کتاب کا اختتام بتانے پر روسی سائنسدان کا ساتھی پر قاتلانہ حملہ

یعنی: تجھ کو پرائی کیا پڑی ، اپنی نبیڑ تو

ویسے ایسے شرارتی لوگ تو آپ کو محفل میں ہی میسر ہیں ورنہ تو شاید ہی کوئی آپ کو ایسا تنگ کرنے والا ہو۔ :)

ہم نے عمران بھائی کا نام نہیں لیا ہے۔ :)
یعنی کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے ۔:)
 

نوشاب

محفلین
بہت ہی بری عادت ہے
فلم یا کہانی کا سارا مزا کرکرا ہو جاتا ہے ۔
قانون میں اس جرم کی کوئی دفعہ ہونی چاہیے ۔
تاکہ متاثرین قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔
 

محمداحمد

لائبریرین
مجھے تجسس و جاسوسی والی کہانیاں بہت پسند ہیں اور میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ مجھے اختتام سے آغاز ہی میں آگاہ کر دیا جائے۔ :)
شاید تھوڑا غصہ بھی آجائے۔ کوئی ایسا کرتا تو نہیں ہے۔

آج کل لوگ کتابیں کم پڑھتے ہیں اس لئے انجام بتا کر مزہ خراب کرنے والے بھی قسمت والوں کو ہی ملتے ہیں۔ :)
لیکن جب ہم بی اے میں تھے۔ کوئی کتاب پڑھتے تو ایک ہم جماعت بڑی بے عزتی کرنے کے انداز میں کہتی کہ تم لوگ اب یہ کتاب پڑھ رہے ہو۔ میں نے تو کب کی پڑھ لی۔ ہم بڑے مرعوب ہوتے اور چڑتے بھی تھے۔
پھر حقیقت کھل ہی گئی۔

ہاہاہاہا!

حقیقت کیسے کھلی یہ تفصیل ابھی بھی رہتی ہے؟ :)

یا وقت کےساتھ ساتھ ادراک ہوا۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت ہی بری عادت ہے
فلم یا کہانی کا سارا مزا کرکرا ہو جاتا ہے ۔

پھر کیا کرتے ہیں۔ بیچ میں چھوڑ دیتے ہیں یا مکمل کرتے ہیں کہانی یا فلم کو؟ :)
قانون میں اس جرم کی کوئی دفعہ ہونی چاہیے ۔
تاکہ متاثرین قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

کیا سزا ہونی چاہیے ایسے شخص کی؟

محمد عدنان اکبری نقیبی
سید عمران
 

محمداحمد

لائبریرین

سید عمران

محفلین

محمداحمد

لائبریرین
پارلیمنٹ سے اس کی جو سزا ہونی چاہیے اسے یہاں بیان کرنا قطعاً غیر پارلیمانی ہوگا!!!
:D:D:D

یعنی آپ نے عدنان بھائی کی شکایت کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے؟ :eek:

سزا ایسی رکھیے گا کہ آپ خود بھی بھگت سکیں ۔ :ROFLMAO:کیونکہ اگر عدنان بھائی ناول پڑھ رہے ہوں تو آپ کسی طرح خود کو روک نہیں پائیں گے۔ :) :) :)
 

سید عمران

محفلین
یعنی آپ نے عدنان بھائی کی شکایت کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے؟ :eek:

سزا ایسی رکھیے گا کہ آپ خود بھی بھگت سکیں ۔ :ROFLMAO:کیونکہ اگر عدنان بھائی ناول پڑھ رہے ہوں تو آپ کسی طرح خود کو روک نہیں پائیں گے۔ :) :) :)
خود کو وہ سزا دینا اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا!!!
 
آخری تدوین:

جاسمن

مدیر
حقیقت کیسے کھلی یہ تفصیل ابھی بھی رہتی ہے؟ :)

یا وقت کےساتھ ساتھ ادراک ہوا۔ :)
اُن دنوں ہم تازہ تازہ چھڈ یار گروپ کے سب مصنفین کو پڑھ رہے تھے۔ہٹلر کے بارے میں چند کتابیں پڑھی تھیں اور منٹو اور عصمت چغتائی زیرِ بحث رہتے تھے۔ اردو ڈائجسٹ بھی پڑھتے تھے۔ اردو ترجمہ"ماں" میکسم گورکی اور ایوب خان کی جس رزق سے آتی ہو۔۔۔۔
اسی طرح بیٹھے تھے، گفتگو چل رہی تھی کہ متاثر کرنے والی طالبہ بھی آگئی۔ اُس کی قسمت کہ بیٹھ بھی گئی۔ ظاہر ہے بات چیت میں اُس کا حصہ زیادہ ہونا چاہیے تھا کہ اُس نے ہم سے پہلے ہی سب کچھ پڑھا ہوتا تھا۔اب وہ بات چیت کا رُخ موڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ ابھی ہمیں صحیح صورتحال کا پتہ نہیں
چلا تھا۔ ہم نے کسی ابہام پہ اُس سے سوال کیا تو اُسے جواب نہیں آتا تھا۔ جبکہ وہ ہمیں بتا چکی تھی کہ اُس نے یہ سب کتابیں پڑھی ہیں۔
پھر ہمیں شک ہوا اور ہم نے آپس میں پہلے سے کچھ طے شدہ کیے بغیر فردا فردا اُس سے جو جو پوچھا۔۔۔وہ نہ بتا سکی۔
بس پھر۔۔۔
 
خود وہ سزا دینا اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا!!!
ابھی ہمیں آپ کی اس بات کا جواب سمجھ نہیں آ رہا ،ادھار ہے ہم پر جیسے ہی دماغ نے کام کرنا شروع کیا ہم آپ کے دانت کھٹے کریں گے ۔:sneaky:
 
Top