کتب ، جن سے آپ سب سے زیادہ متاثر ہوئے

میں بھی کچھ شامل کروں؟:)
میرے گھر میں، بلکہ میرے ماحول میں بھی مطالعہ کرنے کا کچھ رواج نہیں پایا جاتا، لیکن مجھے پڑھنے کا شروع ہی سے شوق رہا، بد قسمتی سے مجھے اچھے اردو ادب کا علم بہت ہی دیر سے ہوا، ورنہ ۔۔۔۔۔۔(کیا ہوجانا تھا؟؟؟):)
ہماری امی کے پاس حافظ اسحاق دہلوی کی کتابوں کی کافی بڑی کولیکشن تھی، جب مجھے کچھ پڑھنا آیا، (تب دس سال سے کم عمر تھی) تو میں نے وہ کتابیں پڑھنا شروع کیں، کیا عجب تاثیر تھی،
جلوۂ طور پڑھتے ہوئے مجھے ہر لمحہ فکر کھائے جاتی تھی کہ کہیں فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شیرخواری میں نقصان نہ پہنچا دے
داستان یوسف کا تو کچھ نہ پوچھیے، مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یوسف علیہ السلام کے بھائی مجھے کنویں میں ڈال رہے ہیں، اور میں اتنا روتا، اتنا روتا کہ میری امی کو مجھ پر بہت رحم آتا۔
اس کے علاوہ اسحاق دہلوی کی ہی بہت سی کتابیں میرا اثاثہ تھیں۔ جن میں "صبر ایوب، قصۂ جرجبیس، طوفان نوح" کے نام یاد ہیں۔
باقی پھر۔۔۔
 
آخری تدوین:

فلک شیر

محفلین
میں بھی کچھ شامل کروں؟:)
میرے گھر میں، بلکہ میرے ماحول میں بھی مطالعہ کرنے کا کچھ رواج نہیں پایا جاتا، لیکن مجھے پڑھنے کا شروع ہی سے شوق رہا، بد قسمتی سے مجھے اچھے اردو ادب کا علم بہت ہی دیر سے ہوا، ورنہ ۔۔۔۔۔۔(کیا ہوجانا تھا؟؟؟):)
ہماری امی کے پاس حافظ اسحاق دہلوی کی کتابوں کی کافی بڑی کولیکشن تھی، جب مجھے کچھ پڑھنا آیا، (تب دس سال سے کم عمر تھی) تو میں نے وہ کتابیں پڑھنا شروع کیں، کیا عجب تاثیر تھی،
جلوۂ طور پڑھتے ہوئے مجھے ہر لمحہ فکر کھائے جاتی تھی کہ کہیں فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شیرخواری میں نقصان نہ پہنچا دے
داستان یوسف کا تو کچھ نہ پوچھیے، مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یوسف علیہ السلام کے بھائی مجھے کنویں میں ڈال رہے ہیں، اور میں اتنا روتا، اتنا روتا کہ میری امی کو مجھ پر بہت رحم آتا۔
اس کے علاوہ اسحاق دہلوی کی ہی بہت سی کتابیں میرا اثاثہ تھیں۔ جن میں "صبر ایوب، قصۂ جرجبیس، طوفان نوح" کے نام یاد ہیں۔
باقی پھر۔۔۔
دلچسپ
 
شکریہ فلک شیر بھائی
اب مزید سنیے!
زمانہ طالب علمی میں دو کتابوں کا مجھ پر بہت اثر رہا،
ایک "گلستان سعدی" اس کے چار باب تو درساً پڑھے تھے، لیکن میں اس کے بقیہ ابواب کا بھی بکثرت مطالعہ کرتا رہا۔ اب بھی اس کے بہت سے جملے اور اشعار مجھے حفظ ہیں
دوسری کتاب "متاع وقت اور کاروانِ علم" وقت کی اہمیت کے موضوع پر ابن الحسن عباسی صاحب نے کیا لاجواب کتاب لکھی ہے۔ آپ حضرات بھی ایک بار ضرور پڑھیں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
یوں تو کئی ایک ایسی کتب ہیں جنہوں نے میرے ذوقِ مطالعہ کو پروان چڑھایا لیکن ان میں سے کچھ کا ذکر جن سے عنوان کے مطابق میں 'متاثر' ہوا۔

'نوائے سروش' اردو دیوانِ غالب کی شرح از مولانا غلام رسول مہر
میری خوش قسمتی تھی کہ یہ کتاب اوائل نوجوانی (فرسٹ ائیر) میں میرے ہاتھ لگ گئی اور اس کتاب نے صحیح معنوں میں میرے ذوقِ شاعری کی پرداخت کی۔ یوں تو بقول یوسفی غالب وہ واحد شاعر ہیں کہ جن کا کلام سمجھ میں نہ آئے تو دگنا مزا دیتا ہے لیکن پھر بھی نوجوانوں کو غالب کے اشعار کی بہتر تفہیم کے لیے کسی شرح کی ضرورت ہوتی ہے۔ غالب کی کئی ایک شروح لکھی گئی ہیں، نوائے سروش سے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور پھر کافی بعد میں نے میں نے ان کا مطالعہ بھی کیا۔ کچھ تو محض غالب کی تنقیص کے لیے ہیں جیسے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح لیکن جو مقام نوائے سروش کا ہے وہ کم ہی کسی شرح کا ہوگا۔ مولانا مہر نے جس تفصیل، لگن، محنت اور محبت سے دیوانِ غالب کی شرح کی ہے وہ انہی کا خاصہ تھا۔ صاف نظر آتا ہے کہ مولانا مہر، خواجہ حالی کی طرح قتیلِ غالب ہیں۔ مولانا مہر نے اس شرح میں نہ صرف غالب کے مشکل اور بظاہر آسان نظر آنے والے اشعار کو صاف کیا ہے بلکہ غالب پر ہونے والے اعتراضوں کا جواب بھی دیا ہے۔ مثلا جہاں جہاں ان کے اردو کلام پر اعتراض تھا کہ یہ کسی فارسی شعر سے ماخوذ ہے وہاں مولانا مہر نے بھر پور توجہ سے ثابت کیا ہے کہ دونوں اشعار میں فرق کیا ہے اور غالب کا شعر کس لحاظ سے بہتر ہے۔ اور اسی ضمن میں فارسی اشعار بھی اس کتاب میں جا بجا موجود ہیں اور میرے فارسی شاعری کے ذوق کا بھی پہلا قاعدہ یہی نوائے سروش ہے۔ مشکل الفاظ کی شرح کے ساتھ ساتھ تاریخ کی اچھی خاصی جھلکیاں بھی اس میں موجود ہیں جیسے غالب کا سہرا کہنا اور بہادر شاہ ظفر اور ذوق کا غالب سے ناراض ہو جانا وغیرہ جیسے واقعات!

یہ نوائے سروش ہی کا فیضان تھا کہ بعد میں، میں اردو شاعری کے بحرِ ذخار میں ڈوبا نہیں اور پھر خوب سے خوب تر ہی کی تلاش رہی۔ یہ کتاب اتنے برس (قریب تین دہائیاں) گزرنے کے بعد بھی میرے پاس موجود ہے اور گاہے گاہے اس سے فیض حاصل کرتا رہتا ہوں۔
 
یوں تو کئی ایک ایسی کتب ہیں جنہوں نے میرے ذوقِ مطالعہ کو پروان چڑھایا لیکن ان میں سے کچھ کا ذکر جن سے عنوان کے مطابق میں 'متاثر' ہوا۔

'نوائے سروش' اردو دیوانِ غالب کی شرح از مولانا غلام رسول مہر
میری خوش قسمتی تھی کہ یہ کتاب اوائل نوجوانی (فرسٹ ائیر) میں میرے ہاتھ لگ گئی اور اس کتاب نے صحیح معنوں میں میرے ذوقِ شاعری کی پرداخت کی۔ یوں تو بقول یوسفی غالب وہ واحد شاعر ہیں کہ جن کا کلام سمجھ میں نہ آئے تو دگنا مزا دیتا ہے لیکن پھر بھی نوجوانوں کو غالب کے اشعار کی بہتر تفہیم کے لیے کسی شرح کی ضرورت ہوتی ہے۔ غالب کی کئی ایک شروح لکھی گئی ہیں، نوائے سروش سے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور پھر کافی بعد میں نے میں نے ان کا مطالعہ بھی کیا۔ کچھ تو محض غالب کی تنقیص کے لیے ہیں جیسے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح لیکن جو مقام نوائے سروش کا ہے وہ کم ہی کسی شرح کا ہوگا۔ مولانا مہر نے جس تفصیل، لگن، محنت اور محبت سے دیوانِ غالب کی شرح کی ہے وہ انہی کا خاصہ تھا۔ صاف نظر آتا ہے کہ مولانا مہر، خواجہ حالی کی طرح قتیلِ غالب ہیں۔ مولانا مہر نے اس شرح میں نہ صرف غالب کے مشکل اور بظاہر آسان نظر آنے والے اشعار کو صاف کیا ہے بلکہ غالب پر ہونے والے اعتراضوں کا جواب بھی دیا ہے۔ مثلا جہاں جہاں ان کے اردو کلام پر اعتراض تھا کہ یہ کسی فارسی شعر سے ماخوذ ہے وہاں مولانا مہر نے بھر پور توجہ سے ثابت کیا ہے کہ دونوں اشعار میں فرق کیا ہے اور غالب کا شعر کس لحاظ سے بہتر ہے۔ اور اسی ضمن میں فارسی اشعار بھی اس کتاب میں جا بجا موجود ہیں اور میرے فارسی شاعری کے ذوق کا بھی پہلا قاعدہ یہی نوائے سروش ہے۔ مشکل الفاظ کی شرح کے ساتھ ساتھ تاریخ کی اچھی خاصی جھلکیاں بھی اس میں موجود ہیں جیسے غالب کا سہرا کہنا اور بہادر شاہ ظفر اور ذوق کا غالب سے ناراض ہو جانا وغیرہ جیسے واقعات!

یہ نوائے سروش ہی کا فیضان تھا کہ بعد میں، میں اردو شاعری کے بحرِ ذخار میں ڈوبا نہیں اور پھر خوب سے خوب تر ہی کی تلاش رہی۔ یہ کتاب اتنے برس (قریب تین دہائیاں) گزرنے کے بعد بھی میرے پاس موجود ہے اور گاہے گاہے اس سے فیض حاصل کرتا رہتا ہوں۔
جیو وارث بھائی۔ اب ایک درخواست ہے کہ غالب کی شروحات کے نام جو آپ کے علم میں ہیں یہاں لکھ دیں۔ تاکہ ہم ان میں زیادہ سے زیادہ آن لائن تلاش کرسکیں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
جیو وارث بھائی۔ اب ایک درخواست ہے کہ غالب کی شروحات کے نام جو آپ کے علم میں ہیں یہاں لکھ دیں۔ تاکہ ہم ان میں زیادہ سے زیادہ آن لائن تلاش کرسکیں۔
کچھ جو اس وقت میرے ذہن میں ہیں، ریختہ پر ان میں سے کچھ یقینا موجود بھی ہونگی:

نظم طباطبائی کی شرح
مولانا حسرت موہانی کی شرح
پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح
بیخود دہلوی کی شرح
شاداں بلگرامی کی شرح
جوش ملسیانی کی شرح
نوائے سروش
 
آخری تدوین:

فرقان احمد

محفلین
مولانا مہر نے جس تفصیل، لگن، محنت اور محبت سے دیوانِ غالب کی شرح کی ہے وہ انہی کا خاصہ تھا۔ صاف نظر آتا ہے کہ مولانا مہر، خواجہ حالی کی طرح قتیلِ غالب ہیں۔ مولانا مہر نے اس شرح میں نہ صرف غالب کے مشکل اور بظاہر آسان نظر آنے والے اشعار کو صاف کیا ہے بلکہ غالب پر ہونے والے اعتراضوں کا جواب بھی دیا ہے۔ مثلا جہاں جہاں ان کے اردو کلام پر اعتراض تھا کہ یہ کسی فارسی شعر سے ماخوذ ہے وہاں مولانا مہر نے بھر پور توجہ سے ثابت کیا ہے کہ دونوں اشعار میں فرق کیا ہے اور غالب کا شعر کس لحاظ سے بہتر ہے۔ اور اسی ضمن میں فارسی اشعار بھی اس کتاب میں جا بجا موجود ہیں اور میرے فارسی شاعری کے ذوق کا بھی پہلا قاعدہ یہی نوائے سروش ہے۔ مشکل الفاظ کی شرح کے ساتھ ساتھ تاریخ کی اچھی خاصی جھلکیاں بھی اس میں موجود ہیں جیسے غالب کا سہرا کہنا اور بہادر شاہ ظفر اور ذوق کا غالب سے ناراض ہو جانا وغیرہ جیسے واقعات!

سو فی صد متفق! :)
 
کچھ جو اس وقت میرے ذہن میں ہیں، ریختہ پر ان میں سے کچھ یقینا موجود بھی ہونگی:

نظم طباطبائی کی شرح
مولانا حسرت موہانی کی شرح
پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح
بیخود دہلوی کی شرح
شاداں بلگرامی کی شرح
نوائے سروش
بہت شکریہ وارث بھائی
 
کچھ جو اس وقت میرے ذہن میں ہیں، ریختہ پر ان میں سے کچھ یقینا موجود بھی ہونگی:

نظم طباطبائی کی شرح
مولانا حسرت موہانی کی شرح
پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح
بیخود دہلوی کی شرح
شاداں بلگرامی کی شرح
نوائے سروش
ان میں سے
نظم طباطبائی کا لنک تو یہ ہے
باقی کے لنک بھی کوئی دوست بتا دے تو مجھ جیسے بہت سوں کا بھلا ہو۔
فاتح
 

محمد وارث

لائبریرین
المنقذ (عن الضلالہ) ۔ اور ابو حامد()غزالی کی کچھ دیگر کتب کا ذہن پر بہت گہرا نقش ہوا ۔ (سب ترجمے کی بنیاد پر)
شبلی کی الکلام ۔
اقبال کی سب کتب۔
غالب ۔
کچھ فلسفے کی کتب کے (بالواسطہ تراجم سے) پیچیدہ اثرات مرتب ہوئے لیکن منقذ (اوردیگر(احیا اور اکسیر) وغیرہ ) نے سب کو رگڑ کےگویا دھو دیا اور پھر اقبال و غالب نے ایسی قلعی کی کہ کہیں کے نہ رہے نہ کہیں کی کوئی آرزو رہی ۔ آگ ایسی لگی کہ جوتھا جل گیا ۔
 

سید عمران

محفلین
ہمیں متاثر کرنے والی کچھ کتب کا ذکر محفلین کرچکے ہیں، کچھ کا ہم کیے دیتے ہیں:
۱) ابن جوزی کی کتاب الاذکیاء جس کا اردو ترجہ لطائف علمیہ کے نام سے ہوچکا ہے اور بڑے خاصے کی چیز ہے۔ ابن جوزی نے اس کتاب میں انبیاء کرام سے لے کر بادشاہوں اور مختلف پیشوں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ذہانت و فراست کے عجیب و غریب واقعات اکھٹے کیے ہیں۔ اسی طرح ابن جوزی کی ایک اور کتاب ’’اخبار الحمقی و المغفلین‘‘ میں لوگوں کی حماقتوں کے واقعات اکٹھے کیے ہیں۔ شاید اس کا بھی اردو ترجمہ ہوچکا ہے۔ پڑھیئے اور سر دھنیئے۔
۲) ابن حجر عسقلانی کی الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔
۳) ابن کثیر کی تفسیر ابن کثیر اور البدایہ و النہایہ جو تاریخ کی کتاب ہے۔
۴) قصص القرآن۔ مولانا محمد حفظ الرحمٰن صاحب سیوہاروی۔
۵) تاریخ ارض القرآن۔ علامہ سید سلیمان ندوی۔
۶) حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خطبات و ملفوظات کی تمام جلدیں۔
۷) سیرت مصطفیٰ۔ مولانا ادریس کاندھلوی۔
۸) قائد اعظم کی شخصیت کے بارے میں رضوان احمد مرحوم صاحب کی تحاریر۔
۹) قمر علی عباسی کے سفرنامے۔ (متاثر کی جگہ دلچسپ کہیں گے)
۱۰)فرید ماجد ساٹی کے سفرنامے ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
برٹرنڈ رسل کی کتاب A History of Western Philosophy
گو اس کتاب سے پہلے میں فلسفے کی تاریخ پر کچھ اور کتابیں پڑھ چکا تھا جیسے ول ڈیورنٹ کی 'سٹوری آف فلاسفی' لیکن اس کتاب نے صحیح معنوں میں مجھے تاریخِ فلسفہ سے متعارف کروایا اور حد سے زیادہ متاثر کیا۔ رسل 'جید' مؤرخ نہیں تھا بلکہ فلسفی تھا لیکن اس کتاب میں اُس نے نہ صرف تاریخِ فلسفہ بلکہ سیاسی تاریخ کا بھی بہت حد تک احاطہ کیا ہے۔ مغربی فلسفیوں کا فلسفہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن اس کتاب سے تاریخِ فلسفہ اور فلسفیوں کے عمومی خیالات بہت حد تک جانے جا سکتے ہیں۔ رسل کا اندازِ تحریر بھی دلکش ہے اور برٹش گوروں کے ٹریڈ مارک مزاح اور شگفتگی کے ساتھ ساتھ اس میں کہیں کہیں طنز کی کاٹ بھی ہے۔ فلسفے کے طالب علموں کے لیے باقاعدہ فلسفہ پڑھنے سے پہلے اس کتاب کا مطالعہ میرے نزدیک انتہائی ضروری ہے۔
 

نمرہ

محفلین
برٹرنڈ رسل کی کتاب A History of Western Philosophy
گو اس کتاب سے پہلے میں فلسفے کی تاریخ پر کچھ اور کتابیں پڑھ چکا تھا جیسے ول ڈیورنٹ کی 'سٹوری آف فلاسفی' لیکن اس کتاب نے صحیح معنوں میں مجھے تاریخِ فلسفہ سے متعارف کروایا اور حد سے زیادہ متاثر کیا۔ رسل 'جید' مؤرخ نہیں تھا بلکہ فلسفی تھا لیکن اس کتاب میں اُس نے نہ صرف تاریخِ فلسفہ بلکہ سیاسی تاریخ کا بھی بہت حد تک احاطہ کیا ہے۔ مغربی فلسفیوں کا فلسفہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن اس کتاب سے تاریخِ فلسفہ اور فلسفیوں کے عمومی خیالات بہت حد تک جانے جا سکتے ہیں۔ رسل کا اندازِ تحریر بھی دلکش ہے اور برٹش گوروں کے ٹریڈ مارک مزاح اور شگفتگی کے ساتھ ساتھ اس میں کہیں کہیں طنز کی کاٹ بھی ہے۔ فلسفے کے طالب علموں کے لیے باقاعدہ فلسفہ پڑھنے سے پہلے اس کتاب کا مطالعہ میرے نزدیک انتہائی ضروری ہے۔
اس کا میں بھی ذکر کرنے والی تھی۔
 

عثمان

محفلین
برٹرنڈ رسل کی کتاب A History of Western Philosophy
گو اس کتاب سے پہلے میں فلسفے کی تاریخ پر کچھ اور کتابیں پڑھ چکا تھا جیسے ول ڈیورنٹ کی 'سٹوری آف فلاسفی' لیکن اس کتاب نے صحیح معنوں میں مجھے تاریخِ فلسفہ سے متعارف کروایا اور حد سے زیادہ متاثر کیا۔ رسل 'جید' مؤرخ نہیں تھا بلکہ فلسفی تھا لیکن اس کتاب میں اُس نے نہ صرف تاریخِ فلسفہ بلکہ سیاسی تاریخ کا بھی بہت حد تک احاطہ کیا ہے۔ مغربی فلسفیوں کا فلسفہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن اس کتاب سے تاریخِ فلسفہ اور فلسفیوں کے عمومی خیالات بہت حد تک جانے جا سکتے ہیں۔ رسل کا اندازِ تحریر بھی دلکش ہے اور برٹش گوروں کے ٹریڈ مارک مزاح اور شگفتگی کے ساتھ ساتھ اس میں کہیں کہیں طنز کی کاٹ بھی ہے۔ فلسفے کے طالب علموں کے لیے باقاعدہ فلسفہ پڑھنے سے پہلے اس کتاب کا مطالعہ میرے نزدیک انتہائی ضروری ہے۔
بہت خوب!
کچھ عرصہ سے یہی کتاب پڑھنے کا ارادہ کر رکھا ہے۔ کچھ تنقید پڑھ کر شش و پنج میں تھا لیکن اب آپ کی توثیق پڑھ کر ضرور مطالعہ کریں گے انشااللہ۔ :)
 
Top