اور رویہ سے رونما ہوتی ہیں ۔
    اس میں تو کوئی شک نہیں کہ عروج و زوال زندگی کے سفر میں آنے والی ایسی منزلیں ہیں ۔ جہاں قوموں کے پر خلوص اور دردمند دل والے فرد کچھ پل سستا کر اپنے عروج و زوال کی وجوہات پر غور کرتے ہیں ۔
    ظاہری چہرہ باطن کا محتاج ہوتا ہے اور وہی کچھ ظاہر کرتا ہے جو اس کے باطن سے منعکس ہو رہا ہو ۔ اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جس قوم کے فرد کا باطنی چہرہ روشن ہو اس قوم کا مستقبل ضرور روشن ہوتا ہے ۔ فرد کے روشن باطن کی علامتیں جذبہ تمنائیں درد قوم اور ارادہ ہوتا ہے ۔
    کسی بھی معاشرے کے ظاہری چہرے کے خدوخال مجموعی طور پر کچھ ایسے افراد کے افعال و اعمال کا عکاس ہوتے ہیں جو افراد اس معاشرے میں باثر قیادت کے حامل ہو کر سیاسی اور معاشی منصوبوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔
    جبکہ معاشرے کا باطنی چہرہ ان افراد کے اعمال و افعال سے ترتیب پاتا ہے جوانفرادی طور پر آنے والی نسلوں کی بہتری اور بہبود کی خواہش سے زمانے کی سختی گرمی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دن رات بے لوث جذبے اور خلوص کے جذبہ کے ساتھ تعمیر اور خدمت کی شمع روشن کرتے ہیں ۔ان کو کسی نام و نمود یا تمغے کا لالچ نہیں ہوتا ۔
    اور نامحسوس طریقے سے اک فرد کی انفرادی سوچ اور جذبہ کسی ادارے اور انجمن کی بنیاد بن جاتا ہے ۔ دراصل یہی افراد قوم کے زندہ باطن کی علامت ہوتے ہیں روشن مستقبل کی ضمانت ۔ جس قوم کے افراد کا باطن اتنا روشن ہو اس قوم کا مستقبل اک دن ضرور روشن ہوتا ہے ۔ بس کسی فرد کے انفرادی جذبہ تعمیر کو ایک تحریک کی ضرورت ہوتی ہے ۔ احساس کےصحرا میں جذبوں کے روشن الاؤ پر درد کی پکی فصل کے بھننے کی خوشبو راہ جاتے مسافروں کو بھی نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی جانب آنے پر مجبور کر دیتی ہے ۔ “ پاسباں مل جاتے ہیں کعبے کو صنم خانے سے “
    ( اس تحریر کو لکھ کر سوچ رہا ہوں کہ میں بھی اک فرد ہوں کیا میرا ظاہری چہرہ میرے باطنی چہرے کا عکاس ہے یا میں صرف اک اداکار ہوں )
    نایاب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  7. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    یہی درست ہے ۔
    سیدنا عمر پر یہ چند متعصب غیر مسلم مورخین کا بہتان محض ہے ۔ اسکندریہ کی فتح سے قبل ہی یہ کتب خانہ جلایا جا چکا تھا جس کا اقرار کئی ایک غیر مسلم مورخین بھی کرتے ہیں ۔ اور مزید یہ کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے اور بعد میں بھی سیدنا عمر کی علم سے لگاوٹ کا اکثر ذکر اس واقع سے میل نہیں کھاتا۔
    وسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 2
  8. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,900
    بہت عمدہ معلومات ہیں جناب نایاب صاحب ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    السلام علیکم
    محترم طالوت بھائی
    سچ اور جھوٹ تو صرف وہی جانیں جو بوقت حدوث موقع پر موجود ہوں ۔
    یہ مورخ جباس وقت تاریخ لکھتا ہے جب وقت کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہوتا ہے ۔
    اور اس پر بحث کرنی صرف وقت کا ضیاع ۔
    تاریخ صرف ماضی کو سمجھ کر مستقبل کی تعمیر میں مددگار ۔
    نایاب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. ابو کاشان

    ابو کاشان محفلین

    مراسلے:
    1,839
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    نایاب صاحب، آپ کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    لیکن تاریخ کے کورس میں یہ حقیقت کیوں نہیں بتائی جاتی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    السلام علیکم
    (( اس تحریر کو لکھ کر سوچ رہا ہوں کہ میں بھی اک فرد ہوں کیا میرا ظاہری چہرہ میرے باطنی چہرے کا عکاس ہے یا میں صرف اک اداکار ہوں۔ ؟ )
    (2)
    کسی بزرگ کو کسی بزرگ کے انتقال کی خبر ملی ۔ ان بزرگ نےاپنے ساتھیوں سےمرحوم کے لئے دعائے مغفرت کے لئے کہا اور خود بھی دعا فرمائی ۔ اک ساتھی نے پوچھا حضور جن کے لئے آپ نے دعا کی ہے وہ تو ساری زندگی آپ کے مخالف رہے اور کوئی موقع آپ پر طعن کا نہوں نے ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔ اور آپ ان کے لئے دعا کر اور کروا رہے ہیں ۔ ؟
    بزرگ نے فرمایا انسانیت سب سے پہلے ہے ۔ نظریات اور عقائد بعد میں ۔ انسان " انس " کا مرکب ہے ۔ وہ اپنے نظریات اور عقائد اپنی عقل و دانش کے بھٹی پر تپا کر اور قلب و دماغ کی کسوٹی پر پرکھ کر یقین کے ساتھ عمل پیرا تھے ۔ اور ان کا حساب ان کے قائم کردہ نظریات و عقائد پر ہوگا ۔ اگر ان کا اپنے نظریات و عقائد کے بارے یقین ذرا بھی کمزور ہوتا تو وہ کبھی بھی مجھے برا نہ کہتے ۔
    جیسے شہد کی مکھی چمن پہاڑ صحرا گھوم کر ہر پھول کا رس چوستی ہے ۔ اور جس رس کو وہ شہد کے لئے مناسب سمجھتی ہے ۔ اسے لا کر اپنے چھتے میں جمع کرتی ہے ۔ اور اک جماعت کی صورت اس کی حفاظت کرتی ہے ۔ اور جب کوئی انسان و حیوان اس کے جمع کئے ہوئے شہد کو خراب کرنے یا بے وقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اپنے ڈنک کا استعمال کرتی ہے ۔ اور اپنے گھر کی حفاظت کرتی ہے ۔ اور جب وقت مناسب پر شہد تیار ہو جاتا ہے تو انسان و حیوان کو اس سے مستفید ہونے کا موقع دے دیتی ہے ۔
    شہد کی مکھی جیسا روپ اختیار کرنا ہی حضرت انسان کے لئے بہتر
    ناکہ
    گند کی مکھی کی طرح یہاں وہاں منڈلانا ۔ گند کو تلاش کرنا اور اس پر جھمگٹا لگا نا ۔
    نایاب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    السلام علیکم
    محترم خرم شہزاد بھائی
    " پدرم سلطان بود "
    باعث عزت ضرور ہے ۔
    لیکن اس پر غرور کرنا جہالت ہے ۔
    باپ بیٹے کے ہنر و کمال کی وجہ سے مشہور ہو کر فخر محسوس کرتا ہے ۔
    کہ بیٹا تو ویسے ہی باپ کے نام سے شہرت پا چکا ہوتا ہے ۔
    مورخ تاریخ لکھنے والا بوقت تحریر تاریخ کسی نہ کسی با اثر شخصیت کی چھاؤں تلے بیٹھا تاریخ لکھ رہا ہوتا ہے ۔
    اور اس کی لکھی تاریخ شخصی طور پر میزان کے اک پلڑے میں وزن زیادہ رکھتی ہے ۔
    فقہ کی ترتیب و تدوین کرنے والے آئمہ کرام اس تعریف سے بالاتر ہیں ( ملحوظ رہے )
    تاریخ پڑھاتے ہوئے اساتذہ کرام " پدرم سلطان بود " پر ٍفخر و غرور کرنے کی بجائے خود سلطان جیسی شخصیت بننے کی تلقین کرتے ہیں ۔
    نایاب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    یہ ہمارے دور یعنی قریباً 10،000 قبل مسیح کے بعد کے کُتب خانوں کے مٹ جانے پر ماتم کیوں؟
    کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے علاقے برصغیر کی گمنام تہذیب راما اور بحر اوقیانوس کی گمنام تہذیب اٹلانٹس کے علوم کہاں گئے؟
    موئنجو داڑو اور ہڑپا سے ملنے والے مدفون ڈھانچے سب سے زیادہ جوہری تابکاری کا شکار ہیں۔ یہ ڈھانچے گلیوں بازاروں میں ایسی حالت میں ملتے ہیں کہ انہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔ جیسے اچانک کی آفت نے آگھیرا ہو۔ مہابھارتا اور رامائیں کتب میں اس تباہی کا ذکر کچھ ایسا کیا گیا ہے:
    ... (it was) a single projectile
    Charged with all the power of the Universe.
    An incandescent column of smoke and flame
    As bright as the thousand suns
    Rose in all its splendour...

    ...it was an unknown weapon,
    An iron thunderbolt,
    A gigantic messenger of death,
    Which reduced to ashes
    The entire race of the Vrishnis and the Andhakas.

    ...The corpses were so burned
    As to be unrecognisable.
    The hair and nails fell out;
    Pottery broke without apparent cause,
    And the birds turned white.

    After a few hours
    All foodstuffs were infected...
    ....to escape from this fire
    The soldiers threw themselves in streams
    To wash themselves and their equipment.
    The Mahabharata


    "(It was a weapon) so powerful that it could destroy the earth
    in an instant ÄÄ A great soaring sound in smoke and flames ÄÄ
    And on its sits death..."
    The Ramayana

    "Dense arrows of flame, like a great shower, issued
    forth upon creation, encompassing the enemy...
    A thick gloom swiftly settled upon the Pandava hosts.
    All points of the compass were lost in darkness.
    Fierce wind began to blow upward, showering dust and gravel.

    Birds croaked madly... the very elements seemed disturbed.
    The earth shook, scorched by the terrible violent heat of this
    weapon.
    Elephants burst into flame and ran to and fro in a frenzy...
    over a vast area, other animals crumpled to the ground and died.
    From all points of the compass the arrows of flame rained
    continuously and fiercely.
    The Mahabharata

    سنسکرٹ کے سکالرز اس عجیب و غریب تباہی کی تصویر کو سمجھ ہی نہ پائے جب تک ہمنے ۱۹۴۵ میں ہیروشیما و ناگاساکی تباہی نہ دیکھ لی۔ کئی انتہائی قدیم ٹیکسٹس اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایک زمانہ میں اٹلانٹس کی ٹیکنالوجیکل ایڈوانسڈ تہذیب اور راما قوم کیساتھ جوہری جنگ ہوئی تھی جسکے نتیجہ میں نہ صرف یہ قومیں تباہ ہوگئیں بلکہ ساتھ میں‌انسان کو ایک Ice Age بھی دے گئیں جسکے بعد انسان کی حالت واپس پتھر کے زمانہ کو پہنچ گئی۔ اور یہ چیز بھی ڈاکومنٹڈ ہے کہ ہر قوم کے لیڈرز نے پرانے وقتوں کی کتب صرف اس شوق میں جلوائیں تاکہ صرف انکی اپنی تاریخ موجود رہے :grin:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    حضرت آپ سے کس نے کہا کہ میں بحث کر رہا ہوں ایک ہی تصویر کا دوسرا رخ پیش کر رہا ہوں جس کا مخالفین کو بھی اقرار ہے اور زیادہ روشن ہے ۔ بحث ہوتی تو انداز اور تحریر کچھ اور ہوتی۔
    وسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  16. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,694
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed


    آپ کی ان دلیلوں میں تضادات ہیں اور یہ خود ہی اپنی تردید کرتی ہیں۔

    "آخری برف کا زمانہ" آج سے پندرہ بیس ہزار سال پہلے تھا، جن سب تہذیبوں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ سب چار پانچ ہزار سال پرانی ہیں، رامائن اور مہابھارت اس زمانے سے بھی بعد کی کتب ہیں بلکہ وید بھی، سو کیسے ممکن ہے کہ 'برف کا زمانہ' ان تہذیبوں کی کسی ایٹمی جنگ سے آیا ہو؟

    ایٹمی جنگ کی کون کافر بات کرتا ہے آپ صرف ایک حوالہ اگر اس بات کا دے سکیں کہ 'آخری برف کے زمانے' سے پہلے اس دنیا میں کوئی تہذیب موجود تھی تو بندہ عمر بھر آپ کا غلام ہے ورنہ ایسے دلائل کو سلام ہے :)

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  17. عسکری

    عسکری معطل

    مراسلے:
    18,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    یہ عارف ہیں برف کا زمانہ ہو یا ایٹمی دور کچھ بھی کر سکتے ہیں ذرا بچ کے
     
  18. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    اتنی پرانی تاریخ اور غلامی کی باتیں؟ :biggrin:
    بھائی اصل میں‌ماڈرن سائنسی تحقیقات کی وجہ سے (تاریخی فیکٹس )مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ کچھ عرصہ تک اکثر سائنسدان اس بات پر متفق تھے کہ آخری بڑا آئس ایج 15-20 ہزار سال قبل آیا۔ مگر جدید انکشافات کے بعد اب انکی رائے تبدیل ہو رہی ہے اور شبہ کیا جا رہا ہے کہ یہ مدت کم ہے۔ میں یہاں کچھ لنکس اور ڈاکومنٹریز پوسٹ کر رہا ہوں۔ جو کہ مین اسٹریم سائنس سے ذرا ہٹ کر قدیم مگر ایڈوانسڈ تہذیبوں پر روشنی ڈالتی ہیں، جو کہ آئس ایج کے دوران موجود تھیں! نیز آپکا یہ کہنا کہ چونکہ مہابھارت اور وید وغیرہ بہت بعد میں لکھی گئیں اسلئے پچھلا آئس ایج ایٹمی جنگ کی وجہ سے کیونکر وجود میں آسکتا ہے؟ اسکا اثبوت ہے کہ یہ تاریخی علوم پہلے ہی سے چل سو چل منہ در منہ صدیوں سے اس قوم میں‌موجود تھے۔ البتہ ان کو قلم بند دیر سے کیا گیا۔ مہابھارتا کی ایٹمی جنگ والی کیفیت کا اقرار موجودہ دور کے جوہری بم مؤجد Oppenheimer بھی کر چکے ہیں :)
    http://www.iceagecivilizations.com/articles/article01.htm
    http://www.newscienceideas.com/page/UT/PROD/new-releases/K646
    http://controversialhistory.blogspot.com/2007/10/myth-of-ancient-nuclear-war.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  19. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,694
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ قبلہ، یہ سب ابھی تک 'خرافات' ہی ہیں، اور مقاصد اپنے اپنے ہیں، جیسا کہ آپ نے خود لکھا کہ 'سائنس' سے ہٹ کر ہیں سو کیا اعتبار ان کا!
     
  20. ارشد حسین

    ارشد حسین محفلین

    مراسلے:
    2
    آپ کا یہ مراسلہ بہت ہی معلوماتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں چایے کہ لائبریری کی اہمیت لائبریری کے بارے میں جو معلومات ہیں تمام لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیں تاکہ سب کو لائبریری کی اہمیت معلوم ہو۔
     

اس صفحے کی تشہیر