کتاب ٹائپنگ - تجاویز و مشورے

محمد عمر بھیا مجھے تو بہت اچھا لگا ہے یہ سوفٹ وئیر۔۔۔۔ میرے خیال میں ایک کتاب کا تجربہ کرنا چاہیے۔۔۔

کوئی ایسی کتاب جو ابھی زیرِ تکمیل نہ ہو بلکہ پائپ لائن میں ہو تو میں اس کا بورڈ سیٹ کر دوں گا۔ اس کے علاوہ آسان زبان میں اس کی ایک گائئڈ لکھ دوں گا۔ پھر کوشش کرتے ہیں۔
 

مقدس

لائبریرین
کوئی ایسی کتاب جو ابھی زیرِ تکمیل نہ ہو بلکہ پائپ لائن میں ہو تو میں اس کا بورڈ سیٹ کر دوں گا۔ اس کے علاوہ آسان زبان میں اس کی ایک گائئڈ لکھ دوں گا۔ پھر کوشش کرتے ہیں۔
پھر کرتے ہیں اسٹارٹ۔۔۔ اگر کچھ لوگ اس کو استعمال کرنے میں مشکل محسوس کریں تو کیا کوئی اور ان کو اس پر پیجزز آسائن کر سکتا ہے؟
 

شمشاد

لائبریرین
یہ میرا سافٹ وئیر نہیں بلکہ ایک ٹول ہے جو ہم کام میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں ٹریننگ تو ہو سکتی ہے۔
میں نے علمِ دین والوں کی سائیٹ دیکھی ہے اور محب بھائی ان سے بات بھی کریں گے لیکن مجھے یہ ان کی ویب سائیٹ کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر اور معلومات ہوں تو اس جیسا کچھ کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت تو یہ ان کی ویب سائیٹ کا ہی حصہ ہے، لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ سوفٹ ویئر الگ سے بنا کر اس میں شامل کیا گیا ہے۔
میں نے ان کی بہت سے کتابیں ٹائپ کی ہیں۔ عرصہ ہوا کہ چھوڑ دیا۔ لیکن ابھی بھی میرا نام تیسرے نمبر پر موجود ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
کوئی ایسی کتاب جو ابھی زیرِ تکمیل نہ ہو بلکہ پائپ لائن میں ہو تو میں اس کا بورڈ سیٹ کر دوں گا۔ اس کے علاوہ آسان زبان میں اس کی ایک گائئڈ لکھ دوں گا۔ پھر کوشش کرتے ہیں۔
بہت بہترین کاوش ہو گی اردو محفل کی لائبریری کے لیے۔

کیا اس ٹول میں متن ٹائپ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے؟
 

میں نے تمام صفحات کو ڈاؤنلوڈ کر کے یہاں بورڈ بنا دیا ہے۔ اس میں تما م صفحات کو 10 کے کارڈ میں تقسیم کیا ہے یعنی ایک ممبر کم از کم 10 صفحات کا بیڑہ اٹھا سکتا ہے۔ اس میں تمام متن کو او سی آر کر کے Attachment بنا دی ہیں جو کہ ہر کارڈ کے کی تفصیل کھول کر دیکھی جا سکتی ہے۔ اور اسے کاپی کر کے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو گٹ ہب پر بھی اپلوڈ کر دیا ہے او سی آر کے ساتھ۔
ٹریلو کی مدد کے لیے میں نے ایک لڑی لکھی ہے۔ اسے بھی دیکھ لیں۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
ہم تو جو آرائش محل ٹائپ کر رہے ہیں، اس میں کسی جگہ بھی ہ استعمال نہیں ہوئی، ہر جگہ ھیں، ھے، ھو، ھاتھ، ھاتھی، سب جگہ ھ ہی استعمال ہوئی ہے۔
اگر لائبریری کے تمام ارکان کچھ باتوں کا خیال رکھیں تو بہتر ہے
1۔ ضروری نہیں ہے کہ بالکل جس طرح کتاب میں لکھا گیا ہے، اسی طرح لکھا جائے ۔ پرانی املا میں ہ، ھ اور ی، ے مین فرق نہیں کیا جاتا تھا، لیکن اب کیا جاتا یے۔ سب جدید زبان لکھیں۔
2 ۔ اعراب کی ہر جگہ ضرورت نہیں، چاہے اصل متن میں ہو۔ ایک جگہ میں نے 'متصور' لفظ میں اعراب لگے دیکھے، جو غلط جگہوں پر تھے، یعنی ت ہر پیش اور ر پر تشدید! اور کمپوز ہونے کے بعد اسے چیک کرنے کے لئے ایک ایک حرف متا کر دیکھنا پڑتا ہے، اور اکثر پورا لفظ مٹانا پڑتا ہے
3۔ سارے ارکان صرف اردو کے اعداد ٹائپ کریں۔ کچھ لوگ اردو کے بھی کرتے ہیں( عربی کے کرنے ہر تو اردو پروف ریدر درست کر دیتا ہے۔ لیکن لیٹن اعداد 1،2،3 کو نہیں کرتا۔ اگر ٹائپ کرنے میں مسئلہ آتا ہو تو وہی رکن خود اسے بعد میں درست کر دے، کہیں سے کاپی پیست کر کے
4۔ کوما اردو کا ہی استعمال کریں۔ پرانی کتابوں میں اوپر بھی کاما لگانے کا رواج تھا لیکن آ؛ ج کل نہیں لگایا جاتا۔ لیکن اب بھی لوگ یا تو 'خوبصورت' لگنے کی وجہ سے یہ استعمال کر دیتے ہیں۔ فسانۂ عجائب میں اکثر ارکان نے ایک کیریکٹر استعمال کیا ہے جو یا تو انگریزی کا ' ہے یا اردو کا' الٹا پیش' ۔ اس لئے صرف اور صرف'، ' استعمال کیا جائے
5۔ وقفہ بھی صرف' ۔' اردو کا استعمال کیا جائے ۔ کچھ ارکان کو. یا - بھی استعمال کرتے دیکھا گیا یے۔ اور اس سے پہلے سپیس نہ چھوریں۔ اور اس کے بعد ضرور بضرور چھوڑیں
6۔ بریکٹ( ) کے اندر کے متن کے آگے پیچھے سپیس دینے کی ضرورت نہیں ۔ ورنہ یوں بھی ممکن ہے کہ لفظ ایک سطر میں ہو، اور بریکٹ مجرد اگلی سطر مین
7۔ واوین، تخاطبی۔ یہ بھی کئی طرح لگائے جاتے ہیں۔ دوسری طرح لگانے ہر ایم ایس ورڈ علطی ہی دکھاتا ہے۔ درست اور بہتر وہی ہے جو ان پیج کے صوتی میں درمیانی بریکٹ کی کنجی سے بنایا جاتا ہے۔ اگرچہ دو بار کی ستروک دینا پرتا ہے۔
باقی کچھ اور یاد آیا تو بعد میں
 

الف عین

لائبریرین
اگر لائبریری کے تمام ارکان کچھ باتوں کا خیال رکھیں تو بہتر ہے
1۔ ضروری نہیں ہے کہ بالکل جس طرح کتاب میں لکھا گیا ہے، اسی طرح لکھا جائے ۔ پرانی املا میں ہ، ھ اور ی، ے مین فرق نہیں کیا جاتا تھا، لیکن اب کیا جاتا یے۔ سب جدید زبان لکھیں۔
2 ۔ اعراب کی ہر جگہ ضرورت نہیں، چاہے اصل متن میں ہو۔ ایک جگہ میں نے 'متصور' لفظ میں اعراب لگے دیکھے، جو غلط جگہوں پر تھے، یعنی ت ہر پیش اور ر پر تشدید! اور کمپوز ہونے کے بعد اسے چیک کرنے کے لئے ایک ایک حرف متا کر دیکھنا پڑتا ہے، اور اکثر پورا لفظ مٹانا پڑتا ہے
3۔ سارے ارکان صرف اردو کے اعداد ٹائپ کریں۔ کچھ لوگ اردو کے بھی کرتے ہیں( عربی کے کرنے ہر تو اردو پروف ریدر درست کر دیتا ہے۔ لیکن لیٹن اعداد 1،2،3 کو نہیں کرتا۔ اگر ٹائپ کرنے میں مسئلہ آتا ہو تو وہی رکن خود اسے بعد میں درست کر دے، کہیں سے کاپی پیست کر کے
4۔ کوما اردو کا ہی استعمال کریں۔ پرانی کتابوں میں اوپر بھی کاما لگانے کا رواج تھا لیکن آ؛ ج کل نہیں لگایا جاتا۔ لیکن اب بھی لوگ یا تو 'خوبصورت' لگنے کی وجہ سے یہ استعمال کر دیتے ہیں۔ فسانۂ عجائب میں اکثر ارکان نے ایک کیریکٹر استعمال کیا ہے جو یا تو انگریزی کا ' ہے یا اردو کا' الٹا پیش' ۔ اس لئے صرف اور صرف'، ' استعمال کیا جائے
5۔ وقفہ بھی صرف' ۔' اردو کا استعمال کیا جائے ۔ کچھ ارکان کو. یا - بھی استعمال کرتے دیکھا گیا یے۔ اور اس سے پہلے سپیس نہ چھوریں۔ اور اس کے بعد ضرور بضرور چھوڑیں
6۔ بریکٹ( ) کے اندر کے متن کے آگے پیچھے سپیس دینے کی ضرورت نہیں ۔ ورنہ یوں بھی ممکن ہے کہ لفظ ایک سطر میں ہو، اور بریکٹ مجرد اگلی سطر مین
7۔ واوین، تخاطبی۔ یہ بھی کئی طرح لگائے جاتے ہیں۔ دوسری طرح لگانے ہر ایم ایس ورڈ علطی ہی دکھاتا ہے۔ درست اور بہتر وہی ہے جو ان پیج کے صوتی میں درمیانی بریکٹ کی کنجی سے بنایا جاتا ہے۔ اگرچہ دو بار کی ستروک دینا پرتا ہے۔
باقی کچھ اور یاد آیا تو بعد میں
مزید یہ کہ
* الفاظ ملا کر نہ لکھے جائیں جیسے کسی زمانے میں رواج تھا دیدی، لیکر، دیکر، کیساتھ، کیلئے، وغیرہ کو دے دی. لے کر، دے کر، کے ساتھ، کے لئے ہی لکھا جائے
* مرکب الفاظ جنہیں واو عطف یا کسرۂ اضافت یا بغیر کسی اضافےکے ملایا گیا ہو، انہیں بھی الگ الگ الفاظ کے طور پر لکھا جائے۔
واو عطف جیسے نثرونظم کو نثر و نظم
کسرہ اضافت جیسے اندازِبیان کو اندازِ بیان
بغیر کسی مزید علامت کے جیسے نظرانداز، قدر داں، جن کو لکھنے کا درست انداز تو زونج ZWNJ سے ہے لیکن وہ ٹائپ کرنا مشکل ہے اس لئے سپیس ہی بہتر ہے۔ اس لئے بھی کہ ورڈ اس کے استعمال سے بھی غلطی دکھاتا ہے
* اس پر یہ بھی یاد آیا کہ اعراب درست حرف پر لگانے کی بات ہو چکی ہے، لیکن اکبر دیکھا گیا ہے کہ زیر لوگ سپیس چھوڑ کر لگاتے ہیں، یہ محض اس لئے کہ کسی کسی فانٹ میں یا کسی حرف کی خود کی شکل میں یہ زیر چھپ جاتا ہے، اور سپیس دے کر اسے واضح بنا دیا جاتا ہے۔ یہ بھی کمپوزنگ کی غلطی ہے۔ فانٹ بنانے والوں کو اس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، ٹائپ کرنے والوں کو نہیں
* تخلص کا نشان بلکہ ہر اسم معرفہ پر قدیم زمانے میں لگایا جاتا تھا جو کتابت میں تو ٹھیک اس لفظ کے اوپر لکھا جاتا تھا۔ لیکن ٹائپ کرنے والے اسی LOOK کو برقرار رکھنے کے لئے غالب پر تخلص کا نشان کبھی غ کے بعد، کبھی الف کے، کبھی ل کے بعد لگاتے ہیں۔ میرے خیال میں درست طریقہ مکمل غالب ٹائپ کرنے کے بعد بغیر سپیس دیے تخلص کا نشان ٹائپ کرنا چاہئے، اور یہ فانٹ بنانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کی پوزیشن کافی پیچھے متعین کریں کہ وہ لفظ کے اوپر نظر آئے۔ موبائل سے ٹائپ کرنے والے یہ نشان نہ لگا پائیں گے، تو جہاں ضروری ہو، وہاں بعد میں کسی اور جگہ سے کاپی کر کے پیسٹ کر دیں۔ شعرا کے تخلص چھوڑ کر عام اسماء میں نہ لگائے جائیں تو بہتر ہے ورنہ پھر وہ مسئلہ بھی در پیش ہو فا کہ کچھ لوگ لگائیں گے اور کچھ نہیں، تو پورے متن میں یکسانیت نہیں رہے گی۔ اگر لگائیں تو سپیس چھوڑے بغیر لگائیں
* ضروری نہیں کہ جس طرح اصل متن میں اعراب کی بہتات ہے، ویسے ہی لگائے جائیں ۔ بشمول جزم کے۔ اتنی محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں جہاں کنفیوژن ممکن ہے، وہاں اعراب لگانے چاہیے۔ دور لکھا ہوا ہو تو دَور، یا دُور پڑھا جا سکتا ہے۔ تو یہاں لگایا جا سکتا ہے زبر یا پیش۔ احباب اپنی عقل استعمال کریں اس صورت میں
* اس پر یاد آیا کہ پچھلی صدی میں جور و ستم والے جور پر بھی پیش لگایا جاتا تھا، آج کل لگایا جائے تو جور دُور کے تلفظ والا ہو جائے گا۔ دو حرفی لفظ جو پر کسی اعراب کی ضرورت نہیں، جس طرح پہلے زمانے میں لکھا جاتا تھا۔ جُو یا جوٗ جوئے شیر لانے والا ہے یا جستجو، جنگجو والا۔
* پہلے وقفہ، کوما وغیرہ کاتب کے موڈ پر منحصر ہوتا تھا، کہیں لگایا، کہیں چھوڑ دیا۔ لیکن ٹائپ کرنے والا اپنی عقل استعمال کرے تو بہتر ہے۔ پرانی املا میں صرف چار پانچ الفاظ کی فہرست میں کوما، وہ بھی اوپر والا کاما لگایا جاتا تھا۔ میر' مومن' آتش وغیرہ کی جگہ بھی میر، مومن، آتش لکھا جانا چاہئے۔ یہ بات ہو چکی تھی لیکن پرانی املا میں مجھے یہ اوپر والا کاما کا استعمال فہرست میں ہی زیادہ تر نظر آیا ہے۔
* '؛' سیمی کولن کا استعمال بھی اردو میں شاذ ہے، اور اکثر جگہ کوما کی جگہ بھی لگا دیا جاتا ہے۔ احباب بھی دیکھ لیا کریں کہ اگر کوما ہی کافی ہے تو کوما ہی لگائیں، سیمی کولن نہیں
 

الف عین

لائبریرین
ابھی تو محمد شعیب نے ہی بنائی ہیں مگر تین طریقہ کار پیش نظر ییں:
  1. گوگل ڈاکس سے براہ راست ای پب فارمیٹ میں ای کتاب بنانا۔
  2. calibre سافٹ ویئر میں ورڈ کی فائل یا html فائل صفحات کی مدد سے ای کتاب بنانا۔ اس میں css فائل شامل کرکے فانٹ ، سمت اور دیگر چیزوں کو ہینڈل کیا جا سکتا ہے۔
  3. pandoc ٹول کے ذریعے سادہ فائل، ورڈ فائل یا مارک ڈاؤن فائل سے ای کتاب بنانا۔ اس میں css فائل دی جا سکتی ہے۔
میں نے زیادہ تجربات نہیں کیے کیونکہ یہ میدان شعیب نے سنبھال لیا، دوسرا ابھی کتابوں کی تعداد کم ہے اور لکھنے لکھانے میں وقت زیادہ صرف ہو رہا ہے۔
میں تو کیلبر سے ہی ساری ای بکس بناتا ہوں۔ اس کی آؤٹ پٹ کی سیٹنگ میں میں نے مہر نستعلیق منتخب کر رکھا ہے تو ای پب اور اے زیڈ ڈبلیو فائلیں سب مہر نستعلیق میں ہی بنتی ہیں، بلکہ کیلبر کا استعمال ایک اور مقصد سے بھی کرتا ہوں۔ کبھی کبھی مجھے فائل ورڈ کے 2012 کے بعد کے کسی ورژن میں ملتی ہے تو میرا ورڈ 2007 میں الفاظ کے درمیان سپیس ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے لئے مین کیلبر کی ونڈو میں فائل کو ڈریگ ڈراپ کرتا ہوں اور ٹیکسٹ میں کنورٹ کر لیتا ہوں، اور اس سادہ ٹیکسٹ کو استعمال کر کے نئی فائل بناتا ہوں
 

اوشو

لائبریرین
مزید یہ کہ
* الفاظ ملا کر نہ لکھے جائیں جیسے کسی زمانے میں رواج تھا دیدی، لیکر، دیکر، کیساتھ، کیلئے، وغیرہ کو دے دی. لے کر، دے کر، کے ساتھ، کے لئے ہی لکھا جائے
* مرکب الفاظ جنہیں واو عطف یا کسرۂ اضافت یا بغیر کسی اضافےکے ملایا گیا ہو، انہیں بھی الگ الگ الفاظ کے طور پر لکھا جائے۔
واو عطف جیسے نثرونظم کو نثر و نظم
کسرہ اضافت جیسے اندازِبیان کو اندازِ بیان
بغیر کسی مزید علامت کے جیسے نظرانداز، قدر داں، جن کو لکھنے کا درست انداز تو زونج ZWNJ سے ہے لیکن وہ ٹائپ کرنا مشکل ہے اس لئے سپیس ہی بہتر ہے۔ اس لئے بھی کہ ورڈ اس کے استعمال سے بھی غلطی دکھاتا ہے
* اس پر یہ بھی یاد آیا کہ اعراب درست حرف پر لگانے کی بات ہو چکی ہے، لیکن اکبر دیکھا گیا ہے کہ زیر لوگ سپیس چھوڑ کر لگاتے ہیں، یہ محض اس لئے کہ کسی کسی فانٹ میں یا کسی حرف کی خود کی شکل میں یہ زیر چھپ جاتا ہے، اور سپیس دے کر اسے واضح بنا دیا جاتا ہے۔ یہ بھی کمپوزنگ کی غلطی ہے۔ فانٹ بنانے والوں کو اس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، ٹائپ کرنے والوں کو نہیں
* تخلص کا نشان بلکہ ہر اسم معرفہ پر قدیم زمانے میں لگایا جاتا تھا جو کتابت میں تو ٹھیک اس لفظ کے اوپر لکھا جاتا تھا۔ لیکن ٹائپ کرنے والے اسی LOOK کو برقرار رکھنے کے لئے غالب پر تخلص کا نشان کبھی غ کے بعد، کبھی الف کے، کبھی ل کے بعد لگاتے ہیں۔ میرے خیال میں درست طریقہ مکمل غالب ٹائپ کرنے کے بعد بغیر سپیس دیے تخلص کا نشان ٹائپ کرنا چاہئے، اور یہ فانٹ بنانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کی پوزیشن کافی پیچھے متعین کریں کہ وہ لفظ کے اوپر نظر آئے۔ موبائل سے ٹائپ کرنے والے یہ نشان نہ لگا پائیں گے، تو جہاں ضروری ہو، وہاں بعد میں کسی اور جگہ سے کاپی کر کے پیسٹ کر دیں۔ شعرا کے تخلص چھوڑ کر عام اسماء میں نہ لگائے جائیں تو بہتر ہے ورنہ پھر وہ مسئلہ بھی در پیش ہو فا کہ کچھ لوگ لگائیں گے اور کچھ نہیں، تو پورے متن میں یکسانیت نہیں رہے گی۔ اگر لگائیں تو سپیس چھوڑے بغیر لگائیں
* ضروری نہیں کہ جس طرح اصل متن میں اعراب کی بہتات ہے، ویسے ہی لگائے جائیں ۔ بشمول جزم کے۔ اتنی محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں جہاں کنفیوژن ممکن ہے، وہاں اعراب لگانے چاہیے۔ دور لکھا ہوا ہو تو دَور، یا دُور پڑھا جا سکتا ہے۔ تو یہاں لگایا جا سکتا ہے زبر یا پیش۔ احباب اپنی عقل استعمال کریں اس صورت میں
* اس پر یاد آیا کہ پچھلی صدی میں جور و ستم والے جور پر بھی پیش لگایا جاتا تھا، آج کل لگایا جائے تو جور دُور کے تلفظ والا ہو جائے گا۔ دو حرفی لفظ جو پر کسی اعراب کی ضرورت نہیں، جس طرح پہلے زمانے میں لکھا جاتا تھا۔ جُو یا جوٗ جوئے شیر لانے والا ہے یا جستجو، جنگجو والا۔
* پہلے وقفہ، کوما وغیرہ کاتب کے موڈ پر منحصر ہوتا تھا، کہیں لگایا، کہیں چھوڑ دیا۔ لیکن ٹائپ کرنے والا اپنی عقل استعمال کرے تو بہتر ہے۔ پرانی املا میں صرف چار پانچ الفاظ کی فہرست میں کوما، وہ بھی اوپر والا کاما لگایا جاتا تھا۔ میر' مومن' آتش وغیرہ کی جگہ بھی میر، مومن، آتش لکھا جانا چاہئے۔ یہ بات ہو چکی تھی لیکن پرانی املا میں مجھے یہ اوپر والا کاما کا استعمال فہرست میں ہی زیادہ تر نظر آیا ہے۔
* '؛' سیمی کولن کا استعمال بھی اردو میں شاذ ہے، اور اکثر جگہ کوما کی جگہ بھی لگا دیا جاتا ہے۔ احباب بھی دیکھ لیا کریں کہ اگر کوما ہی کافی ہے تو کوما ہی لگائیں، سیمی کولن نہیں

حالانکہ مجھے بھی یہ چیزیں کنفیوز کر رہی تھیں۔ جیسا کہ حاتم طائی والی کتاب میں "ں"کی کی جگہ "ن"استعمال کیا گیا ہے۔ اور "ہ"کی جگہ "ھ"۔
میں تو تقریبا یہ سب غلطیاں ٹائپ بہ طرز تحریر کے چکر میں کر چکا ہوں :(
آئندہ خیال رکھوں گا۔
 
میں تو کیلبر سے ہی ساری ای بکس بناتا ہوں۔ اس کی آؤٹ پٹ کی سیٹنگ میں میں نے مہر نستعلیق منتخب کر رکھا ہے تو ای پب اور اے زیڈ ڈبلیو فائلیں سب مہر نستعلیق میں ہی بنتی ہیں، بلکہ کیلبر کا استعمال ایک اور مقصد سے بھی کرتا ہوں۔ کبھی کبھی مجھے فائل ورڈ کے 2012 کے بعد کے کسی ورژن میں ملتی ہے تو میرا ورڈ 2007 میں الفاظ کے درمیان سپیس ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے لئے مین کیلبر کی ونڈو میں فائل کو ڈریگ ڈراپ کرتا ہوں اور ٹیکسٹ میں کنورٹ کر لیتا ہوں، اور اس سادہ ٹیکسٹ کو استعمال کر کے نئی فائل بناتا ہوں

عام طور پر ای بک ریڈر میں کتاب کے صفحات کی سمت بائیں سے دائیں ہوتی ہے۔ کیا آپ اس کو تبدیل کر پائے ہیں۔ کئی جگہ پڑھا ہے کہ اسے کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن بات بنی نہیں۔
 
عام طور پر ای بک ریڈر میں کتاب کے صفحات کی سمت بائیں سے دائیں ہوتی ہے۔ کیا آپ اس کو تبدیل کر پائے ہیں۔ کئی جگہ پڑھا ہے کہ اسے کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن بات بنی نہیں۔
اس کے لیے عموماً ای ریڈر بھی سپورٹ کرنے والا چاہیے جیسے Lithium یا Librera reader ۔
 
اگر لائبریری کے تمام ارکان کچھ باتوں کا خیال رکھیں تو بہتر ہے
1۔ ضروری نہیں ہے کہ بالکل جس طرح کتاب میں لکھا گیا ہے، اسی طرح لکھا جائے ۔ پرانی املا میں ہ، ھ اور ی، ے مین فرق نہیں کیا جاتا تھا، لیکن اب کیا جاتا یے۔ سب جدید زبان لکھیں۔
2 ۔ اعراب کی ہر جگہ ضرورت نہیں، چاہے اصل متن میں ہو۔ ایک جگہ میں نے 'متصور' لفظ میں اعراب لگے دیکھے، جو غلط جگہوں پر تھے، یعنی ت ہر پیش اور ر پر تشدید! اور کمپوز ہونے کے بعد اسے چیک کرنے کے لئے ایک ایک حرف متا کر دیکھنا پڑتا ہے، اور اکثر پورا لفظ مٹانا پڑتا ہے
3۔ سارے ارکان صرف اردو کے اعداد ٹائپ کریں۔ کچھ لوگ اردو کے بھی کرتے ہیں( عربی کے کرنے ہر تو اردو پروف ریدر درست کر دیتا ہے۔ لیکن لیٹن اعداد 1،2،3 کو نہیں کرتا۔ اگر ٹائپ کرنے میں مسئلہ آتا ہو تو وہی رکن خود اسے بعد میں درست کر دے، کہیں سے کاپی پیست کر کے
4۔ کوما اردو کا ہی استعمال کریں۔ پرانی کتابوں میں اوپر بھی کاما لگانے کا رواج تھا لیکن آ؛ ج کل نہیں لگایا جاتا۔ لیکن اب بھی لوگ یا تو 'خوبصورت' لگنے کی وجہ سے یہ استعمال کر دیتے ہیں۔ فسانۂ عجائب میں اکثر ارکان نے ایک کیریکٹر استعمال کیا ہے جو یا تو انگریزی کا ' ہے یا اردو کا' الٹا پیش' ۔ اس لئے صرف اور صرف'، ' استعمال کیا جائے
5۔ وقفہ بھی صرف' ۔' اردو کا استعمال کیا جائے ۔ کچھ ارکان کو. یا - بھی استعمال کرتے دیکھا گیا یے۔ اور اس سے پہلے سپیس نہ چھوریں۔ اور اس کے بعد ضرور بضرور چھوڑیں
6۔ بریکٹ( ) کے اندر کے متن کے آگے پیچھے سپیس دینے کی ضرورت نہیں ۔ ورنہ یوں بھی ممکن ہے کہ لفظ ایک سطر میں ہو، اور بریکٹ مجرد اگلی سطر مین
7۔ واوین، تخاطبی۔ یہ بھی کئی طرح لگائے جاتے ہیں۔ دوسری طرح لگانے ہر ایم ایس ورڈ علطی ہی دکھاتا ہے۔ درست اور بہتر وہی ہے جو ان پیج کے صوتی میں درمیانی بریکٹ کی کنجی سے بنایا جاتا ہے۔ اگرچہ دو بار کی ستروک دینا پرتا ہے۔
باقی کچھ اور یاد آیا تو بعد میں
مزید یہ کہ
* الفاظ ملا کر نہ لکھے جائیں جیسے کسی زمانے میں رواج تھا دیدی، لیکر، دیکر، کیساتھ، کیلئے، وغیرہ کو دے دی. لے کر، دے کر، کے ساتھ، کے لئے ہی لکھا جائے
* مرکب الفاظ جنہیں واو عطف یا کسرۂ اضافت یا بغیر کسی اضافےکے ملایا گیا ہو، انہیں بھی الگ الگ الفاظ کے طور پر لکھا جائے۔
واو عطف جیسے نثرونظم کو نثر و نظم
کسرہ اضافت جیسے اندازِبیان کو اندازِ بیان
بغیر کسی مزید علامت کے جیسے نظرانداز، قدر داں، جن کو لکھنے کا درست انداز تو زونج ZWNJ سے ہے لیکن وہ ٹائپ کرنا مشکل ہے اس لئے سپیس ہی بہتر ہے۔ اس لئے بھی کہ ورڈ اس کے استعمال سے بھی غلطی دکھاتا ہے
* اس پر یہ بھی یاد آیا کہ اعراب درست حرف پر لگانے کی بات ہو چکی ہے، لیکن اکبر دیکھا گیا ہے کہ زیر لوگ سپیس چھوڑ کر لگاتے ہیں، یہ محض اس لئے کہ کسی کسی فانٹ میں یا کسی حرف کی خود کی شکل میں یہ زیر چھپ جاتا ہے، اور سپیس دے کر اسے واضح بنا دیا جاتا ہے۔ یہ بھی کمپوزنگ کی غلطی ہے۔ فانٹ بنانے والوں کو اس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، ٹائپ کرنے والوں کو نہیں
* تخلص کا نشان بلکہ ہر اسم معرفہ پر قدیم زمانے میں لگایا جاتا تھا جو کتابت میں تو ٹھیک اس لفظ کے اوپر لکھا جاتا تھا۔ لیکن ٹائپ کرنے والے اسی LOOK کو برقرار رکھنے کے لئے غالب پر تخلص کا نشان کبھی غ کے بعد، کبھی الف کے، کبھی ل کے بعد لگاتے ہیں۔ میرے خیال میں درست طریقہ مکمل غالب ٹائپ کرنے کے بعد بغیر سپیس دیے تخلص کا نشان ٹائپ کرنا چاہئے، اور یہ فانٹ بنانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کی پوزیشن کافی پیچھے متعین کریں کہ وہ لفظ کے اوپر نظر آئے۔ موبائل سے ٹائپ کرنے والے یہ نشان نہ لگا پائیں گے، تو جہاں ضروری ہو، وہاں بعد میں کسی اور جگہ سے کاپی کر کے پیسٹ کر دیں۔ شعرا کے تخلص چھوڑ کر عام اسماء میں نہ لگائے جائیں تو بہتر ہے ورنہ پھر وہ مسئلہ بھی در پیش ہو فا کہ کچھ لوگ لگائیں گے اور کچھ نہیں، تو پورے متن میں یکسانیت نہیں رہے گی۔ اگر لگائیں تو سپیس چھوڑے بغیر لگائیں
* ضروری نہیں کہ جس طرح اصل متن میں اعراب کی بہتات ہے، ویسے ہی لگائے جائیں ۔ بشمول جزم کے۔ اتنی محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں جہاں کنفیوژن ممکن ہے، وہاں اعراب لگانے چاہیے۔ دور لکھا ہوا ہو تو دَور، یا دُور پڑھا جا سکتا ہے۔ تو یہاں لگایا جا سکتا ہے زبر یا پیش۔ احباب اپنی عقل استعمال کریں اس صورت میں
* اس پر یاد آیا کہ پچھلی صدی میں جور و ستم والے جور پر بھی پیش لگایا جاتا تھا، آج کل لگایا جائے تو جور دُور کے تلفظ والا ہو جائے گا۔ دو حرفی لفظ جو پر کسی اعراب کی ضرورت نہیں، جس طرح پہلے زمانے میں لکھا جاتا تھا۔ جُو یا جوٗ جوئے شیر لانے والا ہے یا جستجو، جنگجو والا۔
* پہلے وقفہ، کوما وغیرہ کاتب کے موڈ پر منحصر ہوتا تھا، کہیں لگایا، کہیں چھوڑ دیا۔ لیکن ٹائپ کرنے والا اپنی عقل استعمال کرے تو بہتر ہے۔ پرانی املا میں صرف چار پانچ الفاظ کی فہرست میں کوما، وہ بھی اوپر والا کاما لگایا جاتا تھا۔ میر' مومن' آتش وغیرہ کی جگہ بھی میر، مومن، آتش لکھا جانا چاہئے۔ یہ بات ہو چکی تھی لیکن پرانی املا میں مجھے یہ اوپر والا کاما کا استعمال فہرست میں ہی زیادہ تر نظر آیا ہے۔
* '؛' سیمی کولن کا استعمال بھی اردو میں شاذ ہے، اور اکثر جگہ کوما کی جگہ بھی لگا دیا جاتا ہے۔ احباب بھی دیکھ لیا کریں کہ اگر کوما ہی کافی ہے تو کوما ہی لگائیں، سیمی کولن نہیں

ان شاء اللہ آئندہ استاد محترم آپ کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹائیپنگ کریں گے ۔
 
Top